حماسہ مجنون
زینب احمدی
23 بازدید
فیچر فلم "حماسہ مجنون" کو 1993 میں جمال شورجه نے تخلیق کیا جس کا مرکزی موضوع فوجیوں کے ذریعے مهران شہر کی آزادی ہے۔
ہدایتکار جمال شورجه، فیلم نامہ نویس حمید خیرالدین، تصویربردار محمد درمنش، تولید مدیر حبیب اللہ کاسہ ساز، تدوینگر روح اللہ امامی، موسیقی محمدرضا علیقلی، لباس ڈیزائنر مجید میر فخرایی، ڈبنگ مدیر منوچهر اسماعیلی، ہدایتکار کے پہلے معاون اور پروگرامر علی غفاری، خاص اثرات محمدرضا شرف الدین، لباس ذمہ دار محمود تقوایی، صداگذاری بهروز شهامت، سیکرٹری صحنه قربانعلی رمضان خانی، صحنه مدیر رحیم منصوری، فوجی گروپ فرهاد خانی اور حسین کلهری، لشکر ۱۶ قدس کے رابطہ کار حسین کنفکار اور اداکاران میں جهانبخش سلطانی، جعفر دهقان، سید جواد ہاشمی، حسن عباسی، علی درخشی، سید ناصر حسینی فر، حمید کاسہ ساز، حمید رضا رجائی اور دیگر شامل ہیں۔
یہ ۸۹ منٹ کی فلم ٹی وی اور سینما کے ادارہ جانبازان کے تعاون سے انجمن سینمائی دفاع مقدس نے بنائی ہے جو 24 اگست 1993 کو سینما ارم، بهمن، جام جم، شاهد، استقلال اور دیگت سینما گھروں میں پیش کی گئی اور اس نے ۳۴۴,۶۱۵,۴۰۰ ریال کا بزنس کیا۔[1]
عراقی فوجوں کے ہاتھوں مہران شہر پر قبضے کے بعد، کمانڈر ان چیف نے مہران کی آزادی کا حکم جاری کیا۔ طے یہ پاتا ہے کہ حاج احمد امین (جهانبخش سلطانی) مجنون کے جزائر میں اچانک چھاپہ مار کارروائیوں کے ذریعے عراقی فوجیوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کریں۔ رضا، حاج احمد کا نائب، جو اس منصوبے سے بے خبر تھا، وسیع پیمانے پر عراقی فوجیوں کی موجودگی کی وجہ سے حاج احمد اور تبلیغاتی دستوں کے ساتھ تصادم میں آگیا۔ عراقی فوجیوں کے حملے اور کئی رزمندگان کے شہید و زخمی ہونے کے بعد، رضا حاج احمد کی کمان کے خلاف احتجاج کے طور پر کمانڈ ہیڈ کوارٹر پہنچ جاتا ہے۔ ایک عراقی فوجی جو جمہوری اسلامی ایران کا حامی تھا، خود کو حاج احمد تک پہنچاتا ہے اور عراقیوں کے نئے ہونے والے حملے کی اطلاعات دیتا ہے۔ رضا کمانڈ ہیڈ کوارٹر میں مهران کی آزادی کی خبر سنتا ہے اور حاج احمد کی تبلیغاتی سرگرمیوں اور نفسیاتی جنگ کی وجہ سمجھ جاتا ہے۔ عراقی فوجیوں کے حملے کے ہمراہ، رضا فوجیوں کے ایک دستے کے ساتھ خط مقدم پر واپس آتا ہے، لیکن جب وہ حاج احمد تک پہونچتا ہے تو عراقی صفیں بکھر چکی ہوتی ہیں اور حاج احمد شدید زخمی ہو چکے ہوتے ہیں۔[2]
فلم "حماسہ مجنون" بین الاقوامی فلم فیسٹیول فجر، بارہویں دور میں سال 1993 میں کل ۸ زمروں میں انعامات کے لیے نامزد ہوئی جہاں جعفر دهقان نے سیمرغ بلورین برائے بہترین معاون اداکار اور بهروز شهامت نے بہترین صداگذاری اور مکسنگ کا انعام جیتا جبکہ جمال شورجه نے جیوری کا خصوصی انعام برائے بہترین ہدایتکاری حاصل کیا۔ نیز دفاع مقدس فیسٹیول کے پانچویں دور میں سال 1994 میں یہ فلم ۵ زمروں میں نامزد ہوئی جہاں محمد درمنش نے بہترین تصویربرداری اور بهروز شهامت نے بہترین صداربرداری و صداگذاری کا انعام حاصل کیا۔[3]
فلم کے ہدایتکار نے جنگ کے قدرتی ماحول کے بصری اور جمالیاتی پہلوؤں سے بھرپور استفادہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ بندر انزلی کے دلدلی علاقوں کی تصاویر، جو مجنون کے جزائر کے مقابلے میں زیادہ سرسبز نظر آتی ہیں، اس فلم کے جمالیاتی پہلوؤں کو دگنا کر دیتی ہیں۔ خوبصورت فطرت اور جنگ کے المناک مناظر کے درمیان تضاد نے بدصورت اور خوبصورت کے Paradox / تضادکو جنم دیا ہے۔
