دختر شینا
سجاد نادر پور
2 بازدید
"دختر شینا" قدم خیر محمدی کنعان کی آٹھ سالہ مقدس دفاع (ایران عراق جنگ) کے دور کی یادداشتیں ہیں جنہیں بہناز ضرابی زادہ نے قلمبند کیا اور یہ کتاب 2011 میں زیور طبع سے آراستی ہوئی۔
قدم خیر محمدی کنعان، ہمدان صوبے کے گاؤں قایش کی ایک نوجوان لڑکی ہیں جنہوں نے انقلاب کے دنوں میں صمد (سردار شہید صمد (ستار) ابراہیمی ہژیر سے شادی کی، جو ہمدان صوبے کے ممتاز شہدا میں سے ہیں، اور اس کتاب میں انہوں نے ان کے ساتھ اپنی ازدواجی زندگی کے واقعات بیان کیے ہیں۔
یہ کتاب دفتر ادب و فنون مزاحمت کی 612 ویں اور ایران عراق جنگ کی یادداشتوں کے سلسلے کی 202 ویں کتاب ہے۔ کتاب کا پہلا ایڈیشن 2011 میں، 2500 کاپیوں کے ہمراہ، 45000 ریال قیمت پر، 264 صفحات پر مشتمل، نرم جلد اور رقعی سائز میں، سورہ مہر پبلیکیشنز، حوزہ ہنری، سازمان تبلیغات اسلامی کی جانب سے منظر عام پر آیا۔ کتاب کا سرورق رضا زواری نے ڈیزائن کیا ہے۔ سرورق پر راوی کی بچپن کی تصویر ہے جس کے پس منظر میں پردہ اور رنگین تتلیاں ہیں۔ کتاب کا عنوان سفید رنگ میں سرورق کے آخری ایک تہائی حصے میں لکھا گیا ہے۔ پشت سرورق پر، رہبر معظم کی تقریظ سرورق کے اوپری حصے میں درج ہے اور کتاب کے متن کا ایک حصہ نیز پبلیکیشن کے لوگو کے ساتھ ہے۔
عنوان، تعارفی صفحہ اور کتاب کی تقدیم کے بعد، متن کی فہرست ہے اور اس کے بعد کتاب کا اصل متن شروع ہوتا ہے۔ کتاب کا متن 19 ابواب میں ترتیب دیا گیا ہے، جن کے عنوانات نہیں ہیں بلکہ ترتیبی نمبرز ہیں اور ترتیب کا معیار زمان ہے اور راوی کے بچپن سے لے کر اس کے شوہر کی شہادت تک کے واقعات پر محیط ہے۔
کتاب کا مختصر ترین حصہ باب دوم ہے جو 4 صفحات پر مشتمل ہے، جبکہ طویل ترین حصہ باب پانزدہم ہے جو 28 صفحات پر محیط ہے۔ کہانی کے آغاز میں راوی کے بچپن کے دن بیان ہوئے ہیں، جو گاؤں قایش میں پیدا ہوئیں اور اپنی "خوش قدمی" کی وجہ سے ان کا نام "قدم خیر" رکھا گیا۔ وہ اپنے والدین حاجی آقا اور شیریں جان کی لاڈلی تھیں اور انہیں اپنے والد سے بہت لگاؤ تھا۔ اس لگاؤ کی وجہ سے وہ کسی بھی طرح شادی کتراتی ہیں؛ لیکن 'صمد' کی آمد، ان کا قدم خیر کا رشتہ مانگنا اور مقامی بزرگان کی سفارشیں اچانک اس نوجوان لاڈلی لڑکی کے قدم اس کے بچپن کے گھر سے کہیں زیادہ وسیع دنیا میں کھول دیتی ہیں۔ شادی سے پہلے، قدم خیر بار بارصمد کی نظروں سے بچتی ہیں اور گویا شروع ہی سے ان دونوں کی تقدیر میں جدائی اور فراق لکھا ہوتا ہے۔ صمد فوجی خدمات کے لیے چلے جاتے ہیں، شادی کے بعد کام کی غرض سے گاؤں سے تہران جاتے ہیں، کچھ دنوں کے لیے واپس آتے ہیں اور پھر تھوڑی دیر بعد، 1979 کا انقلاب اور عوامی قیام کی لہر ان دونوں کے درمیان حائل ہو جاتی ہے، وہ واپس آتے ہیں اور پھر 'مقدس دفاع' کا دور شروع ہوتا ہے اور آخرکار صمدکی شہادت ان دونوں ہمیشہ کے لیے جدا کر دیتی ہے۔ کہانی اس وقت اپنے عروج پر پہنچتی ہے جب آپریشن کربلاء پنج شروع ہوتا ہے۔ صمد، بطور آپریشنل کمانڈر ، اپنے بھائی کو کھو دیتے ہیں اور وہ خود بھی اپنے بھائی کی شہادت کے تھوڑے ہی عرصے بعد شہید ہو جاتے ہیں۔ کہانی کا آخری حصہ، صمد کی شہادت کی خبر کے پہنچنے اور قدم خیر کے پانچ بیٹوں اور بیٹیوں کے یتیم ہونے کا واقعہ ہے، جب قدم خیر کی عمر 24 سال تھی۔ [1]کتاب کے اختتامی حصے میں کتاب کے متن سے متعلق 13 صفحات پر مشتمل تصاویر ہیں۔
'دختر شینا' دفاع مقدس کے شعبے کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتابوں میں سے ہے اور اب تک اس کے 115 ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔[2]
کتاب 'دختر شینا' نے 'کتاب سال دفاع مقدس' کے سولہویں ایوارڈ میں "زبانی یادداشت" (خاطرہ شفاہی) میں پہلا انعام حاصل کیا۔[3]
ادبیات جہاد و مقاومت کی چھٹی اعزازی تقریب میں، جو 10 مارچ 2017 کو ہمدان کے حسینیہ امام خمینی رح میں منعقد ہوئی، رہبر انقلاب آیت اللہ خامنہ ای کی اس کتاب پر لکھی گئی تقریظ کی رونمائی کی گئی۔ تقریظ کا متن کچھ یوں ہے: "خدا کی رحمت ہو اس صابر اور باایمان خاتون پر؛ اور اس نوجوان مجاہد، مخلص اور قربانی دینے والے پر کہ اس کی محبوبہ بیوی کی یہ طاقت فرسا مصیبتیں اسے اس کے سخت جہاد کو جاری رکھنے سے روک نہ سکیں۔ ان دو عظیم انسانوں کی اولاد کی قدر دانی بھی ہونی چاہیے۔"[4]
یہ کتاب اب تک انگریزی، ترکی (استنبولی) اور عربی زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے۔[5]
کتاب 'دختر شینا' اب تک کئی محققین کی تحقیق کا موضوع بن چکی ہے۔ متعدد تحقیقات نے اس کتاب سے نمونہ مطالعہ کے طور پر استفادہ کیا ہے۔ نیز متعدد مقالات نے بھی اس کتاب کو اپنے مطالعے کا حصہ بنایا ہے جن میں شامل ہیں: "بررسی ترجمہ عناصر فرہنگی در ترجمہ عربی کتاب دختر شینا بر اساس نظریہ نیومارک" (پری خدادادی، 2022)، "بررسی زبان زنانہ در پنج اثر داستانی ادبیات پایداری" (شیار 143، یکشنبہ آخر، دختر شینا، فرنگیس، زیتون سرخ) (مہدیہ شیخ کلوخی، 2016)، "بررسی و تحلیل بنمایہہای فکری در خاطرہنویسی دفاع مقدس با تأکید بر آثار: دا، دختر شینا، لشکر خوبان، پایی کہ جا ماند" (فرشاد سلیمینژاد، 2014)، "بازنمایی فرہنگی در خاطرہنگاریہای دختر شینا و