بدر آپریشن
میلاد نیکسیرت نخجیری
77 بازدید
بدر آپریشن ان جارحانہ کارروائیوں میں سے ایک ہے جو سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اور اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے 1984-1985 میں بصرہ تک پہنچنے کے مقصد کے ساتھ ہورالہویزہ کے علاقے میں کی تھی۔
ایران کی فوجی حکمت عملی کا دوسرا مرحلہ حملہ آور قوت کو سزا دینے کے لئے چار آپریشنوں کو ڈیزائن اور عملی کیا گیا جن میں رمضان (13 جولائی سے 29 جولائی 1982ء)، والفجر مقدماتی (6 فروری سے 9 فروری 1983)، خیبر (22 فروری تا 12 مارچ 1984) اور بدر (11 مارچ سے 17 مارچ 1985) شامل ہیں۔
دجلہ کے مشرق میں واقع علاقے کی تزویراتی اہمیت اور خیبر آپریشن سے حاصل ہونے والے تجربات اس بات کا باعث بنے کہ ہور الہویزہ کے مغرب میں علاقے کو بدر کاروائیوں کے لئے دوبارہ منتخب کیا جائے۔ علاقے کو شمالی اور جنوبی دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ شمالی سیکٹر نجف اشرف کیمپ اور جنوبی سیکٹر کربلا کیمپ کے حوالے کر دیا گیا۔ نجف اشرف کیمپ نے شمال میں البیضہ سےآبی گزرگاہ جمل کے ساتھ ساتھ اور کربلا کیمپ نے شمال سے آبی گزرگاہ جمل کے سامنے اور دجلہ کے مشرق میں نجیرہ گاؤں اور جنوب میں القرنہ (ھالہ لائن) کے علاقے میں وارد عمل ہوئے ۔ نوح کیمپ کو بھی ذمہ داری دی گئی تھی کہ الحویدی پیڈ پر قبضہ کر کے زردان پل کی طرف پیش قدمی کرے اور صوئیب نہر میں دھماکہ کر کے پانی کو بصرہ کی جانب موڑ دے۔ ظفر اور نجف 2 کیمپوں کو ریزرو حالت میں اور دھوکہ دینے والی کارائیاں انجام دینے کی ذمہ داری دی گئی۔ ظفر کیمپ العزیر کے علاقے سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے دجلہ کے مغرب میں شمال کی طرف حرکت کرے اور نجف 2 کیمپ عمارہ-بصرہ روڈ اور العزیر پل کے شمالی حصوں پر گولہ باری کرے۔
ان کیمپوں کی جنگی تنظیم یہ تھی:
- نجف 1 کیمپ: ایک زمینی فوج کی ایک ڈویژن اور سپاہ کی تین ڈویژنز اور تین بریگیڈز
- نجف 2 کیمپ: سپاہ کی ایک ڈویژن اور ایک بریگیڈ
- کربلا کیمپ: زمینی فوج کی تین ڈویژنز اور ایک بریگیڈ اور سپاہ کے چار ڈویژنز اور تین بریگیڈز
- ظفر کیمپ کہ شرائط فراہم ہونے کی صورت میں ذمہ داری انجام دینا۔ اِس کی فورسز اوپر والے کیمپوں (زیادہ تر نجف 1 اور کربلا) سے فراہم ہونا تھیں۔
- نوح کیمپ: سپاہ کی ایک ڈویژن اور دو بریگیڈز
مجموعی طور پر فوج کے چار ڈویژنوں اور ایک بریگیڈ اور سپاہ کے نو ڈویژنوں اور نو بریگیڈز نے آپریشن میں حصہ لیا۔
اس علاقے میں آپریشن سے پہلے عراق کی طاقت یہ تھی: 29 انفنٹری بٹالینز، 2 میکانائزڈ بٹالینز، 9 آرٹلری بٹالینز اور 5 ٹینک بٹالینز کہ دشمن کے ہوشیار ہونے کے بعد کچھ اضافی یونٹس لائن میں شامل کیے گئے اور کچھ یونٹوں کو مضبوط یونٹوں سے بدل دیا گیا۔ آپریشن شروع ہونے سے پہلے ایرانی جاسوسی پٹرولنگ گروپ کو گرفتار کیا گیا اور عراقی اِس آپریشن کی انجام دہی سے متعلق باخبر ہو گئے اور خصوصی بریگیڈز اور گولہ بارود کی تعداد میں اضافہ کر دیا۔
