آپریشن والفجر 9
فاطمہ دانش شکیب
55 بازدید
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران نے سال 1986ء میں صوبہ کردستان میں مریوان کے شمالی مغربی علاقے میں آپریشن والفجر 9 عراقیوں کو بے خبر رکھنے کے لئے عراقی صوبے سلیمانیہ کی طرف پیش قدمی کے ہدف سے انجام دیا۔
فاو میں والفجر 8 آپریشن (فاؤ میں 9 فروری 1986ء) اور ایرانی فورسز کے مقیم ہونے کے بعد، آپریشن والفجر 9 عراق کے صوبے سلیمانیہ میں برف سے ڈھکی ہوئی اور ناقابل تسخیر چوٹیوں کو آزاد کرانے کے ہدف سے ڈیزائن کیا گیا تاکہ فاو کے علاقے میں ایرانی فورسز پر عراقی فوج کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ چند سیکٹروں میں آپریشن اور دشمن کی طاقت کو تقسیم کرنےنے دشمن کے تکنیکی آلات کی تاثیر کم کر دیا اور ایک سیکٹر میں اُس کی فوج کےمرکوز دفاع کو روک دیا۔
آپریشن والفجر 9 ، 24 فروری 1986ء رات 11 بج کے 45 منٹ پر یا اللہ کوڈ کے ساتھ شروع ہوا اور 29 فروری تک جاری رہا۔
یہ آپریشن نجف اشرف کیمپ کے تحت سپاہ کی زمینی فورسز کے یونٹوں کی موجودگی میں، مصطفی ایزدی کی کمانڈ میں عراق کے کردنشین علاقے چوراتہ میں اور بغداد کے شمال میں تقریباً 270 کلومیٹر کے فاصلے پر، کرکوک کے شمال مغرب میں 95 کلومیٹر اور سلیمانیہ سے 22 کلومیٹر کے فاصلے پر انجام پایا۔
آپریشن والفجر 9 میں ایرانی آپریشنل فورسز میں پچیس انفنٹری بٹالین، ایک آرمرڈ بٹالین، چار آرٹلری بٹالین اور عراقی فورسز میں آٹھ انفنٹری بٹالین، ایک بکتر بند بٹالین، ایک کمانڈو بٹالین اور دو آرٹلری بٹالین شامل تھیں۔
آپریشن کی پہلی رات ایرانی فورسز نے بارودی سرنگوں کو عبور کرنے کے بعد عراقی فورسز پر حملہ کیا جس کی وجہ سےمورچے/ خندقیں تباہ ہوگئیں اور عراقی فورسز پسپا ہوئیں۔ 25 فروری کے دن کے اختتام پر چند دیہات، چومان کا علاقہ (انقلاب مخالف فورسز کے قیام کی جگہ) اور سوردین چوکی ایرانی فورسز کے قبضے میں آ گئے۔
دوسری رات سلیمانیہ روڈ سے ملحقہ اور بلند علاقہ اور تقریباً 600 مربع کلومیٹر کے بعض کوہستانی علاقوں پر قبضے کے لئے حملہ شروع کیا گیا۔ ایرانی فورسز چوارتہ شہر کا محاصرہ کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ اِس طرح سلمانیہ سے بیس کلومیٹر دور چوارتہ اور اِس وادی کی بعض اہم چوٹیاں ایرانی قبضے میں آ گئیں۔ اس حملے کے جواب میں عراقی فورسز نے کیمیائی ہتھیاروں کا بھی استعمال کیا۔
