آپریشن قدس 2
محمدعلی عباسی اقدم
52 بازدید
آٓپریشن قدس 2 محدود کارروائیوں کے سلسلے میں سے ایک تھا، جو25 جون 1985ء کو سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی کمان میں عراقی دفاعی لائنوں میں زلزلہ ایجاد کرنے کے مقصد سے خیبر اور بدر کے آپریشنل علاقے کے شمال میں البیضہ سیکٹر میں انجام دیا گیا۔
بدر آپریشن کے بعد جو 11 مارچ سے 17 مارچ 1985ء کو ہور الہویزہ میں کیا گیا تھا اور اس آپریشن کے تمام اہداف حاصل نہیں ہوئے تھے، والفجر 8 آپریشن کے عنوان سے سپاہ کے سال 1985ء کے سب سے بڑے آپریشن کے طور پر ڈیزائن اور اجراء کیا گیا۔ اس آپریشن کی تیاری میں کافی وقت لگتا ہے۔ اِس وقفے میں جنگ کووقفے سے بچانے کے لئے محدود کاروائیوں کو ایجنڈے میں شامل کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں ھور میں موجودگی کو زیادہ کرنے اور بصرہ-عمارہ روڈ کے نزدیک ہونے کے لئے منصوبہ بندی کی گئی۔ اس مشن کو عملی جامہ پہنانے کی ذمہ داری کربلا کے 25ویں ڈویژن کو مرتضی قربانی کی کمان میں سونپی گئی جو بدر آپریشن کے بعد بھی علاقے میں اُسی طرح سے موجود تھی۔اس علاقے میں دشمن پر دباؤ ڈالنے کے لیے قدس کی محدود کاروائیوں کا ایک سلسلہ شروع کیا گیا۔
14 جون 1985ء کو قدس 1 آپریشن کے بعد آپریشنل علاقے کی صورتحال ایسی تھی کہ داخلی افواج کی پوزیشن اور دفاعی لائن کو مستحکم اور پائدار کرنے اور عراقی فوج کو کمزور کرنے کے لیے ایک اور آپریشن کی ضرورت محسوس کی گئی۔ اس آپریشن کے انجام دینے کے بعد عراقی فوج نے اس علاقے میں متعدد جوابی حملے کیے لیکن چونکہ ہر دفعہ سخت ضرب کھانا پڑی تو اُس نے دفاعی پوزیشن اختیار کر لی اور علاقے میں اپنی پوزیشن کو سمجھنے اور درک کرنے کے بعد علاقے کو مضبوط اور مستحکم بنانے کےلئے قدم اٹھایا۔
لہذا، قدس 2 آپریشن کو قدس 1 آپریشن کے مقاصد کو مکمل کرنے کےہدف سے ڈیزائن اور اجراء کیا گیا تھا۔ عراقی افواج کی جانب سے اپنے کمزور مقامات کو محفوظ بنانے خصوصاً البیضہ سیکٹر میں کی جانے والی کوششوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی 25 کربلا ڈویژن نے ، جنہوں نے آپریشن قدس 1 اس علاقے میں انجام دیا تھا اور جس کے ذمہ علاقے کی دفاع کی ذمہ داری بھی تھی، دشمن کے کسی بھی حملے کو روکنے ، علاقے میں اپنے کمزور نقاط کو دور کرنے اور اِسی طرح دشمن کو نقصان پہنچانے کے مقصد سے کچھ مزید کاروائیوں کی منصوبہ بندی کی۔ طے شدہ منصوبے کے مطابق اور ضروری معلومات اکٹھی کرنے کے بعد ، 25ویں کربلا ڈویژن کے مجاہدین نے 25 جون 1985ء کی صبح دو بجے یا محمد رسول اللہ کوڈ کے ساتھ عراقی فرنٹ لائن کی طرف حرکت شروع کی۔ ابتدائی لمحات میں ہی ڈویژن کے سرکردہ غوطہ خوروں نے مرکزی آبی گزرگاہ کو عبور کر لیا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ ریزرو فورسز کے پہنچتے ہی دشمن کی طرف گولی چلائیں اور آبی گزرگاہ کو کھولنے میں مدد کریں لیکن صبح کی روشنی پھیلنے کی وجہ سے آگے بڑھنے اور دائیں سمت سے الحاق کا کوئی موقع نہیں مل سکا۔