آقاسی زادہ شعرباف، حسن
معصومہ عابدینی
48 بازدید
حسن آقا سی زادہ شعر باف (1959-1987)،کمانڈنگ سینٹر خاتم الانبیاءﷺ میں ٹیکنیکل اور انجینئرنگ کے شعبہ کے معاون تھے۔
1959 کے موسم خزاں میں شہر مشہد میں آنکھ کھولی۔ اپنی طالب علمی کے زمانے میں انتہائی محنتی اور قابل طالب علم تھے۔ ایام نوجوانی سے ہی دینی واجبات و فرائض کے پابند تھے۔مذہبی انجمنوں کے پروگرامز میں شرکت کرتے تھے اور شہید مطہریؒ کی کتابوں اور امام خمینیؒ کے رسالہ توضیح المسائل کا مطالعہ بھی ان کے روز مرہ کے مشاغل میں شامل تھا۔ کالج کے زمانے میں امام خمینی علیہ الرحمہ کی کیسٹس اور ان کے اعلانات کو نشر اور انکی ترویج کی وجہ سے کئی بار آپ کو ساواک اور شہری پولیس کی جانب سے دھمکیاں ملیں اور زد و کوب کئے گئے۔
عوام کی پہلوی حکومت مخالف جھڑپوں میں شدت آئی تو اس وقت آپ انٹرمیڈیٹ کا امتحان دے کر فارغ ہوئے تھے۔ شاہ کی ظالم حکومت کے خلاف جہاد جاری رکھنے یا بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے مسئلے میں آپ تشویش کا شکار تھے تو آپ نے امام خمینیؒ کے قم میں نمائندہ دفتر ، ثقافتی سوجھ بوجھ رکھنے والوں اور اپنے والد گرامی سے مشورہ کیا اور یوں آپ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے کنیڈا (Canada) روانہ ہوگئے۔
جس وقت امام خمینیؒ نے عراق سے پیرس کی جانب ہجرت کی اس وقت آقا سی زادہ ٹورینٹو کی یونیورسٹی میں سول انجینئرنگ کر رہے تھے۔ وہ چند دوسرے ایرانی نژاد طلاب کے ہمراہ پیرس کی جانب عازم سفر ہوئے اور وہاں 14 دن تک امام خمینیؒ کے گھر کی پہرہ داری کرتے رہے۔ وہ پہرے داری کے علاوہ صحافیوں کے لئے ترجمہ کا کام بھی انجام دیتے تھے۔
امام خمینیؒ کو جب ان لوگوں کی تعلیمی کیفیت کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا: ’’ ہمیں مستقبل قریب میں آپ لوگوں کی ضرورت ہوگی۔ آپ جلد از جلد اپنی تعلیم مکمل کریں تاکہ آپ طاغوتی قوتوں کی جگہ لے سکیں۔‘‘ امام خمینیؒ کے اس فرمان کے بعد آقا سی زادہ اپنے دوستوں کے ساتھ واپس کینیڈا آگئے۔
آقا سی زادہ شعر باف نے پل سازی (bridge construction) کے شعبہ میں ایم فل کیا۔ اپنے مقالہ کے لئے انہوں نے دفاعی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے ’’میزائل بیس‘‘ کے موضوع کا انتخاب کیا۔ انہوں نے اپنے اس مقالہ کا دفاع بہترین نمبروں کے ساتھ رتبہ اول میں کیا۔ یہ خبر جب روزنامہ گارڈین کو ملی تو انہوں نے آکر آقا سی زادہ سے انٹرویو کیا۔ ان کے اس انٹرویو کے اخبار میں چھپنے کے ساتھ ان کو کینیڈا میں اچھی تنخواہ پر ملازمت کی پیشکش کی گئی۔ آپ نے اس پیشکش کو قبول نہ کیا اور ان کو یوں جواب دیا: ’’ مجھے ایران واپس جانا چاہئے اور اپنی قوم کی خدمت کرنی چاہئے۔ میں اپنی قوم کا مقروض ہوں۔‘‘
