ابوترابی فرد، علی اکبر

معصومہ عابدینی
39 بازدید

حجۃ الاسلام سید علی اکبر ابوترابی فرد  (1939-2000)،المعروف بہ  سید آزدگان، اپنی دس سالہ قید کی زندگی میں مزاحمت کے لئے نمونہ عمل تھے۔

سید علی اکبر ابوترابی فرد سال 1939 ء میں پیدا ہوئے۔ شناختی کارڈ کے مطابق وہ طایقان کے رہائشی تھے جو مرکزی صوبہ کا ایک علاقہ ہے [1]، لیکن حقیقت میں وہ قزوین کے باشندہ تھے۔

ابوترابی نے ریاضی   میں انٹرمیڈیٹ قم کے حکیم نظامی ہائی اسکول سے کیا۔  چونکہ آپ کے والد ایک روحانی پیشوا تھے اس لئے انہوں نے آپ کو بھی دینی تعلیم کی ترغیب دلائی۔[2]    انہوں نے قم مشہد اور نجف کے حوزہ ہائی علمیہ سے دینی تعلیم حاصل کی ۔نجف اشرف میں وہ انتہائی محنتی طالب علم تھے اور وہاں کچھ مدت تک وہ امام خمینیؒ کے درس میں بھی شریک ہوتے رہے۔[3]

انہوں نے شاہ  اور پہلوی حکومت کے خلاف اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز  5 جون 1963  سے کیا۔ لیکن اس سے قبل کہ امام خمینیؒ  کو نجف جلا وطن کیا جاتا ابوتربی فرد نجف کی جانب چل دئیے۔[4]

1967 میں ابو ترابی فرد نے محمد زادہ (صدیقی) کے خاندان کی ایک لڑکی  سے شادی کر لی۔ یہ خاندان تہران کے بازار  میں تھوک کا کاروبار کیا کرتا تھا۔ شادی کے بعد وہ اپنی زوجہ کو بھی نجف اشرف لے گئے۔[5]

1970  میں جب علی اکبر ابوترابی فرد وطن واپس آ رہے تھے تو اپنے پاس امام خمینی کے بہت سے پیغامات  رکھنے کے جرم میں گرفتار ہوئے اور انہیں چھ ماہ کی قید کی سزا ہوئی۔ آزاد ہونے کے بعد وہ قم  چلے گئے۔ قم اور تہران میں  ابوترابی کا رابطہ سید علی اندرز گو سے بہت زیادہ بڑھ جانے کے سبب ساواک نے آپ  پر نظر رکھنا شروع کردی تھی۔[6] شاہ کے خلاف  ان کے تمام اقدامات تعلیم و تدریس کے ہمراہ ہی تھے۔

انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد ایک گروہ کی کمانڈ  ابوترابی فرد کے پاس تھی۔ اس گروہ کا کام کاخ سعد آباد کی حفاظت اور پہرہ داری تھا۔ [7]

ابو ترابی فرد نے قزوین آرمرڈ کور بیرک  پر قبضہ  کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا اور  انہوں نے اس بات کی اجازت نہیں دی کہ اسلحہ اور جنگی  وسائل   بیرک سے باہر جاسکے۔

کچھ عرصہ بعد ابوترابی نے اپنی سرگرمیوں کا مرکز قزوین  کو قرار دیا اور  پہلی انقلاب اسلامی کمیٹی کے سربراہ ا بوترابی فرد ہی بنے۔[8] اسی طرح جس وقت قزوین کی سٹی کونسل کے انتخابات ہوئے تو آپ اس سٹی کونسل کے بھی سربراہ منتخب  ہوئے۔[9]

ایران عراق  جنگ  نے ان کو محاذ جنگ پر پہنچا دیا۔ وہ جنگ کے آغاز پر ہی  نامنظم جنگوں کے مرکز کی امداد اور ڈاکٹر چمران کی ہمراہی کے لئے کوشاں رہے۔

