تنگہ ابو قریب

زینب احمدی
17 بازدید

فیچر فلم "تنگہ ابو قریب" یعنی آبنائے ابو قُرَیب سنہ 2017 میں بہرام توکلی نے بنائی جو عراق کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ کے آخری دور میں لشکر 27 محمد رسول اللہ ﷺ کی دفاعی بٹالین عمار کی عراقی پیش قدمی کے خلاف کارروائی کو پیش کرتی ہے۔

فلم کے ہدایتکار بہرام توکلی، معاون ہدایتکار محمد عسگری اور علیرضا ناصربخت، پلاننگ علی مردانہ، مصنف بہرام توکلی، پروڈیوسر سعید ملکان، پروڈکشن مینیجر محمدرضا منصوری، پروڈکشن اسسٹنٹ علی اصغر صبوری راد، ڈائریکٹر آف فوٹوگرافی حمید خضوعی ابیانہ،  فوٹوگرافر محمد بدرلو، ایڈیٹر بہرام دہقان، سیٹ اور کاسٹیوم ڈیزائنر محمدرضا شجاعی، میک اپ آرٹسٹ سعید ملکان، کمپوزر حامد ثابت، ساؤنڈ ریکارڈسٹ رشید دانشمند، اسپیشل ایفیکٹس سپروائزر محسن روزبہانی، وی ایف ایکس سپروائزر حسن ایزدی اور اداکاروں میں حمید رضا آذرنگ، قربان نجفی، علی سلیمانی، جواد عزتی، امیر جدیدی، مہدی قربانی اور دیگر شامل ہیں۔

یہ 90 منٹ کی فلم اوج آرگنائزیشن کی پیشکش ہے جو ایران، کوروش، باغ کتاب، صحرا، ناہید، فرہنگ، استقلال، فلسطین اور دیگر سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی گئی اور اس نے 56,535,314,960 ریال کا بزنس کیا۔[1]

یہ فلم بٹالین عمار یاسر لشکر 27 محمد رسول اللہ ﷺ کی فکہ اور شَرہانی میں عراقی فوج کے خلاف آخری دنوں میں ہونے والی دفاعی کارروائی پر مبنی ہے۔ 13 جولائی 1988 کو اقوام متحدہ کی قرارداد 598 کو قبول کرنے سے ایک ہفتہ قبل عراقی فوج نے ابو قریب کے اسٹریٹیجک گھاٹی (دہلران-اندیمشک روڈ اور دشت عباس کے قریب) میں پیش قدمی شروع کی۔ کئی مجاہدین جن میں سردار یزدی (مہدی پاکدل)، خلیل (حمید رضا آذرنگ)، عزیز (علی سلیمانی)، حسن (امیر جدیدی)، مجید (جواد عزتی) اور علی (مہدی قربانی) شامل تھے، مقامی لوگوں کی مدد سے مزاحمت کرتے ہیں اور کئی شہادتیں دینے کے باوجود بالآخر فتح پاتے ہیں۔ اس لڑائی کے راوی علی ہیں جو جنگ کی تصاویر لینے اور فلم بنانے کے لئے رضاکارانہ طور پر محاذ پر آئے تھے لیکن دشمن نے انہیں فوٹوگرافر کی بجائے  ایک مجاہد بنا دیا۔[2]

فلم نے تیسریں فجر فلم فیسٹیول میں بہترین فلم (سعید ملکان)، بہترین ہدایتکار (بہرام توکلی)، بہترین اداکار (امیر جدیدی)، بہترین اسپیشل ایفیکٹس (محسن روزبہانی)، بہترین ساؤنڈ ریکارڈنگ (رشید دانشمند) اور بہترین میک اپ (سعید ملکان) کے شعبوں میں چھ کرسٹل سیمرغ ایوارڈز حاصل کیے۔[3]

جنگ کے آخری دنوں میں تنگہ ابو قریب ایک اہم مقام تھا جہاں سے عراقی فوج گزر کر ایران کے اہم شہروں اور مقامات میں داخل ہونا چاہتی تھی۔ یہ گھاٹی بٹالین عمار کے مجاہدین کی مزاحمت کا مرکز بنی اور یہ فلم ان افراد کے عزم کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے فکہ اور شرہانی جیسے محاذوں پر دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ فلم کا کچھ حصہ مقدس دفاع سینما سٹی اور کچھ خرمشہر میں فلمایا گیا۔[4]

بعض تجزیہ نگاروں کے خیال میں تنگہ ابو قریب گذشتہ تیس سالوں میں بننے والی جنگ پر سب سے موثر فلم ہے؛ ایک ایسی شاندار  فلم جس نے خون اور آگ کے میدان کی بہترین عکاسی کی اور ایسے چہرے پیش کیے جنہوں نے آخری سانس تک دشمن کا مقابلہ کیا۔ اس فلم نے ڈرامے کو مرکزی خیال نہیں بنایا بلکہ حالات و واقعات کو مرکزیت دی ہے اور جنگ کے لمحات کی ترجمانی کی ہے۔ فلم کی مقبولیت کی وجہ اس کے کردار اور حالات ہیں نہ کہ اسپیشل ایفیکٹس، کیمرہ ورکنگ یا ساؤنڈ ایفیکٹس۔

