جنگ دوست داشتنی

بہناز باقر پور
14 بازدید

کتاب "جنگ دوست داشتنی" عراق کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران سعید تاجیک کی اپنے ہاتھ سے لکھی ہوئی یادداشتوں پر مشتمل ہے۔

سعید تاجیک، تہران کے ایک مجاہد ہیں جنہیں ان کی نوجوانی میں ہی محاذ جنگ پر بھیج دیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنے تجربات نہ صرف کتاب "جنگ دوست داشتنی" میں بلکہ "ھشتاد روز مقاومت"[1]، "نبرد در کانی مانگا"[2]،  اور "آخرین گلولہ ھا "[3] جیسی دیگر کتابوں میں بھی قلمبند کیے ہیں۔ کتاب " آخرین گلولہ ھا " کو مقدس دفاع کی بہترین کتابوں کے تیسرے انتخاب میں یادداشتوں کے زمرے میں اول پوزیشن حاصل ہوئی[4]۔

کتاب "جنگ دوست داشتنی" کا پہلا ایڈیشن سن 1999 میں، 2200 کاپیوں کے ہمراہ، 22000 ریال قیمت پر، 635 صفحات پر مشتمل، نرم جلد اور وزیری سائز میں، حوزہ هنری سازمان تبلیغات اسلامی نے شائع کیا۔ کتاب کا سر ورق سید علی میرفتاح نے ڈیزائن کیا ہے۔ کتاب کے نیلگوں سر ورق پر چند افراد کی سیاہ و سفید اور مبہم تصویر ہے، جبکہ سفید رنگ میں کتاب کا عنوان اوپر کے ایک تہائی حصے میں رنگین نقطوں کے ساتھ درج ہے۔ عنوان اور کتابی تفصیلات کے صفحات کے بعد، دفتر ادبیات و هنر مقاومت کے قلم کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کے بعد کتاب کا اصل متن شروع ہوتا ہے۔ کتاب کے متن کو بغیر عنوان کے تیس ابواب میں ترتیب سے پیش کیا گیا ہے، البتہ ابواب کی ترتیب  جنگ کے گزرتے ہوئے وقت کے مطابق ہے اور اس میں سعید تاجیک کے جنگ میں شامل ہونے کے ابتدائی لمحات سے لے کر قرارداد قبول کئے جانے تک کے واقعات شامل ہیں۔ کتاب کا  پانچواں باب مختصر ترین باب ہے  جو 9 صفحات پر مشتمل ہے، جبکہ  پہلا باب طویل ترین باب ہے جو 30 صفحات پر محیط ہے۔ متن میں جہاں کہیں وضاحت کی ضرورت محسوس ہوئی ہے، وہاں حاشیے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ پہلا باب مصنف کے بچپن، نوجوانی، "پرندک" میں تربیتی کیمپ میں داخلے، اور لشکر 27 محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی بٹالین مالک اشتر میں ایک مشین گنر کے طور پر محاذ جنگ پر بھیجے جانے کے واقعات پر محیط ہے۔ تیسرے، چوتھے اور پانچوے باب میں مصنف کی ستمبر اور اکتوبر 1983 میں آپریشن والفجر 4 میں شمولیت کی داستان بیان کی گئی ہے، جبکہ باب نمبر دس، گیارہ اور بارہ،  فروری 1985 میں ہونے والے آپریشن بدر کے بارے میں ہیں۔ پندرہویں سے اٹھارویں باب تک میں جنوری 1986 اور مارچ 1986 میں آپریشن والفجر 8 اور فاو کی فتح کے واقعات قلمبند ہیں۔ بیسواں باب  جون 1986 میں آپریشن کربلائے 1 اور مہران کی آزادی کے بارے میں ہے۔ باب نمبر تئیس سے پچیس ،نومبر دسمبر 1986  میں ہونے والے آپریشن کربلائے 5 کے واقعات پر مشتمل ہیں۔ تیسویں باب میں جنگ کے آخری ایام اور قرارداد 598 کو قبول کرنے کے واقعات درج ہیں۔ کتاب کے آخر میں سعید تاجیک کے زمانہ جنگ کی 28 صفحات پر مشتمل سیاہ و سفید تصاویر ہیں۔

"جنگ دوست داشتنی" کے کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ دوسرا ایڈیشن سن 2007 میں، جب ناشر حوزہ هنری سے بدل کر سورہ مهر ہو گیا، کے ساتھ ہی شائع ہوا۔ اس ایڈیشن میں کتاب کا سر ورق بدل دیا گیا اور اسے رقعی سائز میں شائع کیا گیا۔ دوسرے ایڈیشن کے سر ورق پر خاکستری پس منظر میں ایک کارتوس کے سرے کی تصویر ہے۔

"سائز اور سر ورق میں تبدیلی کے علاوہ، اس ایڈیشن میں کتاب کو ایک سیریز کی شکل دی گئی: دفتر ادبیات و هنر مقاومت کی چار سو پچیسویں اور ایران عراق جنگ کی یادداشتوں کی ایک سو ستائیسویں کتاب"۔

