اشرف چھاونی
لیلا حیدری باطنی
58 بازدید
اشرف چھاؤنی 1987ء سے 2012ء تک مجاہدین خلق تنظیم (منافقین) کا مرکزی ہیڈکوارٹر تھا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف عراق کی مسلط کردہ جنگ کے آخری سالوں میں تنظیم کی کاروائیوں کی کمانڈ اسی چھاؤنی سے کی جاتی تھی۔
1981ء میں تنظیم مجاہدین خلق ایران کی جمہوری اسلامی کے خلاف مسلح جنگ میں شکست کے بعد، تنظیم کا سربراہ مسعود رجوی بیرون ملک فرار ہو گیا تھا، پہلے فرانس گیا لیکن 1986ء میں فرانسیسی حکومت نے داخلی اور سلامتی کے قوانین کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے اُسے ملک بدر کردیا۔ اِس کے بعد رجوی نے عراق میں پناہ لی۔ 1987ء میں صدام کے حکم سے اشرف چھاؤنی اُسے دے دی گئی۔ 1980ء میں مسلط کردہ جنگ آغاز کے بعد، تنظیم نے عراقی فوج کے پانچویں ستون کے طور پر ایران کے خلاف مسلح جنگ شروع کر دی اور کاروائیوں کی ذمہ داری اٹھا لی۔
اشرف چھاؤنی 1987ء کے موسم سرما میں ’خالص‘ نامی جگہ پر قائم کی گئی جو عراقی فوج کی ایک متروکہ چھاؤنی تھی۔ یہ 24,000 میٹر کی جگہ، عراق کے صوبہ دیالہ میں خالص شہر سے 20 کلومیٹر شمال میں اور کرکوک-بغداد روڈ پر بغداد سے 100 کلومیٹر شمال مشرق میں اور عراق کی صوبہ کرمانشاہ میں ایران کے ساتھ سرحد سے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ جگہ مسعود رجوی کی کمان میں،مجاہدین خلق تنظیم کا سب سے بڑا ہیڈ کوارٹر بن گئی، جس میں بہت سی عمارتوں اور سہولیات کی تعمیر کے علاوہ چار فوجی لشکر: پہلا لعیا خیابانی کی کمانڈ میں، بارہواں مہناز شہنازی کی کمانڈ میں، تیرہواں اور چودہواں لشکر قیام پذیر ہوئے۔
تنظیم نے چھاؤنی میں قدم جمانے اور آزادی دلانے والی فوج کی تشکیل کے بعد ( پانچ ہزار جن میں دو ہزار اصلی فوجی طاقت تھے جبکہ باقی ایرانی قیدی اور یورپ کی جانب سے بھیجے جانے والے حمایتی تھے)، بعثی حکومت کی مدد سے ایران کے اندر فوجی کاروائیوں اور ایران سے باہر افرادی قوت کو کنٹرول کرنے کے لئے یہ دوسرا ہیڈکوارٹر (فرانس میں مریم رجوی چھاؤنی کےبعد) بن گیا۔اس لیے اس نے اپنی کارروائیوں کی مقدار اور معیار کو تیزکیا اور ایران کے جنوب اور مغرب کی سرحد سے متصل علاقوں میں کئی کارروائیوں میں متعدد ایرانی فوجیوں کو پکڑ سکے۔
آپریشنز کی کمان مسعود رجوی کے پاس تھی اور اشرف چھاؤنی میں ملاقاتیں، تقاریر، آپریشن کی تیاری، فوجی تربیت، جنگی مشقیں، سڑکوں کے نقشے کی تعین وغیرہ ہوتے تھے۔ چھاؤنی میں گولہ بارود جیسے بھاری اور ہلکی گنیں، ٹینک، ہر قسم کے چھوٹے ہتھیار، مشین گنیں اور بہت سا دھماکہ خیز مواد ذخیرہ کرنے کے لئے کچے اسٹور بنائے گئے تھے جنہیں امریکی افواج نے 2003ء (ایرانی کیلنڈر کے مطابق 1382) میں تباہ کر دیا۔
