خرمشہر در اسناد ارتش عراق
متین سادات اصلا حی
2 بازدید
کتاب " خرمشہر در اسناد ارتش عراق"( خرمشہر عراقی فوج کے دستاویزات میں) عراقی فوج کی ان دستاویزات کا جائزہ لیتی ہے جو شہر خرمشہر پر حملے، قبضے اور اس کی آزادی کے آغاز سے متعلق ہیں۔
یہ کتاب ان کتابوں میں سے ایک ہے جو محفوظ شدہ آرکائیو دستاویزات و ثبوتوں کی بنیاد پر لکھی گئی ہے۔
"خرمشہر در اسناد ارتش عراق " کا پہلا ایڈیشن سن 1997 میں 464 صفحات پر مشتمل، رقعی سائز، پیپر بیک میں، 11 ہزار ریال کی قیمت اور 3300 کاپیوں کی تعداد کے ساتھ، اصغر کاظمی کی تحقیق و ترتیب اور محمدمہدی عقابی کی نظر ثانی سے، سورہ مہر پبلیکیشنز، ادارہ تبلیغات اسلامی نے شائع کیا۔ کتاب کا کور ڈیزائن سبز رنگ کا ہے اور کتاب میں استعمال ہونے والی ایک دستاویز کی سرخ رنگ میں تصویر دی گئی ہے جبکہ کتاب کا عنوان سفید رنگ اور بڑے حروف میں لکھا گیا ہے۔
کتاب کے اصل متن سے پہلے، عنوان کا صفحہ، کتاب کے بارے میں تفصیلی معلومات، انتساب اور فہرست موجود ہے۔
کتاب کی فہرست میں چھ ابواب ہیں: باب 1 "حملے کا آغاز"، "حملے کے آغاز سے متعلق دستاویزات کی وضاحت"، باب 2 "خرمشہر پر قبضہ"، "قبضے کی دستاویزات کی وضاحت"، باب 3 "دشمن کا پروپیگنڈا"، "دشمن کے پروپیگنڈے پر مشتمل دستاویزات کی وضاحت"، باب 4 "قتل عام و لوٹ مار"، "قتل عام و لوٹ مار کی دستاویزات کی وضاحت"، باب 5 "تباہی"، "تباہی کی دستاویزات کی وضاحت"، باب 6 "خرمشہر کی آزادی"، "خرمشہر کی آزادی کی دستاویزات کی وضاحت" اور مقدمہ کا صفحہ جس میں مصنف نے اسلام اور ایران کی تاریخ میں جنگ قادسیہ اور صدام کی جنگ قادسیہ پر بات کی ہے۔ کتاب کا اصل متن 308 صفحات پر ہے اور صفحہ 19 سے شروع ہوتا ہے۔
کتاب کے آخر میں 130 عربی زبان کی دستاویزات اور ثبوت ہیں جن کے بارے میں مختلف ابواب میں تفصیل سے بتایا گیا ہے۔ دستاویزات کا ضمیمہ صفحہ 310 سے شروع ہو کر صفحہ 464 پر ختم ہوتا ہے۔
اس کتاب کے مختلف ابواب میں عراقی فوج کے مختلف مراسلات و اقدامات سے متعلق دستاویزات شائع کی گئی ہیں اور ان کی وضاحت بھی کی گئی ہے۔ یہ دستاویزات خرمشہر پر قبضے اور اس کی آزادی کی سیاسی، فوجی اور پروپیگنڈا کی اہمیت کو بیان کرتی ہیں۔
کتاب کا پہلا باب 17 ستمبر 1980 سے 6 جولائی 1981 تک کے 9 دستاویزات پر مشتمل ہے جن میں عراقی فوج کی معلومات، حملے کا آغاز، عراقی فوج کے نام ميشل عفلق کا پیغام اور جنگ کا تجزیہ شامل ہے۔
کتاب کا دوسرا باب 30 ستمبر 1980 سے 26 جون 1981 تک کے بارہ دستاویزات پر مشتمل ہے جن میں خرمشہر پر قبضے، شہر پر کنٹرول کے احکامات، آپریشنل احکامات، شہروں میں دفاعی مورچے بنانے کے طریقہ کار، چوکیوں اور خرمشہر کے فوجی دفاعی مورچوں کے اعلان سے متعلق مراسلات شامل ہیں۔
