مروارید آپریشن

محمدعلی عباسی اقدم، نرگس کرمی
43 بازدید

آپریشن مروارید فضائیہ کی شرکت اور تعاون سے اسلامی جمہوریہ ایران کی بحری فوج  کےکامیاب  آپریشنوں میں سے ایک تھا جو 28 نومبر 1980ء کو ام القصر بندرگاہ اور عراقی تیل کے دو اہم سٹیشنز  دریائے اروند کے ساحل پر البکر اور الامیہ پر بمباری کے ہدف سے انجام دیا گیا۔ یہ آپریشن  اِن دو آپریشنز اشکان اور شہید صفری کی تکمیل کے لئے کیا گیا جنہیں ایرانی بحریہ نے اِنہی اہداف کے لئے اکتوبر نومبر میں انجام دیا تھا۔ اِس آپریشن کی کامیابی کی وجہ سے ہی  28 نومبر کو یوم بحریہ کا نام دیا گیا ہے۔

ستمبر 1980ء کے دوسرے ہفتے میں ایران کے خلاف عراق کی جنگ کے باضابطہ آغاز کے بعد عراق نے اپنے مقاصد کے حصول کےلئے طے کر لیا کہ ایران کی تزویراتی بنیادوں کو خطرے کی زد میں لائے۔ ایران کے اقتصادی مراکز اور تیل کی برآمد کو تباہ کرنا اُن میں سے ایک تھا۔ جنگ کے آغاز میں ایرانی بندرگاہوں پر عراقی حملوں نے ایران کی تیل کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا۔

عراقی بحریہ نے خلیج فارس کے شمالی علاقے میں ایرانی تجارتی بحری جہازوں پر اوزا میزائل فرائگیٹس (Osa-class missile boats/Frigates) (جنگی کشتیاں) اور فضا سے زمین پر نشانہ بنانے والے  ایگزاسٹ  (Exocet) میزائل سے لیس سپر فریلون (Super Frelon)  ہیلی کاپٹروں سے حملہ کرنا شروع کر دیا۔ عراقیوں کی اس حکمت عملی کا مقابلہ کرنے کے لیے فوج کے جوائنٹ اسٹاف نے بحریہ کو ذوالفقار پلان کے نام سے ایک مشن کی اطلاع دی جس کے مطابق اس فورس کو خلیج فارس کی مواصلاتی لائنوں کو کھلا رکھنا چاہیے اور عراقیوں کو اس تک پہنچنے سے روکنا چاہیے۔

بحریہ نے اس مشن کو پورا کرنے کے لیے جو پہلا قدم اٹھایا وہ بوشہر میں بحریہ کے آپریشنل بیس پر 421 ویں جنگی گروپ کی تشکیل تھی۔ یہ گروپ، جسے بعد میں جنگجو فورس  کا نام دیا گیا۔21 ستمبر 1980ء میں بحری یونٹوں کے آپریشنل کنٹرول کے لئے فرسٹ کیپٹن مصطفی مدنی نژاد  نے قائم کیا۔

عراقی میزائل فرا ئگیٹس اور ایرانی تجارتی جہازوں کو پہنچنے والے خلل سے نمٹنے کے لئے عراق کی البکر اور الامیہ ڈاکس (Docks)   کو تباہ کرنا بحریہ کے ایجنڈے میں شامل ہو گیا۔ چنانچہ 30 اکتوبر اور 5 نومبر 1980ء کو دو آپریشنوں اشکان اور شہید صفری میں آرمی نیوی کے ہیلی کاپٹروں اور نیول آرٹلری نے فضائیہ کے تعاون سے دونوں ڈاکس/بندرگاہوں پر حملہ کیا۔ اِن دونوں حملوں میں اِن بندرگاہوں اور اِن کی تنصیبات کو بہت زیادہ نقصان پہنچا اور عراق کی تیل کی برآمدات تقریباً رک گئیں چونکہ اب تک البکر اور العیہ عراقی تیل کی برآمدات کے لئے بہت اہم مقام تھے۔

نومبر1980 کے تیسرے ہفتے کے آخرمیںعراقی بحریہ کی سرگرمیاں ایک بار پھر بڑھ گئیں اور عراقی فرائگیٹس ایرانی تجارتی جہازوں پر حملہ کرنے کے بعد فوری طور پر البکر اور العمیہ بندرگاہوں  کے نیچے  چھپ جاتے۔

