آپریشن کربلا 1
فاطمه نوروزی
56 بازدید
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے نجف کیمپ نے جمہوری اسلامی ایران کی فوج کے تعاون سے 1986ء میں ملک کے مغربی پہاڑوں، درمیانی اور مہران محاذ اور اِن علاقوں کو آزاد کرانے کے لئے آپریشن کربلا 1 انجام دیا۔
والفجر 8 آپریشن کے خاتمے اور ایرانی افواج کے فاؤ پر قبضے کے بعد عراقی فوج نے موبائل دفاعی حکمت عملی کا استعمال کرتے ہوئے مغربی ایران کے کئی علاقوں پر حملہ کیا۔عراق کا حملہ سلیمانیہ کے شمال اور مشرق سے24 فروری 1986ء کو شروع ہوا اور 17 مئی 1986ء کو مہران پر قبضے کے ساتھ ختم ہوا۔
مہران پر قبضہ ہونے کے بعد سپاہ کا نجف کیمپ علاقے میں داخل ہوا تاکہ ایرانی سرزمین پر عراق کی مزید پیش قدمی کو روکا جا سکے۔ آپریشن کی انٹیلی جنس فورسز نے مہران شہر اور قلاویزان پہاڑیوں پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لئے دشمن کے تمام خطوط کی نشاندہی بھی کی۔
علاقے کے شمال میں ایلام-مہران روڈ اور زرعی کھیت کے سیکٹر میں عراقی فرنٹ لائنیں بہت زیادہ مضبوط اور قلعہ بند تھیں۔ درمیانی سیکٹر دریائے گاوی اور دہلران-مہران سڑک کا درمیانی علاقہ شمال کی نسبت کمزور طاقت کا حامل تھا اور جنوبی سیکٹر، قلاویزان کی پہاڑیوں کا مجموعہ دوسرے دو سیکٹروں کی نسبت کم فورس اور کمزور قلعہ بندی کا حامل تھا۔
آپریشن کی منصوبہ بندی میں تین طریقوں پر غور کیا گیا: پہلا راستہ یہ تھا کہ جنوبی چوٹیوں سے گزر کر قلاویزان پر قبضہ کیا جس سے ایرانی فورسز کے لئے مطلوبہ رینج اور گولی چلانے کا موقع مل جاتا۔ دوسرا راستہ غلامی چوٹیوں اور زرعی کھیت کا تھا جس میں قلاویزان کی چوٹیوں پر لڑائی سےبچ جاتے۔ تیسرا راستہ یہ تھا کہ اِن دونوں کو اکٹھا کر دیا جائے۔ نجف کیمپ نے تیسرے راستے کو زیادہ مناسب سمجھا لیکن فورسز اور وسائل کی کمی سمیت مختلف وجوہات کی بنا پربالآخر پہلا راستہ چنا گیا۔ اِس منصوبے کے مطابق آپریشن کا اصلی سیکٹر جنوب میں یعنی قلاویزان کی پہاڑیوں اور اُس کی چوٹیوں سے دریائے گاوی تک کا علاقہ قرار دیا گیا۔
نجف کیمپ نے چھ ڈویژنوں، پانچ بریگیڈز اورسپاہ کی ایک آزاد بکتر بند بٹالین اور فوج کی 21 ویں حمزہ ڈویژن کی چوتھی بکتر بند بریگیڈ کو شامل کر کے اپنی جنگی تنظیم تشکیل دی۔
فوج کی فضائیہ اور 44ویں آرٹلری گروہ، سپاہ کا 62واں آرٹلری گروہ، سپاہ کی نجف کیمپ کی سازوسامان بٹالین، اسلامی انقلابی گارڈ کور کی 45ویں جواد الائمہ ؑ انجینئر بریگیڈز اور پاسداران انقلاب اسلامی کی 43ویں امام علیؑ بریگیڈز اور تعمیری جہاد کی یونٹس کے ذمہ اِس آپریشن کی مدد فراہم کرنا تھا۔ علاقے میں عراقی جنگی فورس میں 42 پیادہ بٹالینز اور 6 بکتر بند بٹالینز شامل تھیں۔
عراق علاقے کی چوٹیوں پر قبضہ رکھنے کی وجہ سے ایران کی پوزیشنوں پر مکمل نظر رکھتا تھا۔ ایرانی فورسز نےتوپخانے اور گولہ باری سے استفادہ کرتے ہوئے زرعی کھیت اور غلامی پہاڑیوں کے سیکٹر پر حملہ کرنے کا ڈرامہ کیا جس سے دشمن دھوکہ کھا گیا۔
آپریشن کو تین مراحل میں ڈیزائن کیا گیا تھا: پہلا مرحلہ قلاویزان پہاڑیوں کو سید حسن گاؤں تک محفوظ بنانا تھا۔ دوسرا مرحلے میں حمرین پہاڑ اور تباہ شدہ میگ طیارے کے نام سے موسوم گھاٹی اور اس کے آس پاس کا علاقے شامل تھے۔ تیسرا مرحلہ فرخ آباد گاؤں سے 223 چوٹی تک جاری رہنا تھا۔
