خوزستان 92 آرمرڈ ڈویژن

خوزستان 92 آرمرڈ ڈویژن اسلامی جمہوریہ ایران کی زمینی فوج کی یونٹوں میں سے ایک ہے جس نے عراق کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کے آغاز سے ہی دشمن کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

خوزستان 92 آرمرڈ ڈویژن 1929 میں اہواز انفنٹری رجمنٹ کے نام سے قائم ہوئی۔ پھر اس میں تبدیلیاں کی گئیں اور اس کا نام بدل کر انفنٹری بریگیڈ اور پھر 6 انفنٹری ڈویژن رکھا گیا۔ 6 انفنٹری ڈویژن، جس میں 14 رجمنٹ، ایک ٹریننگ رجمنٹ اور ایک ہیڈکوارٹر شامل تھا، ابتداء میں ایک روسی تنظیمی ڈھانچے کے ماتحت تھی؛ اور 1959 سے جدید فوج کے منصوبے کے نفاذ کے ساتھ، اسے مغربی فوجی اسلوب کے مطابق منظم کیا گیا اور یہ تین بریگیڈز کے ساتھ 8 آرمرڈ ڈویژن کے طور پر کام کرنے لگی۔ 1968 میں، اس یونٹ کا نام بدل کر" 92 آرمرڈ ڈویژن" رکھ دیا گیا اور تب سے یہ اسی نام سے موسوم ہے۔

92 ڈویژن کی بریگیڈ-1 اہواز میں تعینات تھی، بریگیڈ -2 دزفول میں اور بریگیڈ- 3 دشت آزادگان میں مامور تھی۔ انقلاب سے پہلے، جدید ترین جنگی سازوسامان بشمول چیفٹین ٹینک، 92 ڈویژن کو فراہم کیے گئے تھے، جس کی وجہ سے یہ خطے کی سب سے بھاری ڈویژن بن گئی تھی۔ یہ بات مشہور تھی کہ جب بھی 92 ڈویژن کی یونٹیں فوجی مشقیں کرتیں، عراقی فوج کی یونٹیں الرٹ ہوجاتی تھیں۔

انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد 92 آرمرڈ ڈویژن، زمینی فوج کی دیگر یونٹوں کی طرح شاہی دور سے انقلابی دور میں منتقلی کے باعث عملی صلاحیت میں کمی کا شکار ہوئیں اور اس ڈویژن کی طاقت 40 فیصد سے بھی کم رہ گئی، اور اس کے بہت سے سٹاف ممبران اور جوان اہلکار یا تو دیگر شہروں منتقل کر دیے گئے یا ڈیوٹی سے فارغ کر دیے گئے⁠[1]۔

ستمبر 1980 میں، جنگ کے آغاز پر، 92 ویں ڈویژن اپنی محدود صلاحیتوں کے ساتھ، جنگ کے ابتدائی مشکل حالات میں اپنے مشن ایریا کو سپورٹ کر رہی تھی۔ اس ڈویژن کی بریگیڈ 1 اور 151 بٹالین کی کئی یونٹیں شلمچہ سے لے کر کوشک تک تعینات تھیں۔ بریگیڈ 1 کی یونٹیں، بشمول آرٹلری یونٹ، جفیر اور طلائیہ کے علاقوں میں تعینات کی گئی تھیں۔ بریگیڈ 3 کی یونٹوں کی حمایتی سرگرمیاں دشت آزادگان میں مامور تھیں جبکہ ان کی تعییناتی چزابہ گھاٹی اور بستان تھی۔ بریگیڈ 2 دزفول، 282 آرمرڈ کیولری بٹالین اور 37 آرمرڈ گروپ نے "عین خوش" اور فکہ کے علاقے پر تسلط قائم کیا۔ دشمن کی پیش قدمی کو روکنے کے علاوہ ان یونٹوں نے 5 اکتوبر 1980 کو کارون پل کی آزادی کی کارروائی، 7 اکتوبر 1980 کو آپریشن دب حردان، 13 نومبر کو سوسنگرد آپریشن، 10 جنوری 1981 کو آپریشن نصر اور نیز 2 جون 1981 کو اللہ اکبر ٹیلوں کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا⁠[2]۔

92 ڈویژن نے خوزستان کی آزادی کی سلسلہ وار کارروائیوں میں بھی حصہ لیا۔ دسمبر 1981 میں، 92 ڈویژن کی بریگیڈ 3 نے آپریشن طریق القدس میں دریا ئے کارون کے شمالی محور پر سپاہ پاسداران کی یونٹوں کے ہمراہ اپنا کردار ادا کیا⁠[3]۔

بیت المقدس آپریشن میں 92 ڈویژن اپنی تین تنظیمی بریگیڈز کے ساتھ فتح کیمپ کی شکل میں سپاہ پاسداران کی یونٹوں کے ہمراہ رہی۔

اسی طرح رمضان آپریشن میں بھی یہ ڈویژن فتح کیمپ کےڈھانچے میں سپاہ پاسداران کی یونٹوں کے ساتھ آپریشن میں شریک رہی؛ پہلے مرحلے میں آپریشن کا مکمل دار ومدار 92 آرمرڈ ڈویژن پر ہی تھا⁠[4]۔

