داستان ہای شہر جنگی
نرگس کرمی
2 بازدید
حبیب احمدزاده کی تصنیف "داستانهای شهر جنگی" یعنی جنگ زدہ شہروں کی داستانیں عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے حوالے سے لکھے گئے مختصر واقعات کا ایک مجموعہ ہے جس کا پہلا ایڈیشن 1997ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب متعدد بار مختلف متن اور ڈیزائن کے ساتھ شائع ہو چکی ہے۔
اس کتاب کو سب سے پہلے 1997ء میں حوزہ ہنری کے دفتر ادبیات و فنون مقاومت نے شائع کیا تھا۔ اس میں عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے موضوع پر چھ مختصرواقعات شامل ہیں جن کے عناوین یہ ہیں: "پر عقاب"، "ہواپیما"، "چتری برای کارگردان"، "سیونہ و یک اسیر"، "فرار مرد جنگی"، اور "نامہای بہ خانواده سعد"۔[1]
2000ء میں اسی ناشر نے کتاب کا دوسرا ایڈیشن نئی ترتیب کے ساتھ شائع کیا۔ اس ایڈیشن میں "اگر دریاقلی نبود!" کے عنوان سے ایک نیا واقعہ، مصنف کا ایک امریکی کپتان کے نام خط اور اس کا انگریزی ترجمہ، نیز اس مجموعے کےواقعات پر چند تنقیدی آراء بھی شامل کی گئی ہیں۔[2]
2000ء میں ہی سلام اخبار نے کتاب کے دوسرے ایڈیشن کو دوبارہ شائع کیا اور عوامی پذیرائی کے پیش نظر اسی سال یہ ناشر کتاب کا پانچواں ایڈیشن شائع کرنے میں کامیاب ہوا۔[3]
2006ء میں سورہ مهر پبلیکیشنز نے کتاب کا ساتواں ایڈیشن شائع کیا جس میں امریکی فوجی افسران کا مصنف کے نام جوابی خط اور اس کا انگریزی متن بھی شامل تھا۔[4] 2012ء تک ااس کتاب کا انیسواں ایڈیشن چھپ چکا تھا۔[5]
یہ کتاب ان چند منتخب تصانیف میں سے ہے جو جنگ سے متعلق کرداروں کو اپنے قارئین کے سامنے پیش کرتی ہے۔[6] حبیب احمدزاده اپنے واقعات میں کرداروں کو متعارف کروانے کے لیے براہ راست اور بالواسطہ دونوں قسم کی کردار نگاری کے اسالیب استعمال کرتے ہیں، تاہم زیادہ تر کردار بالواسطہ طور پر متعارف ہوتے ہیں۔ وہ حالات، کیفیات، موجودہ اور ماضی کی نفسیاتی حالتوں کے مطابق توصیف اور تصویر کشی کرتے ہیں اور ایک طرح سے کرداروں کے اقوال و اعمال کے ذریعے بالواسطہ طور پر انہیں قاری سے متعارف کرواتے ہیں۔ چونکہ اس کتاب کے واقعات حقیقت پر مبنی ہیں، اس لیے ان کے کرداروں کے حقیقی نمونے زندگی کے مختلف شعبوں میں ڈھونڈے جا سکتے ہیں۔ اس کتاب کے زیادہ تر واقعات کرداروں کے مکالموں پر انحصار کرتے ہیں۔ مصنف کی جنگی محاذوں پر براہ راست موجودگی کے تجربے نے انہیں حقیقی مکالمے تخلیق کرنے میں مدد دی ہے۔ وہ فوجیوں کے درمیان رائج لسانی نزاکتوں اور مخلصانہ مزاح سے بخوبی واقف اور ان پر عبور رکھتے ہیں اور فوجیوں کی خصوصیات کو بہترین طریقے سے پیش کر سکتے ہیں۔[7]
