اروند کنار
افسانه صادقی
50 بازدید
ٓبادان شہر صوبہ خوزستان کے جنوبی ترین شہروں میں سے ہے اور اس کی شمال سے شادگان اور خرمشہر شہروں، مشرق ، جنوب مشرق اور جنوب میں خلیج فارس اور مغرب اور جنوب مغرب میں ملک عراق کے ساتھ سرحدیں ملتی ہیں۔ یہ شہر مرکزی اور اروندکنار کے ناموں سے دو حصے رکھتا ہے جس میں اروند کنار، اروند کنار حصے کا مرکز ہے اور آبادان ، آبادان شہر کے مرکزی حصے کا مرکز ہے۔
اروند کنار شہر، آبادان شہر کے اروند کنار حصے کے ماتحت ہے اور آبادان شہر کے جنوب مشرق میں پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جو جزیرہ آبادان پر جا کر ختم ہو تاہے۔ یہ شہر 1970 کی دہائی کے شروع میں اروندکنار حصے کے معمرہ دیہی ضلعے کے بارہ دیہاتوں کے ملنے سے وجودمیں آیا۔البتہ صرف دیہاتوں کو ایک فرضی شہری حدود میں ملانے سے یہ ایک واحد اور منسجم شہر میں تبدیل نہیں ہوا اور اِن دیہاتوں کو ایک دوسرے سے ملانے والی واحد چیز ایک عمومی سڑک تھی۔
اروند کنار جس کا پرانا نام قصبہ یا گسبہ تھا (قصبہ النصار بھی کہتے ہیں)، پہلوی دوئم کے زمانے میں، 1959ء میں اس کا نام اروند کنار شہر میں تبدیل کر دیا گیا۔یہ بندرگاہی شہر چھوٹی کشتیوں کے لنگر انداز ہونے اور سامان لوڈ کرنے کے امکانات رکھتا ہے اور جزیرہ آبادان کے جنوب میں یہ آخری خشکی کی حد ہے۔ اِس کے بالکل سامنے فاو شہر، عراق کی معروف برآمدی بندرگاہ اور تیل کا اڈہ موجود ہے۔اس علاقے کے لوگ عرب زبان اور اِن کی اکثریت شیعہ ہے البتہ صابئین کی ایک قلیل تعداد بھی یہاں زندگی بسر کر رہی ہے۔ قدرتی نقطہ نظر سےاروند کنارایک ہموار میدان کی صورت میں ہے جو میسوپوٹیمیا اور زاگرس پہاڑی سلسلے کےتلچھٹ سے مل کر بنا ہے۔ 3
جنگ شروع ہونے سے پہلے اروند کنار کے علاقے کو انقلاب مخالف گروہوں اور عراق کی بعثی حکومت سے وابستہ خلق عرب کی تباہ کن کاروائیوں کا سامنا تھا۔ جیسے16 جنوری 1980ء کو اروند کنار کے علاقے میں صحنہ گاؤں کے پرائمری سکول میں دھماکہ اور 8 فروری 1980 ء کو اروند کنار کے شہر سیروس کے سکول میں دھماکہ۔ 4 ان دنوں دشمن نے دریائے اروند کے مغربی ساحل اور اروند کنار کے سامنے وسیع پیمانے پر اشتغال انگیزی کی اور اس علاقے میں قلعہ بندیوں کے ساتھ ساتھ 31 مئی 1979 کو فاؤ کے علاقے اور شہر اروند کنار کے بالکل سامنے جنگی یونٹوں کے ہمراہ ایک توپخانے کی بٹالین کو تعینات کر دیا تاکہ دریائے اروند کے دہانے پر کنٹرول کے علاوہ ایرانی شہروں اور دیہاتوں پر بھی مسلط ہوا جا سکے۔
23 جون اور یکم ستمبر 1980ء کو بھی دریائے اروند پر قبضہ کرنے کے لئے عراقی بحریہ نے اپنی جنگی کشتیوں کو اس علاقے میں مرکوز کر دیا۔اروند کنار حصے میں ایران کی اہم ترین چوکیاں مینوحی، سعدونی، نہر علی شیر، نہر ابتر اور خرمال تھیں جو عراق کی شمالی فاؤ اور جنوبی فاؤ کی چوکیوں کے سامنے فعالیت کرتی تھیں۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے اِن میں سے کچھ چوکیوں جیسے اروند کنار کی خرمل چوکی (خاص طور پر تئیس اگست اور گیارہ ستمبر 1980ء) کو عراقی بحریہ کے حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ 6
