جزیرہ ہنگام

"جزیرہ ہنگام" خلیج فارس کے وسط میں اور آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے اور اسٹریٹجک اور عسکری اہمیت کی بنا پر دفاع مقدس (عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ) میں اس کا اہم کردار رہا ہے۔

یہ جزیرہ بیضوی شکل کا ہے اور صوبہ ہرمزگان کے علاقہ قشم کے جزائر میں شمار ہوتا ہے۔⁠[1] اس کا رقبہ پچاس مربع کلومیٹر ہے اور یہ جزیرہ قشم کے جنوبی کنارے سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کی بلند ترین چوٹی "میترا" ہے جو سطح سمندر سے 160 میٹر بلند ہے۔ اس جزیرے میں تین دیہات ہیں: جنوب میں "ہنگام کہنہ"، شمال میں "ہنگام نو" اور مغرب میں "غیل" کا علاقہ۔ ہنگام کی آب و ہوا مرطوب ہے اور یہاں کے زیادہ تر لوگوں کا پیشہ ماہی گیری اور ملاح کا کام ہے۔⁠[2] جزیرے کا نام دو لفظوں "ہن" (جس کے معنی ہستی یا "ہے"کے ہیں) اور "گام" (جس کے معنی گاؤں کے ہیں) سے مل کر بنا ہے اور یہ اس قدیم گاؤں کی یاد دلاتا ہے جو کبھی اس جزیرے پر آباد تھا۔⁠[3] آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے خلیج فارس میں آمد و رفت (بحری ٹریفک) کو کنٹرول کرنے میں اس جزیرے کا کردار اس قدر اہم ہے کہ ماضی میں یورپی باشندے اسے خلیج فارس پر تسلط کی دو کنجیوں میں سے ایک سمجھتے تھے۔ اسی وجہ سے انگریزوں نے خلیج فارس میں اپنا بحری ہیڈکوارٹر اسی جزیرے میں قائم کیا اور یہاں سے خلیج فارس میں بحری آمد و رفت پر نظر رکھتے تھے۔⁠[4] یہ صورت حال 1928 تک جاری رہی یہاں تک کہ ایران کی بحریہ نے "غلام علی بایندر" کے حکم پر اس جزیرے کو انگریزوں کے قبضے سے آزاد کرا لیا اور اس پر ایران کا پرچم لہرا دیا۔⁠[5]

1980 میں عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی جزیرہ ہنگام نے ایک بار پھر اپنا اسٹریٹجک کردار سنبھال لیا اور دو جزیرے"ہرمز" اور "لارک" کے ساتھ مل کر دشمن کی جارحیت کے خلاف ایران کی دفاعی لائن اور Bridgeheadکے طور پر سامنے آیا۔⁠[6]1983 میں بعثی حکومت نے فرانس سے پانچ عدد "سپر ایتنڈارڈ" طیارے ایکسوسیٹ نامی میزائلوں سمیت حاصل کیے تاکہ ایران کی تیل برآمد کرنے کی صلاحیت کو ختم کیا جا سکے۔ اس کے جواب میں، ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی اور اکتوبر 1983 میں جزیرہ ہنگام اور دیگر جزائر میں اپنی فوجی پوزیشنوں کو مضبوط کیا اور تفتیشی اور معاون پروازیں انجام دے کر آبنائے ہرمز بند کرنے کے لیے ضروری تیاریاں مکمل کر لیں۔ اس اقدام کے نتیجے میں، عمان کے سلطان قابوس نے امریکہ کو خبردار کیا کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی ضروری صلاحیت رکھتا ہے۔⁠[7] اسی وجہ کے ساتھ ساتھ خلیج فارس میں ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست جنگ کے امکان نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی کل کمانڈ کو 12 دسمبر 1983 کو "خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں ایران کے ساحلوں اور جزائر کا دفاع" کے عنوان سے ایک ہدایت نامہ جاری کرنے پر مجبور کیا، جس کی بنیاد پر ملک کے نویں علاقے (صوبہ فارس و بوشہر) کے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ کیمپ نوح علیہ السلام اور مرکزی اسٹاف کی نگرانی اور ہم آہنگی سے، صوبہ فارس کے 19ویں ڈویژن فجر سے ایک مکمل مسلح کمپنی جزیرہ ہنگام میں تعینات کرنے کے ساتھ ساتھ جزیرے کے لیے فضائی کوریج فراہم کرنے، توپ خانے کی فائرنگ اور دیگر دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے ضروری اقدامات انجام دیں۔⁠[8] البتہ یہ احکامات صرف جزیرہ ہنگام کے لیے نہیں تھا بلکہ اس میں قشم، بندر عباس، لارک اور دیگر علاقے بھی شامل تھے۔ اگرچہ عملی طور پر آبنائے ہرمز کو بند نہیں کیا گیا، لیکن خلیج فارس میں جوابی کارروائی اور برتری برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات انجام دے دیے گئے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے جزیرہ ہنگام اور خلیج فارس کے پانیوں میں فوجی صلاحیت تعینات کرنے کے علاوہ، ایک اہم اقدام" کرم ابریشم" میزائل کا حصول تھا۔ 1984 میں، ایران نے چین سے دو سو کرم ابریشم بحری جہاز شکن (اینٹی شپ) میزائل خریدے اور ان میں سے کچھ کو دو جزیروں، ہنگام اور ہرمز میں تعینات کر دیا تاکہ ضرورت پڑنے پر دشمن کے بحری جہازوں کو نشانہ بنا کر خلیج فارس میں اپنی بحری برتری برقرار رکھ سکے۔⁠[9] 2 جولائی 1988 کو صبح 10:25 بجے، امریکی جنگی جہاز وینسینس نے ایران کے مسافر بردار طیارے کو، جو اس وقت بین الاقوامی فضائی راستے سے دبئی جا رہا تھا، جزیرہ ہنگام کے قریب میزائل سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اس کے تمام 290 مسافر شہید ہو گئے۔⁠[10]