"پر عقاب" ایک مختصر اور علامتی واقعہ ہے جو ایک ایرانی سرحدی نگہبان کے ایک عراقی فوجی کے حوالے سے متضاد جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ اس نگہبان کو اگلے بیس منٹ میں اپنے عراقی دشمن کو نشانہ بنانا ہے۔ وہ اس دوران دور سے اپنے دشمن سے بات چیت کرتا ہے۔ نگہبان کی فائر کردہ گولی درحقیقت عراقیوں کی اپنی گولی ہے جو اب انہی کی طرف پلٹ کرجا رہی ہے، مگر اتفاق سے گولی اسے نہیں لگتی اور عراقی سپاہی زندہ بچ جاتا ہے۔[8]
"ہواپیما" کے واقعہ میں ایک ایرانی فوجی جنگ زدہ آبادان میں سکیورٹی ڈیوٹی کے دوران اپنے ساتھی فوجی کو بچپن میں ہوائی جہاز کے لیے اپنی دلچسپی کے بارے میں بتاتا ہے۔ یہ واقعہ حلبچہ کے بمباری سے مربوط ہے۔[9]
"چتری برای کارگردان" ایک نئے ڈائریکٹر جمشید محمودی کے محاذ پر موجودگی اور ان کی شہادت کی داستان ہے۔ اس واقعے کا ہیرو ایک مزاحیہ مزاج اور فلم و سینما کا دلدادہ شخص ہے۔ جنگی حالات اور اس کی سینمائی دلچسپیوں کے امتزاج نے، جنگ اور شہادت کے ماحول کے باوجود، کہانی میں طنز اور مزاح کا رنگ بھر دیا ہے۔[10]
احمدزاده اپنے مختصر واقعے "سیونہ و یک اسیر" میں ایک کم سن بسیجی کی بے چینی اور اضطراب کو پیش کرتے ہیں جس نے ایک بوڑھے ڈرائیور کی مدد سے اندھیری رات میں انتالیس قیدیوں کو محاذ کی پچھلی طرف تک پہنچانا ہے۔ جب بسیجی قیدیوں کو حوالے کرتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ خود بھی ایک طرح سے ان انتالیس افراد کی قید سے آزاد ہو گیا ہے۔ یہ واقعہ جنگ کی تلخیاں پیش کرتا ہے؛ ایک نوجوان جسے جلد ہی بڑا ہو جانا پڑتا ہے اور زندہ رہنے کے لیے ایسے کام کرنے پڑتے ہیں جو اس کی نفسیات کے مطابق نہیں ہیں۔ یہ واقعہ بغیر جنگی مناظر دکھائے جنگ کے اثرات و نتایج کو پیش کرتا ہے۔
"فرار مرد جنگی" کے واقعے کا راوی ایک نوجوان بسیجی ہے جو بچپن سے ہی اپنی محلہ دار لڑکی ناہید کا عاشق تھا اور جنگ کے شروع ہوتے ہی لڑکی اور اس کے گھر والے دوسرے شہر ہجرت کر جانے کے بعد اس سے دور ہو گئے۔ راوی محاذ پر مصطفیٰ کو دیکھتا ہے جو اس کا ہمسایہ ہے اور بات چیت میں اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ بھی ناہید کا عاشق ہے۔ راوی جس کے پاس مصنوعی ٹانگ ہے، خود کو ناہید کے لائق نہیں سمجھتا اور مصطفیٰ کو، جو نہ صرف جسمانی طور پر مکمل صحت مند ہے بلکہ انجینئر بھی ہے، ناہید کو نکاح کا پیغام بھیجنے پر راضی کرتا ہے۔ کچھ عرصہ بعد راوی ایک دن جب اپنے بھائی کے بچوں کو پارک لے جا رہا ہوتا ہے تو ناہید سے ملاقات ہوتی ہے اور اس سے مصطفیٰ کی شہادت کی خبر سنتا ہے۔ دوسری طرف ناہید بچوں کو دیکھ کر یہ سمجھتی ہے کہ راوی کا مصطفیٰ کو اس سے شادی پر راضی کرنا اس کی بے وفائی اور جلدی شادی کرنے کی وجہ سےتھا اور وہ راوی کو حقیقت بتانے کا موقع ہی نہیں دیتی۔