دوسری طرف دائیں سیکٹر مکمل طور پر بائیں سیکٹر پر منحصر تھا اِس لئے فورسز کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا گیا۔اِس کے بعد بغیر کسی وقفے کے فورسز کو منظم اور تیار کیا گیا اور اُسی دن شام سات بجے مطلوبہ پوزیشنوں کی طرف چل پڑے۔ طے یہ تھا کہ ٹھیک نو بجے لڑائی شروع کر دی جائے گی لیکن آٹومیٹک گن اور آر پی جی سے لیس ایک عراقی کشتی نے دائیں سیکٹر کو بلاک کر رکھا تھا اور یہی وجہ بنی کہ آپریشن رات بارہ بجے شروع ہوا۔
دائیں سیکٹر میں جیسے ہی لڑئی شروع ہوئی، عراقیوں کی کشتی اور پہلی کمین گاہ جبکہ بائیں سیکٹر میں پہلا اور تیسراٹھکانہ شکست کھا گیا ۔ بائیں سیکٹر میں عراق کے دوسرےٹھکانے کی فورسز نے بھی فوراً ہی مجاہدین کے دباؤ میں ہتھیار ڈال دئیے یا مارے گئے۔ آپریشن کے تسلسل میں دائیں اور بائیں سیکٹر کے مجاہدین نے سخت کوشش سے عراق کے مزید دوٹھکانے بھی گرا دئیے اور اکٹھا ہونے کے بعد وہ دو مخالف آبی گزرگاہوں میں آگے بڑھتے رہے۔قیدیوں سے ملنے والی معلومات کی بنیاد پر عراقی پوزیشنوں پر گولہ باری کی گئی جن میں متعدد عراقی ہلاک یا زخمی ہوئے۔ آبی گزرگاہوں میں الحاق اور قدم جمانے کی کاروائیوں اور علاقے میں سکیورٹی برقرار کرنے کا عمل 28 جون کو صبح ڈیڑھ بجے ختم ہو گیا۔اِس آپریشن میں داخلی فورسز کا ایک اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔
اصلی آپریشن کے ساتھ ہی ایک نقصان پہنچانے والی کاروائی دشمن کو فریب دینے کے لئے انجام دی گئی۔ 25ویں کربلا ڈویژن کے مجاہدین جو مختار جھیل کے سرے پر اور بائیں جانب سے نگہبانی چوک تک اور نہروان سیکٹر میں مقیم تھے ، دشمن کے نزدیک ہوئے اور اُنہیں شدید گولہ باری کے ذریعے اپنی طرف مشغول کر لیا۔لڑائی شروع ہوتے ہی ڈھیر ساری سرچ لائٹس آن کر دی گئیں اور دشمن کی توپوں نے گولے برسانا شروع کر دئیے۔ عراقیوں نے علاقے کو ہر قسم کے ہتھیاروں سے آگ لگا دی، صبح 1 بج کر 45 منٹ پر آگ اتنی شدید تھی کہ آبی گزرگاہوں کی تمام ٹریفک بالخصوص معارج-مشروع آبی گزرگارہ سے رفت و آمد بند ہو گئی۔ گولہ باری جاری رکھتے ہوئے، عراقی فوج نے صبح 4:30 بجے آبی گزرگاہ کے دونوں جانب پہلا جوابی حملہ کیا جسے فوری طور پر بے اثر کر دیا گیا۔ عراقیوں کے دیگر جوابی حملے بھی بے نتیجہ ثابت ہوئے۔ مجاہدین نے اس کے بعد دوبارہ آبی گزرگاہوں میں پیش قدمی کی اور مزید علاقوں پر قبضہ کر لیا اور البیضہ آبی گزرگاہ میں دشمن کے قریب ترین جگہ میں جا کر ٹھہر گئے۔
مجموعی طور پر قدس 2 آپریشن میں ہورالہویزا کے شمال میں 15 مربع کلومیٹر کے علاقے کو آزاد کرایا گیا اور ایرانی مجاہدین عراقی فوج کی 68ویں کمانڈو بریگیڈ کے کچھ حصے کو تباہ کرنے اور جوابی حملوں کا توڑ کرنے کے ساتھ ساتھ، قبضے میں لئے گئے علاقے کو اکٹھا اور کلیئر کر کے اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اِس محدود آپریشن میں دس ایرانی مجاہدین شہید اور 65 زخمی ہوئے۔عراقی فورسز کے بھی چالیس افراد ہلاک اور گیارہ اہلکار ایرانی فورسز کے ہاتھوں قید ہوئے۔