خدا حافظ رفیق
زینب احمدی
2 بازدید
تین قسطوں پر مشتمل فیچر فلم " خدا حافظ رفیق" بہزاد بہزاد پور نے سن 2003 میں بنائی ہے۔ یہ ایک ڈرامائی انداز میں جنگ کے بعد مجاہدین کی کیفیات کو پیش کرتی ہے۔
اس فلم کے ہدایت کار، مصنف، ایڈیٹر اور ساؤنڈ انچارج بہزاد بہزاد پور ہیں، پہلے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سعید مترصد ہیں، ریکارڈنگ انچارج محمد تقی پاک سیما ہیں، سین سیکرٹری جمشید خندان ہیں، ساؤنڈ ریکارڈر عباس رستگار پور ہیں، تبلیغات اسلامی آرٹ سینٹر کے اسٹوڈیو میں اس کی ایڈیٹنگ ہوئی ہے ، خصوصی اثرات جواد شریفی راد اور محسن روزبهانی نے بنائے ہیں، پس منظر کی موسیقی سعید شعبانی نژاد نے ترتیب دی ہے، ترانے فاطمہ بہزاد پور نے گائے ہیں، سیٹ ڈیزائنر حسن روح پرور ہیں، فوٹوگرافر حافظ احمدی ہیں، پروڈیوسر سعید سید زادہ ہیں اور اداکاروں میں کاوہ خداشناس، کاوہ مہدوی، بابک اسلامی، جلال خباز، فرحت نعمت زادہ، عبدالرضا کامیاب، محمد علی بیک زادہ، داؤد شاعری، ثریا حلی، یلدا شقائیقی، جمشید خندان، شہرزاد صفوی، عاطفہ سادات موسوی، حمید بروغنی، زیبا کاویانی اور دیگر شامل ہیں۔ یہ 84 منٹ کی فلم سورہ سنیما ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن نے تیار کی ہے اور 13 جنوری 2005 کو آزادی، کانون، بہمن، شاہد اور دیگر سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی گئی۔
فیچرفلم "خدا حافظ رفیق" کی تین اقساط ہیں۔
پہلی قسط، خدا حافظ رفیق:عراق کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کے کئی سال بعد، کاوہ خداشناس (مسلم) جو کیمیائی ہتھیاروں سے زخمی ہوا ہے، آدھی رات کو جوتے اور فوجی وردی پہن کر بہشت زہراء جاتا ہے اور اپنی ماں (ثریا حلی) جو اس کے لیے فکر مند ہے، کو بتاتا ہے کہ اس کی اپنے جنگی ساتھیوں سے ملاقات طے ہے۔ مسلم بہشت زہراء میں اپنے ساتھیوں اصغر، رضا، مہدی اور دیگردوستوں کو دیکھتا ہے جو جنگ میں شہید ہو چکے ہیں۔وہ سب شہر میں موٹر سائیکل چلا رہے ہیں اور جانے پہچانے مقامات پر جارہے ہیں۔ کچھ گھنٹوں بعد مسلم کی ماں اپنے بیٹے کی بے جان لاش بستر پر دیکھتی ہے۔
دوسری قسط، قوس قزح کا ایک لمحہ: ہدایت کار بابک نوری اور ریکارڈنگ انچارج محسن شرافتی جنگ کے دنوں کے باقی ماندہ آثار کی فلم بندی کر رہے ہیں۔ اچانک دو بسیجی، مصطفی حسینی اور گل رضا محمدی، فلم میں داخل ہوتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں کہ ان کی یادیں سنی اور محفوظ کی جائیں۔ مصطفی اور گل رضا اپنی یادوں کا کچھ حصہ بیان کرتے ہیں اور طے یہ پاتا ہے کہ اگلے دن اپنی باقی یادوں کو بیان کریں گے۔ فلم بندی کے گروپ کے ارکان تھوڑی دیر بعد دو پلاک (شناختی لاکٹ) پاتے ہیں جو مصطفی اور گل رضا کی ہیں جو کہ برسوں پہلے شہید ہو چکے ہیں۔[1]
تیسری قسط، شیشے کا پھول: ریلوے لائن کے کنارے، چھوٹی بچی پھول بیچنے والے بچوں کے درمیان جو مجاہدین کو پھول بیچ رہے ہیں، خاموش اور بے آواز کھڑی ہے۔ بچی اپنا گلدستہ نہیں بیچتی، بلکہ آئندہ آپریشن کے شہید کو مجاہدین میں سے ڈھونڈتی ہے اور اسے اپنا گلدستہ تحفے میں دیتی ہے۔ بچی خود بھی ایک شہید باپ کی بیٹی ہے جسے اس کا باپ اس گاؤں میں چھوڑ گیا تھا۔ ایک رات ریلوے لائن کے کنارے، جب برف باری ہو رہی ہوتی ہے، بچی اپنے باپ کو ایسی ٹرین میں پاتی ہے جو ابھی تک پہنچی نہیں ہوتی۔
" خدا حافظ رفیق " فجر فلم فیسٹیول میں مجموعی طور پر تین ایوارڈز کے لیے نامزد ہوئی؛ سعید شعبانی نژاد بہترین پس منظر کی موسیقی ، محسن روزبہانی اور جواد شریفی راد بہترین خصوصی اثرات کے انعام کے لیے نامزد ہوئے۔[2]
