نوروز کے مواقع پر امام خمینی رح کے پیغامات
امام خمینی (رح) نے 1980 سے 1989 کے دوران نئے سال کے آغاز اور عیدِ نوروز کے مواقع پر ایرانی عوام کے نام جو پیغامات جاری کیے، ان کا مرکزی محور " ایران عراق جنگ" تھا۔
نوروز 1980، ملک کے سیاسی ڈھانچے کی بنیاد رکھنے کے بعد پہلا سال تھا جب امام خمینی (رح) نے نوروز کے پیغام میں عوام کو خطاب کیا۔ نوپا سیاسی نظام کی غیر مستحکم صورتحال اور اندرونی و بیرونی سازشوں کے خطرے کے پیشِ نظر یہ ضروری تھا کہ نئے سال میں عوام اور ذمہ داروں کی سرگرمیاں انقلاب کی پاسداری اور انقلابی اداروں کی حمایت پر مرکوز رہیں۔ اسی لیے امام نے اس سال کے اپنے پیغامِ نوروز میں عوام کو درج ذیل امور کی نصیحت کی:
" فوج کی حمایت"، " سپاہ پاسداران کی حمایت"، " نظم و ضبط کی پابندی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انقلاب دشمنوں سے پاک کرنا"، " الہی قوانین کی پاسداری اور عدالتوں میں خلاف ورزی کرنے والوں سے نمٹنا"، " حکومت کی جانب سے مستضعفین (کمزور طبقات) کی حمایت اور عوام کے درمیان انقلاب دشمن عناصر کے نفوذ کی روک تھام"، " حکومتی ترقیاتی اور اقتصادی منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد"، " سرکاری ملازمین کی جانب سے منتخب حکومت کی حمایت"، " غاصبین کی املاک اور زمینوں کی ضبطگی کی صورتحال کو منظم کرنا"، " بنیادِ مسکن اور بنیادِ مستضعفین کی جانب سے کارکردگی رپورٹ کی پیشکش"، " یونیورسٹیوں کو انقلاب دشمن پروفیسرز سے پاک کرنا"، " اخبارات و جرائد کی صورتحال کو بہتر بنانا اور ریڈیو و ٹیلی ویژن کے ذریعے صحت مند تنقید کی اشاعت" اور " حقیقی و مبارز علمائے دین کی حمایت" ۔[1]
نوروز 1981 (1360)، پہلا نوروز تھا جب ایرانی عوام عراق کے ساتھ جنگِ تحمیلی (مسلط کردہ جنگ) میں برسرِ پیکار تھے۔ ایک طرف جنگ کے ناپسندیدہ اور قدرتی اثرات اور دوسری طرف امور کی نگرانی کے معاملے پر اس وقت کے ایرانی صدر، بنی صدر اور مجلسِ شورائے اسلامی (پارلیمنٹ) کے نمائندوں کے درمیان اختلافات نے ملک میں ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کر دی تھی۔ اسی وجہ سے امام خمینی نے اس سال کے پیغامِ نوروز میں عوام اور ذمہ داروں کو " اتحاد و ہم دلی"، " امور کی ترقی کے لیے حکومت کی کوشش" اور " قانون کی پیروی" کی دعوت دی۔[2]
سال 1982 کا امام خمینی کا پیغامِ نوروز گذشتہ برسوں کے پیغامات سے مختلف تھا۔ اس سال امام کے پیغام میں مذہبی رنگ نمایاں تھا اور اس میں عوام کے مختلف طبقات میں آنے والی روحانی تبدیلیوں کا ذکر تھا۔ اس پیغام میں امام نے " لقاء اللہ (اللہ سے ملاقات) کے شوق و جذبے" اور " بہادری اور پختہ عزم کے ساتھ خون کے نذرانے" کو امام زمانہ (عج) کے ظہور کے لیے زمینہ سازی (تیاری) کی علامت قرار دیا۔ آپ نے عوام کو پہنچنے والی تکالیف کا ذکر کرتے ہوئے ایرانی عوام کا مقصد اور منزل، ملک کی آزادی اور اسلام کے دشمنوں کے چنگل سے اس کی نجات کو قرار دیا، اور ذمہ داروں کو عوام کے مسائل حل کرنے اور قوانین پر عمل درآمد کے لیے مزید کوششوں کی نصیحت کی۔[3]
