حملہ بہ ایچ 3
مریم لطیفی
16 بازدید
فیچر فلم "حملہ بر ایچ 3" شہریار بحرانی کی سن 1995 میں بنائی ہوئی فلم ہے جو عراق میں واقع الولید کے تینوں ہوائی اڈوں یا ایچ 3 کے خلاف جمہوری اسلامی ایران کی فضائیہ کے آپریشن اور ان اڈوں پر موجود طیاروں اور سازوسامان کے ایک بڑے حصے کو تباہ کرنے کی منظر کشی کرتی ہے۔
147 منٹ کی یہ فلم حوزه هنری سازمان تبلیغات اسلامی نے بنائی۔ اس فلم کے عناصر میں شامل ہیں:
اداکار: جعفر دهقان، فرامرز شهنی، حسن عباسی، حسین یاری، سعید خوشدل، عطاءاللہ مرادی، حبیب اللہ حداد، محمد کاسبی اور دیگر؛
اسکرپٹ رائٹر شہریار بحرانی اور سید ناصر ہاشمی، اسکرپٹ کے فوجی مشیر محمدحسین نیکوکار، سیکرٹری صحنه تورج عطاری، بیک گراؤنڈ فوٹوگرافی و فلم برداری کے انچارج حافظ احمدی، چهره پرداز فریدون کشن فلاح، سین ڈیزائنر حمید قدیریان، اسپیشل افیکٹس کے انچارج جواد شریفی، ساؤنڈ انچارج اسحاق خانزادی، ہدایتکار کے پہلے معاون اور پروگرامر مجتبی فرآورده، ہدایتکار کے دوسرے معاون مهران برومند، ایڈیٹر حسین زندباف، موسیقی متن کے کمپوزر مجید انتظامی، ویڈیو ریکارڈنگ انچارج رسول احدی اور پروڈکشن مینیجر روح اللہ برادری۔
بریگیڈیر منصور ستاری، اس وقت کی فضائیہ کے کمانڈر، نے شہریار بحرانی کی بنائی ہوئی فلم "گزرگاہ" دیکھنے کے بعد ان سے درخواست کی کہ وہ الولید پر فضائی حملے کے موضوع پر ایک فلم بنائیں۔ اس طرح، شہریار بحرانی نے بریگیڈیئر منصور ستاری کے مشورے اور مدد سے سینمائی فلم "حملہ بہ ایچ-3" بنائی۔[1]
فلم کی کہانی اس طرح ہے کہ 11 جنوری 1981 کو بغداد میں عراقی فضائیہ کے کمانڈر انٹیلی جنس و آپریشنز (محمد کاسبی) کی موجودگی میں ایک میٹنگ بلائی جاتی ہے۔ اس میٹنگ میں، اڈوں پر بمباری میں متعدد عراقی طیاروں کے تباہ ہونے اور آئندہ آپریشنز میں ان کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ طیاروں کو ایچ-3 اڈوں پر جو کہ الولید کے علاقے میں اردن کی سرحد کے قریب واقع ہیں، منتقل کیا جائے۔ یہ کام بہت تیزی سے کیا جاتا ہے اور عراقی طیارے 19 جنوری تک ایچ-3 اڈوں پر منتقل ہو جاتے ہیں۔
جب یہ اطلاعات ایران پہنچتی ہیں تو4 فروری کو تہران میں فضائیہ کے ہیڈ کوارٹر میں ایک میٹنگ بلائی جاتی ہے۔ اس میٹنگ میں، فضائیہ کے کمانڈر (عطاءاللہ مرادی) حاضر افسران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان اڈوں پر حملے کی منصوبہ بندی کریں تاکہ آبادان کے محاصرے کو توڑنے اور خرمشهر کو آزاد کرانے کے لیے عراقی فوجوں پر ایران کے حملے کی صورت میں، عراق اپنی فضائیہ کا استعمال ایرانی افواج کے خلاف نہ کر سکے۔ ابتدا میں ایسا آپریشن ناممکن نظر آتا ہے، لیکن افسر هوشیار (سعید قائمی) فضائیہ کے کمانڈر سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ فضائیہ کے خفیہ منصوبوں کے دفتر کو اس سلسلے میں مطالعہ کرنے کا پابند کریں۔ اس دفتر کا خصوصی سیکشن بھی مختلف منصوبوں کا جائزہ لینے کے بعد اعلان کرتا ہے کہ فی الحال اس آپریشن کی کوئی امکان نہیں ہے۔