تیسرا، چوتھا اور  پانچواں ایڈیشن سن 2008 میں، چھٹا ایڈیشن 2011میں، ساتواں ایڈیشن 2014میں اور آٹھواں ایڈیشن 2018 میں شائع ہوئے۔ ان ایڈیشنز میں ناشر، سر ورق اور کتاب کا متن تبدیل نہیں ہوا۔

کتاب "جنگ دوست داشتنی" محققین کی تحقیق کا موضوع بھی رہی ہے: عبدالرضا قیصری اور محمد صرفی (2009) نے اپنے مقالے "طنز در کتاب جنگ دوست داشتنی" میں سعید تاجیک کے قلم سے نکلی یادداشتوں میں استعمال ہونے والے طنز کا جائزہ لیا ہے[5]۔ عنایت اللہ شریف پور اور عبدالرضا قیصری (2012) نے اپنے مقالے "بررسی مضامین طنز در خاطره نوشته های دفاع مقدس" میں طنزیہ یادداشتوں کی مثال کے طور پر کتاب "جنگ دوست داشتنی" کے مواد سے استفادہ کیا ہے[6]۔ عصمت دہقانی (2016) نے اپنے مقالے "روایت شناسی خاطرات دفاع مقدس بر اساس دیدگاه ژرار ژنت (مطالعہ موردی چزابه، جنگ دوست داشتنی و بابانظر)"[7] میں، طوبیٰ سیفی ایرانشاهی (2019) نے اپنے مقالے "بررسی مقایسه ای زبان و فرهنگ جبهه در ادبیات پایداری با تأکید بر سفر به گرای 270 درجه، جنگ دوست داشتنی، شطرنج با ماشین قیامت و لشکر خوبان"[8] میں، اور عصمت دہقانی (2021) نے اپنی کتاب "روایت شناسی خاطرات دفاع مقدس در سه کتاب چزابه، بابانظر و جنگ دوست داشتنی بر اساس دیدگاه ژرار ژنت"[9] میں اس کتاب سے استفادہ کیا ہے۔ اخبار رسالت نے مہر 1398 اور ستمبر 2019 میں اپنے کالم "کتابخانہ" میں کتاب "جنگ دوست داشتنی" کو متعارف کرایا ہے[10] [11]۔ چھپے ہوئے نسخوں کے علاوہ، اس مجاہد کی یادداشتوں کی الیکٹرانک ورژن، سورہ مهر کے ایڈیشن کےمطابق، بھی دستیاب ہے[12]۔

 

[1] تاجیک، سعید، هشتاد روز مقاومت، تهران: سازمان تبلیغات اسلامی، حوزه هنری، 1373.

[2] تاجیک، سعید، نبرد در کانی‌مانگا، تهران: سازمان تبلیغات اسلامی، حوزه هنری، 1374.

[3] تاجیک، سعید، آخرین گلوله‌ها، تهران: سازمان تبلیغات اسلامی، حوزه هنری، 1374.

[4] سیمای آثار 17 دوره کتاب سال دفاع مقدس، تهران: بنیاد حفظ آثار و نشر ارزش‌های دفاع مقدس، سازمان ادبیات و دفاع مقدس، 1397، ص8

[5] قیصری، عبدالرضا، صرفی، محمدرضا، طنز در کتاب جنگ دوست‌داشتنی (مجموعه خاطرات حسن تاجیک)، ادبیات پایداری، سال 1، ش1، 2009، ص125-113

[6] شریف‌پور، عنایت‌الله، قیصری، عبدالرضا، بررسی مضامین طنز در خاطره‌نوشته‌های دفاع مقدس، ادبیات پایداری، سال سوم، ش5 و 6، 2012، ص236-209.

[7] دهقانی، عصمت، روایت‌شناسی خاطرات دفاع مقدس بر اساس دیدگاه ژرار ژنت (مطالعه موردی چزابه، جنگ دوست‌داشتنی و بابانظر)، کارشناسی ارشد، ادبیات مقاومت، دانشگاه لرستان، صفیه مرادخانی، 2016.

[8]  سیفی ایرانشاهی، طوبی، بررسی مقایسه‌ای زبان و فرهنگ جبهه در ادبیات پایداری با تأکید بر سفر به گرای 270 درجه، جنگ دوست‌داشتنی، شطرنج با ماشین قیامت و لشکر خوبان، کارشناسی ارشد، زبان و ادبیات فارسی، دانشگاه لرستان، سعید زهره‌وند، 2019.

[9]  دهقانی، عصمت، روایت‌شناسی خاطرات دفاع مقدس در سه کتاب چزابه، بابانظر و جنگ دوست‌داشتنی بر اساس دیدگاه ژرار ژنت، خرم‌آباد، سنگ‌نبشته، 2021

[10] رسالت، ش9616، 21 اکتوبر 2019، ص12، ستون کتابخانه

[11] رسالت، ش9783، 8 جون 2020، ص12، ستون کتابخانه.

[12] http://www.faraketab.ir/book/17159