اسلام آباد غرب
پریا سبز محمدی
65 بازدید
اسلام آباد غرب، ایران کے مغرب میں صوبہ کرمانشاہ کے شہروں میں سے ایک ہے جو عراق کی ایران کے خلاف مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ کے دوران بار بار عراقی میزائلوں اور طیاروں کا نشانہ بنا اور اِسی وجہ سے اِسے مغربی ایران کے دزفول کا نام دیا گیا ہے۔
یہ شہر آبادی کے لحاظ سے کرمانشاہ کے بعد صوبے کا دوسرا بڑا شہر ہے جسے ایرانی بلوط کے جنگلات کا دارالحکومت بھی کہا جاتا ہے۔ 1
یہ شمال سے دالاہو اور کرمانشاہ شہروں، مشرق میں کرمانشاہ شہر اور مغرب سے گیلان غرب شہر اور جنوب سے صوبہ ایلام پر جا کر ختم ہوتا ہے۔ یہ دو حصوں مرکزی اور سات دیہاتوں کے ساتھ خمیل پر مشتمل ہے۔
اسلام آباد غرب کی تاریخ 3500 سال پہلے کی طرف پلٹتی ہے۔ پس محمود کردوانی کی 1970ء میں کی جانے والی کوششوں سے بابلی خظ میں لکھی گئی مٹی کی کچھ تحریر شدہ تختیاں ملیں اور جن کی عمر کا تعین امریکہ کی شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر کامیار عبدی نے کیا۔ 3 1935ء میں اس شہر کا نام مندلی سے شاہ آباد غرب (لوگوں کے درمیان شاباد کے نام سے مشہور) 4 اورسال 1978ء میں اسلام آباد غرب میں تبدیل ہو گیا۔ 5
اِس کے لوگ کُرد قبائل اور ایل کلہر کے مختلف گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں جو کُرد زبان بولتے ہیں اور اِن کا دین اسلام اور شیعہ (بارہ امامی) اور اس کے بعد سنی (حنفی) ہیں۔ اسلام آباد غرب میں اہم ترین تاریخی مقامات چقاگاوانہ پہاڑی اور شاہ عباسی مسافر خانہ ہے۔
اسلام آباد غرب شہر، اسلام آباد غرب کے علاقے کا مرکز ہے جو کرمانشاہ شہر کے جنوب میں اور کرمانشاہ-قصر شیرین-خسروی جانے والی شاہراہ پر واقع ہے۔ اسلام آباد کے مشرق میں ایک اور سڑک اس شاہراہ سے الگ ہو جاتی ہے اور پل دختر کے مقام پر تہران خرمشہر جانے والی مرکزی سڑک سے جا ملتی ہے۔ اللہ اکبر گیریژن اس شہر کے مغرب میں واقع ہے۔
13 اپریل 1980ء کو اسلام آباد غرب کے کچھ علاقوں کو عراقی ایجنٹوں کے مسلح حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ حرکتیں ایرانی سرحدی شہروں میں جاری رہیں اور 20 اپریل کو اسلام آباد غرب کی شوگر فیکٹری کا ایک حصہ دو بموں سے تباہ ہو گیا۔ اِسی طرح رات کے وقت ایک آر پی جی7 کے گولے سے مسجد کا ایک حصہ بھی تباہ ہو گیا۔10
اپریل/مئی میں عراق نے اسلام آباد کے کوزران میں شیخ مصطفی گاؤں میں ایک کلینک پر چار آر پی جی گولے فائر کیے۔11
عراقی سرحدی حملوں کے تسلسل اور اگست/ستمبر 1980 ء میں قصر شیرین، خسروی، مہران اور دہلران جیسے سرحدی شہروں پر حملوں کے ساتھ، اِن جنگ زدہ شہروں اور آس پاس کے علاقوں کی آدھی آبادی اسلام آباد غرب منتقل ہو گئی۔ 12
22 ستمبر 1980ء کو عراق کی جانب سے جنگ کے باضابطہ آغاز کے اعلان کے ساتھ ہی عراقی جنگی طیاروں کے ذریعے اسلام آباد پر بھی بمباری کی گئی جن میں کچھ افراد شہید اور زخمی ہوئے۔ 13
اسلام آباد کے جنوب مشرق میں اور اسلام آباد-کرمانشاہ-پل دختر تین سڑکوں کے جنوب میں 4500 میٹر طویل ہنگامی لینڈنگ کی پٹی تھی کہ جسے مسلط کردہ جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی ایرانی فورس کے سرحد پار حملوں میں نشانہ بننے والے جنگی طیاروں کی ہنگامی لینڈنگ کے لئے استعمال کے منصوبے کو شروع کر دیا گیا۔ 14
3 اکتوبر کو چار عراقی میگ طیاروں نے اسلام آباد پر حملہ کیا کہ جن میں سے ایک میگ طیارہ گر گیا ۔ اگلا فضائی حملہ 4 جون 1981ء کو دو عراقی میگ طیاروں نے شیخہ گاؤں پر کیا۔16
