سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 514
قرارداد نمبر 514، ایران کے خلاف عراق کی مسلط کردہ جنگ (جنگِ تحمیلی) کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی دوسری قرارداد تھی، جو 12 جولائی 1982 کو منظور کی گئی۔
ایران کے خلاف بعثی حکومت کی مسلط کردہ جنگ کے آغاز سے لے کر ایران کی جانب سے قرارداد 598 کی منظوری تک، سلامتی کونسل ہر سال ایک قرارداد جاری کرتی رہی، لیکن ان تمام قراردادوں کی خاص بات یہ تھی کہ ان میں جارح (حملہ آور) کا تعین نہیں کیا گیا تھا۔ ان قراردادوں میں دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ کو " ایران اور عراق کے درمیان صورتحال" کا عنوان دیا جاتا تھا۔ سلامتی کونسل کی عموماً تمام قراردادیں محض سفارشی نوعیت کی تھیں اور ان میں جارح عراق کے خلاف کسی قسم کی معاشی، سمندری یا فضائی پابندیوں کی تجویز نہیں دی گئی تھی۔ یہ صورتحال تب تک برقرار رہی جب تک ایرانی فوجیوں نے میدانِ جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرنا اور دشمن کو شکست دینا شروع نہیں کر دیا۔[1]
جنگ کے بدلتے ہوئے رخ کے ساتھ ہی سلامتی کونسل کے قراردادیں جاری کرنے کے طریقے میں بھی تبدیلی آگئی اور ایرانی افواج کی پیش قدمی روکنے اور عراق کی حمایت کی غرض سے سلامتی کونسل کی یہ دوسری قرارداد جاری کی گئی۔ قرارداد 514 کے ذریعے سلامتی کونسل نے اپنے سابقہ مؤقف کو دہرایا اور فریقین کو جنگ بندی اور بین الاقوامی سرحدوں تک واپسی کی سفارش کی۔ یہ قرارداد ایرانی فوجیوں کی شجاعت کے ردِعمل میں اور ان کی مسلسل فتوحات میں تعطل پیدا کرنے کے لیے جاری کی گئی تھی۔ اس قرارداد کے دیباچے میں سلامتی کونسل نے " دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے طول پکڑنے، بے گناہ انسانوں کی ہلاکت، مقامات و تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات اور عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرات" پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ اس کے ساتھ ہی علاقے میں اقوامِ متحدہ کی امن فوج اور مبصرین کی تعیناتی کے ذریعے فوری جنگ بندی اور دونوں فریقوں کی افواج کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں تک واپسی کا مطالبہ کیا۔[2]
سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 514 کا متن درج ذیل ہے:
«سلامتی کونسل، " ایران اور عراق کے درمیان صورتحال" کے عنوان کے تحت اس موضوع پر دوبارہ غور کرتے ہوئے؛ دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے جاری رہنے پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے جس کے نتیجے میں بھاری جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں اور جس نے امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے؛
اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2 کی دفعات کو یاد دلاتے ہوئے اور اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہ خطے میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے ان دفعات پر مکمل عمل درآمد ضروری ہے؛
چارٹر کے آرٹیکل 24 کو یاد دلاتے ہوئے، جس کے تحت بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کی بنیادی ذمہ داری سلامتی کونسل کو سونپی گئی ہے؛
قرارداد نمبر 479 (1980) کو یاد کرتے ہوئے جو 28 ستمبر 1980 کو متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی، اور سلامتی کونسل کے صدر کے 5 نومبر 1980 کے بیان (S/14244) کو مدنظر رکھتے ہوئے؛
ان کوششوں کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے جو خاص طور پر اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل، ان کے نمائندے، غیر وابستہ تحریک (NAM) اور اسلامی کانفرنس تنظیم (OIC) نے ثالثی کے سلسلے میں انجام دی ہیں:
