آپریشن والفجر 5

لیلا حیدری باطنی
71 بازدید

آپریشن والفجر 5،  فروری 1984ء کو سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی کمان میں صوبہ ایلام کے چنگولہ سیکٹر میں کیا گیا۔ آپریشن کا مقصد علاقے کی حساس چوٹیوں ، اردگرد کے قصبوں پر قبضہ کرنا اور عراقی سرزمین پر طیب بدرہ کی سٹریٹیجک روڈ کو بلاک کرنا تھا جو کامیاب رہا۔

سال 1984ء میں دشمن نے کوہستانی علاقوں میں لڑائی کی کمزوری کی تلافی کرنے کے لئے رہائشی علاقوں پر حملوں کی شدت بڑھا دی۔ جمہوری اسلامی ایران کے فوجی کمانڈروں نے بھی اپنی فوجی تنظیم کو جنوبی محاذوں سے ملک کے مغرب میں تبدیل کرنے اور جنوب میں عراقی فورسز کے جمع ہونے کو روکنے کا فیصلہ کیا۔یہ طے کیا گیا تھا کہ آپریشن والفجر 4 کے شروع ہونے کے چوبیس گھنٹوں بعد، آپریشن والفجر 5، 17 اکتوبر 1983ء کو شروع کیا جائے گا  تاہم سڑکوں کی کمی، افراد کی فراہمی میں مشکلات اور بعض راستوں کی بندش جیسی مشکلات کی وجہ سے آپریشن والفجر 5 کی انجام دہی کو منسوخ کر دیا گیا۔ فروری 1984ء تک جب عراقی فوج کی جنوبی علاقے سے توجہ ہٹانے اور ملک کے مغربی جانب توجہ مبذول کرانے کے لئے، آپریشن والفجر 5 شروع کیا گیا۔  

والفجر 5 کا آپریشنل علاقہ، مہران میں واقع  چنگولہ سیکٹر، والفجر 3 آپریشن کے سیکٹروں (دہلران کے جنوب میں چزابہ کا آپریشنل علاقہ اور چیلات 1984/02/21) اور العمارہ اور کوت عراقی صوبوں کے درمیان تھا کہ جہاں اُس وقت تک  کوئی آپریشن نہیں کیا گیا تھا۔

آپریشن کے اہم اہداف میں پیزولی، آزاد خان کشتہ، تقی مردہ، کوہ تونل، چغا عسکر، عباس عظیم اور 230 پہاڑیوں کی حساس بلندیوں پر قبضہ کرنا تھا۔ اِس علاقے میں آپریشن انجام دینا اس لحاظ سے اہمیت کا حامل تھا  کہ عراقی فوج بہت بلند چوٹیوں پر قابض ہونے کی وجہ سے برتری رکھتی تھی   اور بہت کم فورس کے ساتھ اُس کی حفاظت کرتی تھی اور  روئیت (Visibility) کے لحاظ سے بہتر پوزیشن میں تھی۔ دوسری طرف بدرہ طیب کی اہم اور سٹریٹیجک روڈ (العمارہ کی طرف جانے والی سڑک)  جو دشمن کی مغرب سے جنوب کی جانب سپلائی لائن تھی، وہ بلاک ہو جاتا۔ یہ سڑک بند ہونے کی صورت میں عراق مجبور ہو جاتا کہ اپنی فورسز کی نقل وحمل کے لئے آپریشنل علاقے سے دور سڑکوں سے استفادہ کرے۔پس کامیابی کی صورت میں، دشمن سازو سامان کے نقل و حمل میں بنیادی مشکل کا شکار ہو جاتا۔ اِسی طرح اِس آپریشن کے انجام دینے سے دشمن کی توجہ اور تمرکز خیبر کے اصلی آپریشن سے جو اِس آپریشن کے چھ دن بعد انجام پانا تھا، ہٹ جاتی  اور عراقی کمانڈر ملک کے جنوب میں ایرانی فورسز کے اکٹھا ہونے کی طرف متوجہ نہ ہو پاتے۔عراق کی جانب سے  رہائشی علاقوں پر حملوں کا جواب دینا بھی  آپریشن کے دیگر اہداف میں سے تھا۔

