ابراہیمی ترک، ابراہیم

معصومہ عابدینی
36 بازدید

ابراہیم ابراہیمی ترک   (1956-1980)، سپاہ پاسدار ان انقلاب اسلامی  یزد[1] کےکمانڈر تھے۔

ابراہیم ابراہیمی ترک 1956 ء میں ایرن کے شہر قم  میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ مستوفی سے حاصل کی اور  ثانوی تعلیم مدرسہ دین و دانش سے قم میں ہی حاصل کی۔ 11  سال  کی عمر میں آپ کے والد داغ مفارقت دے گئے۔ 1970 میں  ٹیکنیکل کالج قدس میں آپ نے میٹرک کی تعلیم کا آغاز کیا اور  سن  1973 میں الیکٹرک انجینئرنگ کے شعبہ میں انٹر میڈیٹ پاس کیا۔ اس کے بعد آپ  ٹیکنیکل کالج بابل چلے گئے اور  مئی، جون 1978 ء میں آپ نے ٹیکنیکل انجینئرنگ سے ہی فارغ التحصیلی حاصل کی۔ 1978  میں جس وقت عوام کی جانب سے شاہ کی حکومت کے خلاف شدید احتجاج اور جھڑپوں کا سلسلہ اپنے عروج پر تھا،  ابراہیم بھی دوسرےافراد کے ہمراہ ان مظاہروں  اور احتجاجوں میں شریک ہوتے تھے۔

جون، جولائی 1978  میں ابراہیم کو  فوجی ٹریننگ کے لئے بھیجا گیا۔ ابراہیم  نے یہاں جنگی تعلیم کا تیرہ ہفتوں پر مشتمل ا دورہ مکمل کیا اور اس کے بعد  ٹریننگ کا باقی عرصہ یزد کے مرکز تربیت معلم ٹریننگ سینٹر[2] میں گذارا۔

یزد کے سفر کےدوران ابراہیم کی آشنائی ایک دینی رہنما سے ہوگئی۔ ان کی اس آشنائی کا نتیجہ   یہ ہوا کہ ابراہیم مزاحمتی گروہ، منصورون [3]سے ملحق ہوگئے۔ آپ خفیہ طور پر امام خمینیؒ کی تصاویر اور پیغامات اپنے دوستوں تک پہنچانے کے کام پر مامور تھے۔

انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد  جب انقلاب اسلامی کمیٹی کی تاسیس عمل میں آئی تو آپ اس انجمن سے ملحق ہوگئے۔ آپ آٹھ ماہ تک یزد میں  اس کمیٹی کے عہدہ دار رہے۔ آپ اس کے ساتھ ساتھ تعلیم کے محکمہ سے بھی وابستہ رہے اور تدریس بھی کرتے رہے۔ ابراہیم نے یزد میں  سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی تاسیس کے لئے بہت کوششیں کیں  اور یوں وہ چھ ماہ تک یزد میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر بھی رہے۔

ابراہیمی ترک نے اس عرصہ میں پہلوی حکومت اور ساواک کے کارندوں کی گرفتاری کے لئے انتھک محنت کی۔ شہید محراب آیت اللہ محمد صدوقی ان کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’میں  نے بہت ہی کم جوانوں کو اس قدر سرگرم دیکھا۔ اس نے دینی رہنماوں، طالب علموں اور عوام کو متحد کر دیا تھا۔ اس نے کئی ایک عقوبت خانہ تلاش کئے۔ کئی ایک وحشت اور دہشت کے ٹھکانوں کا سراغ لگایا۔ اس نے مجھے ایک بڑی عمارت دکھائی  جس کے کمروں پر درج تھا: کرنٹ لگانے کا کمرہ، ناخن کھینچنے کا کمرہ، جسم کو خشک کرنے کا کمرہ وغیرہ۔ ابراہیمی نے اس فساد کے مرکز کو بعد میں جہاد کے مرکز خدمات میں تبدیل کردیا۔ اسی مکان میں اس نے سپاہ پاسداران قائم کی اور  لا الہ الا اللہ کو خوشخطی سے لکھ کر دیوار پر لگا دیا اور سپاہ پاسداران انقلاب یزد کا کمانڈر ہو گیا۔‘‘

جس وقت انقلاب  مخالف عناصر  نے کردستان بالخصوص سنندج میں سر ابھارا  اور اس کو تاراج کرنے کی سازشوں میں مصروف ہوئے  تو ابراہیمی کو  سپاہ کی جانب سے دو مرتبہ سنندج بھیجا گیا۔  تیسری مرتبہ آپ  ایک خصوصی گروہ کے ہمراہ امام خمینیؒ کی خدمت میں پہنچے تاکہ ان کو جنگ کی خبریں براہ راست دے سکیں۔ امام خمینیؒ نے اس جلسہ  میں اس گروپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’یہ آپ لوگ ہی ہیں جو اس مملکت کے خدمت گذار ہیں۔‘‘ یہ ابراہیمی کا خلوص اور انکسار ہی تھا جس کے سبب جوانوں کی ایک بڑی تعداد سپاہ کی اور جنگی مورچوں کی جانب کھنچی چلی آئی تھی۔

عراقی بعثی فوجوں کی جانب سے ایرانی سرحدوں کی خلاف ورزی کے سبب  ابراہیمی ستمبر 1980  کی پہلی ششماہی میں ہی کچھ پاسداروں کے ہمراہ قصر شیریں کی جانب چلے گئے۔ وہ  جنگجوؤں کے ایک گروہ کے ہمراہ دعائے کمیل میں مصروف تھے کہ ایک  مارٹر گولے کا نشانہ بن کر شدید زخمی ہوگئے۔   2 مئی  1980 کو ابراہیم زخموں کی تاب  نہ لاتے ہوئے سرپل ذہاب کے ایک اسپتال میں شہادت کے درجہ پر فائز ہوئے۔

شہید ابراہیمی کے جسد مبارک کو ان کے آبائی شہر یعنی قم منتقل کر دیا گیا اور ان کو جوار بی بی معصومہ سلام اللہ علیہا میں شیخین کے گلزار شہدا میں دفن کیا گیا۔[4]

 

[1] ایران کے ایک شہر کا نام

[2] ٹیکنیکل ٹیچرز ٹرینگ انسٹیٹیوٹ یزد

[3] شاہ کے دور کا ایک مزاحمتی گروپ تھا جو شاہ کے خلاف اور امام خمینی کی حمایت میں سرگرم تھا۔

[4] دفاع مقدس کے انسائیکلوپیڈیا کے ایک مقالہ کی تلخیص، دائرۃ المعارف دفاع مقدس جلد ق ص ۲۶۹ اور ۲۷۰، مرکز دائرۃ المعارف پژوہشگاہ (ریسرچ سینٹر) علوم و معارف دفاع مقدس۔ تہران، ۲۰۱۱۔