27 فروری کو آپریشن کا تیسرا مرحلہ انجام دیا گیا۔ اِس مرحلے میں بہت زیادہ جنگی غنمیت جن میں دسیوں ٹینک اور عملے کی گاڑیاں شامل ہیں، ایرانی فورسز کے ہاتھ لگیں۔ اس کے علاوہ، سلیمانیہ کی برف سے ڈھکی چوٹیوں کے کچھ حصے ایران کے قبضے میں آ گئے ۔
آپریشن کے آغاز کے تین دن بعد، فوج کے ہیڈکوارٹر کے نائب اور عراق کی ساتویں کور کے کمانڈر سعدی طعمہ الجبوری نے اعلان کیا کہ تمام محاذوں پر جنگ جاری ہے اور ایرانیوں نے شمالی محاذ پر قدم جما لیے ہیں۔
پانچویں دن (28 فروری 1986ء) کو ایرانی فورسز نے شروزہ چوٹیوں اور کچھ دوسرے دیہاتوں پر قبضہ کر لیا اور سلیمانیہ شہر سے بیس کلومیٹر دور ٹھہر گئے۔ اِسی طرح کانا، شاہ کوران چوٹیاں، سور گھاٹی، موبرا، ماخلان، کانی ماران اور سرو ، 1470 اور 1489 چوٹیاں بھی ایرانی فورسز کے قبضے میں آ گئیں
ایک طیارہ، ایک ہیلی کاپٹر، بیس ٹینک، نوے گاڑیاں، دس اینٹی ایئر کرافٹ گنز اور عراقی ہلکے اور نیم بھاری ہتھیاروں کی ایک بڑی مقدار کو تباہ کر دیا گیا اور بھاری مقدار میں ہلکے اور نیم بھاری ہتھیار اور ہر قسم کا گولہ بارود قبضے میں لے لیا گیا۔
اس طرح 29 فروری کو والفجر 9 آپریشن ختم ہوا۔ ایرانی فورسز نے سلیمانیہ -چوارتا سڑک کا کنٹرول سنبھال لیا اور دو سو کلومیٹر عراقی علاقے پر قبضہ کر لیا۔ اس آپریشن میں 1500 عراقی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے اور 134 افراد کو پکڑ لیا گیا۔
اس آپریشن سے پہلے عراق کے پاس اس علاقے میں کوئی بڑی طاقت نہیں تھی۔ لیکن اس کے بعد اس نے کردوں کے زیر کنٹرول علاقوں پر قبضہ کرنے اور عراقی سرزمین تک گہرائی تک رسائی کے راستوں کو مسدود کرنے کی بہت کوششیں کیں۔
آپریشن کے بعد حاصل کیے گئے علاقوں کو جمہوری اسلامی فوج کے حوالے کر دیا گیا اور والفجر 8 آپریشن میں حاصل کیے گئے علاقوں کی حفاظت کی اہمیت کے پیش نظر آپریشنل یونٹس کو فاو بھیج دیا گیا۔ عراق کی فاو پر دوبارہ قبضے سے مایوسی کے ساتھ عراق نے 28 مارچ 1986ء کو والفجر 9 کے آپریشنل علاقے پر حملے شروع کردئیے اور علاقے میں مقیم فورسز کو افراد کی کمی اور دشمن کے شدید دباؤ کی وجہ سے اپنی پرانی پوزیشنوں پر عقب نشینی کرنا پڑی۔
والفجر 9 آپریشن سے پتہ چلا کہ عراقی فوج کے خلاف بیک وقت دو محاز کھولنے سے اُن کی طاقت تقسیم ہو جاتی ہے اور دشمن دو الگ الگ محاذوں پر لڑنے کے قابل نہیں رہتا۔ یہ وہ وقت تھا جب عراق کی 7ویں کور کے کمانڈر نے والفجر 9 آپریشن کے آغاز کے بعد کہا تھا: ’’ایران شمال میں جو قبضے کر سکتا ہے وہ اسٹریٹجک اہمیت کے حامل نہیں ہیں۔اگر ایرانی یہ سمجھتے ہیں کہ شمال میں ان کی پیش قدمی سے فاؤ میں ان کی مشکلات میں کمی آئے گی تو وہ غلط ہیں۔‘‘