آبادان ریفائنری

انسیه‌سادات میربابایی
53 بازدید

آبادان ریفائنری سو سالہ تاریخ کے ساتھ( 1912ء میں قائم ہوئی) ایران کی سب سے بڑی ریفائنری ہے۔ عراق کی طرف سے ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ میں اس ریفائنری کو بہت زیادہ نقصان پہنچا۔ لیکن جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی ستمبر 1988ء  سے مارچ 1989ء کے دوران  بہت سے تباہ شدہ یونٹوں کو غیر ملکی افراد  سے استفادہ  کیے بغیر دوبارہ فعال کر دیا گیا۔

آبادان ریفائنری 1908ء  میں مسجد سلیمان کے نواحی علاقے میں تیل کی دریافت اور جنوبی ایران میں برطانوی اثر و رسوخ کے ساتھ تعمیر کی گئی تھی۔ اینڈریوکیمپل، جو ہندوستان میں برما آئل کمپنی کے سی ای او تھے، کو ریفائنری کی جگہ کا انتخاب کرنے کے لیے چنا گیا۔ ریفائنری کی تعمیر کے لیےدریائے  اروند کے قریب آبادان کے علاقے بواردہ میں جگہ کا انتخاب کیا گیا اور خرمشہر کے حکمران شیخ خزعل نے1909ء میں ایرانی برطانوی کمپنی کو 99 سال کے معاہدے کے ساتھ مطلوبہ زمین فراہم کی۔

آبادان ریفائنری نے 1912ء  میں کام کرنا شروع کیا، جس میں یومیہ 2500 بیرل تیل پیدا کرنے کی صلاحیت تھی۔ اس کی پہلی تیل کی کھیپ انگلینڈ برآمد کی گئی۔سال 1914ء اور پہلی جنگ عظیم میں یہ ریفائنری جنگی کارروائیوں کے لیے ایندھن فراہم کرنے کا  اہم ذریعہ تھی اور  یہی وجہ بنی کہ انگریزوں نے ا،س ریفائنری کو وسعت دی۔ سال 1939ء میں دوسری جنگ عظیم کے دوران اتحادی طیاروں کے لیے یومیہ 25000 بیرل پٹرول کی پیداوار کی وجہ سے آبادان ریفائنری دنیا بھر  میں مشہور ہو گئی۔

1950ء میں تیل کی صنعت کو قومیانے اور 1951ء  میں انگریزوں کے جانے کے بعد اس ریفائنری کی دیکھ بھال ریفائنری میں کام کرنے والے ملازمین کے سپرد کر دی گئی۔ 1973ء میں ریفائنری کا انتظام اور کنٹرول ایران آئل کمپنی کے زیر نگرانی آ گیا اور ڈاکٹر رضا فلاح آبادان ریفائنری کے پہلے ایرانی سربراہ تھے۔

اکتوبر، نومبر 1978ء میں اسلامی انقلاب کے عروج کے ساتھ ہی تیل کی صنعت کی ملک گیر ہڑتال کے بعد آبادان ریفائنری کے کارکنان نے بھی ہڑتال کر دی۔ اس طرح کہ ریفائنری کی پیداوار چھ لاکھ بیرل یومیہ سے کم ہو کر ایک لاکھ پچاس ہزار بیرل رہ گئی۔ ملک میں ایندھن کی کمی کے باعث آئل انڈسٹری کے کارکنوں کی آرگنائزنگ کمیٹی نے آبادان ریفائنری سمیت کئی ریفائنریوں میں ہڑتال سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا۔ ملک گیر ہڑتال بھی 17 فروری 1979ء  کو امام خمینیؒ کے حکم سے ختم ہو گئی۔

22 ستمبر 1980ء کو عراق کی طرف سے ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی ریفائنری کا نظام درہم برہم ہو گیا  اور ریفائنری سے افرادی قوت کے انخلاء کے ساتھ ہی ریفائنری کے  مرکزی  ہیڈکوارٹر سمیت بجلی کا ہیڈکوارٹر (خوزستان میں بجلی کی فراہمی)، ایندھن کا ہیڈکوارٹر (جنگی گاڑیوں کو پٹرول کی فراہمی اورمحفوظ جگہوں پر ایندھن کی سٹوریج)، انجینئرنگ ہیڈ کوارٹر (سرکلر مورچوں، فولڈنگ اسٹریچر، گھاٹ اور بیرل پل کی تعمیر)، ریفائنری کی مرمت کا ہیڈکوارٹر (جزیرہ  آبادان سے نکلنے کے واحد راستے سٹیشن سات کے پل کی متعدد بار مرمت جو زخمیوں، شہداء اور مجاہدین کو  شہر سے باہر لے جانے کے لئے استعمال ہوتا تھا)، ٹرانسپورٹیشن ہیڈ کوارٹر (جنگ میں شامل یونٹوں کی نقل و حمل اور مرمت)، ٹیلی کمیونیکیشن ہیڈ کوارٹر (ٹیلی کمیونیکیشن کی ضروریات پوری کرنے کےلئے) اور اُن جگہوں پر لاجسٹک دفاتر جو تیل کمپنی سے مربوط  تھے، بنا دئیے گئے۔