مہران کے جنوب اور دہلران کے شمال میں آپریشنل علاقہ عراقی فوج کی سیکنڈ کور کے کنٹرول اور کمانڈ میں تھا۔ آپریشنل علاقے کی جاسوسی کا مشن سپاہ کے کمانڈر علی چیت سازیان کی کمان میں 11ویں  امیر المومنینؑ ایلام اور انصار الحسینؑ ہمدان بریگیڈز کی انٹیلی جنس فورسز کو سونپا گیا۔

آپریشن  کو تین سیکٹروں میں ڈیزائن اور ہر سیکٹر  ایک یونٹ کے سپرد کیا گیا۔ پہلے سیکٹر میں  اور دائیں جانب، 28ویں نبی اکرمﷺ کرمانشاہ بریگیڈ  چغاعسکر چوٹیوں پر قبضے کے لئے  مامور تھی۔ دوسرے سیکٹر میں 32ویں انصار الحسینؑ بریگیڈ، نبی اکرمﷺ بریگیڈ سے ملنے کے بعد کوہ تونل ، پیزولی اور تقی مردہ چوٹیوں پر قبضہ کرتی۔ بائیں طرف اور تیسرے سیکٹر میں، 11ویں امیر المومنینؑ بریگیڈ  کی ذمہ داری تھی کہ ایک بٹالین کے سے زعفرانیہ چوٹیوں پر قبضہ کرے۔ اِس کے علاوہ   نجف اشرف کیمپ سے عباس محتاج کی کمان میں آپریشن کی  راہنمائی ہونا تھی۔

آپریشن والفجر 5 ، 16 فروری 1984ء کو نصف شب  بارہ بجے خاتم الانبیاء ﷺ مرکزی کیمپ کی کمان میں ’’یا زہرا یا زہرا یا زہرا‘‘ کے کوڈ سے شروع ہوا۔

آپریشن کا پہلا مرحلہ دو سیکٹروں میں انجام دیا گیا۔ آپریشن کے دائیں طرف، 29ویں نبی اکرمﷺ بریگیڈ کی فورسز ابتداء میں چغاعسکر چوٹیوں پر قبضے میں ناکامی کے باعث عقب نشینی پر مجبور ہوئی۔ آپریشن کے بائیں جانب، چونکہ 11ویں امیر المومنینؑ بریگیڈ کی زیادہ تر فورسز مقامی تھیں، اس لئے علاقے کی گہری شناخت رکھنے کے ساتھ اپنے اہداف پر قبضے کے لئے زیادہ توانائی رکھتی تھیں۔ اِس لئے ابتدائی لمحات میں ہی  مجاہدین بارودی سرنگوں اور نقصان پہنچانے والی رکاوٹوں سے عبور کر کے اور توپخانے کی گولہ باری کی مدد سے پیزولی، آزاد خان کشتہ چوٹیوں، چنگولہ گھاٹی پر قبضہ کر کے ایران کی دسیوں کلومیٹر سرزمین کو آزاد کرانے میں کامیاب ہو گئے اوربدر-طیب روڈ پر قابض ہو گئے۔ اِس لڑائی میں  عراقی بارڈر گارڈ کا چوتھا بریگیڈ تباہ ہو گیا اور قابل ذکر غنیمت حاصل کر لی گئی۔ کوہ تونل بھی 156ویں بٹالین کی فورسز کے ہاتھوں قبضے میں آ گئی۔

آپریشن کے اگلے چند گھنٹوں میں  ایرانی فورسز کے مسلسل حملوں کی وجہ سے  توپخانے کے ہیڈکوارٹر میں مقیم  ایک کمانڈو کمپنی  اور عراقی فوج کی 27ویں بٹالین بھی تباہ کرنے کے علاوہ، تقی مردہ، کوہ تونل چوٹیاں اور شہابی چوکی بھی آزاد ہو گئی۔ دن کے آغاز کے ساتھ عراقی فوج نے  چھ جوابی حملوں سے مقابلہ شروع کیا۔ لیکن ہر جوابی حملے میں بھاری جانی نقصان اٹھانے کے بعد پسپائی اختیار کی۔ ایرانی فورسز نے مارٹر اور نظر رکھنے والی پوزیشنوں کو تباہ کر دیا اور متعدد عراقی  سپاہیوں کو گرفتار کر لیا۔ رات کا آغاز ہوتے ہی ایرانی فورسز نے دریائے بنی خان اور سرخار کو عبور کیا   اور دس دیگر چوٹیوں کو آزاد کروا لیا۔ وہ عین عبد، طارق بن زیاد، الرباغی  چوکیوں اور یک سایہ  اور آل یسین قصبوں اور شیخ احمر دیہات پر قابض ہو گئے۔ مقررہ اہداف تک پہنچنے کے بعد آپریشن کا پہلا مرحلہ ختم ہو گیا۔

