پورٹس اینڈ شپنگ آرگنائزیشن
پورٹس اینڈ شپنگ آرگنائزیشن ان اداروں میں شامل تھا جس نے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے ساحلوں کی مختلف بندرگاہوں کے ذریعے اشیاء کی درآمد و برآمد میں اہم کردار ادا کیا۔
25 نومبر 1814 کو ایرانی حکومت کی ساحلی اور بندرگاہوں پر بحری تجارت کے امور میں حاکمیت کے نفاذ اور متعلقہ ڈیوٹیوں و ٹیکسوں کی وصولی کے لیے بندر بوشہر میں جنوبی کسٹمز برانچ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا۔ اس ادارے کے ذمے بندرگاہی اور بحری امور کی ذمہ داریاں تھیں۔ ایک صدی سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد، 4 فروری 1936 کو تہران میں " ادارہ کل بنادر" (محکمہ بندرگاہ جات) قائم کیا گیا اور ایران کی بندرگاہوں کے امور کو اس میں مرکزیت دے دی گئی۔ 1949 میں روڈز منسٹری کے تحت محکمہ بندرگاہ جات کی جگہ " جنرل ایجنسی آف پورٹس اینڈ شپنگ" تشکیل دی گئی۔ 1960 میں اس ایجنسی کو " سازمانِ بنادر و کشتیرانی" (پورٹس اینڈ شپنگ آرگنائزیشن) میں تبدیل کر دیا گیا اور اس کی ذمہ داریوں اور اختیارات میں اضافہ کیا گیا۔ یہ تنظیم 1961 میں وزارتِ تجارت کو منتقل کی گئی اور ایک سال بعد، وزارتِ خزانہ کی تشکیل کے بعد اس وزارت کے ماتحت ہو گئی۔ 1974 میں یہ تنظیم دوبارہ وزارتِ خزانہ سے الگ کر کے وزارتِ راہ یعنی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹیشن کو منتقل کر دی گئی۔[1]
جنگِ تحمیلی کے آغاز کے ساتھ ہی، ملک کی اہم ترین تجارتی بندرگاہ " بندر خرمشہر" جنگ کے ابتدائی ایام میں ہی دشمن کے ہمہ گیر حملے کی زد میں آگئی اور اسے بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔[2] آبادان اور خرمشہر کے محاصرے کے وقت فوجیوں کی رسد و ساز وسامان کے لیے واحد رابطہ راستہ بہمنشیر کے ذریعے آبی راستہ تھا۔ اسی وجہ سے، " بندر گاہ چوئبدہ" کو فعال کیا گیا اور آبادان میں ایک سال کے عرصے کے دوران تمام جنگی سامان اور لاجسٹک سپورٹ بندرگاہ امام خمینی سے بندرگاہ چوئبدہ کے ذریعے فراہم کی گئی۔[3]
جنگِ تحمیلی کے دوسرے ہفتے سے، بندر گاہ امام خمینی ایران کی اہم ترین بندرگاہ کے طور پر ملک کی بحری اور بندرگاہی سرگرمیوں میں کلیدی کردار ادا کرنے لگی۔[4]
بندر گاہ امام خمینی دیگر بندرگاہوں[5] کے مقابلے میں تہران سے قریب ترین فاصلے پر تھی اور اسی وجہ سے اس بندرگاہ کی اہمیت اور اسٹریٹجک مقام میں اضافہ ہو گیا تھا۔ خرمشہر کے سقوط اور اس شہر میں بندرگاہی آپریشنز کے رک جانے کے بعد، بندر امام خمینی پر پہلے سے کہیں زیادہ توجہ دی گئی۔ جنگ کے دوران یہ واحد بندرگاہ تھی جس کا تہران سے ریلوے رابطہ تھا۔ بندر گاہ امام کا ایک اور فائدہ یہ بھی تھا کہ ماہشہر کا آئل ٹرمینل اس سے صرف 12 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا اور آبادان آئل ریفائنری سے پیٹرولیم مصنوعات اس بندرگاہ کے ذریعے ماہشہر ٹرمینل منتقل کی جاتی تھیں اور پھر ملک کے ملک گیر تقسیم کے نیٹ ورک (نیشنل گرڈ) کے حوالے کی جاتی تھیں۔ جنگ کے نتیجے میں خرمشہر[6] اور آبادان کی بندرگاہیں غیر فعال ہونے لگیں اور ان کا عملہ زیادہ تر بندر گاہ امام خمینی میں کام پر مامور ہو گیا۔[7] آبادان کی لاجسٹک سپورٹ تقریباً گیارہ ماہ تک (1980 کے آخری چھ ماہ اور 1981 کے پہلے چھ ماہ کے دوران) بندر گاہ امام خمینی کی جیٹی نمبر گیارہ اور " خورِ موسیٰ" کے آبی راستے سے کی گئی۔[8]
عراقی فضائی حملوں کے دوران، بندر گاہ امام خمینی کو بھی نشانہ بنایا جاتا تھا۔ اس وقت بندرگاہ میں تنصیبات، آلات اور گوداموں کی تعداد زیادہ نہیں تھی اور یہ زیادہ تر جیٹی پر مشتمل تھی، لیکن اس کے باوجود موجودہ گودام بھی فضائی حملوں کی زد میں آتے تھے۔[9] 15 اکتوبر 1980 کو عراق کے دو جنگی طیاروں کے حملے اور راکٹ لگنے کے نتیجے میں ٹیگ بوٹ " پیام" اور بحری جہاز " نوید" دونوں غرق ہو گئے اور عملے کے 9 افراد (پورٹس اینڈ شپنگ آرگنائزیشن کے ملازمین) شہید ہو گئے۔[10]
خرمشہر اور آبادان کے جنگی مہاجرین کی بندر گاہ امام خمینی میں آمد کے ساتھ ہی، ان کی رہائش کی فراہمی کے لیے پورٹس اینڈ شپنگ آرگنائزیشن کی ملکیت " مقداد ٹاؤن" ان کے حوالے کر دیا گیا۔[11]
خلیج فارس میں تجارتی جہازوں پر براہِ راست حملوں کا آغاز عراق کی جانب سے 1981 میں کیا گیا۔[12] ان وسیع حملوں کے پیشِ نظر سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ بحری جہازوں کی آمد و رفت قافلوں کی صورت میں کی جائے۔[13] یہ قافلے 15 یا 20 اور کبھی کبھی 30 سے 40 جہازوں کی صورت میں علاقے میں داخل ہوتے تھے۔ 15 جہازوں کے داخلے کے بدلے 15 ہی جہاز بندرگاہ سے روانہ ہوتے تھے۔ اس کام کے لیے 15 گائیڈز یا پائلٹس (پورٹس اینڈ شپنگ کے ملازمین) ہیلی کاپٹر کے ذریعے بندر عباس اور پھر وار ہیڈ کوارٹر کی بوشہر منتقلی کے بعد بندر بوشہر جاتے تھے، اور 15 گائیڈز ہی باہر جانے والے جہازوں پر سوار ہوتے تھے۔ جہازوں کی نقل و حرکت فوج کے مشترکہ عملے کے ہیڈ کےمنظور شدہ شیڈول اور طے شدہ لائحہ عمل کے مطابق انجام پاتی تھی۔[14]