یکشنبہ آخر" (زینب صالحی، 2016)، "بررسی چالشہای ترجمہ اصطلاحات فرہنگی ـ مذہبی دختر شینا بر اساس مدل نظری پیم و چسترمن" (زہرا حسینیان، 2021)، "شخصیت و شخصیتپردازی در ادبیات داستانی دفاع مقدس با تکیہ بر رمان دختر شینا " (مسعود زبیدی، 2021)، "استعارہ مفہومی در پردازش زنانہ از جنگ (بر اساس دو کتاب من زندہام و دختر شینا" (آمنہ دوستان، 2021)، "بررسی سیر و تطور شخصیتپردازی در ہفت کتاب خاطرہ برگزیدہ دفاع مقدس از سال 2006 تا 2016 (بر اساس کتابہای دا، کوچہ نقاشہا، عباس دست طلا، نورالدین پسر ایران، سلام بر ابراہیم، گلستان یازدہم، دختر شینا) (رؤیا عرفانی، 2018).[6]
اسی طرح کئی مقالات نے اس کتاب کو منبع قرار دیا جو عبارت ہیں :"تحلیل گفتمان انتقادی دختر شینا (بسمل، 2021)، "واکاوی تاریخ شفاہی دفاع مقدس در مجموعہ خاطرات دختر شینا" (واشقانی فراہانی و ابراہیمی ہژیر، 2018)، "عناصر داستانی خاطرہنوشتہہای دفاع مقدس با تأکید بر اثر دختر شینا" (زارع و پیروز، 2018)، "بررسی و نقد رمان امّسعد و دختر شینا بر اساس رویکرد تحلیل گفتمان انتقادی فرکلاف" (حاجیزادہ و قہرمانپور، 2019)، "سیر کاربرد انگارہہای زنانہ زبان در دو کتاب یکشنبہ آخر و دختر شینا با نگاہی بہ رویکرد زبانی سارا میلز" (موسوی سیرجانی و ہمکاران، 2021)، "تحلیل عنصر روایت در خاطرہنوشتہ دختر شینا بر اساس نظریہ ژرار ژنت" (زارع و ہمکاران، 2018)، اور "نقش تبلیغات تلویزیونی در جذب مخاطب: بررسی برنامہ خندوانہ، کتاب و زندگی" (مرادی و یقموری، 2016)سے.[7]
مطبوعہ نسخوں کے علاوہ، اس کتاب کا الیکٹرانک ورژن (E-book)، جو "سورہ مہر" کے ایڈیشن کے مطابق ہے، بھی دستیاب ہے۔[8]
[1] حاجیزاده، مهین، قهرمانپور، معصومه، «بررسی و نقد رمان امسعد و دختر شینا بر اساس رویکرد تحلیل گفتمان انتقادی فِر کالف»، مجله کاوشنامه ادبیات تطبیقی (مطالعات تطبیقی عربی ـ فارسی) دانشگاه رازی، دوره نهم، ش4 (پیاپی 36)، موسم سرما 2020، ص25.
[2] انتشارات سوره مهر: https://sooremehr.ir/book/2568/
[3] خبرگزاری کتاب: https://www.ibna.ir/vdcjhoe8muqevmz.fsfu.html
[4] تقریظ رهبر انقلاب بر کتاب دختر شینا، دفتر حفظ و نشر آثار حضرت آیتاللهالعظمی خامنهای: https://khl.ink/f/35598
[5] ]. رکوردشکنی دختر شینا در رسیدن به چاپ یکصدودوازدهم، خبرگزاری فارس: http://fna.ir/1qoixd
[6] پایگاه اطلاعات علمی ایران(گنج): https://ganj.irandoc.ac.ir
[7] پایگاه مجلات تخصصی نور: https://www.noormags.ir
[8] دختر شینا، خاطرات قدمخیر محمدی کنعان: https://taaghche.com/book/914/