رجوی نے کارروائیوں میں افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ایرانی جنگی قیدیوں کا رخ کیا۔ اس نے ایک میٹنگ میں اعلان کیا: "ہم نے جنگی قیدیوں کی فراہم سے اپنی طاقت کا مسئلہ حل کیا۔" تنظیم نے ایرانی قیدیوں کو آزادی کا وعدہ کرکے یا ذہنی دباؤ اور دھمکیاں دے کر تنظیم کا رکن بننے پر مجبور کیا۔ کیمپ میں فوجی قیدیوں کی حالت سپاہی اور بسیجیوں سے بالکل مختلف تھی اور سپاہی اور بسیجی قیدیوں کے ساتھ زیادہ سختی کی جاتی تھی۔
یہ چھاؤنی تنظیم کی تربیت، معاونت اور آپریشن میں اصلی بیس شمار ہوتی تھی۔ فہیمہ اروانی کے ماتحت چھاؤنی کے اسٹاف ڈیپارٹمنٹ کے پاس چھاؤنی کی متعدد جیلوں کے انتظام کا ذمہ دار تھا۔ چھاؤنی کی اُن جیلوں میں سے ہم یہاں کچھ کا ذکر کر سکتے ہیں: مہمان سرا یا 100 (گیریژن کے داخلی دروازے سے آنے والی 100 روڈ پر واقع ہے)، M1 ، M2 اور M3 کے نام سے مشہور جیلیں، مرکز 12 کے قریب اور خاردار تاروں سے گھری ہوئی جیل، مشرقی حصے میں جیل جس میں سیمنٹ کی ایک لمبی دیوار ہے، جیل 37 (37 روڈ پر واقع ہے جس میں مسلط کردہ جنگ کے ایرانی قیدی تھے)، خوفناک جیل یا H (جو مشرقی حصے میں واقع ہے اور جس میں آٹھ عمارتیں ہیں؛ یہ جیل چھاؤنی کی خوفناک ترین جیلوں میں سے ایک تھی اور جس کے آس پاس تین میٹر اونچے مٹی کے پشتے تھے اور جن پر خاردار تاریں بچھائی گئیں تھیں، رات کو طاقتور پروجیکٹرز کے ذریعے جیل کے اطراف روشن ہو جاتے تھے۔)، استقبالیہ جیل (چھاؤنی کے جنوب میں اور تنظیم کے اُن ارکان سے مخصوص جو تنظیم سے جدا ہو جاتے تھے) فروغ کالج جیل (گیریژن کے شمال میں اور ناراض افراد کے لئے مخصوص)، جیل 400 (جو 400 روڈ پر واقع ہے اور تنظیم کے اُن افراد کے ساتھ مخصوص جو تنظیم سے جدا ہونے کا ارادہ رکھتےتھے)۔ چھاؤنی کے جیلر افسروں میں امید برومند آپریشن آفیسر، بتول رجائی کیمپ کی کمانڈر اور حسن حسن زادے تھے۔
درحقیقت یہ چھاؤنی باہر سے ایک تنظیمی، عسکری، سیاسی، تبلیغی اور مالیاتی ہیڈ کوارٹر تصور کیا جاتا تھا، لیکن اندر سے یہ فورسز کے نظریات کو کنٹرول کرنے کا ہیڈ کوارٹر تھا۔ اس کے نام کی وجہ مسعود رجوی کی پہلی بیوی اشرف ربیعی تھی جو تہران میں زعفرانیہ کے علاقے میں 8 فروری 1982 کو مجاہدین خلق کے مرکزی دفتر پر قبضہ کرنے کے آپریشن میں ماری گئی تھی۔
اشرف چھاؤنی کہ جس کا اصلی دروازہ خاردار تاروں، فیزیکل رکاوٹوں اور مسلح گارڈز کی حفاظت سے بھرپور تھا، اِس میں متعدد جگہیں موجود تھیں: 1۔عارضی مکانات اور میٹنگ ہال (رجوی کے لئے دو عارضی مکانوں کے ساتھ)۔2۔ کمانڈ ہیڈکوارٹر کا مستقل گھر (رجوی کا اصلی گھر)۔ 3۔ 100روڈ پر محل اور بم پروف پناہگاہ(رجوی اور اُس کی بیوی کا گھر)۔