421 ویں جنگی فورس نے خلیج فارس کے شمال میں عراقی بحریہ کی فعالیت کو ختم کرنے کے لئے اور ایرانی سمندری خودمختاری کی حفاظت کے لئے فیصلہ کیا کہ البکر اور العمیہ پلیٹ فارمز کو آبزرویشن اور نگرانی چیک پوسٹ کے طور پر استعمال کریں گے تاکہ ام القصر اور ممکنہ طور پر فاو بندرگاہ کے ذریعے دشمن کی زمینی، فضائی اور تجارتی اکائیوں  کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے اور عراقی بحریہ کو خلیج فارس کے شمال میں بے خبری  سے لانے اور اُنہیں تباہ کرنے کا کام انجام دیا جا سکے۔ اِس مقصد کےلئے درفش آپریشن کا حکم تیار کیا گیا اور فضائیہ کو فائر سپورٹ اور فضائی دفاع کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ آپریشن درفش کا نام آپریشن مروارید میں تبدیل ہو گیا۔

مروارید آپریشن کا علاقہ تقریباً چار سو کلومیٹر طویل (بوشہر سے خلیج فارس کے شمالی ترین مقام تک) اور پچاس کلومیٹر چوڑا تھا۔ یہ آپریشنل علاقہ  20,000 مربع کلومیٹر پھیلا ہوا  تھا اور اس کی کمانڈ 421 ویں جنگی بیس  کے پاس تھی۔

تخریب اور نگرانی کرنے والی ٹیم کو ضروری سازوسامان کے ساتھ تیار کیا گیا اور طے یہ پایا کہ آپریشن  25 نومبر 1980ء کو شروع کیا جائے۔ لیکن ناموافق موسم اور سمندری حالات کی وجہ سے آپریشن ملتوی کر دیا گیا تھا۔ آپریشن کے باضابطہ آغاز تک ہیلی کاپٹر اور پیٹرولنگ  افسران کو اضافی معلومات جمع کرنے، پلیٹ فارمز کی نگرانی اور عراقیوں کی نقل و حرکت کی اطلاع دینے کے لیے علاقے میں بھیجا گیا ۔

اس آپریشن میں حصہ لینے والی فورسز  یہ تھیں: خصوصی  آپریشن ٹیم، سات افراد پر مشتمل (ٹیم کمانڈر، انٹیلی جنس آفیسر، کمیونیکیشن آفیسر اور میرین آپریشن کے چار خصوصی کمانڈوز (SBS))؛  خصوصی آپریشنز ٹیم اور ان کے ہلکے آلات کو البکر  گھاٹ تک پہنچانے کے لئے   بحریہ کی فضائیہ کے دو ہیلی کاپٹر ؛   بارود، سازوسامان، سامان اور دیگر ضروری چیزوں  کو البکر گھاٹ تک پہنچانے کے لیے ایک ٹگ بوٹ  (Tugboat)؛ بندرگاہ  پر اترنے والی  فورسز  کی مدد اور حفاظت کے   ساتھ ساتھ  اسپیشل آپریشنز ٹیم کے پیغامات 421 ویں جنگی فورس تک پہنچانے اور لانے کے لئے بوشہر کے دوسرے  بحری علاقے سے ساتویں بریگیڈ کے میزائل لانچر فرائگیٹس؛ جنگ کے علاقے کی فضائی کوریج فراہم کرنے کے لیے بوشہر میں چھٹے شکاری ایئر فورس بیس کے پائلٹ۔

26 نومبر کو فضائی پٹرولنگ افسر کی رپورٹ کے بعد البکر بندرگاہ پر عراقی افواج کی پوزیشن جاننے کے لئے میزائل لانچر  کشتی کو ذمہ داری دی گئی کہ بندرگاہ پر میزائل فائرکرے۔ یہی اقدام اگلے دن بھی کیا گیا  لیکن عراقیوں کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے تین مرتبہ پٹرولنگ پرواز  کو سامنے رکھتے ہوئے 421ویں جنگی فورس نے یہ فیصلہ کیا کہ آپریشن 27 نومبر کوشام کے وقت شروع کیا جائے۔

