آپریشن ظفر 2

اعظم‌سادات حسینی
55 بازدید

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے رمضان کیمپ کی فورسز اور عراقی کرد مخالفین نے عراق کے کرکوک صوبے میں 1987ء  میں آپریشن ظفر 2 کو ڈیزائن اور انجام دیا۔

آپریشن ظفر 2 غیر منظم طریقے سے شروع کیا گیا۔ سپاہ پاسداران  نے اس آپریشن کو عراق کے شمالی صوبوں میں کرد دیہاتوں پر  کیمیائی بمباری اور تباہی کا جواب دینے کے لیے ڈیزائن کیا تھا۔اِس آپریشن کے دیگر اہداف میں عراق کی  فوجی، اقتصادی اور تزویراتی تنصیبات اور مراکز کی تباہی اور اس علاقے میں عراق کی جنگی طاقت اور فوجی مدد کو تباہ کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ آپریشنل علاقہ عراق کے صوبہ کرکوک کا شہر کفری تھا۔ کفری عراق کے شمالی محاذ  کی پشت اور بیس شمار ہوتا تھا   اور اس وجہ سے اِس شہر کی تباہی ایران کے لئے بہت ضروری تھی۔

یہ آپریشن 4 اکتوبر 1987ء  کو لبیک یا حسین ؑ کے کوڈ  سے شروع ہوا۔ آپریشن کے آغاز میں عراقی کردستان پیٹریاٹک یونین فورسز نے اربیل سے سلیمانیہ تک سڑک پر گھات لگا کر حملہ کیا جس میں دو عراقی فوجیو ں کو  ہلاک اور انیس افراد کو گرفتار کر لیا۔ آپریشن کے اس مرحلے میں سلیمانیہ شہر سے ملحقہ  پہاڑیوں  پر واقع ازمر ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ٹاور کو تباہ کر دیا گیا اورکرد جنگجوؤں نے  عراقی فورسز کی تین کاریں اور بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ باروداپنے قبضے میں لے لیا۔ کرد پیشمرگان   کی دراندازی کی کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عراقی فوج نے سلیمانیہ شہر کی طرف جانے والی سڑکوں پر متعدد چوکیاں قائم کر کے ان سڑکوں پر روزانہ سہ پہر تین  بجے سے اگلی صبح تک نجی گاڑیوں کی آمدورفت کو روک دیا۔

  آپریشن کے ابتدائی لمحوں میں  سپاہ پاسداران کی زمینی فوج اور انقلاب اسلامی کی سپریم اسمبلی کی 9ویں بدر ڈویژن پر مشتمل  جنگجوؤں نے رمضان کیمپ کی کمان میں ایک سنسی خیز کاروائی  کے ساتھ کفری کے پہاڑی سلسلے  میں مقیم بٹالین اور یونٹوں پر حملہ کیا اور بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچانےکے بعد عراقی کیمپوں پر قبضہ کر لیا اور کافی مقدار میں جنگی ساز و سامان اپنے قبضے میں لے لیا۔ اِس طرح سے کفری شہر کی تنصیبات کی تباہی کا مقدمہ بھی  فراہم ہو گیا۔

300 ہلاک اور زخمی ہونے کے بعد عراقی فوج  نے کوشش کی تاکہ ایرانی فورسز کی پیش قدمی کو روک سکیں لیکن ایرانی فورسز کے حملوں کی وجہ سے اُن کی یہ کوششیں ناکام ہوئیں اورکفری شہر کے اطراف میں پولیس اور نگہبانی کے اڈے بھی ایرانی مجاہدین کے قبضے میں آگئے۔ آپریشن کو آگے بڑھاتے ہوئے ایرانی فورسز نے بہت اہم ہائی ویز کفری-بغداد اور کرکوک خانقین-تکریت کو بھی اپنے مکمل کنٹرول میں لے لیا کہ اِس طرح سے شہر میں اُن کے داخلے کا زمینہ فراہم ہو گیا۔ ایرانی فورسز نے باقی ماندہ عراقی فوج کو کچلنے کے بعد  شہر کی عسکری اور اقتصادی عمارتوں کو تباہ کر دیا جن میں عراقی سکیورٹی آرگنائزیشن کی عمارت، عراقی بعث پارٹی کی عمارت، میونسپلٹی کی عمارت، پوسٹ اور ٹیلی گراف کی عمارت، پاور پلانٹ اور ایک پیٹرول پمپ شامل ہیں۔ گورنر ہاؤس دو بدو لڑائی کے بعد تباہ کردیا گیا اور شہر کا گورنر بھی مارا گیا۔ اِس حملے کے دوران رافدین بینک کی برانچ اور ایک کارخانہ بھی تباہ کیا گیا۔ تباہ ہونے والے دیگر اہم مراکز میں عراق کی جیش الشعبی فورسز کی گیریژن تھی۔ آپریشن جاری رکھتے ہوئے اور شہر کے اہم مراکز کو کلیئر کرتے ہوئے، کفری شہر کے متعدد فوجی اور سکیورٹی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے اور متعدد خطرے کو دیکھ فرار ہو گئے۔

اس کارروائی میں عراق نے اپنا بہت سا فوجی سازوسامان کھو دیا۔ یہ سازوسامان درجنوں ٹینکوں اور عملے کی گاڑیوں، متعدد فوجی گاڑیوں، درجنوں نیم بھاری ہتھیاروں، بیس گروہی  اور انفرادی بنکروں، پانچ فائرنگ پوزیشنز اور بارہ گولے بارود کے ڈپو   پر مشتمل تھا۔ ظفر 2  کے غیر منظم  آپریشن میں ایرانی فورسز بڑی تعداد میں گولہ بارود اور ہلکے اور نیم بھاری ہتھیاروں کو غنیمت کے طور پر حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔اس غیر منظم  کارروائی میں ہلاک اور زخمی ہونے والے عراقیوں کی تعداد 500 تک پہنچ گئی۔