خاتم الانبیاءﷺ کیمپ کی کمان میں سپاہ اور فوج نے مشترکہ طور پر مل کر یہ آپریشن 10 مارچ 1985 کو رات گیارہ بجے یا فاطمہ الزہراؑ کے کوڈ کے ساتھ شروع کیا اور پہلی گولی ایرانی جنگجوؤں نے 429ویں بریگیڈ کے ہیڈکوارٹر کی طرف چلائی جو عجیردہ جنگل میں واقع تھا اور یہ لڑائی تقریباً گیارہ سو مربع کلومیٹر کے علاقے میں ہوئی۔ ا ٓپریشن کی ابتداء میں ہی کربلا کیمپ کے سیکٹر میں (آپریشن کا جنوبی حصہ) دشمن کا دفاعی خط ٹوٹ گیا۔ یونٹیں تیزی سے آگے دوسرے خط کی جانب بڑھیں اور اِن پر قبضہ کر لیا۔ پیش قدمی کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے فورسز اس قابل ہو گئیں کہ جمل 3 آبی گزرگاہ اور روطہ نہر کے درمیان دجلہ کی پشت پر قدم جما سکیں۔ تاہم، بارودی سرنگوں سے ٹکرانے اور فوجیوں کو منتقل کرنے والی کشتیوں کی کمی کی وجہ سے، دجلہ کا دفاع مکمل نہیں ہوسکا اور دشمن سپاہ کے دو یونٹوں17ویں علی ابن ابی طالبؑ ڈویژن اور 44ویں قمر بنی ہاشم بریگیڈ کے درمیان ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر رہ گیا ۔ 8ویں نجف ڈویژن کے سیکٹر میں اہداف حاصل کر لیے گئے اور کربلا کیمپ کے تمام یونٹس دجلہ کی پشت پر ٹھہر گئے۔
ترابہ سیکٹر (آپریشن کی شمالی حد) میں نجف2 کیمپ(نصرت) کی فورسز کو شدید گولہ باری کا سامنا کرنا پڑا اور اگرچہ ترابہ چوکی قبضے میں آ گئی لیکن کیمپ کمانڈر نے فورسز کی کمی کی وجہ سے پیچھے ہٹنے کا حکم دیا۔ نجف 1 کیمپ کے سیکٹر پر، فوجیوں نے رات ٹھیک 11:00 بجے لائن پر حملہ کیا اور 12 بجے تک دشمن کا دفاعی خط ٹوٹ گیا۔
دوسرے دن غروب کے وقت دونوں لشکروں کو ملانے اور ذوالفقار خط کو مضبوط کرنے کے اعلان کے ساتھ، مجاہدین نے مشترکہ خط بنا کر اپنی پوزیشن مضبوط کر لی۔ تیسرے دن تین بٹالینز سید الشہداء، روح اللہ اور امام رضا علیہ السلام کی فورسز نے دفاعی لائن کو مستحکم اور مضبوط بنانے کے لیےدشمن کو نقصان پہنچانے والی کارروائیاں انجام دیں اور النہیر کے علاقے میں دو کلومیٹر پیش قدمی اور کچھ عراقی پوزیشنوں پر قبضہ کر کے صفین نہر کے متوازی ایک اور سکیورٹی لائن بنانے میں کامیاب ہو گئیں۔ چوتھے دن 13 مارچ کو دونوں افواج کے درمیان فقط فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا۔ اس آپریشن کے دوران 18 ویں الغدیر بریگیڈ کے کمانڈر ابراہیم جعفر زادہ شہید ہو گئے۔ پانچویں دن14 مارچ، دوپہر 1:00 بجے عراق نے کمزور علاقوں کی جانچ کر کے توپخانے، میزائل، ہوائی اور فضائیہ کی تمام صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے بھاری حملہ شروع کیا اور ظہر کے بعددجلہ کے مشرقی کنارے میں رستہ بنانے میں کامیاب ہو گئے اور ایرانی فورسز کی دفاعی تشکیل تباہ کر دیا۔ دشمن کے توپ خانے نے آبی گزرگاہوں کے پیچھے ڈیم کی پہلی اور دوسری لائنوں کو نشانہ بنایا۔ اِس دن27ویں محمد رسول اللہﷺ ڈویژن کے کمانڈر عباس کریمی شہید ہو گئے۔
صفین لائن (دریائے دجلہ کے قریب) کے کمزور ہونے اور دشمن کے دباؤ میں شدت کے امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے خاتم، کربلا اور نجف کیمپوں کے کمانڈروں نے ایک مشترکہ اجلاس میں فیصلہ کیا کہ ظفر نامی ایک نیا کیمپ تشکیل دیا جائے اور 17ویں علی ابن ابی طالب علیہ السلام ڈویژن، 7ویں ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ڈویژن، 23ویں نوہد ، 33ویں المہدی ، 55ویں فضائی (فوج) اور خصوصی شہداء بریگیڈز اس کیمپ کی کمان شامل ہو گئے۔ پانچویں شب حدیبہ گاؤں کو کلیر کرنے کی کوششوں کو آگے بڑھاتے ہوئے، عاشورہ ڈویژن کی فورسز کے ایک حصے نے دجلہ کو عبور کیا اور دجلہ کے مشرق میں حملہ کیا۔ روشنی پھیلنے کے ساتھ کلیئر نہ ہونے اورالحاق مکمل نہ ہونے کی وجہ سے القرنہ کے علاقے میں پیش قدمی کا امکان فراہم نہیں ہو سکا۔ ظہر کے قریب دشمن نے اپنا دباؤ بڑھا دیا اور ہوائی بمباری میں شدت آنے سے ایرانی فورسز حاصل شدہ علاقوں کو محفوظ بنانے کے امکانات سے محروم ہوگئیں۔ عراقی فوج نے دریائے دجلہ کی پشت پر نجف کیمپ کی یونٹوں کی تعیناتی کو روکنے کے بعد کربلا کیمپ کی فورسز پر حملہ کیا۔اِس سیکٹر میں 31ویں عاشورہ ڈویژن نے دجلہ کو عبور کر کے دجلہ کے مغرب میں کیسہ نامی علاقے پر قبضہ کیا ہوا تھا۔اس دوران 31ویں عاشورہ ڈویژن کے کمانڈر مہدی باکری شہید ہو گئے۔
توپ خانے کی شدید گولہ باری اور کیمیائی گیسوں کے استعمال کے ساتھ ساتھ عراقی طیاروں کے دباؤ کے بعد مقبوضہ پوزیشن کو برقرار رکھنا مشکل ہوگیا اور ایرانی افواج کو مجبوراً پیچھے ہٹنا پڑا۔ عراق نے 13 مارچ کی شام 4 بجے کے قریب مجنون جزائر میں کیمیائی حملے شروع کر دیے۔ اس بمباری کے نتیجے میں صرف ایک پہلے ہفتے میں 2,231 افراد زخمی اور 32 افراد شہید ہوئے۔ عراقیوں نے پانچ دنوں میں 30 سے زائد کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا۔
اس آپریشن میں ایوی ایشن نے 20 ہیلی کاپٹروں کے استعمال اور 743 گھنٹے پرواز کے ساتھ بنکرز اور بکتر بند سازوسامان کو تباہ کرنے کے علاوہ، 1028 زخمیوں، 945 مجاہدین کو ائیر لفٹ دی اور 1049 ٹن کے مساوی سامان اور گولہ بارود بھی اٹھایا۔
آخر کار یہ آپریشن دجلہ کے مشرق میں ایران کی پوزیشن کے استحکام کے ساتھ ختم ہوا۔ مجنون کے اہم اور تیل سے بھرپور علاقوں کے ایک ایک بڑے حصے اور ھور کے علاقے میں پانچ سو مربع کلومیٹر سے زائد رقبے کی آزادی، چھ ہوائی جہازوں اور پانچ ہیلی کاپٹروں کی تباہی، 250 ٹینک اور عملے کی گاڑیاں (Personnel Carrier)، ساٹھ راکٹ لانچرز، مختلف قسم کی دو سو فوجی گاڑیاں اور مختلف قسم کے چالیس توپیں اور بیس کے قریب دشمن کی بٹالین اور بریگیڈ کی تباہی، 15000 ہلاک اور زخمی اور دشمن کے 3200 افراد کی گرفتاری اور عراقی سات بریگیڈ اور پانچ ڈویژنوں کی بیس سے سو فیصد تک تباہی، صدارتی گارڈ ڈویژن کو نقصان اور صدام کی کمانڈو فورس 3 کو بیس فیصد نقصان آپریشن کی کامیابیوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس آپریشن میں ایرانی افواج کا جانی نقصان عراقی فوج کے جانی نقصان سے زیادہ تھا۔ عراقی اس آپریشن کو’’تاج المعارک‘‘ کہتے ہیں۔
آپریشن کے بعد، امریکی اور سوویت نمائندوں نے ویانا میں ایک میٹنگ میں عراق کی شکست کو روکنے کے لیے عراق کی حمایت کرنے پر اتفاق کیا۔ آپریشن کے چار دن بعد امریکی حکومت نے ایران سے کہا کہ وہ مذاکرات کے ذریعے تنازعہ ختم کرے۔ برطانیہ نے بھی درخواست دی کہ اقوام متحدہ ایران اور عراق کے درمیان جنگ بندی کرائے۔
بدر آپریشن کے بعد خاتم الانبیاء ﷺ کے آپریشنل کیمپ کے حکم کے مطابق یہ فیصلہ کیا گیا کہ اِس کے بعد ہونے والے آپریشنز میں اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی الگ الگ عمل کریں گے۔