جشن حنابندان

محمد حسین قدمی
17 بازدید

کتاب "جشن حنابندان" مقدس دفاع (ایران عراق جنگ) کے فوٹوگرافر اور نامہ نگار محمدحسین قدمی کی بیت المقدس 4 اور کربلائے 5 کارروائیوں کے دوران کی گئی روزانہ اور تصویری ڈائریوں پر مشتمل ہے۔

یہ کتاب پہلی بار 1989 میں 251 صفحات اور 6600 کاپیوں میں، علی وزیریان کے ڈیزائن کردہ سرورق کے ساتھ، حوزہ هنری سازمان تبلیغات اسلامی نے شائع کی۔ کتاب کا عنوان، جنگی زمانے میں آپریشن والی  راتوں میں منعقد ہونے والی ایک تقریب اور ان راتوں میں مجاہدین کے جذبات و کیفیات سے ماخوذ ہے۔ آپریشن کی رات، وہ شہادت اور محبوب (خدا) سے وصال کی آرزو میں ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے، ایک دوسرے سے معافی مانگ رہے تھے، شفاعت کا وعدہ لے رہے تھے اورجیسے شادی کی رات  مہندی لگائی جاتی ہے اس  طرح مہندی  (حنا)  لگا رہے تھے اور اس کیفیت میں خوشی خوشی "جشن حنابندان" منا رہے تھے۔

کتاب "جشن حنابندان" لشکر 27 محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی بٹالین حبیب اور بٹالین حمزه کے مجاہدین کی دو کارروائیوں کے دو رپورٹوں  پر مشتمل ہے۔ مصنف اس کتاب میں محاذ پر رجسٹریشن اور روانگی، بیرکوں میں تیاری اور تربیت، دیگر ساتھی مجاہدین  سے تعارف، کیمپ کے دنوں اور راتوں کے الگ الگ پروگرامز کی وضاحت، اسکول کے بچوں کے مجاہدین کے نام خطوط، خط مقدم  پر جانے کی بے چینی، مجاہدین کے جذبات اور اخلاقی فضائل، شلمچہ کے علاقے میں آپریشن کربلائے 5 کا آغاز، حلبچہ اور آپریشن بیت المقدس 4 کے علاقے میں  کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کا واقعہ اور پھر اپنے زخمی ہونے اور ساتھیوں کی شہادت کا احوال بیان کرتے ہیں۔

پہلی رپورٹ ایک ایسے مصنف کی ڈائری ہے جسے سید مرتضی آوینی اور مہدی فلاحت پور (روایت فتح کے تجربہ کار کیمرہ مینوں میں سے ایک) کی دعوت پر "راویان فتح" کے گروپ کے ساتھ محاذ جنگ کے تلخ و شیرین واقعات کو تصویر میں تبدیل کرنے کے لیے شامل کیا جاتا ہے۔ اس سفر کی دستاویزی فلم چار اقساط پر مشتمل "دسته ایمان" کے نام سے جمہوری اسلامی ایران کے ٹی وی سے نشر ہو چکی ہے۔

مصنف، لشکر کے کمانڈروں سے تحقیق اور مشورے کے بعد ایک آپریشنل اور محاذ شکن دستہ منتخب کرتا ہے، لیکن افسوس کہ معاملہ اس کے برعکس ہو جاتا ہے۔ لشکر کی تمام بٹالینز محاذ پر پہنچ کر  آپریشن میں شامل ہو جاتی ہیں، اور یہ دستہ  کسمپرسی کے عالم میں محروم رہ جاتا ہے! تین چار مہینے پہاڑوں، وادیوں اور میدانوں میں بھٹکنے کے بعد گروپ تھکا ہارا اور بیزار ہو کر محاذ چھوڑنے کا ارادہ کرتا ہے، لیکن واپسی کے وقت، ناامیدی کے آخری لمحات میں اچانک صورتحال بدل جاتی ہے اور ایک غیر متوقع اور معجزاتی طریقے سے کارروائی شروع ہو جاتی ہے اور مجاہدین  اپنی دلی تمنا پا لیتے ہیں۔