گیریژن کی تمام سڑکوں کے نام نمبروں کے ساتھ رکھے گئے تھے اور 100روڈ سب سے بڑی اور چوڑی سڑک شمار ہوتی تھی۔ تنظیم کے کاؤنٹر انٹیلی جنس یونٹ کے ارکان اور اِسی طرح وہ نئے افراد جو یورپ سے سازمان میں بھرتی ہوتے تھے، بنگلوں والے علاقے میں جسے ’’داخلہ‘‘ نام دیا جاتا تھا، رہائش دی جاتی تھی۔یہ علاقہ جدید مکانات، سہولیات اور سبزے سے بھرپور تھا تاکہ انسان احساس کرے کہ جتنا آگے جائے گا، بہترین حالات اور شرائط سامنے پائے گا۔
متعدد عمارتوں کے علاوہ، چھاؤنی میں ہسپتال، ایمفی تھیٹر ہال، لائبریری، کئی بڑے ڈائننگ ہالز اور مروارید نام سے قبرستان موجود تھا۔یہ قبرستان چھاؤنی کے مشرقی حصے میں واقع تھا اور اِس میں تنظیم کے تین ارکان کے لئے ایک یادگار تعمیر کی گئی تھی جو عراقی شیعوں کے ہاتھوں تلواروں سے قتل ہوئے تھے۔ مریم رجوی کی ماں کو بھی اِسی قبرستان میں دفن کیا گیا تھا۔
اشرف چھاؤنی مالی طور پر عراق پر منحصر تھا، اور اس کے مختلف آلات کی مرمت کا خرچ بھی اسی حکومت کی امداد سے ادا کیا جاتا تھا۔
1996-1997ء کے سالوں میں یہ تنظیم اُن ایرانیوں کو دھوکے اور اغوا کے ذریعے بھرتی کرتی رہی، جو مختلف وجوہات کی بنا پر ترکی جاتے تھے۔
2002ء میں عراق کی نازک صورتحال کے بعد عراق کے مرکزی شہروں میں موجود مجاہدین خلق تنظیم کے تمام کیمپوں کو بند کر دیا گیا اور اُن کی افرادی قوت اشرف چھاؤنی منتقل ہو گئی۔
عراق میں امریکی افواج کی موجودگی کے بعد یہ چھاؤنی بھی ان کے کنٹرول میں آ گیا۔ تنظیم نے امریکیوں کی تفریح اورمہمان نوازی کے لیے اشرف پارک بنانے کے علاوہ کئی نئے سٹور بھی شروع کیے۔ اس کے بعد تنظیم نے اِس چھاؤنی کا نام اشرف شہر میں تبدیل کر دیا۔ چھاؤنی میں ایک دفتر تھا جو پرائیویٹ کاروں، ٹرکوں اور ٹریلرز کے لئے ذمہ دار تھا۔ امریکی افواج کی آمد کے بعد تنظیم نے انہیں عراقی قبیلوں کے سربراہوں اور قابل اعتماد افراد کے حوالے کر دیا تا کہ وہ امریکیوں کے ہاتھ نہ لگیں اور کسی مناسب وقت میں تنظیم اُن سے یہ واپس لے سکے۔
سال 2003ء (ایرانی کیلنڈر کے مطابق 1382) میں صدام کے زوال کے بعد امریکی فوج نے تنظیم کے ارکان کو غیر مسلح کر دیا اور 2008ء میں اشرف چھاؤنی کی حفاظت عراقی حکومت کے حوالے کر دی گئی۔ اس حکومت نے 2009ء (ایرانی کیلنڈر کے مطابق 1388) میں اس جگہ کی سیکیورٹی فائل بھی امریکی فوج سے لے لی اور تنظیم کے ارکان کی ملک سے بے دخلی کو اپنی ترجیح قرار دیا۔ اس کے بعد امریکی منصوبے کے مطابق اشرف چھاؤنی کے مکینوں کو بغداد ایئرپورٹ کے قریب لبرٹی ملٹری بیس (الحوریہ) منتقل کر دیا گیا۔ ان میں سے چند ایک کو چھوڑ کر تنظیم کے آخری گروپ نے 16 ستمبر 2012ء (26 شہریور 1391) کو اشرف چھاؤنی چھوڑ دی۔ ستمبر 2013ء (10 شہریور 1392) میں انتفاضہ شعبانیہ کے نام سے مشہور گروپ کے حملے کے بعد یہ چھاؤنی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