امام خمینی (رح) نے 1983 کے اپنے پیغامِ نوروز میں محاذوں پر کامیابیوں، تمام میدانوں میں عوام کی موجودگی اور نوجوانوں میں شہادت طلبی کے جذبے کو ان الہی عنایات کا نتیجہ قرار دیا جو انقلابِ اسلامی کی کامیابی کے بعد عوام میں پیدا ہوئی ہیں۔ آپ نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ روحانی کیفیات، جو مادی فتوحات سے زیادہ اہم اور ملک کی آزادی و خودمختاری کی سمت حرکت کے لیے لازمی ہیں، تمام عوام میں نمایاں ہوں۔[4]
میدانِ جنگ میں عراق کے فوجی اقدامات میں سے ایک، جو 1982 میں شروع ہوا اور 1983 میں عروج پر پہنچ گیا، شہروں پر توپ خانے، میزائلوں اور فضائیہ کے حملے تھے؛ بعثی حکومت بعض مواقع پر کیمیائی بموں کا استعمال بھی کرتی تھی۔ عراق کے ان اقدامات کے باوجود، اسلامی ممالک، بین الاقوامی فورمز اور اقوامِ متحدہ نے اس حوالے سے خاموشی اختیار کر رکھی تھی اور کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کر رہے تھے۔[5] یہی مسئلہ اس بات کا سبب بنا کہ امام نے 1984 کے نوروز کے پیغام کے آخری حصے میں اس جانب اشارہ کیا اور عالمی برادری کی خاموشی اور اس حوالے سے ایران کی مذمت پر سخت تنقید کی۔[6]
ان ممالک اور بین الاقوامی اداروں پر تنقید، جو دنیا میں " امن" جیسی اصطلاحات کا ناجائز استعمال کر کے جرائم کرتے ہیں، 1985 میں بھی امام کے پیغامِ نوروز کا محور رہی۔ امام نے اس پیغام میں صدام کی حمایت کو اسلام کی مخالفت قرار دیا۔ امام نے " شہروں کی جنگ" کا ذکر کرتے ہوئے ایران کی صلح پسندی کی طرف اشارہ کیا اور عراق کے فوجی مراکز پر حملوں کو ایران کے غیر فوجی رہائشی علاقوں پر عراقی حملوں کے خلاف " بالمثل کارروائی" قرار دیا۔[7]
فوجی جوانوں کی ستائش و قدردانی اور شہداء کے معزز خاندانوں، زخمیوں اور جنگی قیدی سے رہا شدہ افراد کی تکریم، 1986 میں امام کے پیغامِ نوروز کے بنیادی محور تھے۔[8]
خرمشہر کی فتح کے بعد، فوج اور سپاہ کے کمانڈروں کے درمیان جنگ کے انتظام کے طریقہ کار پر اختلافات پیدا ہو گئے تھے، جس کی وجہ سے " آپریشن رمضان" اور " والفجر مقدماتی" جیسی کارروائیوں میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی[9] اور یہ مسئلہ آنے والے برسوں میں بھی کم و بیش جاری رہا۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر امام خمینی نے 1987 کے پیغامِ نوروز میں، جو عیدِ مبعث اور ولادتِ امام علی (ع) کے درمیانی ایام میں تھا، رسولِ اکرم (ص) اور امام علی (ع) کی بھائی چارے اور ہم دلی کی مثال دیتے ہوئے فوج اور سپاہ کے کمانڈروں کو باہمی اخوت اور اتحاد کی دعوت دی۔[10]
