حریم مہرورزی
زینب احمدی
20 بازدید
فیچر فلم "حریم مہرورزی" ناصر غلامرضائی کی 1986 میں بنائی ہوئی فلم ہے جو جنگی مہاجرین کی تصویر کشی کرتی ہے جو جنگ کے دوران اپنی روزمرہ زندگی کو معمول کے مطابق گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس فلم کے ہدایت کار ناصر غلامرضائی ہیں، ان کے معاونین سیامک شایقی اور اصغر عبدالہی ہیں، فلم نامہ نگار ناصر غلامرضائی اور اصغر عبدالہی ہیں، تصویر کے نگران علی رضا زرین دست ہیں، معاون مصور مصطفی کشفی ہیں، ناظرین آواز خسرو خسروشاہی ہیں، آواز اور موسیقی واروژ کاراپتیان کی ہے، خاص اثرات احمد میرکیانی کے ہیں، تدوین مہدی صباغ زادہ نے کی ہے، پس منظر کی موسیقی محمدرضا علیقلی نے ترتیب دی ہے، لیبارٹری ایران کی سینٹرل فلم انڈسٹری سروسز کی ہے، فوٹو گرافر اکبر اصفہانی ہیں، میک اپ ایرج صفدری کا ہے، پروڈکشن مینیجر غلامرضا صفدری ہیں، پوسٹر ڈیزائنر منوچہر عبداللہ زادہ ہیں اور اداکاروں میں حبیب اسماعیلی، افسانہ بایگان، جمشید مشایخی، مہری مہرنیا، سامی تحصنی، امید آہنگر، نعمت اللہ گرجی، طاہرہ سری، ندا کاویانی، فریدون محمدپور، حسین خنجری، ستار اورا، غلامرضا دیبائیان، بہنام معصومی اور دیگر شامل ہیں۔
96 منٹ کی یہ فلم "تعاونی فلم سازان گروپ" کی پیشکش ہے جو 24 جولائی 1987 کو شہر ہنر، تماشا، حافظ، سعدی، ستارہ، آرام، پیوند اور دیگر سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی گئی اور اس نے 294160 ریال کا بزنس کیا۔[1]
صبریہ(افسانہ بایگان) ایک بیوہ جوان لڑکی ہے جس کاشوہر آبادان میں شہید ہو گیا ہے اور جنگ سے ہجرت کرنے والوں کے ساتھ اپنے والدین اور اپنے بیٹے کے ہمراہ تہران میں ایک قیام گاہ میں رہائش پذیر ہے۔ اس کی ماں ہاجرہ بیمار ہے۔ حبیب(حبیب اسماعیلی) ایک جوان ٹیکسی ڈرائیور ہے جو ہاجرہ کو ہسپتال لے جاتا ہے۔ صبریہ اور حبیب ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ صبریہ خاندان کی کفالت کے لیے ایک سلائی کی دکان پر کام کرنے لگتی ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ وہ بر وقت کام پر پہنچ سکے حبیب اس روزانہ کام پر پہنچانے کی ذمہ داری لے لیتا ہے۔ وہ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ ہاجرہ انتقال کر جاتی ہے اور کچھ عرصے بعد حبیب جس کا کوئی نہیں ہے جابر کی وساطت سے، جو ایک بزرگ ہیں اسی قیام گاہ میں رہتے ہیں، صبریہ کے لیے شادی کا پیغام بھیجتا ہے۔ ان کی شادی کی تقریب تین خرداد کو، جو خرمشهر کی آزادی کا دن ہے، منعقد ہوتی ہے۔[2]
سینما کے تجزیہ کاروں کے مطابق اس فلم کا موضوع اس طرح کا ہے کہ فلم ساز کے لیے تخلیق کی گنجائش نہیں ہے۔ فلم کا موضوع بے جان اور کشش سے خالی ہے اور ناظرین کے لیے اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اس کہانی میں ایک عورت کی زندگی کو دکھایا گیا ہے جو کچھ زیادہ پیچیدہ اور یہاں تک کہ دہرائے جانے والے مسائل کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ایک راستہ طے کرتی ہے اور آخر کار شادی کر لیتی ہے۔
