اجاقلو، طاہر
معصومہ عابدینی
37 بازدید
طاہر اجاقلو (1962-1984)، دفاع مقدس کے دوران لشکر 17 علی ابن طالب علیہما السلام کی منصوبہ بندیوں کے انچارج رہے۔
طاہر اجاقلو 1962ء میں زنجان کے ایک علاقہ قریہ قاہران میں متولد ہوئے۔ ان کا خاندان سات افراد پر مشتمل تھا۔ آپ اس گھر کے دوسرے چشم و چراغ تھے۔ مدرسہ خاقانی اور مدرسہ دہخدا میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اس کے بعد ثانوی اور اعلیٰ ثانوی تعلیم کے لئے دکتر علی شریعتی ہائی اسکول چلے گئے۔
امام خمینی کی سربراہی میں جب شاہ اور پہلوی حکومت کے خلاف عوامی تحریک نے زور پکڑا تو طاہر نے بھی اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا۔ امام خمینی کے چھپے ہوئے اعلانات کے پرچہ وہ گھر لے آتے تھے اور کچھ ابتدائی ضروری کاموں کی انجام دہی کے بعد اپنے مخلص دوستوں کے ہمراہ رات کے وقت وہ اعلانات گلی کوچوں میں تقسیم کیا کرتے تھے۔
انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد اور کردستان میں شورش و آشوب کی فضا پیدا ہونے کے بعد آپ 1979 میں ہی کردستان چلے گئے۔ آپ نے فوجی ٹریننگ کا مختصر کورس بھی انجام دیا۔ اس کے بعدآپ آپریشن کے علاقہ مریوان چلے گئے۔ زنجان واپس آنے کے بعدآپ نے اپنی تعلیم پھر سے شروع کی لیکن عراقی فوجوں کی سرحدوں کی خلاف ورزی اور ایران پر دھاوا بولنے کی وجہ سے آپ اگست 1980 میں سپاہ کے رکن بن گئے اور ملک کے جنوبی محاذ پر جا پہنچے۔ زیادہ وقت نہیں گذرا تھا کہ آپ کی شجاعت اور لیاقت کے سبب بٹالین کی کمانڈ کا عہدہ آپ کے ہاتھ آگیا۔ اس کے بعد آپ کو امام علی ابن ابی طالب بریگیڈ، لشکر 17 کا چارج بھی دیا گیا اور آپ یہاں اس بریگیڈ کے آپریشنز کی منصوبہ بندیوں پر مامور تھے۔ آپ نے بہت سے آپریشنز جیسے آپریشن ثامن الائمہ علیہ السلام ( آبادان محاصرہ کا توڑ)، فتح المبین، الہی بیت المقدس (خرمشہر کی آزادی) رمضان، والفجر2 میں شرکت کی اس کے علاوہ ملک کے مغربی حصوں میں ہونے والی جھڑپوں میں بھی شرکت کی۔آپ ہر آپریشن کی شروعات سے پہلے، علاقہ کی جانچ پڑتال اور علاقہ کو آپریشن کے لئے تیار کرنے میں نہایت ہی ماہر تھے۔
پہلی بار طاہر اجاقلو آپریشن ثامن الائمہ علیہ السلام میں زخمی ہوئے یہاں آپ کے ہاتھ اور کندھے پر زخم آئے تھے۔ دوسری بار آپ آپریشن الی بیت المقدس میں زخمی ہوئے ۔ اس بار آپ کی گردن پر زخم آئے تھے۔
بارہ مارچ 1984 آپریشن خیبر کے دوران جس وقت وہ جزیرہ مجنون پر اپنے زیر نگرانی چلنے والے یونٹ کی ہدایات کر رہے تھے، سیمینوف[1] کی گولی لگنے کی وجہ سے شہید ہوگئے۔ آپ کے جسد خاکی کو گلزار شہدائے زنجان میں سپرد خاک کیا گیا۔
شہید طاہر اجاقلو نے اپنی وصیت کے ایک حصہ میں تحریر کیا ہے: ’’ ہم پیدا ہی اس لئے ہوئے ہیں کہ آزامائے جائیں۔ بنیادی طور پر یہ دنیا ایک امتحان گاہ سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔ ہمیشگی کی اور جاودانہ حیات تو اس (دوسرے) عالم میں ہی ہے۔‘‘[2]
[1] ایک بندوق کا نام
[2] دفاع مقدس کے انسائیکلو پیڈیا کے ایک مقالہ کی تلخیص، دائرۃ المعارف دفاع مقدس جلد ۱ صفحہ ۳۴۴، ۳۴۵۔ ناشر: مرکز دائرۃ المعارف، پزوہشگاہ (ریسرچ سینٹر) علوم و معارف دفاع مقدس۔ بی جا۔ ۲۰۱۱۔۔۔