جنگ کے ابتدائی مہینوں میں  انہوں نے اللہ اکبر نامی چوٹیوں کو واپس حاصل کرنے کے آپریشنز  میں شرکت کی۔ یہ آپریشنز ایران کے جنوب میں کئے گئے تھے۔ 17   دسمبر 1980ء کو علی اکبر ابوترابی فرد اپنے تین اور ساتھیوں کے ہمراہ علاقہ کا جائزہ لینے اور یہ جاننے کے لئے نکلے کہ عراقی فوج کی کیفیت کیا ہے؟ تاکہ ایرانی جنگجوؤں کے لئے حملہ کا راستہ کھولا جاسکے، لیکن وہ عراقی فوجوں کے محاصرہ میں آگئے اور یوں اسیر کرلئے گئے۔

پہلے یہ خیال کیا جاتا رہا کہ ابوترابی فرد کو شہید کر دیا گیا ہے۔اسی خیال کے تحت  ڈاکٹر چمران نے اپنے جنگجو ساتھی کے فراق میں مرثیہ لکھا اور ان کی دلپذیر اور دلیر شخصیت کو ان الفاظ میں سراہا: ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ سید علی اکبر ابوترابی فرد، اپنے پورے وجود کے ساتھ خدا، اسلام کی سر بلندی اور انقلاب کی کامیابی کی راہ میں اپنے خون کے آخری قطرہ تک لڑتے رہے ہیں۔‘‘

اپنی قید کے ابتدائی ایام کی منظر کشی ابوترابی یوں کرتے ہیں: ’’ عقوبت خانہ میں اعتراف جرم کے لئے مجھے کئی بار  مجھے پھانسی  کے تختہ پر لٹکایا گیا اور وہاں وہ گنتے تھے: ایک دو ، اور اس کے بعد مجھے واپس قید خانہ میں لوٹا دیتے تھے۔  دن میں  کئی بار مجھے تختہ دار پر لے جایا جاتا اور واپس قید خانہ میں لا یا جاتا تھا۔ بالآخر ایک رات مجھے العمارہ مدرسہ لے گئے۔ وہاں ایک عراقی سردار نے وہاں موجود لوگوں سے کہا کہ  اس شخص کو سونے کی اجازت نہیں ہے۔ وہ آدھی رات کو آتے اور کیل سے میرے سر میں سوراخ کر دیتے۔ لیکن یہ شکنجہ ایسے نہ ہوتے تھے کہ میں سکھ کا سانس لے سکوں (یعنی مجھے موت آجائے۔)‘‘

عراقی قید خانوں اور کیمپس میں ابوترابی فرد اس قدر مضبوط اور  ثابت قدم  رہے کہ عراقی فوجیوں کی غیر انسانی حرکتوں اور عقوبتوں سے ان کے پائے ثبات  میں ذرا بھی لغزش پیدا نہ ہوئی۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنی اس استقامت سے عراقی فوجی افسروں کو بھی  اپنے سحر میں گرفتار کر لیا تھا۔

عراقی قید خانوں اور کیمپوں میں ان کا وجود مبارک باقی ایرانی قیدیوں کے لئے ایک حکیم باپ کے وجود کی مانند تھا۔ ان کی مینجمنٹ اور  قیادت کے قصے تمام ہی ایرانی قیدیوں کی زبانوں پر تھے۔

اپنی دس سالہ قید کی زندگی میں ان کی سرگرمیوں میں سے کچھ یہ تھیں: ثقافتی گروہوں کی تشکیل، درسی کلاسوں کا انعقاد، مختلف مناسبتوں کے سلسلہ میں تقاریر جیسے  عزادری امام مظلوم ؑ میں خطاب، نہج البلاغہ کی شرح اور قرآن کی ایسی آیات کی شرح جو قیدیوں کے حال احوال سے مناسبت رکھتی تھیں اور اسی طرح جسمانی صحت کی حفاظت کی ترغیب۔