زیادہ تر ناقدین کے خیال میں یہ فلم محدود رابطے کے ماحول کو اپنا موضوع بناتی ہے، لیکن اس کےباوجود فلم ساز روایت کو رواں طریقے سے بیان کرتا ہے اور اگرچہ یہ فلم ساز کی پہلی فلم ہے پھر بھی وہ کہانی کو مسلسل انداز میں آگے بڑھاتا ہے اور فلم کے عناصر میں کافہ حد تک یکجہتی پائی جاتی ہے۔ فلم کے مجموعی منظر نامے میں گھر کے اندر امن و امان اور احترام کا ماحول دکھائی دیتا ہے اور ایک عورت اور مرد کا باہمی تعارف بھی معقول انداز میں نظر آتا ہے جو شادی کا ارادہ رکھتے ہیں اور یہ باتیں ناظرین کے لیے دلچسپ ہیں، لیکن جہاں ہجرت اور جنگ کا مسئلہ سامنے آتا ہے فلم ساز ان دو حصوں کے درمیان مضبوط تعلق قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ خوش قسمتی کی واحد علامت فلم کا آخری حصہ ہے جہاں ان دونوں کی محبت اور شادی اور خرمشهر کی آزادی ایک ہی دن میں انجام پاتے ہیں۔ فلم ان دونوں افراد کے درمیان محبت اور لگاؤ کے واقعات کو اچھے اور رواں انداز میں بیان کرتی ہے اور بے ساختہ انداز میں انسانوں کے درمیان جذباتی رشتے کو یہاں تک کہ جنگ کے بظاہر سخت ماحول میں بھی پیش کرتی ہے۔
فلم جنگ کی طرف بالواسطہ طور پر اشارہ کرتی ہے اور ایک عورت کی زندگی کی داستان میں زمانہ جنگ کی زندگی کے فرعی مسائل کو بیان کرتی ہے؛ ان انسانوں کا ردعمل دکھاتی ہے جو براہ راست تو جنگ سے وابستہ نہیں ہیں لیکن اس کے نتائج یعنی ہجرت جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ فلم خاندانی مسائل اور مہاجرین کی زندگی کو اجاگر کرتے ہوئے وسیع سماجی روابط کو جو توپ اور مشین گن اور شہادت کے ساتھ بغیر رکے چلتی رہتی ہیں، اچھی طرح بیان کرتی ہے۔
کچھ ناقدین کے مطابق فلم کا پہلا آدھا حصہ زیادہ دلچسپ نہیں ہے لیکن دوسرا حصہ زیادہ پرکشش ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کے خیال میں فلم کے کچھ مناظر غیر ضروری ہیں اور اگر انہیں حذف کر دیا جائے تو فلم متاثر نہیں ہوگی، جیسے کہ دادا کا بلا وجہ مشهد کا سفر یا مرد کا بے مقصد ٹیکسی چلانا۔
کچھ ناقدین منطقی ہم آہنگی کی کمی اور فلم نامے کی کمزوری اور اداکاروں کے اداکاری میں ناکامی اور نیز خاص فنکارانہ اور تصویری خوبیوں کے فقدان کو اس کی کمزوریاں سمجھتے ہیں۔
کچھ دیگر ماہرین کے مطابق یہ فلم ایک غیر ملکی فلم سے متاثر ہے۔ البتہ اس تقلید میں ناپختگی قابل محسوس ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فلم نامے کا موضوع جو جنگی مہاجرین کے جذباتی تعلقات کے بارے میں ہے نیا ہے لیکن یہ موضوع فلم ساز کے جذباتی نقطہ نظر اور اس کی سطحی اداکاری کی وجہ سے ناظر کی گہری توجہ کو مبذول نہیں کر سکتا ہے۔ نیز فلم کی موسیقی کا فلم کے موضوع سے کوئی ربط نہیں ہے اور کوچہ بازارکے بندری ترانے کی دھن کو اپنا موضوع بنایا ہے۔[3]
