خاطرات فاطمہ آباد

متین سادات اصلاحی
2 بازدید

کتاب "خاطرات فاطمہ آباد" شہید سردار علی بینا کی اہلیہ کی یادداشتوں پر مشتمل ہے جس کا موضوع عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ ہے۔

یہ کتاب دفتر ادبیات و فنون مقاومت (حوزہ ہنری) کے سلسلے کی پانچ سو اٹھترویں (578) کتاب ہے۔ اس  کتاب میں جنگ کے آغاز، بے گھر ہوجانے کی کیفیت، شہید علی بینا سے شناسائی، ان کے ساتھ تین سالہ زندگی کے واقعات اور پھر ان کی شہادت کے حالات قلمبند ہیں۔ یہ کتاب تقریباً دس گھنٹوں کے انٹرویوز کے بعد تدوین کی گئی ہے۔

اس کتاب کا پہلا ایڈیشن 2009ء میں 63 صفحات پر مشتمل، رقعی سائز، نرم جلد کے ساتھ شائع ہوا تھا جس کی قیمت 10000 ریال اور تعداد 2500 نسخے تھی۔ اسے حوزہ ہنری سے وابستہ ادارہ "سورہ مہر" نے شائع کیا۔ کتاب کی ترتیب محمدرضا محمدی پاشاک نے دی ہے۔ کتاب کے سرورق پر سفید رنگ کا انار، خون اور قلم کی تصویر ہے۔ کتاب میں فہرست موجود نہیں ہے اور اس کا  براہ راست آغاز  واقعات سے ہوتا ہے۔ آخری صفحے پر شہید علی بینا کی تصویر اور ان کی مختصر سوانح حیات درج ہے۔

کتاب کے سرورق  کے پشت پر  ایک اقتباس کے ساتھ ایک پینسل کی تصویر ہے جس کی نوک سرخ ہے اور اس پر  زخم کی پٹی چپکی ہوئی ہے۔

کتاب اب تک 9 مرتبہ شائع ہو چکی ہے اور  اس کے متن اور سرورق میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

کتاب میں علی بینا براہ راست موجود نہیں ہیں بلکہ قاری ان کے کردار اور باتوں کو ان کی اہلیہ کی زبانی سنتا اور دیکھتا ہے۔ کتاب میں ایک جگہ لکھا ہے: "میں علی بینا کو بھولتی جا رہی تھی کہ ایک دن مجھے استاد شہید مرتضی مطہری کی کتاب 'حجاب' ملی۔ اس کے ساتھ ایک خط بھی تھا۔ علی نے لکھا تھا: 'میں فوجی ہوں۔ میرے والدین کاشتکار ہیں۔ جان لو کہ میں جہاد اور محاذ سے الگ نہیں ہو سکتا۔ اب تم خود فیصلہ کرو۔' میں نے محسوس کیا کہ وہ مجھے پرکھنا چاہ رہے ہیں۔ میں نے جواب میں لکھا: 'ہمارے گھر کا ماحول خط و کتابت کے لیے موزوں نہیں ہے۔ رضا برضاک تسلیماً لامرک (تمہاری رضا پر راضی تمہارے حکم پر سر تسلیم خم ہے)۔' علی کو حوصلہ ملا اور انہوں نے اور اصرار کیا۔ جب میرے والد نے میری رضامندی دیکھی تو کہا: 'کیا میں اپنی بیٹی کو اجنبی دیار بھیجنے پر راضی ہو سکتا ہوں؟' میرے بھائی نے مجھے سمجھانے کی کوشش کی کہ میں اپنا فیصلہ واپس لوں۔ میں نے کہا: 'میں نے اپنا فیصلہ کر لیا ہے۔' میں بالکل تنہا رہ گئی۔ میں نے کہا: 'یہ علی کتنا مظلوم ہے!' میں اضطراب اور بے چینی کی آگ میں جل رہی تھی اور میری بات سننے والا کوئی نہ تھا۔ علی چاہتے تو انہیں ایک آرام دہ زندگی کا یقین دلا سکتے تھے، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خدا کی راہ میں جہاد کو ترک نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے سامنے ایک سخت زندگی ہے۔ ان کی راست گوئی اور سچائی نے انہیں کامیاب کر دیا۔ یہی پاکیزگی میرے عزم کو مضبوط کرتی چلی گئی۔ درحقیقت، میں بھی اپنے لیے مثالی  شخص کی تلاش میں تھی۔"

ایک اور جگہ وہ اپنے واقعات بیان کرتی ہیں: "جب علی میرا نام لیتے تو مجھے محسوس ہوتا کہ میں نے یہ آواز برسوں پہلے سنی ہے۔ میں کوشش کرتی کہ مجھے یاد آئے کہ یہ آواز کہاں اور کب سنی تھی۔ میں ابھی پہلی نظر کا مرحلہ طے کر رہی تھی۔ میں پڑھائی میں مصروف تھی کہ کسی نے میرا نام پکارا۔ میں نے جواب دیا اور ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں گئی۔ ماں کے سوا کوئی نہیں تھا۔ میں نے معاملہ انہیں بتایا، تو انہوں نے کہا: 'یہ تیری قسمت کی آواز تھی۔'"