لیکن کرنل ستایش (فرامرز شهنی) جو دفتر خفیہ منصوبوں کے افسران میں سے ہیں، اپنا مطالعہ جاری رکھتے ہیں اور ایچ-3 پر فضائی حملے کا منصوبہ پیش کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ وہ ایک میٹنگ میں منصوبے کی تفصیلات فضائیہ کے کمانڈر اور کرنل هوشیار کو سمجھاتے ہیں لیکن فضائیہ کے کمانڈر سے درخواست کرتے ہیں کہ اگلی میٹنگ میں وہ منصوبے کی ناکامی کا اعلان کریں تاکہ معاملہ مکمل طور پر خفیہ رہے۔ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ منصوبے پر عملدرآمد کرنے والوں کو مکمل اختیار دیا جائے تاکہ وہ ماہر پائلٹوں کو اپنے ساتھ رکھ سکیں۔ میجر سلیم پور (جعفر دهقان) کو فلائٹ سکواڈرن کے کمانڈر کے طور پر منتخب کیا جاتا ہے اور انہیں مشن کی بریفنگ دیئے جانے کے بعد، منصوبہ عملی مرحلے میں داخل ہو جاتا ہے۔
پائلٹوں کی بریفنگ اور طیاروں کو مسلح کرنے کے بعد،4 اپریل 1981 کو آٹھ F-4 فینٹم طیارے ہمدان ایئر بیس سے اس مشن کے لئے اڑان بھرتے ہیں اور ارومیہ جھیل پر ایئر ری فیولنگ کرتے ہوئے عراقی سرحد میں داخل ہو جاتے ہیں۔ وہ عراق اور ترکی کی سرحدی پٹی پر ایک بار پھر ایئر ری فیولنگ کرتے ہیں اور اپنے اہداف کی طرف سفر جاری ہیں۔ اسی دوران دو F-5 طیارے ایک گمراہ کن آپریشن میں کرکوک ریفائنری پر حملہ کرتے ہیں اور بمباری کے بعد واپس آ جاتے ہیں۔ ایچ-3 اڈوں کے قریب پہنچنے کے بعد آٹھوں فینٹم طیارے تین گروپوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں اور ہر گروپ ایک اڈے کو نشانہ بناتا ہے۔
ایک فینٹم طیارہ جس کا نام الوند 4 ہے، آپریشن کے دوران فائرنگ کی زد میں آ جاتا ہے اور وطن واپسی کے لیے ایئر ری فیولنگ کرنے کے قابل نہیں رہتا، فلائٹ کمانڈر کی ہدایت پر، وہ ایک سرحدی شہر کے قریب سڑک پر لینڈنگ کر جاتا ہے۔ باقی فینٹم طیارے بحفاظت وطن واپس آ جاتے ہیں۔
فلم "حملہ بہ ایچ-3" سن 1995 میں ریلیز ہوئی اور اس کا ٹکٹ 800 ریال تھا۔ اس فلم نے 950,410 ناظرین کے ساتھ سب سے زیادہ ناظرین کی فہرست میں تیرہویں اور 759,218,200 ریال کی فروخت کے ساتھ اس سال کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی فلموں کی فہرست میں دسویں پوزیشن حاصل کی۔[2]
یہ فلم سینما گھروں میں ریلیز ہونے کے بعد، اب تک جمہوری اسلامی ایران کے مختلف ٹی وی چینلز پر کئی بار دکھائی جا چکی ہے۔ 22 ستمبر 2021 کو دفاع مقدس ہفتہ کے آغاز کے موقع پر، فلم کی موسیقی متن کو ایک آزاد البم کی شکل میں سامعین کے لیے تیار کرایا گیا۔[3]
فلم "حملہ بہ ایچ-3" نے تیرہویں فجر فلم فیسٹیول میں بہترین فلم کے لیے "ڈپلومہ افتخار" اور بہترین تدوین کے لیے "کرسٹل سیمرغ" کا ایوارڈ حاصل کیا۔[4] چھٹے دفاع مقدس فلم فیسٹیول میں بھی اس نے جنگی فلموں کے زمرے میں صداگذاری، تدوین اور پروڈکشن کے شعبوں میں "کرسٹل پلاک" جیتا۔[5]