فلم کی موسیقی سعید شعبانی نے ترتیب دی ہے، جو سولو پلیئر ہیں۔ فلم " خدا حافظ رفیق " بہت سادہ اور بے تکلفی پر مبنی فلم ہے اور اس کی موسیقی میں چھ میلوڈی لاینیں ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ یہ جنگ کے ابتدائی سالوں میں ہی بنائی گئی ہو۔ بھاری اور پیچیدہ آرکسٹرا اور ہم آہنگی کے ساتھ فلم کی سادگی تک نہیں پہنچا جا سکتا تھا، اسی لیے ایک مضبوط اور سادہ سولو پلیئر کی ضرورت تھی تاکہ وہ فلم کی دنیا کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکے۔[3]
بعض ناقدین کا خیال ہے کہ " خدا حافظ رفیق " مقدس دفاع کی سنیما میں ایک مختلف فلم ہے جو بہزاد پور کی پوری ادبی اور سینمائی صلاحیت کا مظاہرہ کررہی ہے۔ اس گروہ کے مطابق، بہزاد پور نے سنیما کے ذریعے اپنی فکر کے مرکزی خیال کو اس فلم کی شکل میں ڈھالا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ اس کے بعد اگلی فلم بنانا ایران کی سنیما کی تاریخ میں ان کے لیے ایک ماہرانہ خودکشی ہوگی، اسی لیے انہوں نے اس کے بعد کوئی فلم نہیں بنائی۔
بعض تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ بہزاد پور نے جس کا متن بھی خود لکھا ہے، اپنی انگلی جنگ کے زخموں پر اٹھانے اور انہیں گہرا کرنے کی بجائے، ہماری روح کے نازک مقامات پر رکھی ہے اور ہماری فراموش شدہ فطری جذبات کو دوبارہ بیدار کرتا ہے۔
فلم کا نام دو الفاظ " خدا حافظ" اور " رفیق " پر مشتمل ہے جو دونوں مثبت ہیں، لیکن جب ایک ساتھ آتے ہیں تو رخصت اور جدائی کا احساس دلاتے ہیں جو فلم کے کرداروں کا بنیادی مقصد گزرے ہوئے ساتھیوں سے ملنا ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ فلم کی آخری قسط جس کا نام "گل شیشہ" ہے، فلم کی بہترین قسط ہے اور ہدایت کار کم سے کم مکالمے کے ساتھ موضوع اور فلم کے پیغام کو بیان کرنے کے لیے مناظر سے بہترین فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہا ہے۔
ناقدین نے کہا ہے کہ اس چھوٹی بچی کا خیال جو اپنے پھول صرف ایک مجاہد کو دیتی ہے اور وہ مجاہد وہ ہے جو کل شہید ہوگا، ایک فلم کی کہانی کے لیے کافی مضبوط ڈرامائی اثر رکھتا ہے اور اسی وجہ سے اقساط کے درمیان معنوی اشتراک اور بین المتن حوالوں کے باوجود، یہ قسط اپنے آپ میں ایک مکمل فلم ہے۔ برف باری والے اسٹیشن پر بچی کا اپنے شہید باپ تک پہنچنا فلم کے خوبصورت ترین مناظر میں سے ایک ہے جسے سنیما کا شائق ناظر دیکھنے کے بعد ہرگز نہ بھولے گا اور جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ہمیشہ کے لیے اس کے ذہن کی دیوار پر ایک تصویر کی طرح یہ منظر آویزاں ہو جائے گا۔[4]
بعض کا خیال ہے کہ یہ فلم فیسٹیول فجر میں ناانصافی کا شکار ہوئی اور اس پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی؛ حالانکہ اگر فلم کا معیار ناظر پر اثرانداز ہونے کو مانا جائے تو ہر ناظر فلم کی پہلی قسط کو دیکھ کر اس کے تجسس اور خوبصورتی سے متاثر ہوگا۔ ان تجزیہ نگاروں کے خیال میں، فلم موضوع، مواد، ساخت اور آرٹسٹک پرداخت کے لحاظ سے دوسری مقدس دفاعی فلموں سے بہت آگے ہے۔ فلم مکمل طور پر دلی تعلق کے ساتھ بنائی گئی ہے اور محاذوں کی پاکیزگی اور مجاہدین کی روحانی کیفیت کو بخوبی پیش کرتی ہے، لیکن بظاہر فیسٹیول کے ججوں کی ذاتی رائے کا شکار ہو گئی، کیونکہ یہ اپنے وقت سے بہت آگے تھی اور اب بھی ایرانی سنیما کے مختلف ادوار میں دفاع مقدس کی اچھی، مثالی اور لافانی فلم ہے۔[5]
[1] بهارلو، عباس، فیلمشناخت ایران، فیلم شناسی سینمای ایران (فیلم شناسی سینمای ایران 2012-2005)، تهران، قطره، 2012، ص ۴۵۷ و ۴۵۸.
[2] https://www.manzoom.ir/.
[3] روزنامه شرق، ش ۴۹۵، سال دوم،9 جون 2005، ص ۱۰.
[4] https://www.rajanews.com/news/152196
[5] https://www.borna.news/%D8%A8%D8%AE%D8%B4-%D9%81%D8%B1%D9%87%D9%86%DA%AF-%D9%87%D9%86%D8%B1-6/903810-%D8%AE%D8%AF%D8%A7%D8%AD%D8%A7%D9%81%D8%B8-%D8%B1%D9%81%DB%8C%D9%82-%D9%81%DB%8C%D9%84%D9%85%DB%8C-%D8%AC%D8%B0%D8%A7%D8%A8-%D8%A7%D8%B1%D8%B2%D8%B4%DB%8C-%D9%85%D8%AD%D8%A8%D9%88%D8%A8-%D9%85%D8%B8%D9%84%D9%88%D9%85