تقریباً ایک سال بعد جولائی 1982 کے تیسرے ہفتے میں عراقی طیاروں نے اسلام آباد غرب کی فضائی حدود میں کئی بار حملہ کیا جس میں اُسے اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے اینٹی ائیر کرافٹ میزائلوں کا سامنا کرنا پڑا۔ 17
1983 کے موسم گرما کے اختتام پر عراقی فوج کی ایران کی جانب سے بانہ سے مریوان شہروں کے سامنے کے علاقے میں آپریشن انجام دینے کی منصوبہ بندی سے آگاہی کے بعد، اِس آپریشن کو روکنے کے لئے مختلف اقدامات کو اپنے ایجنڈے میں شامل کیا۔ 2 ستمبر 1983 کو عوام کے نام ایک ریڈیو پیغام میں عراقیوں نے اس دن کو اسلام آباد سے انخلاء کی آخری تاریخ مقرر کیا اور اس علاقے کے لوگوں کو شہر پر بمباری اور تباہی کی دھمکی دی۔ یہ اقدامات والفجر 4 کے آپریشن کو روکنے کے لئے کیے گئے تھے جو 24 اکتوبر 1983ء کو انجام پایا۔ 18
جنگ کے سالوں کے دوران مسلسل بمباری نے اس شہر کو غیر محفوظ اور ویران بنا دیا تھا اور اس کے بہت سے لوگ شہر کے آس پاس کے دیہاتوں میں چلے گئے تھے۔ستمبر اکتوبر 1983 میں اسلام آباد غرب نے مہاجروں کو واپس اپنے وطن پلٹتے دیکھا۔
29 اکتوبر 1986ء کو( یہ شہر) عراقی جنگی طیاروں کے بموں، راکٹوں اور مشین گنوں کی زد میں آیا جن میں 22 افراد شہید ہوئے اور 48 زخمی بھی ہو گئے۔ 9 عراقی طیاروں نے اللہ اکبر گیریژن کے 25 مقامات پر بمباری کی جس کے نتیجے میں ملٹری پولیس کے دفاتر، خوراک اور کپڑوں کے گودام اور جہاد پیٹرول اسٹیشن کو نقصان پہنچا اور 22 افراد شہید ہوئے۔
10 اور 12 نومبر 1986ء کو عراقی طیاروں نے دو مواقع پر شہید حفیظی گیریژن، شوگر فیکٹری اور اسلام آباد کے نواحی علاقوں پر بمباری کی۔
25 جولائی 1988ء کو فروغ جاویدان آپریشن میں جسے مجاہدین خلق تنظیم نے عراق کی مدد سے انجام دیا، اسلام آباد اور کرند غرب شہروں پر قبضہ ہو گیا اور تین دن تک مقبوضہ رہے۔ اللہ اکبر گیریژن جو ملک کے مغربی محاذوں کی مدد کا مرکز بن چکا تھا اور جنگجو افراد کی فراہمی اور تربیت میں صوبے کے اہم ترین مراکز میں سے ایک تھا، منافقین کے قبضے میں چلا گیا۔
ایرانی فورسز نے فروغ جاویدان آپریشن کے مقابلے میں مرصاد آپریشن ڈیزائن کیا اور تین سیکٹروں چہار زبر، قلاجہ روڈ اور اسلام آباد-پل دختر شاہراہ سے وارد عمل ہوئے اور دو مرحلوں میں منافقین کی فورسز کو جو چہارزبر گھاٹی تک آگے آچکے تھے، کچل دیا اور شہروں کو واپس لے لیا۔
جنگ کے خاتمے کے بعد اسلام آباد میں عوامی مزاحمت اور مرصاد آپریشن کی یاد میں دو یادگاریں تعمیر کی گئیں۔اسلام آباد کی عوامی مزاحمت کی یادگار شوگر فیکٹری کے بالکل سامنے ہے اور مرصاد آپریشن کی یادگار کرمانشاہ سے اسلام آباد جانے والی سڑک پر واقع ہے۔
مسلط کردہ جنگ کے دوران اسلام آباد غرب شہر پر 106 بار فضائی بمباری کی گئی جن میں سے زیادہ تر سال 1986ء میں ہوئی اور اس کے نتیجے میں 341 افراد شہید اور 826 زخمی ہوئے۔
1982ء اور 1983ء میں مہاجرین کے امور کی فاؤنڈیشن کی مرمت اور بحالی کے دفتر نے 360 رہائشی یونٹوں، دکانوں،سکولوں اور دیگر مراکز کی تعمیر نو کی۔
27 نومبر 2018ء کو آنے والے زلزلے نے اسلام آباد غرب کو ہلاکر رکھ دیا جس میں جانی اور مالی نقصان ہوا۔
1۔ بختیاری، سعید، ایرانی صوبوں کا اطلس گیتا شناسی، تہران: موسسہ جغرافیائی و کارتوگرافی گیتا شناسی، 2004
2. پورجباری، پژمان، اطلس جغرافیائی حماسی3: جنگ میں کرمانشاہ، تہران: بنیاد حفظ آثار و نشر ارزشهای دفاع مقدس،2013، ص221.