3  مارچ 1985  کو ابو ترابی فرد کو کیمپ میں قیدیوں کا  انچارج  بنا دیا گیا وہاں انہوں نے کیمپ کے امن  وامان میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ وہ قیدیوں کو فنی اور تکنیکی کاموں اور کھیلوں کی ترغیب بھی دلایا کرتے تھے۔ ان کی ان سرگرمیوں نے بعثیوں کو پریشان کیا ہوا تھا۔ 22 مئی  1985   کو ابوترابی بغداد جلا وطن کر دیئے گئے لیکن 19  ماہ  بعد ہی آپ کو دوبارہ کیمپ بلا لیا گیا۔ اس بار کیمپ میں آتے ہی  انہوں نے قیدیوں کو مختلف زبانیں سیکھنے کی ترغیب دلانا شروع کردی۔ اسی سال  انہوں نے  جمعرات کے روز کو صلۂ رحمی کا دن قرار دے دیا۔ کیمپ کے لئے زحمتیں اور مشقتیں برداشت کرنے والوں کی قدر دانی کے لئے بھی وہ ہر کچھ دن میں ایک بار کوئی نہ کوئی پروگرام منعقد کیا کرتے تھے۔  اس کے بعد عراقیوں نے انہیں باورچی خانہ منتقل کر دیا۔  باورچی خانہ میں وہ جتنا عرصہ رہے ان کی کوشش یہی ہوتی تھی کہ میسر  آنے والی ناکافی چیزوں سے ہی ایسی غذائیں تیار کی جائیں جو کھانے کے قابل ہوں۔ اپنی قید کے دوران ہی جب انہیں امام خمینیؒ کی رحلت کی خبر ملی تو انہوں نے کیمپ کے ذمہ داروں کو اس بات پر قائل کر لیا کہ امام خمینی ؒ کے لئے مجلس ترحیم منعقد کی جائے۔

سید علی اکبر ابوترابی فرد اپنی آزادی کے بعد  1990 کی گرمیوں میں،  آزاد ہونے والوں کے امور  کی دیکھ بھال کے لئے نمائندہ ولی فقیہ بنے۔ اس کے بعد انہیں تہران کے عوام نے مجلس شوریٰ یعنی پارلیمنٹ کے چوتھے دورے میں اپنا نمائندہ منتخب کیا۔ اس دورہ میں وہ لوگوں کی  رائے شماری میں دوسرے نمبر پر تھے۔ پانچویں دورہ میں ابوترابی فرد مجلس شوریٰ کی نمائندگی کے انتخاب میں پھر شرکت کی اور اس بار تیسرے نمبر پر آپ مجلس شورائے اسلامی میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔

پہلی جون سن 2000  عیسوی کو مشہد ہائی وے پر ایک حادثہ میں  اپنے والد ’’ آیت اللہ سید عباس ابوترابی فرد‘‘ کے ہمراہ آپ نے اپنی جان، جاں آفریں کے سپرد کی۔ ان کی وفات کے بعد قزوین اور تہران  کے عوام  اپنے اپنے دلائل کی بنیاد پر یہ چاہتے تھے کہ ان دونوں کی تدفین ان کے علاقہ میں ہو مگر خود ابوترابی فرد اور ان کے والد کی وصیت کے مطابق ان کو امام رضا علیہ السلام کے حرم مطہر میں داخلہ گیٹ نمبر 12  پر سپرد خاک کیا گیا۔[10]

 

[1] قبادی محمد پاسیاد، پسر خاک، ص ۴۴۳، ناشر: سورہ مہر تہران۔ ۲۰۰۹

[2] ایضا ص ۴۴

[3] ایضا ص ۷۸

[4] ایضا ص ۷۴ و ۷۵

[5] ایضا ص ۸۰۔۸۱

[6] ایضا صفحہ ۸۹۔۹۰

[7] ایضا ص ۱۵۲

[8] ایضا

[9] ایضا ۱۵۸۔۱۵۹

[10] دفاع مقدس کے انسائیکلو پیڈیا کے ایک مضمون کی تلخیص۔ دائرۃ المعارف دفاع مقدس جلد۱ ص ۲۸۱، ناشر مرکز دائرۃ المعارف پژوہشگاہ (ریسرچ سینٹر) علوم و معارف دفاع مقدس بآ بیآ ۲۰۱۱