سیز فائر

معصومہ عابدینی
39 بازدید

جنگ کے حوالے سے مروجہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں میں سیزفائر کے معنیٰ فائرنگ سے پرہیزاور امن قائم کرنے یا دیگر کاموں کو انجام دینے کے لئے جارحانہ اور جنگی اقدامات کو عارضی طور پر روکنے کے ہیں۔

سیزفائر، جنگ کے اختتام کا ایک اہم عنصر ہے اور عموماً درج ذیل مراحل پر مشتمل ہوتا ہے: 1. فریقین کی طرف سے فوجوں کو سیزفائر کا حکم جاری کرنا۔ 2. فریقین سیزفائر لائن کے پیچھے اپنی دفاعی پوزیشنوں کو منظم کر سکتے ہیں، لیکن نئی فوجوں یا سازوسامان کی تعیناتی ممنوع ہے۔ 3. فریقین آپس میں رابطہ قائم کرتے ہیں تاکہ ان کی فوجیں آپس میں نہ ٹکرائیں اور مقامی طور پر جزئی تبدیلیوں پر گفتگو کرتے ہیں۔ 4. فوجوں کی عارضی علیحدگی کی لائنیں مقرر کی جاتی ہیں اور ممکن ہے کہ ایک غیر فوجی علاقے کو مدنظر رکھا جائے۔ 5. فوجی مبصرین، جو کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے جواب دہ ہیں، سیزفائر کی عملداری کی نگرانی کرتے ہیں۔

بیسیوں صدی کے متعدد مسلح تنازعات جیسے کہ فرانس اور ویتنام کی جنگ (20 جولائی 1954)، پرو اور ایکواڈور کی جھڑپیں (3 فروری 1981) فالکلینڈ کی جنگ (14 جون 1982) اور تین عرب-اسرائیل جنگوں (1956، 1967، 1973)، میں تنازعات سیزفائر کے قیام کے ساتھ ختم ہوئے؛ لیکن سیزفائر کے بعد امن معاہدہ نہیں ہوا۔ ایران عراق جنگ (1980-1988) بھی سیزفائر کے قیام کے ساتھ اور بغیر کسی نئے امن معاہدے کے اختتام پذیر ہوئی۔

عراق کی بعثی حکومت نے 22 ستمبر 1980 کو باضابطہ طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا۔ جنگ کے آغاز کے ایک دن بعد، اسلامی سربراہی کانفرنس تنظیم کے اس وقت کے سیکرٹری جنرل حبیب شطی نے امام خمینی اور صدام حسین کو دو الگ الگ پیغامات بھیج کر فوری سیزفائر کے قیام کا مطالبہ کیا؛ ایک ایسا مطالبہ جس کی نو یورپی ممالک نے اسی دن ایک بیان جاری کر کے تصدیق کی۔ لیکن جنگ کے دوسرے دن، عراق کی بعثی حکومت نے اعلان کیا کہ اس نے ایران کی سرزمین کے اندر تقریباً سولہ کلومیٹر کے علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے، جن میں مہران اور قصر شیرین شہر شامل ہیں، اور ابادان اور خرمشہر محاصرے میں ہیں، اور پھر کسی بھی سیزفائر کے قیام کو تین شرائط پر مبنی قرار دیا: سرحدی علاقوں پر عراق کی حاکمیت کو تسلیم کرنا، اروندرود آبی راستے پر عراق کی جائز حاکمیت اور حقوق کو تسلیم کرنا اور خلیج فارس کے تین جزائر کو ان کے عرب مالکان کو واپس کرنا۔ اسی دن، اقوام متحدہ کے اس وقت کے سیکرٹری جنرل کورٹ والڈھائم نے ایران اور عراق کے صدور مملکت کو ایک مشترکہ خط لکھ کر سیزفائر کے قیام اور اختلافات کو پر امن طریقے سے حل کرنے کے لیے مذاکرات کا مطالبہ کیا۔