مسلط کردہ جنگ کے بعد، جزیرہ ہنگام نے اپنی سابقہ اہمیت برقرار رکھی۔ خلیج فارس کے دہانے پر واقع جزائر ہرمز و لارک کے ساتھ اس جزیرے کو بحری کنٹرول و نگرانی کی صلاحیت کے لحاظ سے خاص اہمیت حاصل ہے اور یہ خطرات کے مقابلے میں ایران کی دفاعی ڈھال اور سپر جانے جاتے ہیں۔ نیز ہنگام کا قشم سے قرب و جوار اس کی رسد و پشتیبانی کو آسان بناتا ہے۔⁠[11] جزیرہ ہنگام چونکہ مناسب گہرائی رکھتا ہے اس لیے اسے جنگی جہازوں اور آبدوزوں کی تعیناتی کے لیے ایک مثالی مقام کی حیثیت حاصل ہے۔⁠[12] ماضی میں بھی خلیج فارس میں آمد و رفت کو کنٹرول کرنے میں "ہنگام" کا اہم کردار رہا ہے اور اب اپنے اسٹریٹجک اور عسکری کردار کے ساتھ ساتھ، یہ جزیرہ ڈولفنز کی موجودگی اور خوبصورت ساحلوں کی وجہ سے سیاحت کے لیے بھی ایک بہترین مقام ہے۔⁠[13]12 اگست 2015 کو دو گمنام غوطہ خورشہیدوں کے پیکر عوامی تزک و احتشام کے ساتھ اس جزیرے میں سپرد خاک کیے گئے۔

 


منابع و ارجاعات:

  • [1] سایبانی، احمد، جغرافیای تاریخی هرمزگان، بندرعباس: نسیم بادگیر، 2020، ص 138۔
  • [2] سایبانی، احمد، سابق، ص 146 و 147۔
  • [3] افشار سیستانی، ایرج، نام دریای پارس و دریای مازندران و بندرها و جزیره‌های ایرانی، تہران: کشتیرانی والفجر هشت، 1997، ص 155۔
  • [4] سایبانی، احمد، سابق، ص 147۔
  • [5] فصلنامہ مطالعات تاریخی، شمارہ 65، تابستان 2018، ص 121۔
  • [6] فصلنامہ جغرافیایی نظامی و امنیتی، شمارہ 1، بہار 2015، ص 113۔
  • [7] نعمتی، یعقوب، کریمی، حجت‌الله، اکبرپور، محمدجواد، روز شمار جنگ ایران و عراق، کتاب بیست و ہفتم: آماده سازی عملیات والفجر 4، تہران: مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، 2015، ص 744 و 745۔
  • [8] لطف‌الله‌زادگان، علیرضا، ہمتی، ایرج، روزشمار جنگ ایران و عراق، کتاب بیست و ہشتم: نخستین عملیات بزرگ در شمال غرب والفجر 4، تہران: مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، 2017، ص 1103۔
  • [9] جمشیدی، محمدحسین، یزدان فام، محمود، روزشمار جنگ ایران و عراق، کتاب چهل و ہفتم: آخرین تلاش‌ها در جنوب، تہران: مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، تیسرا ایڈیشن، 2011، ص 409۔
  • [10] ماہنامہ صنایع هوایی، سال 26، شمارہ 298، ص 26 و 27۔
  • [11] قلی زادہ، سیدابراہیم، کلاری، بشیر، سابق، ص 113۔
  • [12] مجلہ سیاست دفاعی، سال 21، شمارہ 84، بہار 2015، ص 112۔
  • [13] اسلامی چاہوئی، محمد، نقش اقتصاد مقاومتی در توسعہ جزیرہ قشم با تأکید بر گردشگری طبیعی، کانفرانس بین الاقوامی تغییر و تحول، 6 و 7 اکتوبر 2016، ص 7

تکمیل، ویرایش یا گزارش خطا