آپریشن کربلا 10

آیدا آقامیرزایی
57 بازدید

کربلا 10 کے وسیع  پیمانے پر آپریشن کا آغاز  14 اپریل 1987ء کو عراقی ماووت کے شمال مغربی اور شمالی محاذ کے علاقے میں، نجف کیمپ کی کمان،  رمضان کیمپ کی غیرمنظم فورسز کے تعاون اور پیٹریاٹک یونین کردستان عراق کے تعاون سے ہوا۔یہ آپریشن بارہ دن تک جاری رہا اور اگرچہ یہ اپنے اہداف حاصل نہیں کرسکا لیکن اس کے نتیجے میں 250 کلومیٹر عراقی سرزمین اور ماووت شہر کے قریب پہاڑیوں  کو آزاد کرا لیا گیا۔

جنوبی محاذ پر آپریشن کےکربلا 4 اور 5 کے انجام دینے کے بعد اور شلمچہ میں کربلا 8 کی تکمیلی کاروائیوں  کے بعد سپاہ نے فیصلہ کیا  کہ طویل وقفہ نہ آنے دیا جائے۔ دوسری جانب کربلا 8 آپریشن کی مکمل کامیابی کے حوالے سے بھی  غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی۔ اس لیے ضروری تھا کہ آپریشن کے لئے کسی اور علاقے کا انتخاب کیا جائے تاکہ ناکامی کی صورت میں نئے محاذ پر فوری طور پر دوسرا آپریشن کیا جائے۔ اِس کے علاوہ سردیوں کے اختتام اور موسم بہار کے آغاز سے بھی آپریشنل علاقے میں جگہ تبدیل کرنے کی  ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔ اِسی طرح

 سپاہ کے کمانڈر  کے ذہن میں شمال مغربی محاذ  کے   لئے سال   1987ء کی  اہمیت بھی خاص طور پر  بڑھ چکی تھی اور جس سے مغربی اور شمال مغربی محاذ میں آپریشن کرنا بھی ضروری لگ رہا تھا۔

آپریشن کربلا 10 کا  عمومی علاقہ بانہ –سردشت کے سیکٹر میں، شمال سے سرحدی دریا   گلاس، جنوب سے دریائے آوسیویل ، مشرق سے سور کوہ اور مغرب سے گردہ رش کی پہاڑیوں اور اِس کے بعد آسوس کی عمومی پہاڑیوں پر ختم ہو تا تھا۔ آپریشنل علاقہ حساس مقامات اور بلند اور دشوار گزار چوٹیوں پر مشتمل تھا جہاں سڑک کے نہ ہونے کی وجہ سے اِس علاقے سے گزرنا بہت مشکل نظر آتا تھا۔  علاقے کی بلند ترین چوٹی کا نام گارو ہے جس سے آس پاس کے تمام علاقے  اور اُس میں ہونی والی حرکات کو دیکھا جا سکتا ہے اور جو برتری رکھتا ہے۔نیز متعدد  دیہاتوں اور قصبوں  کے علاوہ جو اِس علاقے میں موجود ہیں، مذکورہ ندیاں بھی اس علاقے میں  بہتی ہیں۔ پہاڑیوں پر اونچے اونچے درختوں کی موجودگی کی وجہ سے پیدل فورسز کے چھپنے اور نقل و حرکت کے لئے دن کا وقت بھی بالکل مناسب تھا۔

رمضان کیمپ کے فعال ہونے اور عراق کی سرزمین میں گہرائی تک گوریلا کارروائیاں انجام دینے سے، شمالی عراق کے  گروہوں کی سرگرمیاں ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئیں۔ انہوں نے ایران کی مدد سے عراقی حکومت کے لئے زمین تنگ کر دی تھی۔ نیز عراق کے شمال میں تیل اور سڑکوں کو لائف لائن ہونے کی بدولت اِن کی اہمیت بصرہ کے جنوب میں تیل سے کسی طرح کم نہیں تھی  اور اس وجہ سے سپاہ کی کمان بھی اِس جانب متوجہ ہوئی تاکہ اِس علاقے پر خصوصی نظر کی جائے۔ جنوب میں جنگ میں عدم پیشرفت کو اِس علاقے میں آپریشن کر کے آہنی اقدامات کے ذریعے کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

رویے کی اس تبدیلی کی بنیاد پر مغربی محاذ میں ایران کا سب سے پہلا بڑا حملہ سپاہ کی دو منظم اور غیر منظم کاروائیوں کے مجموعے سے ڈیزائن کیا گیا  اور یا صاحب الزمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے کوڈ سے 14 اپریل 1987ء کو انجام دیا گیا۔رمضان کیمپ نے  پیٹریاٹک یونین  کردستان عراق کی فورسز کی مدد سے عراقی شہر سلیمانیہ کے شمال میں  آپریشن کے غیر منظم حصے کو  یاغسمر کے علاقے میں فتح 5 کے نام سے آپریشن مکمل کرنے کے لئے ڈیزائن کیا اور انجام دیا۔ یہ طے تھا کہ وہ عراقی فوج کے دو کیمپوں کو تباہ کریں گے اور پیٹریاٹک یونین کے زیر اثر علاقے کو نجف کیمپ کے علاقے کے ساتھ جوڑ دیں  گے جس کے ذمہ آپریشن کا منظم حصہ انجام دینا تھا۔