جب بحری جہاز " خورِ موسیٰ" کے آبی راستے (بندر گاہ امام خمینی کا داخلی راستہ) پر پہنچتے تھے، تو پائلٹ یا گائیڈ کے طور پر افراد جہاز کی رہنمائی کی ذمہ داری سنبھال لیتے تھے اور اسے اندرونی لنگر گاہ تک لے جاتے تھے۔ دیگر افراد بحیثیت " چیف گائیڈ" جہازوں کو جیٹی کے ساتھ لگاتے یا وہاں سے الگ کرتے تھے۔ بندر گاہ امام خمینی کی دو لنگر گاہیں تھیں، ایک اندرونی اور دوسری بیرونی۔ جو جہاز ایران جانے کے لیے روانہ ہوتے تھے انہیں " بوئے 12" پر لنگر انداز ہونا پڑتا تھا۔ وہاں سے بندرگاہ اور مطلوبہ جیٹی تک، کیپٹن کے بجائے پائلٹ جہاز کی کمان سنبھالتا تھا۔[15]
قافلوں کی آمد کے ساتھ ہی، بندر گاہ امام کا عملہ اپنی پوری توانائی اور تیز رفتاری کے ساتھ سامان اتارنے یا لادنے کا کام شروع کر دیتا تھا۔ جہازوں کو تیزی سے خالی کر کے بندرگاہ سے روانہ ہونا پڑتا تھا تاکہ وہ (واپسی کے) قافلے میں شامل ہو سکیں۔ اگر مقررہ شیڈول سے تاخیر ہوتی تو بندرگاہ کو جرمانہ اور خسارہ ادا کرنا پڑتا تھا۔ اس لیے دشمن کی بمباری کے سائے میں بھی سامان اتارنے کا کام بروقت مکمل کیا جاتا تھا تاکہ بندرگاہ کو خسارہ ادا نہ کرنا پڑے۔[16]
دشمن ہر ممکنہ طریقے سے بندرگاہ، جیٹی اور وہاں لنگر انداز بحری جہازوں پر حملہ کرتا تھا۔ حملے کے وقت، کارکنان جیٹی کی سطح پر بنے مورچوں میں پناہ لیتے تھے اور " سفید سائرن" کی آواز پر دوبارہ کام میں مشغول ہو جاتے تھے۔[17]
ادارہ بنادر و کشتی رانی نے جنگ کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ کے ساتھ قریبی اور مؤثر تعاون کیا۔ بحریہ کے ساتھ جہازوں کی آمد و رفت اور رابطے کے طریقہ کار پر ہم آہنگی، بحریہ کی ہدایات پر عمل درآمدگی کے ساتھ بحری آپریشنز کی انجام دہی (جیسے رات کے وقت لائی ڈریجنگ/صفائی اور لائٹ آف یا بلیک آؤٹ پر عمل کرنا)، اپنی یونٹوں کے نشانات پر توجہ اور لائی ڈریجنگ کے مقام کے بارے میں بحریہ کو مطلع کرنا، سامان اتارنے کے لیے اپنی باری کے انتظار میں کھڑے تجارتی جہازوں کے رش کے پیش نظر بندر گاہ عباس نیول بیس کی جیٹی جہازوں کے لیے فراہم کرنا تاکہ سامان کی منتقلی میں سرعت عمل پیدا ہو سکے، بندر گاہ امام خمینی میں جیٹی کی تخصیص اور سامان اتارنے کے بعد جہازوں کی روانگی کے لیے بحریہ کے ساتھ ہم آہنگی اور ایندھن فراہم کرنے والے جہازوں کی حفاظت؛ یہ سب تعاون کی مثالیں تھیں۔[18]
جنگِ تحمیلی میں اس ادارے نے اپنی تمام تر کوششیں " بندر گاہ شہید رجائی" (بندر عباس) کو فعال کرنے پر صرف کیں۔ اس تنظیم کی پیہم کوششوں کے نتیجے میں بالآخر 1985 میں اس بندرگاہ کی 12 جیٹیاں سمندر پار جہازوں کے لنگر انداز ہونے کے لیے تیار ہو گئیں۔ جنگی حالات میں ملک کی ضرورت کے پیش نظر[19]، اس معاملے نے درآمدی بنیادی اشیاء کے لنگر انداز ہونے اور سامان اتارنے کے عمل میں ایک بڑی آسانی پیدا کر دی۔[20]