1. فوری جنگ بندی اور تمام فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتی ہے۔
2. مزید برآں، بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں تک افواج کی واپسی کا مطالبہ کرتی ہے۔
3. یہ فیصلہ کرتی ہے کہ جنگ بندی اور افواج کی واپسی کی تصدیق، نگرانی اور جائزے کے لیے اقوامِ متحدہ کے مبصرین کا ایک گروپ بھیجا جائے، اور سیکرٹری جنرل سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس مقصد کے لیے ضروری انتظامات کے حوالے سے اپنی رپورٹ سلامتی کونسل کو پیش کریں۔
4. پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ تمام اہم مسائل کے منصفانہ اور باوقار حل کے لیے، جو دونوں فریقوں کو قبول ہو، سیکرٹری جنرل کے ذریعے مربوط ثالثی کوششیں جاری رکھی جائیں۔ یہ حل اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے اصولوں بشمول خودمختاری کے احترام، آزادی، علاقائی سالمیت اور ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت پر مبنی ہونا چاہیے۔
5. تمام دیگر ممالک سے درخواست کرتی ہے کہ وہ ہر اس اقدام سے گریز کریں جس سے تنازعات کو ہوا ملے، اور اس قرارداد پر عمل درآمد میں سہولت فراہم کریں۔
6. سیکرٹری جنرل سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ تین ماہ کے اندر اس قرارداد پر عمل درآمد کے حوالے سے اپنی رپورٹ پیش کریں۔»[3]
یہ قرارداد جو ثامن الائمہ (27 ستمبر 1981)[4]، طریق القدس (29 نومبر 1981)[5]، فتح المبین (22 مارچ 1982)[6] اور بالآخر بیت المقدس (30 اپریل 1982)[7] جیسے کامیاب آپریشنز کے بعد جاری کی گئی تھی[8]، ایران کی جانب سے قبول نہیں کی گئی۔ سیکرٹری جنرل نے بھی 15 جولائی 1982 کو سلامتی کونسل میں اپنی رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا کہ بعثی حکومت نے قرارداد 514 کو قبول کر لیا ہے جبکہ ایران نے اسے مسترد کر دیا ہے۔[9]
قرارداد 514 کے ساتھ ایران کی مخالفت کی وجہ یہ تھی کہ اس قرارداد میں صرف بین الاقوامی سرحدوں تک واپسی کا ذکر تھا، جبکہ جنگی قیدیوں کے تبادلے اور جنگ شروع کرنے والے ذمہ دار (جارح) کے تعین کا کوئی تذکرہ نہیں تھا۔ دوسری طرف صدام نے اپنی کمزور پوزیشن کو دیکھتے ہوئے فوراً اس قرارداد کو تسلیم کر لیا اور امن کا راگ الاپنا شروع کر دیا، حالانکہ یہ قرارداد اصولی طور پر جنگ کے انتہائی بنیادی مسائل، یعنی قیدیوں کے تبادلے تک کا کوئی حل پیش نہیں کرتی تھی اور سب کچھ مستقبل پر چھوڑ دیا گیا تھا۔[10] یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا، یہاں تک کہ 1988 میں قرارداد 598 جاری ہوئی جسے مختلف مراحل کے بعد دونوں ممالک نے قبول کر لیا۔
حوالہ جات
- [1]. قریشی، سیدرسول، «بازخوانی مسئولیت بین المللی رژیم بعث عراق در جنگ تحمیلی علیه ایران: تحلیل قطعنامه های شورای امنیت و سازوکار تعیین متجاوز»، فصلنامه علمی ترویجی مطالعات دفاع مقدس، جلد 4، شمارہ 3، 1397، صفحہ 56
- [2]. ویب سائٹ مرکز اسناد انقلاب اسلامی، «قطعنامه های شورای امنیت در حمایت از جنایت صدام»، https://irdc.ir/fa/news/69۔
- [3]. ویب سائٹ مؤسسه مطالعات و پژوهش های سیاسی، «قطعنامه 514 شورای امنیت»، psri. ir۔
- [4]. دری، حسن، اطلس راهنما 5 - کارنامه نبردهای زمینی، تہران، مرکز مطالعات و تحقیقات جنگ، 1381، صفحہ 78۔
- [5]. ایضاً، صفحہ 79۔
- [6]. ایضاً، صفحہ 80
- [7]. جعفری، مجتبی، اطلس نبردهای ماندگار، اشاعت 35، تہران، سوره سبز، 1393، صفحہ 76۔
- [8]. قریشی، سیدرسول، ایضاً، صفحات 58 اور 59۔
- [9]. ایضاً، صفحہ 59۔
- [10]. نوائیان رودسری، جواد، «آیا پذیرش صلح بعد از آزادسازی خرمشهر ممکن بود؟»، روزنامه خراسان، سال 75، شمارہ 21316، 1402، صفحہ 6