چونکہ اس علاقے پر قبضے سے دریائے اروند کے دہانے پر قبضہ ہو سکتا تھا اس وجہ سے عراقی فوج نے جزیرہ آبادان میں داخل ہونے اور اس علاقے کو قبضے میں لینے کی وسیع کوشش کی جو دفاع کرنے والوں کی ثابت قدمی کے باعث ناکام ہو گئیں۔ اروند کنار شہر کے بالکل سامنے اور دریا اروند کے دوسری طرف، عراقی فاؤ واقع ہے کہ جو آپریشن والفجر 8 کی لڑائی میں ایرانی فورسز کے قبضے میں آ گیا۔
اروند کنار کی فاؤ شہر سے نزدیکی کے سبب، جو عراق اور خلیج فارس کے درمیان رابطے کا سب سے اہم سیکٹر ہے، نے اس حصے کی جغرافیائی اہمیت میں خاص طور پر دفاع مقدس کے دوران بہت اضافہ کیا۔ اس طرح کہ جنگ کے شروع میں ہی اروند کنار شہر اور اُس کے کچھ حصے عملاً دشمن کے محاصرے میں چلےگئے۔ مجاہدین کے مقابلے اور آبادان کے محاصرے کےٹوٹنے کے بعد، عراقیوں کی جانب سے اروند کنار پر قبضے کا خطرہ ٹل گیا لیکن پہلے کی طرح اروند کنار کے حصے اور اِس کی آبادی اور نیز اِس علاقے کے تمام ساحل آگ و بارود کی لپیٹ میں رہے۔
جنوری اور فروری 1986ء میں اروند کنار اُن جنگجوؤں کی تیاری کا مقام تھا جو والفجر 8 آپریشن کی تیاری کر رہے تھے۔ فورس کو مضبوط کرنے اور علاقے کی انجینئرنگ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے، آپریشن سے پہلے، انجینئرنگ یونٹس نے متعدد سرگرمیوں جیسے انٹینا شکل کی سڑکیں بنانا، توپخانے کی پوزیشنوں کی تعمیر اور اروند کنار سیکٹر میں زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے لئے لانچنگ پیڈ کی تیاری کے ذریعے آپریشن کے مقدمات کو فراہم کیا۔ والفجر 8 آپریشن میں، اروند کنار کے حساس مقام کے ساتھ ساتھ اس کے وسیع و عریض درختوں سے بھرپور علاقے، جو فورسز کی تیاری اور نقل و حرکت کے لئے بہت مناسب شمار کیے جاتے تھے، آپریشن کی کامیابی میں بہت کارگر ثابت ہوئے۔ اگست اور ستمبر 1986 ء اور کربلا 3 کے کامیاب آپریشن کے بعد، نوح کیمپ کے مجاہدین نے اروند کنار کے جنوبی حصے میں حرکت کے ساتھ، الامیہ اور البکر بندرگاہوں جو خلیج فارس میں تیل اور بحری جہاز کے اہم ترین عراقی اڈے تھے، تباہ کر دئیے اور خلیج فارس میں دشمن کے تنظیم کو تہس نہس کر دیا۔ جنگ کے خاتمے اور قرارداد 598 کے نفاذ کے ساتھ، دریائے اروند کو ایک بار پھر ایران کی مغربی سرحد کے طور پر متعین کیا گیا اور اروندکنار کے ساحل اِس علاقے کے لوگوں کے استعمال میں آ گئے۔
اس علاقے میں جنگ کے خاتمے کے بعد والفجر 8 آپریشن کے شہداء کی یاد میں 8 یادگاریں تعمیر کی گئیں جو جنگی علاقوں کے زائرین کی میزبان بھی ہیں۔ 9
1۔ پورجباری، پژمان، اطلس جغرافیائی حماسی 1: جنگ میں خوزستان، تہران: صریر، 2010، ص71
2۔ فرودی، قاسم، مغرب اور جنوب مغربی علاقوں کے آپریشن کا نقشہ، تہران۔ بنیاد حفظ آثار و نشر ارزشھای دفاع مقدس، 2016، ص122
3۔ پورجباری، پژمان، اطلس جغرافیائی حماسی، ص81
4۔ ایضاً
5۔ ایضاً، ص 81 اور 82
6۔ فرودی، قاسم، مغرب اور جنوب مغربی علاقوں کے آپریشن کا نقشہ، ص 122
7۔ پورجباری، پژمان، اطلس جغرافیائی حماسی، ص 82
8۔ ایضاً
9۔ فرودی، قاسم، مغرب اور جنوب مغربی علاقوں کے آپریشن کا نقشہ، ص 122