28 ستمبر 1980 کو، صدام حسین نے عراق کے جنگی مقاصد کی تکمیل کا اعلان کیا اور سیزفائر کے لئے آمادگی کا اعلان کیا۔ اسی دن، سلامتی کونسل نے ایک اجلاس منعقد کیا اور اپنی پہلی قرارداد 479 جاری کی جس میں سیزفائر کی ضرورت کا حوالہ نہیں دیا گیا تھا۔ ایران کے صدر ابوالحسن بنی صدر نے اعلان کیا کہ ایران دو شرائط پر سیزفائر کو قبول کرے گا: عراقی فوجوں کا مکمل انخلا اور عراق کا ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا عہد۔ تاہم، ان درخواستوں کو بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے سیزفائر کی تجاویز میں شامل نہیں کیا گیا، اس لئے ایران نے اس قرارداد بشمول اسلامی کانفرنس تنظیم کی 29 جنوری 1981 کی قرارداد اور اسلامی کانفرنس تنظیم کی امن کمیٹی کی اپریل 1981 کی تجاویز کو قبول کرنے سے اجتناب کیا۔

ابادان کے محاصرے کے خاتمے اور خزاں 1981 میں بستان شہر سے عراق کا قبضہ ختم ہونے کے واقعات کی وجہ سے صدام دسمبر میں 1975 کے الجزائر معاہدے کے مطابق بین الاقوامی سرحدیں مقرر کرنے اور غیر مشروط سیزفائر کی آمادگی ظاہر کرنے پر مجبور ہوگیا۔ آپریشن بیت المقدس کے بعد اور 24 مئی 1982 کو خرمشہر کی آزادی کے بعد، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے دونوں ممالک کے درمیان سیزفائر کے قیام اور جنگ کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔

خلیجی تعاون کونسل کے اراکین نے 31 مئی 1982 کو عراق پر دباؤ ڈالا کہ وہ قبضہ کیے گئے علاقوں سے مکمل انخلا کرے، جس کے نتیجے میں صدام نے اپنی تمام فوجوں کو 10 جون کو یکطرفہ سیزفائر کی پابندی کا حکم دیا اور 11 جون کو انخلا کا حکم دیا۔ 21 جون کو، امام خمینی نے عراق کے انخلا کو جنگ کے خاتمے کے لئے ایران کی صرف ایک شرط پر عملدرآمد قرار دیا اور جنگی نقصانات کی ادائیگی، صدام کی برطرفی اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے لئے ایران کی فوجوں کو عراق کے علاقے سے گزرنے کا حق جیسی شرائط سامنے رکھ دیں۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے نے بھی 2 جولائی کو اعلان کیا کہ عراقی فوجوں نے صرف ان ناقابل دفاع پوزیشنوں سے انخلا کیا ہے جو میدانوں میں تھیں لیکن ان بلندیوں پر پوزیشن سنبھال لی ہیں جو ایران کی سرزمین کا حصہ ہیں۔

آپریشن رمضان کے آغاز اور ایرانی فوجوں کے عراق میں داخل ہونے کے ساتھ، ایران پر سیزفائر کو قبول کرنے کے لئے علاقائی اور بین الاقوامی دباؤ میں شدت آئی۔ 24 جولائی 1982 کو، سلامتی کونسل نے ایرانی افواج کے حملے کی مذمت اور مناسب کارروائی کرنے کے لئے عراق کی درخواست کا جواب دیا اور 25 جولائی کو (آپریشن کے تیسرے دن) ایک بیان جاری کیا جس میں ایران اور عراق کے درمیان موجودہ صورتحال کو خطرناک قرار دیتے ہوئے جنگ کے خاتمے کے لئے تمام ممکنہ وسائل کا استعمال کرنے کی درخواست کی۔

آپریشن رمضان کی ناکامی نے جنگ میں ایران کی کامیابیوں کے سلسلے کو ننقصان پہنچایا جس کی وجہ سے زمینی جنگ تعطل کا شکار ہوئی جو 1983 کے آخر تک جاری رہی۔

سومار میں آپریشن مسلم ابن عقیل کے بعد اور ایرانی فوجوں کے عراق کے شہر مندلی کی بلندیوں پر کنٹرول کے بعد، سلامتی کونسل نے قرارداد 522 جاری کی جس میں فوری سیزفائر اور فوجی کارروائیوں کے خاتمے، فوجوں کے بین الاقوامی سرحدوں کے پیچھے انخلا اور حالات کا جائزہ لینے کے لئے اقوام متحدہ کے مبصرین بھیجے جانے، انکی تصدیق اور سیز فائر کی نگرانی کئے جانے کی تاکید کی گئی تھی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی 22 اکتوبر 1982 کو ایک قرارداد جاری کی جس میں فوری سیزفائر اور فوجوں کے بین الاقوامی سرحدوں کے پیچھے انخلا کی درخواست کی گئی۔