"نامہای به خانواده سعد" ایک نوجوان بسیجی کی کہانی ہے جس نے سولہ سال کی عمر میں ایک نوجوان عراقی سپاہی کی لاش کو دفنایا تھا اور اب گیارہ سال بعد قیدیوں کے تبادلے کے گروپ کے اراکین کی مدد سے لاش کو دوبارہ سے ڈھونڈتا ہے اور اس کے خاندان کے نام ایک خط کے ساتھ واپس بھیجتا ہے۔ وہ وضاحت کرتا ہے کہ سعد ایک فراری سپاہی تھا اور اس کے اپنے عراقی ساتھیوں نے ہی اسے قتل کیا تھا۔[11]
واقعہ "اگر دریاقلی نبود!" جنگ کے دوران آبادان کے ایک رہایشی دریاقلی سورانی کی بہادری کے ایک حقیقی واقعے پر مبنی ہے۔ وہ آبادان سے بیس کلومیٹر کے فاصلے پر، جب عراقیوں کے حملے کے ارادے سے آگاہ ہوتا ہے، تو فوراً سائیکل پر سوار ہو کر آبادان پہنچتا ہے اور یہ اطلاع پہنچاتا ہے اور خود مارٹر کے گولے کی زد میں آ کر شہید ہو جاتا ہے۔[12]
فرد کی دوسری روایت کا طرزِ بیان، کم استعمال ہونے والی روایات کی اقسام میں سے ہے جو منفرد خصوصیات کی حامل ہے۔ یہ اسلوب اس کتاب کے تین واقعات میں استعمال کیا گیا ہے: "پر عقاب"، "چتری برای کارگردان" اور "اگر دریاقلی نبود!"۔ مصنف روایت کے بیان کے اس اسلوب کی مدد سے جنگ کے ایک حصے کی تاریخ کو دوبارہ سے پیش کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔[13]
کتاب "داستانہای شہر جنگی" نے 1999ء میں مقدس دفاع کے بہترین کتاب فیسٹیول کے چوتھے دور میں، آثار مقدس دفاع کی حفاظت اور دفاع مقدس کی اقدار کے فروغ کی بنیاد میں پہلا مقام حاصل کیا؛ نیز 2000ء میں وزارت ثقافت و اسلامی ارشاد کے ادبِ پایداری فیسٹیول میں واقعات کے زمرے میں ایوارڈحاصل کیا۔[14]
اس کتاب کے واقعات اب تک متعدد سینمائی فلموں کے لیے مرکزی خیال اور الہام کا ذریعہ بن چکے ہیں۔[15] مثلاً دو سینمائی فلموں "اتوبوس شب" اور "چتری برای کارگردان" کی اسکرین پلے اس مجموعے کے واقعات سے اخذ کی گئی ہیں۔[16]
پال اسپراکمن، رٹگیرز یونیورسٹی امریکا میں فارسی ادب و زبان کے اسسٹنٹ پروفیسر نے 2009ء میں کتاب "داستانہای شہر جنگی" کا انگریزی ترجمہ کیا اور مزدا پبلیکیشنز امریکا نے اسے شائع کیا۔ انہوں نے اس مجموعہ واقعات میں احمدزاده کے دو مزید مختصر واقعات "انتقام، انتقام، انتقام" اور "ننہ" کا اضافہ کیا۔ یہ کتاب اپنے فارسی ورژن سے ممتاز سرورق کے ڈیزائن کے ساتھ شائع ہوئی۔ اس سے قبل اس مجموعے کے دو واقعات "پر عقاب" اور "نامہای بہ خانواده سعد" انگریزی اور عربی زبانوں میں شائع ہو چکے ہیں جن کو بہت پذیرائی ملی۔ نوام چامسکی، نامور امریکی سیاسی سکالر اور مفکر نے حبیب احمدزاده کو ارسال شدہ ایک ای میل میں مصنف کی ذہانت اور واقعہ"پر عقاب" کے متاثر کن ہونے پر تعریف و تحسین کا اظہار کیا۔