" آپریشن والفجر 10" کا آغاز 15 مارچ 1988 کو ہوا اور ایران، عراقی سرزمین میں واقع شہر " حلبچہ" کو فتح کر کے کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہا، لیکن عراقی فوج نے 20 مارچ 1988 کو حلبچہ شہر پر، جس کے باسی خود عراقی (کرد) تھے، ہائیڈروجن سائنائیڈ بموں کے ذریعے کیمیائی بمباری کر دی۔ عراقی طیاروں نے مسلسل تین دن تک 20 مرتبہ حلبچہ پر بمباری کی اور 70 ہزار کی آبادی والا یہ شہر لاشوں سے بھر گیا۔[11] اس ہولناک واقعے کے تناظر میں امام خمینی نے 1988 کے پیغامِ نوروز میں، جو امام حسین (ع) کے یومِ ولادت کے موقع پر تھا، قیامِ سید الشہداء (ع) کا تجزیہ پیش کیا اور ایرانی عوام کی جانب سے اسلامی حکومت کی تشکیل کو ظالموں کے خلاف جدوجہد اور اسلامی نظام کے قیام کے سلسلے میں امام حسین (ع) کے نقشِ قدم کی پیروی قرار دیا۔[12]
1989 کا پیغامِ نوروز، امام خمینی (رح) کی حیاتِ مبارکہ کا آخری اور مختصر ترین پیغام تھا۔ امام نے اس سال نوروز کا پیغام ایک ایسے وقت میں دیا جب گذشتہ برس کے موسمِ گرما (جولائی 1988) میں انہوں نے اپنی دلی خواہش کے برعکس، بعض فوجی و سیاسی ذمہ داروں کے مشورے پر اقوامِ متحدہ کی قرارداد نمبر 598 کو قبول کر لیا تھا۔ اس فیصلے کی وجہ سے ایک طرف تو بعض فوجیوں اور انقلاب کے حامیوں میں افسردگی اور مایوسی کی لہر پیدا ہو گئی تھی[13] اور دوسری طرف، " نہضتِ آزادی" جیسے بعض سیاسی گروہ، جو پوری جنگ کے دوران ایرانیوں کے دفاعِ مقدس کے مخالف رہے تھے، انقلاب پر طنز و تنقید کر رہے تھے۔[14] اس صورتحال میں امام خمینی نے عیدِ نوروز کی مناسبت سے اپنے مختصر خطاب میں عوام اور ذمہ داروں کو انبیاء (ع) کی سیرت کی پیروی کرنے کی دعوت دی کہ جن کی جنگ اور صلح دونوں صرف خدا کے لیے ہوتی تھیں اور وہ کبھی نفسانی خواہشات کے پیرو نہیں تھے۔[15]
مجموعی طور پر، 1980 سے 1989 کے دوران امام خمینی (رح) کے پیغاماتِ نوروز کے بنیادی محور؛ عوام اور ذمہ داروں کے درمیان اتحاد و ہم دلی کی دعوت، میدانِ جنگ کے رزمندوں کو آئیڈیل بناتے ہوئے معنوی خود سازی پر توجہ، فوجیوں اور ان کے اہل خانہ کی ستائش، اور عالمی برادری، بین الاقوامی فورمز و اقوامِ متحدہ کی خاموشی پر تنقید تھے۔
حوالہ جات
- [1]. صحیفۀ امام خمینی (ره)، مجموعه آثار امام خمینی (بیانات، پیام ها، مصاحبه ها، احکام، اجازات شرعی و نامه ها)، ج 12، چ پنجم، تهران، مؤسسۀ تنظیم و نشر آثار امام خمینی (ره)، 2010، ص 202تا210
- [2]. سابق، ج 14، ص 226-232
- [3]. سابق، ج 16، ص 129-131
- [4]. سابق، ج 17، ص 368-370
- [5]. خرمی، محمدعلی، جنگ ایران و عراق در اسناد سازمان ملل، ج 2، تهران، مرکز مطالعات و تحقیقات جنگ سپاه پاسداران انقلاب اسلامی، 2008.
- [6]. صحیفۀ امام خمینی (ره)، ج 18، ص 394-397
- [7]. سابق، ج 19، ص 194-200
- [8]. سابق، ج 20، ص 16-19.
- [9]. روزنامه فرهیختگان، «ناگفته های هشت سال دفاع مقدس به روایت هاشمی رفسنجانی» در ویژه نامه «از آغاز دفاع تا تسلیم صدام»، ش 1483، چهارشنبه 24 ستمبر 2014، ص 4.
- [10]. صحیفۀ امام خمینی (ره)، ج 20، ص 232-235
- [11]. شیرعلی نیا، جعفر، دایره المعارف مصور تاریخ جنگ ایران و عراق، چ چهاردهم، 2023، تهران، نشر سایان، ص 427-433.
- [12]. صحیفۀ امام خمینی (ره)، ج 21، ص1-6
- [13]. سابق، ص 74-100 و324.
- [14]. سلطانی، مجتبی، نهضت آزادی ایران، تهران، مؤسسه مطالعات و پژوهش های سیاسی، 2019، ص 584.
- [15]. صحیفۀ امام خمینی (ره)، ج 21، ص 324