تیسرے باب میں25 نومبر 1980 سے 18 نومبر 1981 تک کے سولہ دستاویزات شامل ہیں جن میں ایران کے وزیر پٹرولیم (شہید تندگویان) کی گرفتاری کے لیے پروپیگنڈا، خرمشہر پر قبضے میں بہادر فوجیوں اور افسروں کے ناموں اور حالات کی فہرست بھیجنا، خرمشہر میں فارسی نعروں کو مٹانا، بصرہ - تنومہ - خرمشہر کے راستے میں بس سروس کا آغاز، آپریشنل علاقوں کی مٹی کی منتقلی اور اسے بغداد بھیجنا، اور سرکاری دفاتر سے ان دستاویزات کو جمع کرنا جو ان علاقوں کے عرب ہونے کی دلیل ہیں۔
چوتھے باب میں 22 اکتوبر 1980 سے 6 دسمبر 1981 تک کے 53 دستاویزات شامل ہیں جن میں تیل کی دستاویزات و نقشے تک رسائی، گاؤں واپس آنے والے مقامی لوگوں کا قتل، خوراک کی تقسیم، گھروں کو محفوظ رکھنے پر زور اور مجرموں کے ساتھ نمٹنا، سامان کی اسمگلنگ سے متعلق مراسلات شامل ہیں۔
پانچویں باب میں 9 اکتوبر 1980 سے 28 نومبر 1981 تک کے 25 دستاویزات شامل ہیں جن میں ویران سازی کے آپریشن شروع کرنے کی اجازت، سہولیات اور تیل کی پائپ لائنوں کو تباہ کرنے کے احکامات، اینٹوں کے کارخانے کو تباہ کرنے کی درخواست، رہائشی مکانات کی تباہی، ریلوے کی تباہی، بجلی کے کھمبوں کی تباہی، کھجور کے درختوں کا کاٹنا سے متعلق مراسلات شامل ہیں۔
چھٹے باب میں 12 مارچ 1982 سے 22 مئی 1983 تک کے پندرہ دستاویزات شامل ہیں جن میں خرمشہر کے علاقے میں ایرانی فورسز کے آپریشنز کو ناکام بنانے کے اقدامات، خرمشہر میں دفاع و مزاحمت، صدام کی طرف سے ناکام کمانڈروں کو رافدین میڈل دینا، خرمشہر کو برقرار رکھنے کی کوشش، عراقی فوج کے دو کمانڈروں کو پھانسی دینا اور خرمشہر پر قبضے کی سالگرہ پر گولہ باری کے احکامات سے متعلق مراسلات شامل ہیں۔[1]
کتا ب "خرمشہر در اسناد ارتش عراق "کودوبارہ چار بار شائع کیا گیا ہے۔ یہ کتاب سن 1996 میں دوسری بار شائع ہوئی۔ اس ایڈیشن میں کتاب کا کور ڈیزائن تبدیل کر دیا گیا اور سرورق کی تصویر خاکستری اور بھورے رنگ میں پھٹے ہوئے اور گرہ لگے ہوئے دستاویز کے ڈیزائن کے ساتھ شائع کی گئی۔ تیسرا ایڈیشن سن 2009 میں اور چوتھا ایڈیشن سن 2012 میں شائع ہوا۔ ان ایڈیشنز میں، پبلشر اور کتاب کے مواد میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
ماہانہ مجلہ ہمشہری پایداری کے ساتھ اصغر کاظمی کا ایک انٹرویو "مؤلف کتاب اسناد جنگی عراق؛ اسرای فتح خرمشهرند" کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔[2]
ایمان رہبر نے روزنامہ اخبارایران میں، خرمشہر کی آزادی کی سالگرہ کے اسپیشل ایڈیشن میں اس کتاب کو متعارف کرایا ہے۔[3] ایسنا نیوز ایجنسی نے بھی خرمشہر کے بارے میں پڑھنے والی 37 کتابوں کی فہرست میں اس کتاب کا حوالہ دیا ہے۔[4]
[1] کاظمی، اصغر، خرمشهر در اسناد ارتش عراق، 1997
[2] ایبنا، خبرگزاری کتاب ایران، معرفی خرمشهر در اسناد ارتش عراق در ماهنامه همشهری پایداری،25 جنوری 2023.
[3] روزنامه ایران، ش5653، 24 مئی 2014
[4] خبرگزاری ایسنا، 10 مئی 2021