آپریشن والفجر 4 کے آغاز کے ساتھ 19 اکتوبر 1983 کو، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے عراق کی درخواست پر ایک اجلاس منعقد کیا اور قرارداد 540 پیش کی گئی۔ پہلی بار اس قرارداد میں جنگ کی وجوہات کی غیر جانبدارانہ جانچ پڑتال کی مطلوبیت پر زور دیا گیا۔ عراق نے اس قرارداد کا خیر مقدم کیا، لیکن اسلامی جمہوریہ ایران نے جواب دیا کہ کونسل اپنی غیر متوازن روایات پر مُصر ہے اور ایران کے لئے اس قرارداد سے اپنے راستے جدا کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

خلیج فارس میں آئل ٹینکروں کی جنگ میں شدت کے ساتھ، 12 خرداد 1363 (2 جون 1984) کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا اور قرارداد 552 کو منظور کیا گیا، جس میں عراق کے حملوں کا ذکر کیے بغیر، جہازوں پر حملے کو علاقائی استحکام، سلامتی اور بین الاقوامی امن کے لئے ایک خطرہ قرار دیا گیا۔ ایران نے بھی اس قرارداد کو بے اعتبار اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کے خلاف قرار دیا کیونکہ اس میں عراق کو جنگ کا آغاز کرنے والا اور جنگی غرامات کی ادائیگی کے ذمہ دار کے طور پر مذمت نہیں کی گئی تھی۔

آئل ٹینکروں کی جنگ کے تسلسل میں، خلیج فارس میں جنگ کی شدت آئی اور غیر فوجی مراکز پر بمباری اور میزائل حملوں میں بھی اضافہ ہوا۔ ان حملوں کے نتیجے میں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی ثالثی کے ساتھ، فریقین نے "جون 1984 معاہدہ" کے نام سے موسوم ایک عارضی سیزفائر پر اتفاق کیا۔

فروری 1985 میں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے تین ماہ کے سیزفائر کا منصوبہ تجویز کیا۔ تاہم، اسلامی جمہوریہ ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پرغیر منصفانہ اور غیر جانبدارانہ سلوک کا الزام لگایا اور متجاوز کی مذمت اور نقصانات کی وصولی جیسی شرائط سامنےرکھ دیں۔ اس منصوبے کے ناکام ہونے کے بعد، عراق نے شہری جنگ کی شدت میں اضافہ اور میزائل حملوں کو تیز کردیا تاکہ ایران پر سیاسی اور فوجی دباؤ بڑھ سکے۔

ایران نے بھی جوابی کارروائی کی اور آخر کار، والفجر 8 آپریشن میں کامیابی حاصل کی جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل اراکین نے ایک مسودہ تیار کیا جس میں عراق کو متجاوز قرار دیا گیا۔ تاہم، پانچ مستقل اراکین نے اس مسودے کی مخالفت کی اور فوری سیزفائر کا مطالبہ کیا۔ ایران نے اس مسودے کو بھی مسترد کر دیا اور اعلان کیا کہ جنگ کے منصفانہ حل کے لئے پہلا قدم عراق کی صریح مذمت ہے۔ امام خمینی نے 1985 کے آغاز میں صدام کی حکومت کے خاتمے اور بعث پارٹی کی تباہی تک جنگ جاری رکھنے پر زور دیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور سیکرٹری جنرل نے ایران پر سیزفائر اور جنگ کے خاتمے کے لئے دباؤ ڈالا۔ بالآخر، 20 جولائی 1987 کو قرارداد 598 منظور ہوئی۔ ایران نے دوبارہ اپنے موقف کی تصدیق کرتے ہوئے ایک بار پھراس قرارداد کو مسترد کردیا۔

27 مارچ 1988 کو، عراق نے حلبچہ شہر پر کیمیائی بمباری کی اور اعلان کیا کہ وہ ایران کو سیزفائر پر مجبور کرنے کے لئے تمام ممکنہ ہتھیار استعمال کرے گا۔ ایران نے بالآخر 20 جولائی 1988 کو قرارداد 598 کو قبول کر لیا اور 29 جولائی 1988 کو صبح 6:30 بجے دونوں ممالک کے درمیان مؤثر اور رسمی سیزفائر عمل میں آئی۔ طرفین نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی نگرانی میں براہ راست مذاکرات شروع کیے تاکہ جنگ کو ختم کیا جا سکے۔