جس وقت آقا سی زادہ کینیڈا میں مقیم تھے اس وقت امامؒ کی راہ کے پیروکار طلاب نے ایران میں موجود امریکہ کے سفارتخانہ پر قبضہ کرلیا تھا اور امریکہ سے شاہ کو تحویل دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ سفارت خانہ پر یہ قبضہ اس بات کا سبب بنا کہ غیر ملکی میڈیا نے ایران مخالف اشتہارات اور خبروں کا بازار گرم کردیا۔ آقا سی زادہ نے کینیڈا کے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے طلاب کے اس اقدام کی توضیح و تشریح بیان کی۔ ان کا یہ انٹرویو طلاب کے ہدف کی وضاحت اور غیر ملکی میڈیا کی سازشوں کا قلعہ قمع کرنے میں کافی مفید ثابت ہوا۔
آقا سی زادہ 1982ء میں ایران واپس آئے اور رشتہ ازدواج سے منسلک ہوگئے۔ شادی کے بعد انجمن تعمیر و ترقی میں شامل ہوئے اور اپنی زوجہ کے ہمراہ خراسان جنوبی کے ایک شہر ’’خواف‘‘ چلے گئے اور وہاں چھ ماہ تک خدمت میں مصروف رہے۔ اس کے بعد وہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے شعبہ انجینئرنگ سے وابستہ ہوئے اور اپنی خدمات پیش کیں۔
انہوں نے اپنی لیاقت اور اپنے بلند جذبہ کے سبب مختلف مقامات پر اپنے وظیفہ کی انجام دہی کے دوران اپنی شائستگی اور مہارت کو ثابت کیا۔ جس وقت وزارت سپاہ نے وزراتخانوں کی توانائی سے جنگی امور میں بہرہ مندی کے لئے ’’صراط المستقیم‘‘ اور ’’خاتم الانبیاء‘‘ کمانڈنگ سینٹرز کی بنیاد رکھنے کا ارادہ کیا تو خاتم الانبیاء کمانڈنگ سینٹر کے ٹیکنیکل اور انجینئرنگ امور کی دیکھ بھال کو آقا سی زادہ نے قبول کیا۔
آقا سی زادہ نے بہت سے تعمیراتی منصو بوں کی نظارت کو قبول کیا جیسے فاطمۃ الزہراء اسپتال، امام رضا علیہ السلام اسپتال، میزائل بیسز، فوجی گیریژنز (Garrisons) اور مایکرو انجینئرنگ ۔ مایکرو انجینئرنگ میں آپ کی خدمات جنگ کے دوران انتہائی اہم ثابت ہوئیں۔ ان منصوبوں میں تو آپ کی براہ راست مداخلت تھی ہی لیکن اس کے علاوہ آپ نے بیراجوں کی تعمیر، نہروں کی تعمیر، دفاعی خاکی مورچوں کی تعمیر، امدادی سڑ کوں کی تعمیر، مستقل اور عارضی پلوں کی تعمیر وغیرہ میں بھی اپنی غیر مستقیم خدمات پیش کیں۔
آپریشن والفجر 8 کے دوران عراق نے ’’فاو‘‘ اور ’’اروندرود‘‘ کے علاقوں میں وسیع پیمانہ پر ہوائی حملے شروع کردیئے تھے۔ خلیج فارس سے آبادان اسٹیشن ۷ تک اروندرود پر بنے ایرانی فوج کے تمام پلوں پر بمباری کی جارہی تھی۔ اس وقت آقا سی زادہ ایک لمحہ چین سے نہ بیٹھتے تھے اور ہر پل کی مرمت کے لئے پہنچ جاتے اور عارضی پلوں کو جابجا کرتے تاکہ پل جلد از جلد مرمت ہوکر اپنی جگہ نصب ہوجائیں اور فوجی افسران امدادی فوجوں کو لیکر اپنے ہدف تک پہنچ سکیں۔