خلیج فارس پر حاکم مخصوص حالات اور ایران کے خلاف عراق کی جنگِ تحمیلی کے پیش نظر اور آبنائے ہرمز اور خلیج فارس سے باہر بندرگاہ کے ہونے کی حکومتی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، چابہار کی پہلی اہم بندرگاہ " بندر شہید بہشتی" 1982 میں تعمیر کی گئی۔ بحیرہ عمان کے ساحل پر واقع ہونے اور جنگی علاقے سے دور ہونے کی وجہ سے اس بندرگاہ نے درآمدات و برآمدات میں اہم کردار ادا کیا۔ چابہار کی دوسری بندرگاہ " بندر شہید کلانتری" تھی جس نے 1983 میں اپنی فعالیت کا آغاز کیا۔[21]
جنگِ تحمیلی کے دوران ادارہ بنادر و کشتی رانی کے 98 ملازمین شہید ہوئے، 300 زخمی اور 73 جنگی قیدی بنے۔[22]
1993 سے دریائے کارون اور دریائے اروند میں جنگ کے دوران غرق ہونے والے بحری جہازوں کو نکالنے کا کام بھی اسی ادارہ بنادر و کشتی رانی کی جانب سے شروع کیا گیا، یہاں تک کہ 2017 تک دریائے اروند سے 56 اور دریائے کارون سے 125 غرق شدہ جہاز نکالے گئے۔ اروند رود میں غرق شدہ جہازوں کو نکالنا وہاں لائی ڈریجنگ یعنی صفائی کا پیش خیمہ ہے، جو وزارتِ خارجہ اور اسی ادارے کی جانب سے عراقی فریق کے ساتھ زیرِ تصفیہ ہے۔[23]
2008 میں مجلسِ شورائے اسلامی (ایرانی پارلیمنٹ) کی منظوری سے " سازمانِ بنادر و کشتیرانی" (پورٹس اینڈ شپنگ آرگنائزیشن) کا نام بدل کر " سازمانِ بنادر و دریانوردی" (پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن) رکھ دیا گیا۔[24]
حوالہ جات
- [1]. معرفی سازمان بنادر و دریانوردی، وب سایت سازمان بنادر و دریانوردی، ww. pmo. ir/fa/aboutpmo/introduction.
- [2]. ودادی، حمید و دیگران، زنجیره تأمین و جنگ - نقش سازمان بنادر و دریانوردی در جنگ تحمیلی، تهران، انتشارات سازمان بنادر و دریانوردی، 2017، ص96
- [3]. ماهنامه بندر و دریا، «دفاع مردمی در نقطه صفر مرزی»، ش190، مئی-جون 2012، ص43
- [4]. ودادی، حمید و دیگران، سابق، ص107.
- [5]. سابق، ص 107.
- [6]. سابق، ص 108.
- [7]. سابق.
- [8]. سابق، ص 109
- [9]. سابق، ص 110.
- [10]. سابق، ص 118.
- [11]. سابق، ص 116.
- [12]. سابق، ص 110.
- [13]. سابق، ص 112.
- [14]. سابق، ص 114.
- [15]. سابق، ص 112.
- [16]. سابق، ص 116
- [17]. سابق.
- [18]. سابق، ص 96
- [19]. سابق، ص 121.
- [20]. سابق، ص 122.
- [21]. سابق، ص 124.
- [22]. تشریح نقش سازمان بنادر در دوران دفاع مقدس، پایگاه خبری وزارت راه و ترابری، 25 ستمبر 2019، www. news. mrud. ir/news/73054
- [23]. تشریح نقش سازمان بنادر در دوران دفاع مقدس، تین نیوز، شبکه خبری تحلیلی صنعت حمل ونقل، 29 ستمبر 2017، www. tinn. ir/.
- [24]. معرفی سازمان بنادر و دریانوردی، وب سایت سازمان بنادر و دریانوردی، ww. pmo. ir/fa/aboutpmo/introduction