27 نومبر 1980ء کی شام دو ہیلی کاپٹروں (AB-212)  اور ایک طیارے (SH3D)  کے ساتھ میرین کمانڈوز کی خصوصی ٹیم  نے ریڈیو خاموشی کے ساتھ بوشہر کے سیکنڈ نیول بیس سے اڑان بھری۔ اِن دو ہیلی کاپٹروں کو دو انٹرسیپٹر لڑاکا طیاروں  (F-14)  اور بوشہر کے ریڈار اسٹیشن نے کور دے رکھا تھا۔ اسی وقت، پیکان فریگیٹ اور ایک سپلائی کشتی ( لاجسٹک) کو بھی  جنگی الرٹ پر رکھا گیا تھا۔ کمانڈوز  جیسے ہی البکر پلیٹ فارم پر پہنچے، انہوں نے عراقی کمانڈر اور اس کے دو ساتھیوں کو گرفتار کر لیا اور معلومات حاصل کرنے کے بعد اُنہیں  ہیلی کاپٹروں میں سے ایک  کے ذریعے بوشہر روانہ کر دیا۔  اس کے بعد اُنہوں نے بندرگاہ کو مکمل طور پر کلیئر کیا اور البکر پلیٹ فارم پر قبضہ کر لیا۔

27 نومبر رات ساڑھے آٹھ بجے میرین آپریشن شروع ہو گیا۔ پیکان فریگیٹ کمانڈوز کے کمانڈر کی ہم آہنگی کے ساتھ بندرگاہ کے جنوبی حصے میں مستقر ہو گئی۔ عراقی قیدیوں کو فریگیٹ میں منتقل کیا گیا اور پیکان فریگیٹ سے گولہ بارود کو بندرگاہ پہنچایا گیا۔  اس کے بعد پیکان فریگیٹ اور عراقی بحری جہازوں کے درمیان  لڑائی شروع ہو گئی۔ یہ لڑائی 28 نومبر 1980ء تک جاری رہی۔ بحریہ اور فضائیہ کی اسپیشل جوائنٹ آپریشن ٹیم  بندرگاہ  پر مکمل قبضہ کرنے کے بعدجمہوری  اسلامی  ایران کا جھنڈا اس گھاٹ کے بلند ترین ٹاوروں میں سے ایک پر لہرانے میں کامیاب  ہو گئی۔

اس کارروائی میں پیکان فریگیٹ پر عراقی میزائل حملے کی وجہ سے یہ کشتی ڈوب گئی اور اِس کے نتیجے میں اس کے متعدد سوار بشمول فریگیٹ کمانڈر، سیکنڈ کیپٹن محمد ابراہیم ہمتی شہید اور بعض زخمی ہو گئے۔ تاہم اِس کے فوراً بعد نیول ہیلی کاپٹرز  سرچ کاروائی میں بعض فریگیٹ سواروں  اور انیس عراقیوں کو نجات دینے میں کامیاب ہو گئے۔ ان قیدیوں کو بوشہر منتقل کر دیا گیا۔

آپریشن مروارید میں عراق کی بارہ کشتیاں تباہ اور تین کو بھاری نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ گیارہ عراقی طیارے مار گرائے گئے، چھ سو سے زیادہ عراقی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے اور ان میں سے 26 کو پکڑ لیا گیا۔ اس آپریشن کے نتیجے میں عراقی بحریہ کے ایک بڑے حصے کی تباہی ہوئی۔

مروارید کے کامیاب آپریشن نے خاص طور پر خلیج فارس کے شمالی علاقے میں  اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ کی سمندری خودمختاری کو برقرار  رکھا۔ یہ آپریشن ایک قیمتی تجربہ اور مشترکہ فضائی اور بحری کارروائیوں میں ایک اہم موڑ ہے، اس کے ساتھ ساتھ آٹھ سال کی مسلط کردہ جنگ میں فضائیہ اور نیول فورس  کے درمیان مشترکہ تعاون  اور منصوبہ بندی کا آغاز ہے۔ اس آپریشن میں میجر حسین خلعتبری، لیفٹیننٹ کرنل عباس دوران، کرنل علیرضا یاسینی، کرنل کیان ساجدی، کرنل مہدی دادپی، کرنل محمد ابراہیم کاکاوند نے کلیدی کردار ادا کیا۔

مروارید  آپریشن کے پانچ دن بعد 3 دسمبر 1980 بحریہ فورس  کے کمانڈر بہرام افضلی نے ایک پیغام میں اعلان کیا کہ 28 نومبر کو "یوم بحریہ"، بوشہر کے دوسرے بحری زون کو "زون دوم شہید محمد ابراہیم ہمتی" اور  7ویں فریگیٹ بریگیڈ جس میں پیکان فرائگیٹس  بھی شامل ہیں، اس کے بعد اِسے  پیکان فرائگیٹس بریگیڈ  سے پکارا جائے گا۔