چونکہ علی بینا زیادہ تر محاذ پر رہتے تھے، اس لیے راوی (فاطمہ) اپنے شوہر کی غیر موجودگی میں اپنی تنہائی کے بارے میں قاری کو بتاتی ہیں۔ جب علی پہلی بار محاذ پر گئے اور فاطمہ کو تنہا چھوڑ گئے، تو کتاب میں لکھا ہے: "دو دن گزرے، تین دن۔ میں نے دیکھا کہ میرا ایک بال سفید ہو گیا ہے۔ میں نے کہا: 'خدایا، مجھے اس کا اجر ضرور دینا۔ میں تیری رحمت کی امیدوار ہوں۔ میری آبرو بچا، مجھے سربلند رکھ۔ شاید کوئی دشمن کمین میں ہے اور میری شکست دیکھنا چاہتا ہے۔'" اور کتاب میں آگے چل کر لکھا ہے: "انہوں نے کہا تھا: 'فاطمہ، تدفین کی پہلے رات میری قبر پر آنا۔' میں اٹھی، الماری کھولی اور اس کوٹ کو پہنا جو انہوں نے تحفے کے طور پر مجھے دیا تھا۔ یہ ان کا آخری تحفہ تھا۔ میں خاموشی سے شہداء کے قبرستان کی طرف چل پڑی۔ میں آہستہ سے ان کی قبر کے پاس جا کرکھڑی ہو گئی۔ میرا گلا بندھ گیا۔ میں نے کہا: 'علی! میں نے عہد کیا ہے کہ تمہارا پیام تمہارے ساتھیوں تک پہنچاؤں گی۔ میں نے عہد کیا ہے کہ ہمت نہیں ہاروں گی۔ علی! مجھ سے راضی رہنا...'"

سردار علی بینا اسفند فروری1963ء میں پشت کوه دوساری ، بارز جیرفت کے قبائل نشین علاقے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد نے علی کی پیدائش کے وقت ہجرت ترک کر دی اور لوت سوزاں علاقے میں سکونت اختیار کی۔ جب بینا ہائی اسکول کے تیسرے سال معاشیات پڑھ رہے تھے، تو جنگ چھڑ گئی اور وہ محاذ پر چلے گئے۔ بینا نے عملیات خیبر میں حصہ لیا اور پھر عملیات بدر میں لشکر 41 ثارالله کی بٹالین حسین ابن علی کے کمانڈر مقرر ہوئے۔ وہ فاو اور مهران میں بھی موجود رہے اور آخرکار 19 جنوری 1987 میں عملیات کربلائ 5 میں نہر جاسم کے کنارے شہید ہو گئے۔ علی بینا کے دو بچے زینب اور حسین علی  ہیں۔[1]

کتاب کا الیکٹرانک نسخہ طاقچہ اور کتابراه  سائٹس پر دستیاب ہے۔[2]

اس کتاب کو متعدد خبررساں اداروں جیسے جمہوری اسلامی نیوز ایجنسی ("ہمسر شہدا کی چند یادداشتوں کی کتابوں کا تعارف")، ایرانی طلبہ نیوز ایجنسی ("جنگ زنانہ چہرہ رکھتی ہے")، فارس نیوز ایجنسی (" انار کے سرخ دانے دوبارہ گننے کی حسرت")، رسا نیوز ایجنسی ("شہید علی بینا کی زندگی کتاب خاطرات فاطمہ آباد میں")، کنار صندل اینالیٹیکل نیوز کلب اور ایران بک نیوز ایجنسی نے متعارف کرایا ہے۔[3]

 

[1] پایگاه اطلاع‌رسانی نهضت خاطره‌گویی دفاع مقدس، 10 جولائی 2019

[2] سایت طاقچه، https://taaghche.com/book/38090/%D8%AE%D8%A7%D8%؛ سایت کتابراه https://www.ketabrah.ir/%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8

[3] خبرگزاری فارس https://www.farsnews.ir/news/8902030332%20%20%20%20/%D8%AD%D8%B3%D8%B -

خبرگزاری دفاع مقدس https://defapress.ir/fa/news/123792/%D8%AE%D8%A7%؛ خبرگزاری ایسنا https://www.isna.ir/news/1401101610175/%D8%؛ خبرگزاری جمهوری اسلامی https://www.irna.ir/new کد خبر 81856588؛ خبرگزاری رسا https://rasanews.ir/fa/news/256452/%D8%B2%D9%86%D8%؛ خبرگزاری کتاب ایران https://www.ibna.ir/fa/naghli/43327/%D8%AE%D؛ باشگاه خبری تحلیلی کنار صندل http://konarsandal.ir/1394/04/01/%D8%