آپریشن کربلا 5 میں جس وقت سپاہیوں کی اچھی خاصی تعداد عراقی فوجیوں کے محاصر ہ میں تھی آقا سی زادہ راتوں رات پل بنانے میں مشغول ہوگئے تاکہ محاصرین کو پل پر سے گذار کر انہیں نجات دی جاسکے۔ ساری رات کام کرنے کی وجہ سے وہ اس قدر تھک گئے تھے کہ پل پر تقریبا بے ہوش ہوگئے اور دریا میں گر گئے۔ ان کےساتھیوں نے ان کو ڈوبنے اور عراقی فوجیوں کی اسیری میں جانے سے نجات دلائی۔
آقا سی زادہ، رمضان، محرم، خیبر، والفجر ایک تا 9، کربلا ایک تا 10، فتح اور نصر کے آپریشنز میں شریک رہے۔ اس عرصہ میں وہ پانچ بار زخمی ہوئے اور ان کی کمر پر شدید چوٹیں آئیں لیکن کسی بھی وقت ان کو مکمل علاج کروانے کا وقت میسر نہ آسکا۔
24 جولائی 1982ء کو آقا سی زادہ کو حج کے سفر کی سعادت نصیب ہوئی۔ اس سفر میں انہوں نے اپنی ایک طولانی وصیت مرتب کی۔ انہوں نے حمد و ثنائے خداوند متعال اور پیغمبروں کی رسالت اور آئمہ علیہم السلام کی ہدایت کے شکرانہ کے بعد امام خمینی کی خدمات کا اعتراف کیا اور پھر سپاہیوں کے ہمراہ ہونے کی نعمت کی شکر گذاری اور اپنے گناہوں اور نافرمانیوں کی مغفرت طلب کرنے ساتھ اپنے والدین کا شکریہ ادا کیا۔ اسی وصیت کے ایک حصہ میں آپ نے اپنی زوجہ کے بارے میں لکھا: ’’اس کی جانب سے میرے لئے بہترین یادگار ، اس کا میری تنہائیوں اور سختیوں میں شریک ہونا ہے۔ لیکن میرا اور اس کا ہم دونوں کا افتخار یہ ہے کہ ہم نے یہ سب سختیاں اسلام اور جہاد کی راہ میں برداشت کی ہیں۔ جو کوئی بھی مجھ سے محبت کرتا ہے وہ میرے مرنے کے بعد مری زوجہ سے محبت کرے اور اس کی خدمت کرے۔‘‘
20 اکتوبر 1987 کو آقا سی زادہ آپریشن نصر 8 کے دوران ’’ماووت سلیمانیہ‘‘ کے جنگی میدان میں داخل ہوگئے۔ یہ علاقہ عراق کا تھا۔ رات کے وقت وہ گاڑی میں لائیٹ بند کرکے سفر کر رہے تھے۔ ایسے میں توپ کا ایک گولہ سڑک کے نزدیک پہاڑوں پر لگنے سے اس کے بڑے پتھر سڑک پر گرگئے اور ان کی گاڑی نشیب کی جانب منحرف ہوگئی (کھائی میں گر گئی) اور یوں آقا سی زادہ درجہ شہادت پر فائز ہوگئے۔[1]
آپ کی یادگار آپ کے تین بچے یعنی حجت، زینب اور زہرا ہیں۔
آپ کے جسد خاکی مشہد مقدس میں تشیع جنازہ ہوئی اور اس کے بعد آپ کو حرم مطہر امام رضا علیہ السلام کے صحن آزادی میں سپرد خاک کیا گیا۔
[1] دفاع مقدس کے انسائیکلو پیڈیا کے ایک مقالہ کی تلخیص، دائرۃ المعارف دفاع مقدس جلد ۱، ص ۱۸۶ تا ۱۸۸ ناشر: مرکز دائرۃ المعارف پژوہشگاہ (ریسرچ سینٹر) علوم و معارف دفاع مقدس تہران۔ ۲۰۱۱