آپریشن فتح 4
اعظمسادات حسینی
63 بازدید
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی زمینی فورسز نے رمضان کیمپ کی نگرانی اور عراقی مخالفین کے تعاون سےجنوری- فروری 1987ء میں عراق کے صوبہ اربیل میں 70 کلومیٹر کی گہرائی میں آپریشن فتح 4 کیا۔
20 نومبر 1986ء کو کیے جانے والے آپریشن فتح 3 کی کامیابی نے عراق کے شمال میں آپریشن فتح 4 کےانجام دہی کی راہ ہموار کی۔ یہ آپریشن اس وقت کیا گیا جب ایران اور عراق کے سرحدی علاقے برف سے ڈھکے ہوئے تھے اور آپریشنل فورسز کو مدد اورحمایت فراہم کرنا مشکل تھا۔
اس آپریشن کا مقصد شمالی محاذ میں عراقی فوجی اور اقتصادی تنصیبات کو تباہ کرنا تھا۔ صوبہ اربیل میں عراق کے ہیڈ کوارٹر اور آرمی بیس کو نشانہ بنانے کے لیے رواندوز اور دیانا کے عمومی علاقے کا انتخاب کیا گیا۔
یہ آپریشن 11 فروری 1987ء کو "یا اللہ" کے کوڈ کے ساتھ دو مرحلوں میں انجام دیا گیا۔ پہلے مرحلے میں، جو 100 مربع کلومیٹر کے آپریشنل علاقے میں کیا گیا، عراقی علاقے میں 70 کلومیٹر گہرائی میں کورک کی بلندی پر واقع بڑے ریڈار اور مائیکرو ویو تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا، جو صوبہ اربیل میں واقع ہے۔ دراندازی کی یہ کاروائی دیانا کے علاقے میں خلیفان گیریژن پر گولہ باری کے ذریعے جاری رہی اور اس مرحلے پر ایرانی فورسز نے سات عراقی ٹینکوں کو آگ لگا دی۔ اس کے بعد ایرانی فورسز نے رواندوز میں موٹر پارک اور 5ویں عراقی کور کے حساس مراکز پر فائرنگ کرکے آپریشن کو کامیابی سے آگے بڑھایا۔رواندوز کے شمال میں باپشتیان گیریژن پر گولہ باری سے دشمن کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ قضا صدیق، رواندوز، خلیفان اور دیانا شہروں میں فوجی اور اقتصادی مراکز کو نقصان پہنچانا آپریشن فتح 4 کے پہلے مرحلے کی کامیابیوں میں سے ہے۔ نیز اس مرحلے پر عراقی 23 ویں ڈویژن کا ہیڈ کوارٹر بھی ایرانی فورسز کی شدید گولہ باری کی زد میں آ گیا۔
اس آپریشن کا دوسرا مرحلہ 15 مارچ 1987ء کو عراقی سرزمین میں 300 مربع کلومیٹر کے علاقے اور 70 کلومیٹر کی گہرائی میں کیا گیا۔ آپریشن کے اس مرحلے میں عراقی مخالفین (عراقی کردستان پیٹریاٹک یونین کا پیشمرگہ(کرد مسلحہ گروہ) ) اور رمضان کیمپ کی کمان میں
جو سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی زمینی فورسز کے خصوصی بریگیڈ پر مشتمل تھیں، کا تعاون قابل ذکر تھا۔ دوسرے مرحلے میں بھی ایرانی فورسز نے عراقی فوج پر شدید حملے کیے اور بھاری نقصان پہنچایا۔دیانا کے علاقے میں 5ویں عراقی کور کا ہیڈ کوارٹر بھاری توپ خانے کی گولہ باری سے تباہ ہو گیا اور 5ویں عراقی کور کا مواصلاتی مرکز بھی سو فیصد تباہ ہو گیا۔ عراقی 5ویں کور کے موٹر پارک کی تنصیبات، شہر قضا صدیق میں کئی سرکاری عمارتیں اور دشت دیانا اور رواندوز کے علاقے میں 23 عراقی فوجی اڈے نابود کر دئیے گئے۔ رواندوز کے علاقے میں انٹیلی جنس سینٹر اور سیکیورٹی آرگنائزیشن، ایک بٹالین کی قیام گاہ، پولیس سینٹر، عراقی فوجی افسروں کا کلب اور فوجی اور لاجسٹک گیریژن کو تباہ کر دیا گیا۔ دیانا کے علاقے میں، علاقے کے جنوب میں دو فوجی گیریژن، حامیہ گیریژن، سکیورٹی مرکز ، انٹیلی جنس اور پولیس کا ادارہ، شہر میں عراق کی افواج اور فوجی تنصیبات کو جمع کرنے کا مرکز اور دشت دیانا میں عراقی میزائل اور طیارہ شکن مقامات اُن مراکز میں شامل ہیں جنہیں آپریشن فتح 4 کے دوسرے مرحلے میں تباہ کیا گیا۔
راوندوز پاور پلانٹ کی سہولیات، جو اس مرحلے میں تباہ ہو گئی تھیں، اس شہر میں بجلی کی مکمل بندش کا باعث بنی۔ آپریشن کے اس مرحلے میں 1150 سے زائد عراقی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے جن میں سے 150 کمیشنڈ اور نان کمیشنڈ افسران تھے۔ اس کے علاوہ درجنوں عراقی ٹینک، عملے کی گاڑیاں اور فوجی گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں۔