دارخوین
میلاد شویکلو
60 بازدید
دارخوین صوبہ خوزستان کے شادگان شہر کے مرکز میں واقع ہے کہ دفاع مقدس کے زمانے میں ثامن الآئمہ جیسےوسیع آپریشنز اس علاقے میں کیے گئے۔ اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے دارخوین اِن اسٹریٹجیک علاقوں میں سے ایک تھا جسے بار بار دشمن کے حملوں کی زد میں آیا۔
دارخوین آبادان سے 44 کلومیٹر شمال میں ایک قصبہ اور گاؤں ہے، جو دریائے کارون اور آبادان-اہواز ہائی وے کے درمیان واقع ہے۔ جنگ سے پہلے دارخوین کا قصبہ جوہری توانائی کے ادارے کے ملازمین سے متعلق تھا جو اس گاؤں سے تین کلومیٹر جنوب میں اور کارون کے مضافات میں واقع دارخوین تنصیبات میں کام کرتے تھے۔ 1977 میں دو بلین ڈالر کے معاہدے کی بنیاد پر، فرانس نے بجلی پیدا کرنے کے لیے دارخوین میں 900 میگاواٹ کے دو ایٹمی پاور پلانٹس بنانے کا عہد کیا تھا، لیکن انقلاب کی فتح کے بعد اُس نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا۔
جنگ کے آغاز اور کارون کے مشرق میں مارد گاؤں کے علاقے میں عراقی فوج کی تیسری کور کے تسلط کے ساتھ، دشمن کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے میدان جنگ کے شمال میں ایک اہم محاذ تشکیل پایا کہ اِس محاذ کی پشت پر دارخوین گاؤں ہونے کی وجہ سے یہ دارخوین محاذ کے نام سے مشہور ہو گیا۔ یہ علاقہ تین اہم شاہراؤں شادگان-آبادان-ماہشہر اور اھواز اور آبادان شہروں پرقبضہ کرنے کے لئے عراقی فوجی یونٹوں کے دباؤکی زد میں تھا۔ اِس لئے عراقی فوج کی تیسری بکتر بند ڈویژن نے یہ طے کیا کہ کارون کے مغربی علاقے میں سلیمانیہ اور خرمشہر کے درمیان قبضے کے ساتھ ساتھ 5ویں میکانائزڈ ڈویژن کی مدد سے (فارس محاذ کے راستے) مغربی کارون کےتمام ساحل پر یعنی خرمشہر سے اھواز تک، سارے علاقے پر قبضہ کر لے۔دارخوین محاذ سلیمانیہ کی جانب سے دباؤ برداشت کرتے ہوئے مجبور تھا کہ دشمن کو دریائے کارون پہنچنے سے بھی مسلسل روکے رکھے۔ مجموعی طور پر دارخوین غیر پیوستہ لمبی پٹی میں ذمہ دار تھا کہ ساٹھ کلومیٹر طویل علاقے کی حفاظت کرے۔ سال 1981ء کے شروع میں دارخوین محاذ کے مجاہدین کے دشمن پر حملے کے اصرار اور تیاری کے اعلان پر جنرل کمان کا آپریشن 11 جون 1981ء کو شروع کیا گیا اور تین کلومیٹر کا علاقہ آزاد کرا لیا گیا۔ ثامن الآئمہؑ آپریشن میں مجاہدین نے اسی محاذ سے دشمن کے ٹھکانوں پر حملہ کیا اور پل قصبہ کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے اس پل کو تباہ کر دیا۔بیت المقدس آپریشن کے دوران فوج کے جنگجوؤں نے دزفول سے دارخوین تک 1200 میٹر پی این پی پل پہنچانے کے ساتھ اور دارخوین کے مغرب میں کارون پر پانچ فوجی پل بنا کر (جسے فتح کا پل کہا جاتا ہے) دشمن کو غافل کر کے زبردست حملہ کیا اور اھواز-خرمشہر ہائی وے تک پیش قدمی کر لی۔ چونکہ دارخوین قصبہ جنگ کے تمام دورانیے میں 14ویں امام حسینؑ ڈویژن کی ٹریننگ اور قیام کا مقام تھا اور ایٹمی توانائی کی تنصیبات کے پاس 17ویں علی ابن ابی طالبؑ ڈویژن، قمر بنی ہاشمؑ بریگیڈ اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بکتر بند بریگیڈ قیام پذیر تھیں، لہٰذا اِن پر متعدد ہوائی حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں مجاہدین کی ایک بڑی تعداد شہید ہوئی۔