متعدد رپورٹس اور مضامین میں اس فلم کے مختلف پہلوؤں پر بحث کی گئی ہے۔ "تئاتر: معضلات ریشہ دار" ( یعنی تھیٹر: عمیق مشکلات) کے عنوان سے ایک رپورٹ میں، "حملہ بہ ایچ-3" کو ایک مربوط اور مضبوط فلم قرار دیا گیا ہے۔[6] شاپور عظیمی نے "آینہ ھای رو برو" (یعنی "آمنے سامنے آئینے")کے عنوان سے ایک مضمون میں اس فلم کو دفاع و انقلاب کے دین محوری اور شاہکار کا مظاہرہ قرار دیا ہے، بغیر اس کے کہ ان میں جمالیاتی لحاظ سے کوئی نئی ایجاد ہو۔[7]
سعید مستغاثی نے مضمون "انقلاب کے بعد کی سنیما میں صنف کا ارتقاء" میں لکھا ہے: یہ پہلی جنگی ایکشن فلم ہے جس نے حقیقی جنگ اور فضائی بمباری کے مناظر سے فائدہ اٹھایا ہے۔ اس فلم کی کامیابی کی وجہ سے جمال شورجه نے بھی اسی ساخت کے ساتھ اور اس کے بعض مناظر کو استعمال کرتے ہوئے "دایرہ سرخ" فلم بنائی۔[8]
مضمون "سن 1981 سے 2007 تک دفاع مقدس کی سنیما میں قربانی کے اثرات کے محتوا و متن کا تجزیہ" میں اس فلم میں قربانی کے مظاہرے کا جائزہ لیا گیا ہے [9]اور مضمون "دفاع مقدس کی سنیما میں عراقیوں کی تصویر" میں اس فلم میں عراقی فوجیوں کی نمائش[10] پر بحث کی گئی ہے۔
فلم "حملہ بہ ایچ-3" بنانے والے افراد نے مختلف انٹرویوز میں اس سلسلے میں اپنے تجربات بیان کیے ہیں۔ شہریار بحرانی نے شہید منصور ستاری کی اس فلم کی تخلیق میں کردار، ان کی مدد اور اس کی پروڈکشن کی مشکلات کو بیان کیا۔[11] جعفر دهقان نے بھی ایک انٹرویو میں اس فلم میں اپنے اداکاری کے تجربات، اس کی تخلیق کی مشکلات، شہریار بحرانی کی کامیاب ہدایتکاری، اور منصور ستاری کے تخلیق کردار پر روشنی ڈالی۔[12]
[1] مهرنیا، احمد، حمله هوایی به الولید (اچ-3)، تهران، سوره مهر، چ دوم، 2011، ص 16؛
https://www.tasnimnews.com/fa/news/1399/07/18/2365056
[2] فتحی، زهره و پانتهآ خاموشی اصفهانی، سالنامه آماری سینمای ایران سال 1995، تهران، معاونت توسعه فناوری و مطالعات سینمایی، 2017، ص 7، ص 21
[3] روزنامه جام جم، ش 6040، 23 ستمبر 2021، ص 9
[4] نقد سینما، ش 29، جنوری 2002، ص 15، http://www.sourehcinema.com/Festival/AwardsOfFestival.aspx?FestId=138112170002
[5] نشریہ رسانہ، ش27، خزاں 1996، ص 126
[6] نشریه کیهان فرهنگی، ش 125، جنوری فروری 1996، ص 68
[7] عظیمی، شاپور، «آینههای روبهرو (مخاطب و فیلمساز در سینمای ایران)»، فارابی، ش 37، جولائی 2001، ص 92
[8] مستغاثی، سعید، «تحول ژانر در سینمای پس از انقلاب»، فارابی، ش 42 و 43، خزاں و سرما 2002، ص 57.
[9] بخشی، حامد و زهرا بستان، «تحلیل محتوای جلوههای ایثار در سینمای دفاع مقدس طی سالهای 1360 تا 1386(1982 تا 2008)»، مطالعات ملی، ش 57، بہار 2015، ص 58، 70، 72
[10] - گیویان، عبدالله و زهره توکلی، «تصویر عراقیها در سینمای دفاع مقدس»، تحقیقات فرهنگی ایران، ش 14، موسم گرما 2012، ص 96، 98، 106
[11] https://www.tasnimnews.com/fa/news/1399/07/18/2365056 .
[12] https://iqna.ir/fa/news/977849
