بروجردی، محمد

معصومہ عابدینی
58 بازدید

محمد بروجردی (1954-1983)،  شہدا کی 155  ویں مستقل اسپیشل  بریگیڈ کے بانیوں میں سے تھے اور  ملک کے مغربی علاقہ میں آپریشن کے مرکز کے قائم مقام اور اسی طرح  حمزہ سید الشہدا کے بھی ڈپٹی کمانڈر رہے۔

محمد بروجردی  21  مارچ 1954  کو صوبہ لرستان  کے   شہر بروجرد کے نواحی گاؤں ’’ درہ گرگ‘‘ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین علی رضا اور خدیجہ تھے۔ محمد چھ سال کی عمر میں اپنے والد کے سایہ عاطفت سے محروم ہوگئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم  کا آغاز اپنے ہی گاؤں میں کیا مگر کچھ مدت بعد ہی ان کا خاندان معاشی حالات کے سبب  درہ گرگ سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو گیا اور یہ لوگ تہران میں خیابان مولوی میں سکونت پذیر ہوئے۔

محمد بروجردی گیارہ سال کی عمر تک تو تہران کے ایک اسکول میں جاتے رہے مگر اس کے بعد غربت کے ہاتھوں مجبور ہوکر انہیں اپنی پڑھائی چھوڑنی پڑی اور ان کو اپنے بھائی کے ساتھ مل کر گھر کے اخراجات اٹھانے پڑے۔ شروع وہ خوانچہ فروش بنے اور اس کے بعد اپنے بھائی کے ساتھ جو کہ ایک درزی کی دکان پر کام کرتا تھا، کام میں مشغول ہوگئے۔ وہ کام کے ہمراہ رات میں منعقد ہونے والی کلاسوں میں شرکت کیا کرتے تھے۔

وہ اپنے بچپن میں مساجد میں حاضر ہونے  اور واعظوں اور امام جماعت  کی تقاریر سننے کے سبب اسلامی مفاہیم سے آشنا ہو گئے تھے۔  1971  میں ، سترہ برس کی عمر میں محمد کی شادی ان کی خالہ زاد سے ہوگئی ۔ جن سے ایک بیٹا حسین اور ایک بیٹی سمیہ  ہیں۔

شادی کو ایک سال بھی نہ گذرا تھا کہ آپ کو فوجی ٹریننگ کے لئے بلا لیا گیا یہ  1972  کا عرصہ تھا۔ کچھ مدت کے بعد محمد چھاونی سے فرار کر گئے اور امام خمینیؒ سے ملنے کے لئے عراق جانے کا ارادہ کیا لیکن ایران اور عراق کے بارڈر پر گرفتار ہوگئے۔ گرفتاری کے بعد  تقریبا چھ ماہ تک ساواک کی جیل میں رہے۔ اس زندان میں آپ نے سخت مصیبتیں اٹھائیں اور آپ کو طرح طرح کی عقوبتوں کا سامنا کرنا پڑا۔   قید کی مدت مکمل ہوئی تو آپ کو دوبارہ تہران بھیج دیا گیا  تاکہ آپ این سی سی کی باقی مدت بھی پوری کریں۔

این سی  سی مکمل کرنے کے بعد آپ نے شاہی (پہلوی) حکومت سے مقابلے کا آغاز کر دیا۔ ساتھ ہی ایک صوفہ اور گاؤ تکیہ بنانے والے ایک کارخانہ میں کا م شروع کیا  ۔ وہ یہاں پر امام خمینیؒ اور جنگجوؤں کے اعلانات اور تقاریر کو گاؤں تکیہ اور صوفوں کے غلافوں میں چھپا کر لوگوں تک پہنچایا کرتے تھے۔ وہ  اس راہ میں مہدی عراقی (شہادت: 23 ، اگست 1979) جیسے لوگوں کے  ہم قدم تھے۔ اسی راستے پر سفر کرتے ہوئے وہ ’’جمیعت  ہئیت ہائےموتلفۂ اسلامی‘‘ سے آشنا ہوئے۔

1976 میں اپنے دوستوں کے ایک گروپ کے ساتھ شام گئے۔ وہاں، امام موسی صدر کے ساتھ رابطے کے ساتھ ساتھ انہوں نے فوجی اور گوریلا جنگی تکنیک سیکھی اور ڈاکٹر مصطفی چمران اور محمد منتظری جیسے لوگوں کے ساتھ کام کیا۔ اس بار بھی آپ نے شام کے راستے عراق میں امام خمینی کی زیارت کا منصوبہ بنایا لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکے اور وطن واپس آگئے۔

9  جنوری 1978 کو  قم کے عوام کی بغاوت کے بعد بروجردی کی جدوجہد میں شدت آئی اور انقلاب اسلامی کی فتح تک جاری رہی۔ آپ نے اپنے کچھ ہم خیال لوگوں کے ساتھ مل کر ایک گروپ  "توحیدی صف" کی بنیاد رکھی۔ اسلامی انقلاب کی فتح کے بعد،5 ، اپریل 1979  کو، اس گروہ نے مسلمان جنگجوؤں کے چھ دوسرے گروہوں کے ساتھ مل کر "مجاہدین تنظیم اسلامی انقلاب" تشکیل دی۔