آپریشن خیبر میں، 92 ڈویژن نے کربلا 3 کیمپ کی شکل میں سپاہ پاسداران کی یونٹوں کے ساتھ شرکت کی جس کے نتیجے میں جزیرہ مجنون پر قبضہ حاصل ہوا⁠[5]۔

1984 میں بوبیان چوکی سے لے کر فاو تک کے علاقے کی حفاظت 92 ڈویژن کے حوالے کی گئی۔ آپریشن بدر میں بھی جزیرہ مجنون کے علاقے میں92 آرمرڈ ڈویژن چھے بٹالینز کے ساتھ موجود تھی⁠[6]۔

فروری 1986 میں، 92 ویں ڈویژن نے آپریشن والفجر 8 میں اپنی آرٹلری کے ساتھ سپاہ پاسداران کی افواج کی پشتیبانی کی جس کے نتیجے میں فوج کوفاو پر قبضہ حاصل ہوا⁠[7]۔

دفاع مقدس کے دوران 92 ڈویژن کے 4500 اہلکار شہید اور 1979 زخمی ہوئے اور 2130 کو جنگی قیدی بنا لیا گیا۔ بریگیڈئیر جنرل غلام رضا قاسمی نو (مرحوم)، میجر جنرل مسعود منفرد نیاکی (شہید) اور میجر جنرل حسن اقارب پرست (شہید) عراق کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کے دوران 92 آرمرڈ ڈویژن کے اہم ترین کمانڈروں میں سے ہیں⁠[8]۔

جنگ کے بعد اور ثامن منصوبے ،جس کا مرکزی محور جغرافیائی انتظام اور ملک کی تمام سرحدوں پر افواج کی مناسب تقسیم تھی، کے نفاذ کے نتیجے میں 92 ڈویژن کی بریگیڈز 2011 میں خود مختار ہو گئیں اور 192 آرمرڈ بریگیڈ اہواز میں، 292 آرمرڈ بریگیڈ دزفول میں اور 392 آرمرڈ بریگیڈ دشت آزادگان میں کام کرنے لگی۔ البتہ یہ یونٹیں اب بھی عملی طور پر 92 ڈویژن کے ہیڈکوارٹر کے زیر نگرانی ہیں۔ ابھی اس وقت 92 آرمرڈ ڈویژن کے ماتحت بریگیڈز کے پاس جدید اور ترقی یافتہ ٹینک اور جنگی آلات ہیں جو حالات کے مطابق کارروائی میں لائے جا سکتے ہیں⁠[9]۔

امن کے ایام میں زمینی فوج کی ذاتی سرگرمیوں میں سے ایک، قدرتی آفات کے موقع پر ریسکیو تنظیموں کی مدد کرنا ہے۔ صوبہ خوزستان میں 92 ڈویژن، قدرتی آفات کے وقت عوام کی خدمت کرنے والی زمینی فوج کی سب سے اہم یونٹ کے طور پر کام کرتی ہے۔ 2019 میں اس صوبے میں جب سیلاب آیاتو 92 ڈویژن کی یونٹیں میدان عمل میں اتریں اور متاثرین کی مد کی⁠[10] ۔ ابھی اس وقت بریگیڈئیر جنرل علی خدارحمی 92 آرمرڈ ڈویژن کی کمانڈ کر رہے ہیں⁠[11]۔

 


منابع و ارجاعات:

  • [1] "جان ‌بر کفان جنوب"، صف ماہنامہ، شمارہ 364، مارچ و اپریل 2011، صفحات 89-90
  • [2] جوان آنلائن، 8 اپریل 2018، www.javanonline.ir/fa/news/900990
  • [3] درودیان، محمد، تجزیہ و تحلیل جنگ ایران و عراق، جلد 2، تہران، مرکز مطالعات و تحقیقات جنگ، چوتھا ایڈیشن، 2005، صفحہ 182
  • [4] حسینی، سید یعقوب،عملیات رمضان، تہران، ایران سبز، 2014، صفحات 59، 74
  • [5] حسینی، سید یعقوب، نبرد ہای سال 1362تا پایان 1364، تہران، ایران سبز، 2011، صفحات 321، 328
  • [6] سابق، صفحات 435، 452
  • [7] اسدی، ہیبت اللہ، ارتش در فاو ، تہران، ایران سبز، 2008، صفحہ 108
  • [8] خبر گزاری، جوان ، 8 اپریل 2018، www.javanonline.ir/fa/news/900990
  • [9] "برای ہر گونہ عملیات رزمی و ماموریتی آمادہ ایم" (ہر طرح کی جنگی اور مہمی کارروائی کے لیے تیار ہیں) ـ 392 بریگیڈ کمانڈر سے گفتگو"، صف ماہنامہ، شمارہ 444، جولائی 2018، صفحات 56-57؛۔ اکبری، حمیدرضا، "دفاع مقدس دورہ ای افتخار آمیز"، صف ماہنامہ، شمارہ 463، مارچ 2020، صفحہ 14؛ دفاع مقدس نیوز، 21 اکتوبر 2022، www.defapress.ir/fa/news/517146
  • [10] اکبری، حمیدرضا، سابق، صفحہ 15
  • [11] دفاع مقدس نیوز، 11 مارچ 2022، www.defapress.ir/fa/news/511225

تکمیل، ویرایش یا گزارش خطا