آپریشن عاشورہ 3

معصومہ سجادیان
52 بازدید

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے1985ء میں آپریشن عاشورہ 3 کو فکہ کے شمالی  آپریشنل علاقے میں عراقی فوج کو تباہ کرنے کے مقصد سے انجام دیا۔

1985ء  میں فاو  میں ایک بڑے آپریشن (والفجر 8) کے لئے  زمینہ ہموار کرنے، لوگوں اور مجاہدین میں حوصلہ پیدا کرنے کے لئے، سپاہ پاسداران کے ایجنڈے میں اِن محدود کاروائیوں کو بھی شامل کر دیا گیا۔ نیز عراق پر اسٹریٹجک دباؤ کو بڑھانا بھی مقصود تھا تاکہ اُن کی اہم کاروائیوں کی نسبت  توجہ کو کم کیا جا سکے۔ اس  پیرائے میں عاشورہ کے محدود آپریشنز کو ڈیزائن کیا گیا ۔

عاشورہ 1 آپریشن 12 اگست 1985ء کو تکاب اور صائبین دژ میں مسلمان کرد پیشمرگان (کرد مسلحہ گروہ) کے علاقے میں مقیم ایرانی فورسز نے مقامی ضد انقلاب عناصر کے خلاف انجام دیا۔

عاشورہ 2 آپریشن سپاہ پاسداران نے چنگولہ سیکٹر میں 15 اگست 1985ء کو کیا۔ اِن حملوں نے نہ صرف عراقی دفاعی فورسز اور عراقی کی دوسری افواج کو غیر فعال اور انتظار کی حالت میں رکھا بلکہ ایک لحاظ سے سیاسی عہدیداروں کو بھی جگائے رکھا۔

عاشورہ 3 آپریشن  فکہ کے عمومی علاقے میں انجام دیا گیا۔ فکہ کے شمالی سیکٹر میں عراقی   اصلی دفاعی لائن دریائے دویرج کے مغرب میں واقع تھی۔ دریا کے مشرق میں شیری، رزمی اور شتری پہاڑیوں سمیت اہم بلندیاں تھیں کہ عراق نے اس علاقے پر زیادہ سے زیادہ  کنٹرول حاصل کرنے کے لئے اِن پر  فورسز تعینات کر رکھی تھیں۔ سید الشھداء ؑ بریگیڈ  نے عاشورہ 3 کا نقصان پہنچانے والا  آپریشن تین بٹالینز کی مدد سے  دشمن کو ختم اور قید کرنے کے لئے کیا۔ فورسز  نے 16 اگست 1985ء  کو رات نو بجے  یا سید الشہداء ؑ کوڈ کے ساتھ حملے کا آغاز کیا۔

حضرت قاسمؑ، حضرت علی اصغرؑ اور حضرت قمر بنی ہاشم ؑ  بٹالینز  اور سید الشہداءؑ بریگیڈ کے مجاہدین نے ابتدائی لمحات میں ہی بارودی سرنگوں، خاردار تاروں اور دیگر نقصان دہ رکاوٹوں  کو عبور کر لیا اور  عراقی فوج کی دفاعی لائنوں توڑ دیا۔ وہ چودہ مربع کلومیٹر کے علاقے کو کلیئر کرنے میں کامیاب رہے۔ یہ آپریشن صبح تک جاری رہا اور آخر میں فورسز اپنے ٹھکانوں پر واپس  پہنچ گئیں۔

اس کارروائی میں ایرانی فورسز نے 16ویں عراقی ڈویژن کی 108ویں بریگیڈ کی پہلی اور دوسری بٹالین کو تباہ کر دیا۔ 600 سے زائد عراقی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے اور 35 افراد گرفتار کر لیے گئے۔

اس حملے میں عراقی فوجی ساز و سامان اور آلات کا ایک حصہ بشمول دو ٹینک، گیارہ گولہ بارود کے ڈپو، دو مواصلاتی پل، ایک لوڈر(ٹرک)، ایک موٹر پارک اور انجینئرنگ کے آلات کی بڑی تعداد تباہ ہو گئی۔ ایرانی افواج لاجسٹک اور ٹیلی کمیونیکیشن کے آلات کے ساتھ بڑی مقدار میں فوجی سازوسامان اور ہلکے اور بھاری ہتھیاروں پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔

اس آپریشن میں 20 پاسدار اور بسیجی رضاکار جنگجو شہید اور 100 زخمی ہوئے۔ ان جوانوں میں سےایک جوان لاپتہ بھی ہو گیا۔

عاشورہ آپریشنز کے سلسلے میں سے عاشورہ 4 آپریشن 23 اکتوبر 1985ء کو ہور الہویزہ میں انجام دیا گیا۔