آپریشن کا دوسرا مرحلہ دوسری رات 3 بج کر 40 منٹ پر یا زہرا کے کوڈ سے شروع ہوا۔ ایرانی فورسز بغداد بصرہ شاہراہ سے 35 کلومیٹر کے فاصلے پر رکنے   اور اسے گولہ باری کی زد میں لا کر  اس اسٹریٹجک روڈ  پر غلبہ حاصل کر لیا۔ اس کے بعد اس نے دشمن کے جوابی حملوں کو پسپا کر کے اپنی پوزیشن مضبوط کر لی اور توپخانے کی سنگین گولہ باری کی مدد سے عراقی فوج کی نقل و حرکت اور تبدیلی میں خلل پیدا کر دیا۔ اِس مرحلے میں عراقیوں کے 1100 افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔  خطے کی حساس بلندیوں پر ایرانی فورسز  کے قیام اور ان پر مکمل کنٹرول کے ساتھ عراق کی سرزمین کے اندر متعدد علاقے اور رابطہ سڑکیں ، سپلائی بھی کنٹرول میں آ گئیں۔ ایرانی فورسز چوتھی عراقی ماؤنٹین انفنٹری بریگیڈ مکمل تباہ کرنے اور 12ویں عراقی ڈویژن کی 50ویں آرمرڈ بریگیڈ کو پچاس فیصد سے زائد تباہ کرنے  اور عراقی سرزمین پر جدید پوزیشنوں کو حاصل کرنے میں کامیا ب ہو گئیں۔ بالآخر مجاہدین  عراقی فوج کے متعدد یونٹوں کو اس علاقے میں مشغول کرنے میں، اُن کے جنوبی علاقے میں بھیجے جانے  اور خیبر آپریشن میں شرکت سے روکنے  میں کامیاب ہو گئے۔

اِس آپریشن میں 29ویں نبی اکرمﷺ بریگیڈ کے پلاننگ اور آپریشنز کمانڈر سردار مہدی شرع پسند شہید ہو گئے۔

آپریشن والفجر5 میں آزاد ہونے والے علاقوں کا رقبہ 110 مربع کلومیٹر تھا۔ اِس  کے علاوہ چغاعسکر، عباس عظیم کی اہم چوٹیاں، پیر علی ڈیم، چنگولہ گھاٹی اور علاقے کی شمالی چوکیاں اور اِس کےاردگرد کے قصوں پر قبضہ، عراقی طیب بدرہ روڈ پر قبضہ اور دشمن کی پوزیشنوں اور  مورچوں/خندقوں/ٹھکانوں  کی تباہی بھی اِس آپریشن کی کامیابیوں میں شمار ہوتی ہے۔عراقی فوج کے جانی نقصان میں 170 قیدی اور 3600 سے زائد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ دو ہیلی کاپٹر، چالیس سے زائد ٹینک، پرسنل کیریئر (عملے کی گاڑیاں)، دس گولہ بارود کے ڈپو اور متعدد کاریں بھی تباہ ہوئیں۔

والفجر آپریشن کے سلسلے کا والفجر 6 آپریشن، آپریشن والفجر 5 سے تھوڑے فاصلے کے بعد 21 فروری 1984ء کو  خبیر آپریشن سے چند گھنٹے پہلے، دہلران کے جنوب میں انجام پایا۔ اِس آپریشن کابنیادی ہدف دشمن کی جنگی طاقت کے ایک حصے کو تباہ کرنا اور اُسے خیبر آپریشن سے متعلق فریب دینا تھا۔