آپریشن کربلا 1 ، 30 جون 1986ء کو رات ساڑھے گیارہ بجے یا ابا الفضل العباس مدد کے کوڈ سے شروع ہوا۔آپریشن کے آغاز سے ایک دن پہلے علی بن ابیطالب ؑ ڈویژن کی دو بٹالین نے قلاویزان کی پہاڑیوں کے گِرد چکر کاٹنے کے لئے حرکت شروع کی اور 30 جون کی صبح دشمن کے ٹھکانوں کے پیچھے جا کر ٹھہر گئیں۔ ایرانی فوج کی تیز رفتار پیش قدمی کے باعث آپریشن کے مراحل کو بڑھا کر پانچ مراحل تک کر دیا گیا۔
پہلے مرحلے میں دشمن کی فورسز کو بے خبر رکھنے کے سبب ایرانی فورسز نے بہت تیزی کے ساتھ پیش قدمی کر لی۔ پہلے دن عصر تک قلاویزان کے مشرقی حصے کی فتح کے ساتھ، حمرین پہاڑیوں کی چوٹیوں ، آبزیادی روڈ اور سید حسن گاؤں وغیرہ سمیت کئی علاقے آزادہو گئے۔ اسی طرح اُس دن علاقے میں پہنچنے والی پہلی عراقی کمانڈو بریگیڈ بھی تباہ ہو گئی۔
دوسرے مرحلے میں 21ویں امام رضاؑؑ بریگیڈ کی فورسز مہران شہر کا محاصرہ کرنے اور آپریشن کے دوسرے روز ظہر کے قریب شہر کو آزاد کروانے میں کامیاب ہو گئیں۔ اِسی طرح فرخ آباد، قلعہ کہنہ، رستم آباد چوکی، قلاویزان کی چوٹیاں اور نالوں سمیت کئی دوسرے اہم علاقوں کی آزادی نے تیسرے مرحلے کے مقدمات فراہم کر دئیے۔
تیسرے مرحلے میں مطلوبہ اہداف یعنی فیروزآباد گاؤں اور قلاویزان پہاڑیاں بھی تسلسل کے ساتھ آزاد کرا لی گئیں۔
چوتھے مرحلے کا آغاز 4 جولائی جمعہ کے دن قلاویزان کی پہاڑیوں میں عراقی جوابی حملے سے ہوا جسے ایرانی مجاہدین کی مزاحمت کی وجہ سے شکست ہوئی۔ اِس کے بعد 10ویں سید الشہداء ؑ ڈویژن نے 210 چوٹی کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لیا۔ آپریشن کے اس مرحلے میں، سید محمد رضا دستوارہ، 27ویں محمد رسول اللہﷺ ڈویژن کے ڈپٹی کمانڈر شہید ہو گئے۔
پانچویں مرحلے کا آغاز 6 جولائی کی صبح 10 ویں سید الشہداء ؑ ڈویژن اور 27ویں محمد رسول اللہﷺ ڈویژن نے 223 کی مرکزی چوٹی اور اِس کے آس پاس کی چوٹیوں پر قبضہ کرنے کے ہدف سے کیا۔ آخر کار 17ویں آرمرڈ ڈویژن کا ٹیکٹیکل کیمپ اور دشمن کے 10ویں ڈویژن کے 24ویں میکانائزڈ بریگیڈ کا ٹیکٹیکل کیمپ تباہ ہو گیا اور بریگیڈ کمانڈر سمیت کئی افراد پکڑ لئے گئے۔
دس دن کے بعد 10 جولائی 1986ء کو آپریشن کربلا 1 مکمل فتح کے ساتھ ختم ہوا۔ اِس جنگ میں تمام اہداف جو آپریشنل منصوبہ بندی میں بیان کیے گئے تھے اور حتیٰ اُن سے بھی زیادہ حاصل کر لئے گئے اور 175 مربع کلومیٹر سے زیادہ ایرانی سرزمین بشمول قلاویزان اور حمرین کی چوٹیاں، دو سرحدی چوکیاں، ایلام-مہران-دہلران کی اہم ترین شاہراہ، مہران شہر اور اِس کے دیہات آزاد کرا لئے گئے۔ اس کے علاوہ ایرانی فورسز عراقی شہروں زرباطیہ اور بدرہ پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ اس آپریشن میں عراق کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا، جس میں دس ہزار ہلاک اور زخمی اور 1210 قیدی، 110 ٹینک اور عملہ بردار اور دوسری گاڑیاں تباہ جبکہ 69 ٹینک اور عملہ بردار گاڑیوں، 8 انجینئرنگ مشینیں، سازوسامان پر مشتمل 61 آئٹمز اور 64 گاڑیاں غنیمت میں حاصل کر لی گئیں۔اِسی طرح اس آپریشن میں ایرانی فورسز کے 1089 افراد شہید اور 4275 افراد زخمی ہوئے۔
مہران کی آزادی کا مطلب عراق کی موبائل دفاعی حکمت عملی کی ناکامی تھا۔اِس شکست کا ردعمل بڑے پیمانے پر دنیا کے ذرائع ابلاغ میں آیا اس طرح کہ اِس شکست کو اُنہوں نے عراق کی شکست کی علامت سمجھا اور اِس کے نفسیاتی اثرات پر زور دیا گیا۔