یہ رپورٹ حلبچہ اور شاخ شمیران کی چوٹیوں  پر کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے ساتھ ختم ہوتی ہے، کیونکہ گولہ باری کے نتیجےمیں مصنف اور کیمرہ مین  کے زخمی ہونے پر دونوں کے راستے جدا ہو جاتے ہیں اور وہ دونوں ہسپتال پہنچا دیے جاتے ہیں۔

دوسری رپورٹ لشکر 27 محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے ایک دوسرے دستہ  سے متعلق قدمی کے ہاتھ کے لکھے ہوئے صفحات ہیں جن میں تصاویر بھی شامل ہیں ہیں۔ یہ رپورٹ تہران میں واقع "مقداد چھاونی" سے شروع ہوتی ہے اور آپریشن کربلائے 5 میں سه راه شهادت کے محور پر ہونے والے جوابی حملوں  اور کچھ ساتھیوں کی شہادت پر ختم ہوتی ہے۔ مصنف، جو دستہ کا ایک آزاد فوجی ( آزاد سپاہی) ہے، تمام ابتدائی مراحل، فوجی تربیت اور جسمانی ورزش میں دیگر مجاہدین کے شانہ بشانہ موجود رہتا ہے اور اپنے ہتھیار (کیمرہ اور قلم) سے زندگی اور جنگ کے لمحات کو قید کرتا ہے۔

رہبر  معظم اسلامی انقلاب نے 26 جنوری 1992  کو اس کتاب پر لکھے گئے اپنی تقریظ (حاشیہ نگاری) میں فرمایا ہے:

"کچھ دن اور راتیں،سونے سے پہلے اس کتاب کے مطالعے کے دوران میں نے، ایک خوشبو اور پاکیزگی اور اس طراوت کی معراج میں ،جو اس کتاب کے نورانی سطور و کلمات اپنے قاری کو عطا کرتے ہیں،  میں نے  ان سطور کی سیر کی اور خدا کا شکر ادا کیا؛ شکر  اس قطرہ عشق پر بھی جو اس مصنف کو عطا ہوا اور اس کے قلم کو  اس طرح کی شفاف فکر اور ذوق نصیب ہوا، اور شکر اس طاقتور ہاتھ پر بھی جس نے ہم عصر تاریخ کے صفحے پر ایسےمنفرد اور بے مثال نقش و نگار بنائے اور ان مناظر کو جو اس دور کے انسان کے ذہن و چشم کے لیے افسانہ معلوم ہوتے ہیں، ایران کی اس قوم کی نسل کی زندگی کی حقیقت میں ثبت کیا... الحمدللہ حمد الحامدین ابد الآبدین ۔

اکثر فضیلتیں جنہوں نے انسان کی تاریخ کو حسن عطا کیا ہے اور انسانوں کے لیے مشعل راہ بنی ہیں، کسی ایک یا چند انسانوں کی زندگی کے ایک ثمر بخش لمحے کا نتیجہ ہیں۔ صبر، زہد، پرہیز، درگزر، بہادری، سچائی، ایثار اور وہ تمام انسانی فضیلتیں جو ہم اس کی تاریخ میں دیکھتے ہیں، اسی قسم کی ہیں۔ ایران کی قوم کے آٹھ سالہ  حماسہ دفاع مقدس کے  ہر شب و روز  میں ہزاروں ثمر بخش لمحات پنہاں ہیں، اور جوکوئی بھی فن کی نظر سے انہیں دیکھے اور فن کے قلم سے انہیں ثبت کرے، اور ان سب سے پہلے، جس نے خدا کی توفیق سے ان تمام چیزوں تک رسائی حاصل کی ہو، اس نے انسانی معراج کے مسافروں کی مشعل کو روشنی اور تابندگی بخشی ہے، اور یہ کتاب اور اس کا مصنف انہیں میں سے ہے۔"[1]

 

[1] خامنه‌ای،‌ سیدعلی، من و کتاب، تهران: سوره مهر، چ دوم، 2007، ص96.