دارخوین محاذ نہ صرف ثامن الآئمہ آپریشن کے دوران اہم اور فیصلہ کن تھا بلکہ کارون کے مغرب میں واقع سرپل کے علاقے کو محفوظ رکھنے کی وجہ سے بھی اِس کی قدر و قیمت اور اہمیت مسلسل بڑھ رہی تھی جو بیت المقدس آپریشن میں جنگی منصوبہ بندی کرنےمیں طاقتور نکتہ تھا۔ چنانچہ عراق نے دارخوین کے محاذ پر کئی مراحل میں حملہ کیا تاکہ کسی طرح اندر گھس سکے لیکن مجاہدین کی مزاحمت سے یہ کام عملی نہیں ہو سکا۔ اس طریقے سے مایوس ہونے کے بعد عراقیوں نے دارخوین کے دو سیکٹروں پر کاروائی شروع کردی۔ وہ اِن سیکٹروں پر چاہتے تھے کہ تیسری بکتربند ڈویژن کو پھیلا دیں تاکہ اُنہیں کم سے کم نقصان ہو لیکن متعدد کاروائیوں کے آغاز اور ایرانی فوج کی مزاحمت کے باعث عراقیوں کے لئے آگے بڑھنے اور داخل ہونے کا امکان موجود نہیں تھا۔ عراقیوں نے دارخوین کے دو محاذوں، مغربی اور جنوبی میں پیش قدمی کی تھی لیکن اِنہیں دونوں محاذوں پر شکست ہوئی۔ دارخوین کے علاقے میں دشمن کی پیش قدمی کا مقابلہ کرنے کے لیے جو موثر اقدامات کیے گئے ان میں سے ایک پانی کا استعمال تھا۔ دشمن دارخوین کے محاذ کے سامنے سات کلومیٹر کی دوری پر موجود تھا۔ عراقیوں نے میکانائزڈ فورسز کی بٹالین کے ساتھ مقبوضہ علاقوں کی حفاظت کی کوشش کی۔ اس کی وجہ سے دشمن کے علاقے کے سامنے کارون کے پانی کی منتقلی ان کی فوجی سرگرمیوں کو محدود کر سکتی تھی۔ اِسی وجہ سے دارخوین گاؤں سے چھ کلومیٹر لمبی نہر بنائی گئی اور کارون کے پانی کو کئی طاقتور موٹروں کے ذریعے اُس علاقے میں چھوڑا گیا۔
ایرانی مجاہدین اور دشمن کی فوجوں کے درمیان ایک اہم ترین جھڑپ5 نومبر 1980ء کو آبادان- اہواز سیکٹر کے درمیان دارخوین کے علاقے میں ہوئی۔ بعثی فوج نے محمدیہ اور سلمانیہ کے اطراف میں پیش قدمی شروع کی اور دریائے کارون کے مغربی علاقے سےسپاہ کے ٹھکانوں کو توپخانے کے گولوں سے نشانہ بنایا۔ اروند (کوآرڈینیشن کیمپ کے نام سے جانا جاتا ہے) ہیڈ کوارٹر کمانڈ نے ہیلی کاپٹر اور ہوائی جہاز بھیج کر ان فورسز کی مدد کی۔ جنگجوؤں کی بہادری اور ثابت قدمی اور فراہم کردہ تعاون دشمن کو اپنی اصلی پوزیشن پر واپس لے جانے کا باعث بنے۔نومبر کی آٹھ تاریخ کو عراقیوں نے دوبارہ شمالی علاقے یا اہواز-آبادان سیکٹر کے درمیان سرگرمیاں شروع کر دیں۔ کیونکہ وہ دریائے کارون کے مغرب سے ایرانی فوج کی پوزیشنوں کو آسانی سے مارٹر اور توپ خانے کے گولوں کی زد میں رکھ سکتے تھے اور اپنی انفرادی فورسز کی مدد کر سکتے تھے۔ لیکن عراقیوں کی اس حرکت کو بھی سپاہ کی جانب سے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا اور وہ پیش قدمی کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ دارخوین کے علاقے میں نومبر کی نو تاریخ کو بھی عراقیوں کی حرکت جاری رہی۔ دشمن کی کارروائیوں کے بارے میں اروند کیمپ کے تاثرات یہ تھے کہ عراقی، ایرانی افواج کو صلاحیت اور سازوسامان کے لحاظ سے جانچنا چاہتے ہیں تاکہ اگر حالات مناسب ہوں تو وہ دارخوین کے قرب و جوار میں دریائے کارون پر پل بھی بنا لیں اپنی فرنٹ لائین وہاں تک لے آئیں۔ دشمن کو مقررہ اہداف تک پہنچنے سے روکنے کے لیے علاقے کے شمال میں مناسب دفاعی لائن بنانا ضروری تھا۔ چونکہ اس علاقے میں سپاہ کے پاس مربوط دفاعی لائن نہیں تھی۔ آخرکار 11 نومبر 1980ء دوسری قوچان بریگیڈ کے علاوہ 77ویں ڈویژن کی 246 ٹینک بٹالین بھی ماہشہر کے علاقے میں داخل ہوئی اور سپاہ کی فورسز مذکورہ فورسز کی مدد سے عراقیوں کو شکست دینے اور اُن کے اہداف کو حسرت میں بدلنے میں کامیاب ہوئیں۔