مختلف سیکٹروں میں دشمن پر حملے کا وقت یکساں نہیں تھا، اگرچہ آپریشن شروع کرنے کے لیے  آدھی رات کو  2:00 بجے کا وقت مقرر کیا گیا تھا، لیکن  ساڑھے بارہ بجے بسن سیکٹر میں، نجف کیمپ کے سیکٹر میں صبح ڈیڑھ بجے اور تھوڑے فرق کے ساتھ دوسرے سیکٹروں میں آپریشن شروع ہوا اور صبح 2 بجے تک تمام سیکٹروں میں فورسز نے دشمن کی پوزیشنوں پر حملہ کیا، سوائے چنکاوی سیکٹر کے جہاں زبردست برفباری کے سبب پہاڑی درہ(Mountain pass) بند ہونے کے باعث آپریشنل یونٹ آپریشن کی جگہ تک نہیں پہنچ سکا۔ رمضان کیمپ بھی گوجار اور الاغلو کی پہاڑیوں پر قدم جمانے میں کامیاب ہو گیا اور ایک ایسی پوزیشن   پر قبضہ کر لیا جہاں دشمن خاطر خواہ انتظام کے ساتھ موجود نہیں تھا۔ پہلے دن ظہر کے بعد عراقی فورسز نے جوابی حملے ، سپورٹ فائر اور گولہ باری کی مدد سے گلان پہاڑی کو دوبارہ قبضے میں لے لیا لیکن ایک گھنٹے بعد ہی اُنہیں پیچھے دھکیل دیا گیا۔

آپریشن کے تسلسل میں  بسن، ژاژیلہ، چنکاوی سیکٹر  اور رمضان کیمپ کے سیکٹر میں  بتدریج تکمیلی اقدامات کیے گئے۔ آپریشن کو پھیلانے،  یونٹوں کو دوسرے مرحلےمیں داخل کرنے اور خط پر فورسز کی مدد کے لئے  سڑک  کا نہ ہونا اصلی مشکل تھی۔ اِس دوران سڑک کی بہت زیادہ اہمیت تھی۔  اس لیے سڑک کی تعمیر کے لیے بہت زیادہ کوشش کی گئی۔گلان، ژاژیلہ، چنکاوی اور بسن سیکٹروں میں مجاہدین اسلام اور دشمن کی فورسز کے درمیان قبضہ شدہ پوزیشنیں تبدیل ہو تی رہیں۔ خاص طور پر گلان پہاڑی متعدد بار  داخلی فورسز اور دشمن کے قبضے میں آتی جاتی رہی۔ اِن سیکٹروں میں ہر ایک مستقبل کے لئے آپریشنل علاقوں میں ایک خاص طریقہ کار کی نشاندہی کرتا رہا جو دشمن کو حساس کر دینے والا تھا۔  چنکاوی اور ژاژیلہ سیکٹر  رمضان کیمپ کے ساتھ اتحاد کی جھلک کی نشان دہی کر رہا تھا۔ دوسری جانب ژاژیلہ اور گلان، ماووت شہر پر قبضے کا مقدمہ شمار ہوتی تھیں۔ بسن سیکٹر بھی چوارتا کی طرف حرکت کی نشاندہی کر رہا تھا۔

آپریشن کے دوسرے مرحلے میں دو بنیادی اقدامات کو مدنظر رکھا گیا، پہلا گلان پہاڑی کو مکمل کرنا، قشن پہاڑی کی جانب پیش قدمی اور اِس کے رمضان کیمپ کے ساتھ  الحاق کو برقرار کرنا۔ اس  مقصد کے لیے دوسرے مرحلے کے یونٹس حرکت میں آگئے اور گلان کی پہاڑی  کو مکمل کرنے اور قشن  کی پہاڑی کی جانب پیش قدمی کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے لیکن فورسز کی کمی اور کمزور سپورٹ کی وجہ سے آپریشن کو  جاری رکھنا ممکن نہیں ہو سکا۔ ابتدائی مراحل میں  57ویں ابوالفضلؑ  ڈویژن   نے ماووت کے 250 کلومیٹر  پہاڑی علاقے سمیت بیشتر مطلوبہ اہدف پر قبضہ کر لیا  لیکن  ماووت کے سیکٹر میں 35ویں امام حسینؑ بریگیڈ کو داخل کر کے آپریشن کے دوسرے مرحلے کو شروع کرنے کی کوششیں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکیں۔ آپریشن دس روز جاری رہا  اور رمضان کیمپ کی فورسز ، آپریشنل یونٹوں کے ساتھ ملنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔  آپریشن کے دوران بارش اور ژالہ باری سے سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔ پل اور سڑکیں تباہ ہو گئیں اور زمینی  مدد کے امکانات  ختم ہو گئے۔ ایوی ایشن  بھی  اُتنا کام نہیں کر سکی جتنا ضروری تھا اور مجموعی طور پر اس آپریشن کے اہداف نامکمل رہے اور ایران اپنے اصلی اہداف تک نہیں پہنچ سکا۔

اس آپریشن کے دوران  سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے توپخانے کے کمانڈر حسن شفیع زادہ، 25ویں کربلا ڈویژن کے ڈپٹی کمانڈر حسین بصیر، 33ویں المہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ڈویژن کے میڈیکل آفیسر عبد العلی عامری  اور 25ویں کربلا ڈویژن کے ایمونیشن بٹالین کے کمانڈر موسی الرضا خراسانی شہید ہو گئے۔