تنقید نگاروں کے مطابق اس فلم کی ایک خامی اس کی صداگذاری ہے، کیونکہ آدمیوں اور جنگی آلات کی آوازیں اسٹوڈیو میں ریکارڈ کرکے جنگی مناظر پر ڈالی گئی ہیں جس سے تصویر اور آواز کے درمیان ہم آہنگی کا احساس کمزور پڑ گیا ہے۔ نیز کئی مواقع پر اگرچہ فلمی سین، واقعات کو بیان کر رہےہوتے ہیں، لیکن نعروں پر مبنی مکالموں میں مبالغہ آرائی نظر آتی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ہدایتکار کی پچھلی دو فلموں کے مقابلے میں اس فلم کا معیار بلند ہے۔ اسکرپٹ رائٹر کا جنگ کے انسانی اور عسکری پہلوؤں پر نظر، دیگر جنگی آثار سے بہتر ہے۔ اس فلم میں عراقیوں کو یک طرفہ طور پر شریر انسانوں کے طور پر نہیں دکھایا گیا ہے اور یہی چیز فلم کی سچائی کو زیادہ موثر بناتی ہے۔ فلم کی پس منظر موسیقی بھی پرکشش، دلکش اور فلم کے موضوع کے مطابق ہے۔[4]
فلم کی خوبیوں میں اس کی تصویربرداری کے خاص اثرات، مناسب عناوین اور منتخب کردہ علاقے کی جغرافیائی خصوصیات ہیں جو کہانی کی عکاسی میں استعمال ہوئے ہیں۔ فلم میں مناجات کا منظر ایک اچھا احساس پیدا کرتا ہے اور حنابندان کا منظر فلم "افق" کی یاد تازہ کر دیتا ہے۔ ہدایتکار کی پچھلی دو فلموں کے مقابلے میں اس فلم میں کردار نگاری اور جنگ میں شامل لوگوں کی روحانی کیفیات کی مکمل عکاسی کی گئی ہے۔[5]
اس فلم کے اسکرپٹ رائٹر کا کہنا ہے کہ میں نے اسکرپٹ لکھنے کا آغاز آپریشن والفجر ۸ سے متاثر ہو کر کیا تھا اور اس کا خیال وہیں میرے ذہن میں آیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ادارہ تبلیغات جنگ اور اس کے ثقافتی پروگراموں کے حصے میں، ثقافتی یونٹ کے رزمندگان نے ایسے لاؤڈ اسپیکر نصب کیے تھے جو کبھی کبھار چوبیس گھنٹے عاشورائی نوحے اور نغمے نشر کرتے تھے۔ ڈیفنس یونٹ کے فوجی اس کام کو بے فائدہ سمجھتے تھے اور سپاہ سے مطالبہ کرتے تھے کہ ان لاؤڈ اسپیکرز کو بند کیا جائے، لیکن ثقافتی یونٹ نے مایوسی کے انتہائی لمحات میں بھی — جب کہ اپنی فوجیں دشمن کے توپ و ٹینک کی زد میں تھیں — ان اسپیکرز کی آواز بند نہیں کی۔ دس دن گزرنے کے بعد، ۱۲۰ عراقی پانی کے جوہڑوں کو پار کرکے ہماری فوجوں کے پاس پناہ گزین ہو گئے اور سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ ان میں سے ایک پناہ گزین التجا کر رہا تھا کہ وہ عاشورائی نوحے دوبارہ چلائیں۔ نوحے کے چلنے کے بعد، عراقی سپاہی پورے وجود کے ساتھ رو پڑا۔ یہ اسکرپٹ رائٹر کہتے ہیں کہ اس موقع پر میں سمجھ گیا کہ معنویت دلوں پر حکومت کرتی ہے، نہ کہ محض جنگی آلات و اوزار۔ میں نے کوشش کی کہ اس آنکھوں دیکھی کو فیلم نامے میں منتقل کروں۔[6]
[1] سالنامه آماری فروش فیلم وسینمای ایران سال 1991، خزاں 2016، ص ۷
[2] بهارلو، عباس، فیلمشناخت ایران (فیلمشناسی سینمای ایران 1979-1993)، تهران، قطره، 2004، ص۳۳۳
[3] http://www.sourehcinema.com/Festival/Film/History.aspx?Kind=Full&Id=138109211685 &FilmName=%D8%AD%D9%85%D8%A7%D8%B3%D9%87%20%D9%85%D8%AC%D9%86%D9%88%D9%86
[4] روزنامه سلام، ش ۷۹۰،7 فروری 1994، ص ۱۱
[5] مجله فرهنگ و سینما، ش ۳۳، سال چهارم، مارچ 1994، ص ۳۲.
[6] مجله گزارش فیلم، ش ۱۱، سال چهارم، بهمن ۱۳۷۲، ص ۱۱۰ و ۱۱۱