امام خمینی کی ایران واپسی کے دن (یکم فروری 1979)، محمد بروجردی ڈاکٹر سید محمد حسینی بہشتی (شہادت 1981 )  اور حاج مہدی عراقی کی جانب سے امام کی استقبالیہ کمیٹی میں شامل ہوئے اور ان کی حفاظت کی ذمہ داری نبھائی۔  وہ  علما کے لباس میں، مسلح ہو کر  عوام کے درمیان اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔

دس  اور گیارہ فروری  1979 کو بروجردی نے تہران میں جمشیدیہ کی بیرکوں پر قبضہ کرنے کے ساتھ ساتھ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی آزادی میں لوگوں کے ساتھ مل کر اہم کردار ادا کیا  اس دوران ان کی  ٹانگ پر بھی چوٹ آئی۔

اوین کی  جیل کی سربراہی بروجردی کی اسلامی انقلاب کی فتح کے بعد پہلی پوسٹ تھی۔ وہ اسلامی انقلابی گارڈ کور کے بانیوں میں سے ایک تھے۔ پاسداران انقلاب کی تشکیل کے بعد وہ تہران میں ولی عصر عج اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف بیرک کے آپریشنز کے ڈپٹی انچارج  بن گئے۔ کردستان میں انقلاب مخالف علیحدگی پسندوں کی سرکوبی کے سلسلے میں 16، اگست  1979  کو امام خمینی کے حکم کے بعد، آپ آئی آر جی سی کے متعدد دستوں کے ساتھ اس صوبے میں گئے۔ بعد ازاں ان لوگوں نے کردستان کو انقلاب مخالف قوتوں سے پاک کرنے اور عراقی جارحین کے ساتھ جنگ ​​میں مذہب اور وطن کے دفاع میں یادگار کارنامے انجام دیئے۔اسی بناء پر کردستان کے عوام نے بروجردی کو "کردستان کا مسیحا" کا لقب دیا۔

آئی آر جی سی سپریم کونسل کی طرف سے "کرد مسلم پیشمرگان" تنظیم بنانے کے محمد بروجردی کے منصوبے کی منظوری کے بعد، انہیں اس تنظیم کی ذمہ داری سونپی گئی۔ بروجردی کردستان آپریشنز کے کمانڈر تھے اور ملک کے مغرب میں آپریشنز کے ہیڈکوارٹر اور "حمزہ سید الشہدا کیمپ" کے نائب بھی تھے۔ وہ 155ویں خصوصی شہداء  بریگیڈ کے بانیوں میں سے ایک تھے۔ کچھ عرصے تک وہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ساتویں رجمنٹ  کے کمانڈر بھی  رہے۔ اس کور نے ہمدان، کرمانشاہ، کردستان اور ایلام کے صوبوں کا احاطہ کیا۔

اسی زمانے میں جب بروجردی کردستان میں ضد انقلاب  عناصر کے خلاف جنگ میں کلیدی کردار ادا کررہے تھے،  انہوں نے آپریشن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جیسی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور اسے عنلی جامہ پہنانے میں بھی شامل رہے (2 جنوری 1982) ۔ اس کے علاوہ  وہ آپریشنز،  فتح المبین (22  مارچ  1982 ) اور بیت المقدس (30، اپریل 1982)  میں ایران عراق جنگ میں شامل رہے۔

آپ کئی بار زخمی ہوئے۔ ایک بار سرپل ذہاب کے علاقے  پر عراقی افواج کے حملے کے دوران ان کے ہاتھ  شدید زخمی ہو گئے۔ لیکن انہوں نے اس  وقت تک علاقہ نہیں چھوڑا جب تک کہ شہر سے خطرہ ٹل نہیں گیا۔ سنندج میں ایک بار انہیں لے جانے والا ہیلی کاپٹر دشمن کی گولیوں کی زد میں آ گیا۔ لیکن وہ زندہ بچ گئے۔

آخر کار22  مئی  1983 کو جب آپ اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ سید الشہداء اسپیشل بریگیڈ کی تعیناتی کے لیے مہا آباد- نقدہ روڈ پر ایک نئی جگہ تلاش کرنے جا رہے تھے تو آپ  کی گاڑی  مخالف فوج کی  بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی اور آپ شہید ہو گئے۔ آپ  کے جسد خاکی کو سنندج کے عوام نے بہت عزت و تکریم کے بعد تہران منتقل کیا اور شہدائے بہشت، زہرا سلام اللہ علیھا کے بلاک نمبر 24 میں سپرد خاک کیا گیا۔[1]

 

[1] انسائیکلو پیڈیا آف دی اسلامی انقلاب، جلد 1، تہران: سورہ مہر، 2014، صفحہ 157 اور 158 سے مضمون کا خلاصہ۔