کچھ نے یہ بھی کہا ہے کہ جہاں فلم ساز کو اپنی فلم کے کرداروں کاتجزیہ کرنا چاہیے تھا، اس نے شاعرانہ سلوک کیا ہے اور مسائل کو عام طریقے سے آگے بڑھایا ہے۔ مثال کے طور پر حبیب جس کی واحد خوشی ایک ایکویریم ہے اور وہ شاعرانہ لہجے میں ان مچھلیوں سے بات کرتا ہے۔ ناظر حبیب کے بارے میں کچھ نہیں جانتا ہے سوائے اس کے کہ ٹیکسی ڈرائیورہے اور اس کے والدین فوت ہو چکے ہیں۔ البتہ فلم ساز نے پوری فلم میں امید کے مسئلے پر توجہ دی ہے؛ فلم کا آغاز امید سے ہوتا ہے اور اختتام بھی امید پر ہوتا ہے یا وہ اس شادی کے بارے میں بتاتا ہے جو جنگ میں فتح کے ساتھ ہوتی ہے۔ فلم کہتی ہے کہ جنگ کے سختیوں اور مشکلات والے وقت میں بھی صرف امید کی پناہ میں ہی قدم بڑھایا جا سکتا ہے۔
کہا گیا ہے کہ حبیب کی اداکاری خشک ہے؛ وہ محض حبیب اسماعیلی ہیں نہ کہ ایک جنگی مہاجر اور یہی بات ناظر کے اس کی پوزیشن پر یقین کو کم کرتی ہے۔ فلم میں غیر منطقی مناظر کی کمی نہیں ہے، جیسے کہ وہ منظر جہاں صبریہ اور رحمان ہسپتال میں داخل ہوتے ہیں اور بلا وجہ اور غیر منطقی طور پر صبریہ نرس کے ساتھ گرمجوشی سے ملتی ہے۔ اس دوران فلم ساز کے اشارات اور استعارات فلم کے کچھ حصوں میں مناسب ہیں، بشمول وہ جگہ جہاں صبریہ آئینہ صاف کرتی ہے اور اپنے چہرے کو دیکھتی ہے؛ درحقیقت وہ اپنے چہرے سے غبار صاف کر رہی ہوتی ہے۔[4]
یہ بھی کہا گیا ہے کہ فلم جنگی مہاجرین کے کھونے کے افسوس کے لمحات کو اچھی طرح سے پیش کرتی ہے۔ فلم کا ارادہ تین نسلوں کو پیش کرنے کا ہے؛ ہاجرہ پرانی نسل کی نمائندگی کرتی ہیں، صبریہ موجودہ نسل اور جنگ کی نمائندگی کرتی ہیں اور صبریہ کا بیٹا نئی نسل کی نمائندگی کرتا ہے البتہ وہ ان تین نسلوں کے بیانات کو علیحدہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے۔
ہدایت کار نے اس فلم کے بارے میں کہا ہے کہ اس فلم کا عروج خرمشهر کی فتح کا وقت ہے جسے میں نے موجودہ محدود وسائل کے ساتھ پیش کیا۔ جنگ سے متاثرہ افراد کی قیام گاہ میں بہت سے واقعات رونما ہوتے ہیں جن کا ایک ساتھ ذکر کرنا جنگی ماحول میں زندگی کے جاری و ساری ہونے کو پیش کرتا ہے۔[5]
[1] سالنامه آماری فروش فیلم و سینمای ایران سال 1991، خزاں 2016، ص۱۵.
[2] بهارلو، عباس، فیلمشناخت ایران- فیلمشناسی سینمای ایران (1993-1979)، تهران، قطره، 2004، ص ۱۱۷.
[3] امید، جمال، تاریخ سینمای ایران 1979- 1990، تهران، روزنه، 2004، ص ۴۹۶-۴۹۹
[4] روزنامه ابرار، ش ۵۶۵، 9 اگست 1987، ص ۹
[5] ماهنامه فیلم، ش ۵۳، سال پنجم، ستمبر 1987، ص ۵۶-۵۹