نیز واقعہ "نامہای به خانواده سعد" کے عرب ویب سائٹ "ایلاف" پر شائع ہونے کے بعد اس کے بارے میں مثالی آراء سامنے آئیں جن سے خاص طور پر جنگ کے بعد کے سالوں میں عرب ممالک بالخصوص عراق کے عوام کے ایرانی عوام کے نقطہ ہائے نظر سے قریب ہونے کا اظہار ہوتا ہے۔[17]
کرسٹوف بالائی، سوربون یونیورسٹی فرانس میں فارسی زبان اور معاصر ادب کے پروفیسر نے اس کتاب کا فرانسیسی ترجمہ 2010ء میں فرانس میں شائع کیا۔ کتاب کا انگریزی ورژن اس کتاب کے اصل ناشر سورہ مہر نے 2011ء میں ایران میں شائع کیا۔[18]
[1] احمدزاده، حبیب، داستانهای شهر جنگی، تہران: سازمان تبلیغات اسلامی، حوزه هنری، 1997، صفحات 5 اور 6
[2] سابق، دوسرا ایڈیشن، 2000، صفحات 5 اور 6
[3] احمدزاده، حبیب، داستانهای شهر جنگی، تہران: روزنامه سلام، 2000، صفحات 5 اور 7
[4] احمدزاده، حبیب، داستانهای شهر جنگی، ساتواں ایڈیشن، 2006، صفحات 2 اور 5
[5] سابق، انیسواں ایڈیشن، 2012
[6] حنیف، محمد، حنیف، محسن، نوشتن در سایه جنگ: کندوکاوی پیرامون ادبیات داستانی جنگ و دفاع مقدس، تہران: مؤسسه فرهنگی هنری شهرستان ادب، 2016۔ صفحہ 318
[7] بارونیان، حسن، شخصیتپردازی در داستانهای کوتاه دفاع مقدس، تہران: بنیاد حفظ آثار و نشر ارزشهای دفاع مقدس، 2008۔ صفحات 460 اور 461
[8] رنجبر، محمود، در مجموعه مقالات همایش ملی ادبیات پایداری ج4، تہران: صریر، 2016، صفحہ 303
[9] حنیف، محمد، حنیف، محسن، نوشتن در سایه جنگ، صفحہ 318
[10] جاهدجاه، عباس، رضائی، لیلا، «بررسی شیوه روایت دوم شخص در داستانهای شهر جنگی»، نشریه ادبیات پایداری، دانشکده ادبیات و علوم انسانی، دانشگاه شهید باهنر کرمان، سال چهارم، شماره 8، بہار و موسم گرما 2013، صفحہ 41
[11] حنیف، محمد، حنیف، محسن، نوشتن در سایه جنگ، صفحات 319 اور 321
[12] جاهدجاه، عباس، رضائی، لیلا، «بررسی شیوه روایت دوم شخص در داستانهای شهر جنگی»، صفحہ 44
[13] سابق، صفحات 47 اور 48
[14] سابق، ص28
[15] احمدزاده، حبیب، داستانهای شهر جنگی، اٹھارہواں ایڈیشن، 2011۔ صفحہ 2
[16] جاهدجاه، عباس، رضائی، لیلا، بررسی شیوه روایت دوم شخص در «داستانهای شهر جنگی»، ص28
[17] روزنامه دیجیتالی هموطن سلام، 26 اپریل 2010
[18] Ahmadzadeh, Habib. A City under Siege: Tales of Iran- Iraq War. Tehran: Soureh Mehr Publishing House, 2011. Page 2۔
