ابراہیمی خسرو
معصومہ عابدینی
46 بازدید
خسرو ابراہیمی (1953-1986)، دفاع مقدس کے دوران زرہی قزوین کے 16ویں لشکر کی 234 ویں بٹالین کے کمانڈر رہے۔
خسرو ابراہیمی 24 مئی 1953ءکو اردبیل میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد فوجی افسر تھے ۔ اپنے والد کی مختلف جگہ تقرریوں کی وجہ سے آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم مراغہ کے شہر میں، ثانوی تعلیم مشکین شہر میں اور اعلیٰ ثانوی تعلیم مدرسہ جہان علوم اردبیل (جو اس وقت مدرسہ شہید اندرزگو ہے) میں حاصل کی۔ انٹرمیڈیٹ اعلیٰ نمبروں سے پاس کرنے کے بعد آپ نے فوج سے خاص لگاؤکی وجہ سے کیڈٹ کالج تہران میں داخلہ لے لیا۔ تہران اور شیراز میں اپنی تعلیم کے مراحل مکمل کرنے کے بعد آپ فوج میں سیکنڈ لیفٹیننٹ بھرتی ہوئے۔
امام خمینیؒ کی رہبری میں جب عوام کا شاہ کے خلاف احتجاج بڑھا تو ابراہیمی بھی عوام کی صفوں میں آملے اور انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد آپ قزوین آرمرڈ ڈویژن 16 کی 234 ویں بٹالین کےڈپٹی کمانڈر ہو گئے۔
دفاع مقدس کے آغاز یعنی ایران کے خلاف ایران کی جنگ میں اسی بٹالین کی کمانڈ خسرو ابراہیمی کو ملی اور یوں آپ جنگی مورچہ پر روانہ ہوگئے۔
جنگی یونٹ کی بہترین دیکھ بھال اور مینجمنٹ اور ملک کی جنوبی حصہ میں آپریشنز کی درست ہدایت کے سبب آپ کو ترقی دی گئی اور 20 مارچ 1981 ء کو آپ کو ایک سال کی ترقی دے کر ممتاز افسر منتخب کیا گیا۔
خسرو ابراہیمی نے 1982 میں شادی کی اور آپ کو خدا نے ایک بیٹی کی رحمت سے نوازا۔
خسرو ابراہیمی جنگ کے دوران کئی بار شدید زخمی ہوئے۔ لیکن ہر بار صحت یاب ہوتے ہی خود کو جنگی میدانوں میں پہنچا دیا کرتے تھے۔
مختلف آپریشنز میں آپ کی جانبازی اور فدا کاریوں کے سبب آپ کو 23 ستمبر 1985 کو میجر کے عہدہ پر ترقی دی گئی۔
آخرش، 30 اپریل 1986ء کو فکہ کے علاقہ میں آپریشن کے دوران آپ اپنی جیپ میں دشمن کی جانب بڑھ رہے تھے کہ آر پی جی کا ایک میزائل آپ کی جیپ پر آن لگا اور آپ شہید ہوگئے۔[1]
آپ کے جسد خاکی کو اردبیل کے گلزار غریباں قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
[1] دفاع مقدس کے انسائیکلو پیڈیا کے ایک مقالہ کی تلخیص، دائرۃ المعارف دفاع مقدس جلد ۱، ص ۲۷۱، ۲۷۲۔ ناشر مرکز دائرۃ المعارف پژوہشگاہ (ریسرچ سینٹر) علوم و معارف دفاع مقدس۔ بآ بیآ۔ ۲۰۱۱