سب سے پہلے ملازمین نے  تمام مشینوں کو تیل کے مواد سے خالی کر دیا اور خود ریفائنری کی حفاظت سنبھال لی۔ ریفائنری کے گوداموں سے بنیادی سامان بھی نکال کر ماہشہر اور آغاجری منتقل کر دیا گیا۔ اس کام میں نو ماہ لگے۔

مسلط کردہ جنگ کے آغاز کے پہلے دن ہی ریفائنری اور اس کے گیٹ (گیٹ نمبر 18 کے علاوہ) مکمل طور پر بند کر دیے گئے اور ریفائنری کو مجبوراً بند کر دیا گیا۔

آبادان ریفائنری ایرانی تیل کی پہلی تنصیب تھی جسے عراقی توپ خانے نے24 ستمبر 1980ء کو دن گیارہ بجے نشانہ بنایا اور اس کی تقریباً ایک چوتھائی تنصیبات تباہ ہوگئیں۔ تیل کے مواد (بیٹومین بیرل) کو آگ لگنے کے بعد شہر کی فضا تاریک اور آلودہ ہوگئی اور یہ کیفیت کئی ماہ  یونہی جاری رہی ۔

جنگ کے دوران، آبادان ریفائنری خوزستان کے جنوبی محاذ کے لیے لاجسٹک  کی نگاہ سے رسد، امداد (نقل و حمل اور فوجیوں کو درکار جگہوں کی فراہمی) اور افرادی قوت فراہم کرنے کا قلعہ تھی۔

ریفائنریوں میں سب سے زیادہ عراقی حملے آبادان ریفائنری پر ہوئے، جہاں 23 یونٹس (کشید کرنے والا یونٹ، پینے کے پانی کی صفائی کا پلانٹ، گھاٹ، پمپ ہاؤس وغیرہ) مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔

جنگ کے دوران، منصور رہنورد، محمد پاکنیا، حسین علی مسیمر اور حسن دریس بالترتیب ریفائنری کے انتظام کے انچارج رہے۔

مسلط کردہ جنگ کے آغاز سے آبادان ریفائنری پر آخری عراقی حملے 4 جون 1988ء تک، آبادان ریفائنری کے 292 ملازمین شہید ہو ئے۔

جنگ میں تباہ ہونے والے بہت سے یونٹوں کو ستمبر  1988ء سے مارچ 1989ء  تک  غیر ملکی افراد  سے استفادہ  کے بغیر دوبارہ تعمیر کر لیا گیا۔ ریفائنری کے ترقیاتی منصوبے میں تین فیز  شامل تھے جن میں  پہلے فیز  کا افتتاح (کشید کرنے والا یونٹ 85) آیت اللہ خامنہ ای کے ہاتھوں 1 اپریل 1989ء کو ہوا  اور تیل کی پیداوار میں شامل ہو گیا اور جو مائع گیس، پٹرول اور مٹی کے تیل جیسی مصنوعات تیار کرتا ہے۔ دوسرا فیز ریفائنری کے ذریعہ تیار کردہ مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانا تھا اور تیسرے فیز میں کیٹ کریکر کمپلیکس کی تعمیر اور تیزاب  یونٹ کی تعمیر نو کرنا شامل تھی۔

آبادان ریفائنری کا زون 3، 2006ء یورو 4، یورو 5 پیٹرول  اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات پیدا کرنے کے ہدف سے بنایا گیا  اور سال 2011ء میں اس سے  45,000 بیرل تیل پیدا کرنے کی صلاحیت پیدا کرلی گئی ۔ یوں یہ بھی  پروڈکشن لائن میں شامل ہو گیا۔

یہ ریفائنری فی الحال مائع گیس، گاڑیوں کے لئے پیٹرول، مٹی کا تیل، جیٹ فیول، سلفر، فیول آئل وغیرہ جیسی مصنوعات تیار کرتی ہے۔