کہا جاتا ہے کہ فلم کے پروڈیوسر نے اوج آرگنائزیشن کو اس فلم کی تیاری کا آرڈر دیا تھا۔ یہ فلم معاہدے (قطعنامہ) کی قبولیت سے چند روز قبل ایرانی محاذ جنگ کی صورت حال کو پیش کرتی ہے اور کسی حد تک معاہدے کی قبولیت کی وجوہات بھی بیان کرتی ہے۔[5]

ناقدین کا کہنا ہے کہ "تنگہ ابو قریب" ہدایتکار کے فلمی سفر میں ایک شاندار اضافہ ہے جس نے اس سے پہلے جنگی فلم نہیں بنائی تھی اور نہ ہی وہ خود جنگ میں شریک تھے۔ بیشتر تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ فلم تکنیکی اور منظر نگاری کے لحاظ سے جنگی فلموں میں ایک اہم واقعہ ہے۔ فلم میں خاکی رنگ اور مٹی کا غلبہ ایک نیا اور انوکھا انداز ہے جو اس سے پہلے جنگی فلموں میں نہیں دیکھا گیا۔ یہ رنگ فلم کے اختتام تک اس قدر چھا جاتا ہے کہ شہید ہونے والے مرکزی کردار گویا مٹی کی چادر لے کر سو گئے۔

اکثر ناقدین کے مطابق ہدایتکار تکنیکی اور منظر نگاری میں اس قدر کھو گئے ہیں کہ اسکرپٹ کی طرف سے لاپروا ہو گئے اور فلم اسکرپٹ کی کمزوری کا شکار ہو گئی ہے جو ایک نمایاں خامی ہے۔ تاہم منظر نگاری پر توجہ نے فلم کو خوبصورت اور پرکشش بنا دیا ہے۔ فلم کے پہلے 35 منٹ اور آخری چند منٹوں کے علاوہ اسکرپٹ اور کہانی کی تفصیلات (کرداروں کے درمیان تعلقات کا تانا بانا) موجود نہیں ہے۔ 35ویں منٹ کے بعد آپریشن ابو قریب شروع ہوتا ہے اور ناظرین تقریباً ایک گھنٹے تک فائرنگ، دھماکوں، ٹینک اور مشین گن کے فائر اور شہادت کے مناظر دیکھتے ہیں۔ ہدایتکار نے کرداروں کے درمیان ڈرامائی تعلقات اور سنیماٹک اثرات پر توجہ نہیں دی۔ اس کے باوجود تنگہ ابو قریب کو منظر نگاری کی درستگی کے لحاظ سے  فلم  "نجات سربازان ریان" (Saving Private Ryan) جیسی فلموں سے موازنہ کیا جاتا ہے، لیکن اس فلم کے ہدایتکار نے دلچسپ منظر نگاری کے ساتھ ساتھ اسکرپٹ کی تفصیلات پر بھی پوری توجہ دی جبکہ "تنگہ ابو قریب "نے کرداروں کے درمیان تعلقات کے اثرات کو نظر انداز کر کے ایک مضبوط اور پرکشش کہانی سے محروم رکھا۔ دوسرے لفظوں میں یہ فلم ڈاکیومنٹری کی مانند بن گئی ہے۔

ناقدین کی طرف سے ایک اور خامی فلم کے نام اور جغرافیائی منظر نگاری میں عدم ہم آہنگی ہے۔ فلم کے نام کو دیکھتے ہوئے ناظر ایک تنگ گھاٹی (ایک محدود اور تنگ جگہ جس میں اونچی دیواریں ہوں) میں اپنے اور دشمن کے درمیان جنگ دیکھنے کی توقع کرتا ہے، لیکن فلم میں ایسا نہیں ہے۔ یقیناً جغرافیہ کہانی کے بیان میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔[6]

ایرانی سنیما کے بعض ہدایتکاروں کا خیال ہے کہ اگرچہ اس فلم کے لیے وسائل محدود تھے لیکن اس نے بڑی محنت، تفصیل پر توجہ اور نعروں سے پرہیز کرتے ہوئے جنگ کے ایک اہم مرحلےکو پیش کیا ہے۔[7]

 

 

[1] سالنامه آماری سینمای ایران سال 1994، تهران، 2019، ص ۱۲

[2] http://www.sourehcinema.com/ ؛ ماهنامه سینمایی فیلم، ش ۵۴۶، اگست 2018، ص ۶۶؛ روزنامه جام ‌جم، ش ۵۰۵۲، 24 فروری 2018، ص 11.

[3] روزنامه جام ‌جم، ش ۵۰۵۲، شنبه 24 فروری 2018، ص ۱۱.

[4] روزنامه ایران، ش ۶۶۹۷، شنبه 20 جنوری 2018، ص ۱۴.

[5] روزنامه اعتماد، ش ۴۱۶۸، 26 اگست 2019، ص ۸ و ۹.

[6] ماهنامه ‌سینمایی فیلم، ش ۵۴۶، سال سی و ششم، اگست 2018، ص ۸۲-۹۴.

[7] روزنامه جام جم، پنجشنبه 8 فروری 2018، ش ۵۰۴۱، ص ۱۶.