اجاقلو، ناصر
معصومہ عابدینی
49 بازدید
ناصر اجاقلو (1962-1987)،دفاع مقدس کے دوران حضرت ابو الفضل علیہ السلام بٹالین کے 31 ویں لشکر عاشورا کے معاون رہے۔
ناصر اجاقلو 1962ء میں زنجان میں پیدا ہوئے۔ آپ کی والدہ محترمہ، سیدہ زہرا امیری نے آپ کو بچپن میں ہی قرآن پڑھنے کے لئے ایک مکتب میں بھیجنا شروع کردیا تھا۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم مدرسہ شاہپور میں حاصل کی۔ ثانوی تعلیم کے لئے آپ کوکورش اسکول ( جو کہ اب شہید چمران اسکول ہے) بھیجا گیا۔ اعلیٰ ثانوی تعلیم آپ نے پہلوی ہائی اسکول میں حاصل کی جس کا نام آج کل دکتر شریعتی ہائی اسکول ہے۔ ناصر اپنے فراغت کے دنوں اور گرمیوں کی چھٹی میں ایک درزی کی دکان پر کام کرتے تھے اور یوں اپنا خرچ خود اٹھاتے تھے۔ پہلوی حکومت کے خلاف سرگرمیوں کا آغاز ہوا اور جھڑپیں بڑھیں تو اس دوران ناصر امام خمینی کے اعلانات اور ان کی تقاریر کی کیسٹس کو لوگوں میں تقسیم کرنے پر مامور تھے۔ انہی دنوں، ناصر اپنے ایک دوست یعقوب امیری ( جو بعد میں شہید بھی ہوگئے) کے ہمراہ گرفتار ہوگئے اور ان کو زندان بھیج دیا گیا مگر ایک ہفتہ بعد ہی دونوں زندان سے فرار کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
انقلاب اسلامی کی کامیابی کے اور اپنا انٹرمیڈیٹ سائنس کے شعبے میں مکمل کرنے کے بعد آپ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے زنجان کے رکن بن گئے۔ابتداء میں مسجد مسلم بن عقیل ؑ مزاحمتی چھاونی کے کمانڈر بنے اس کے بعد آپ کا تبادلہ زنجان کے نواح میں موجود قیدار و سلطانیہ میں کر دیا گیا۔ یہاں آپ سپاہ سلطانیہ کے کمانڈر کے عہدہ تک پہنچے۔ 1979 ء سے ہی آپ کردستان کے علاقوں میں موجود رہے۔ وہ ضد انقلاب عناصر بالخصوص منافقین کے معاملہ میں انتہائی سخت موقف کے حامل تھے۔ آپ ہر وقت منافقین کے مخفی اڈوں کی تلاش میں رہتے تھے۔
ایران عراق جنگ شروع ہوئی تو آپ محاذ پر چلے گئے۔ محاذ پر حاضری کے تمام عرصہ میں آپ نے بہت سے اہم زمہ داریاں نبھائیں۔
1982 میں آپریشن الی بیت المقدس اور آپریشن رمضان میں یعنی دو بار آپ کے سر پر شدید زخم آئے۔ 1983 میں آپریشن خیبر کے دوران آپ ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف بٹالین کے کمانڈر تھے۔ لیکن اس موقع پر آپ کے پیر پر گولی لگ گئی جس کی وجہ سے نا چاہتے ہوئے بھی آپ کو محاذ سے واپس پلٹنا پڑا۔ اس بٹالین کی کمانڈ ان کے بھائی امیر اجاقلو کے سپرد کر دی گئی جو اسی بٹالین کے ایک دستہ کے کمانڈر تھے۔ آپ اپنی بیماری اور کمزوری کے ایام میں جب اپنے شہر میں ہوا کرتے تھے تو شہدا کے خاندانوں سے ملاقات ضرور کیا کرتے تھے۔محاذ جنگ پر مدتوں حاضر رہنے کے بعد ناصر اجاقلو تربیتی بیرک قجریہ کے کمانڈر تعینات ہوئے۔ یہاں خصوصیت کے ساتھ فوجی پیراکی کی ٹریننگ دی جاتی تھی۔ بعد میں اس بیرک کا نام ہی ’’مقام شہید ناصر اجاقلو‘‘ رکھ دیا گیا۔
آپریشن والفجر 8 کے ابتدائی مرحلہ میں وہ اس آپریشن میں شرکت کا شدید اشتیاق رکھتے تھے سو انہوں نے اس بیرک کی کمانڈ سے چشم پوشی کی اور حضرت ابو الفضل علیہ السلام کی بٹالین کے 31 ویں لشکر عاشورا کے انچارج کے عنوان سے ، سید اژدر مولائی جو اس بٹالین کے کمانڈر تھے، کے بازو بن کر میدان جنگ کو راہی ہوئے۔ سید اژدر مولائی ان کے بارے میں کہتے ہیں: ’’ ناصر اس بٹالین کے تمام ہی کام انجام دیتا تھا۔ وہ اس بات میں کامیاب ہوا کہ نچلے درجہ کے نظریات اور قومی تعصبات پر قابو پا ئے اور جنگجوؤں میں مروت و مخلصی کا رابطہ پیدا کرے۔ اس نے مذہبی انجمنوں اور دو صوبوں سے مرکب بٹالین کو یکجا کیا اور ان کے درمیان محبت اور خلوص کا رابطہ پیدا کیا۔ یہ بٹالین زنجان اور تبریز کے جنگجوؤں پر مشتمل تھی۔‘‘
والفجر 8 کے آپریشن میں امین شریعتی 31 ویں لشکر عاشورا کے کمانڈر تھے انہوں نے فوج کی قوت میں اضافہ کے لئے ناصر اجاقلو کو آپریشن کے علاقہ میں بھیج دیا ۔ ناصر اجاقلو محاصرہ میں گھری بٹالین کو آزاد کرانے میں کامیاب ہوئے۔
پندرہ مارچ 1987ء کو ان کو ایک گولی لگی اور وہ کیمیائی گیس کے بھی زیر اثر آگئے جس کی وجہ سے وہ شہادت کے درجہ پر فائز ہوئے۔ ناصر اجاقلو کو گلزار شہدائے زنجان میں سپرد خاک کیا گیا۔[1]
حوالہ تصویر: انفارمیشن بیس، فرہنگ و ایثار شہادت
[1] دفاع مقدس کے انسائیکلوپیڈیا کے ایک مقالہ کی تلخیص، دائرۃ المعارف دفاع مقدس، جلد ۱، صفحہ ۲۴۵، ۳۴۷: ناشر: مرکز دائرۃ المعارف پژوہشگاہ (ریسرچ سینٹر) علوم و معارف دفاع مقدس۔ ۲۰۱۱