3. خبرگزاری ایسنا،16 مئی 2012، اسلامآباد غرب،ایک شہر جو مختلف تاریخی ادوار میں مختلف نام رکھتا ہے۔
4. خرمشاهی، سیدضیاءالدین، کتاب سبز: بانک اطلاعات استان کرمانشاه، کانون تبلیغاتی دهالاهو، 1375.
5. فرهنگ جغرافیایی آبادیهای کشور، ج46: کرمانشاه، تهران: سازمان جغرافیایی وزارت دفاع و پشتیبانی نیروهای مسلح، ص24؛ پورجباری، پژمان، اطلس جغرافیای حماسی3، ص221.
6. ایضاً، ص23 و 24؛ ایضاً، ص221.
7. شیرعلینیا، جعفر، اکبرپور، محمدجواد، مأموریت غیرممکن: روایت مرصاد، تهران: فاتحان، 1391، ص18.
8 پورجباری، پژمان، اطلس جغرافیای حماسی3، ص224 و 225.
9. نخعی، هادی، روزشمار جنگ ایران و عراق، کتاب هفتم، ج1: قطع رابطه آمریکا با ایران، تهران: مرکز مطالعات و تحقیقات جنگ سپاه، 1385، ص884 و 885.
10. همان، ص1204؛ پورجباری، پژمان، اطلس جغرافیای حماسی3، ص229.
1[1]. نخعی، هادی، روزشمار جنگ ایران و عراق، کتاب هفتم، ج2: طبس تا سنندج، تهران: مرکز مطالعات و تحقیقات جنگ سپاه، 1397، ص789.
2[1]. سلیمانیخواه، نعمتالله، روزشمار جنگ ایران و عراق، کتاب نهم: تصمیم صدام به جنگ علیه ایران، تهران: مرکز اسناد و تحقیقات جنگ سپاه، 1394، ص741 و 742.
3[1]. انصاری، مهدی و یکتا، حسین، روزشمار جنگ ایران و عراق، کتاب چهارم: هجوم سراسری، مرکز مطالعات و تحقیقات جنگ سپاه، چ دوم، 1375، ص48.
4[1]. پورجباری، پژمان، اطلس جغرافیای حماسی3، ص228
5[1]. پورداراب، سعید، تقویم تاریخ دفاع مقدس، ج2: غرش توپها، تهران: مرکز اسناد انقلاب اسلامی، 1384، ص341
6[1]. پورداراب، سعید، تقویم تاریخ دفاع مقدس، ج10: عزل بنیصدر سرآغاز یک تحول، تهران: مرکز اسناد انقلاب اسلامی، 1387، ص240
7[1]. کریمی، نبی، تقویم تاریخ دفاع مقدس، ج23: رمضان در رمضان، تهران: مرکز اسناد انقلاب اسلامی، 1392، ص750 و 751.
8[1]. نعمتی، یعقوب، کریمی، حجتالله، اکبرپور بازرگانی، محمدجواد، روزشمار جنگ ایران و عراق، کتاب بیستوهفتم: آمادهسازی عملیات والفجر 4، تهران: مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، 1394، ص245.
9[1]. همان، ص771؛ شیرعلینیا، جعفر، اکبرپور، محمدجواد، مأموریت غیرممکن، ص63.
20. انصاری، مهدی، فوزی، یحیی، لطفاللهزادگان، علیرضا، روزشمار جنگ ایران و عراق، کتاب چهلوچهارم: ماجرای مک فارلین، تهران: مرکز مطالعات و تحقیقات جنگ سپاه، 1380، ص508.
21. همان، ص722.
22. مهدینژاد، سارا، قطعهای از آسمان: عملیات مرصاد، تهران: بنیاد حفظ آثار و نشر ارزشهای دفاع مقدس، 1394، ص32ـ28 و 88ـ79؛ شیرعلینیا، جعفر، اکبرپور، محمدجواد، مأموریت غیرممکن، ص65 و 115 و 136.
23. پورجباری، پژمان، اطلس جغرافیای حماسی3، ص224 و 225 و 229.
24. دری، حسن، اطلس راهنما5: کارنامه نبردهای زمینی، تهران: مرکز مطالعات و تحقیقات جنگ سپاه، 1382، ص166.
25. مهدینژاد، سارا، قطعهای از آسمان، ص19 و 20.
26۔ پورجباری، پژمان، اطلس جغرافیای حماسی3، ص224 و 225 و 229.
27. اهم فعالیتهای بازسازی و نوسازی در سال 1361 و 1362، دبیرخانه ستاد مرکزی بازسازی و نوسازی مناطق جنگزده، ص309 و 310.
28. روزنامه اطلاعات، ش 27156، 6 آذر 1397، ص13.