جنگی جرائم

عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ کے دوران اس ملک کی افواج کی جانب سے جو ظالمانہ اقدامات کیے گئے، وہ جنگی جرائم کی تعریف میں آتے ہیں۔

جنگی جرائم سے مراد جنگ کے دوران شہریوں یا جنگی قیدیوں کا جان بوجھ کر قتل عام، تشدد، یرغمال بنانا، شہری املاک کی غیر ضروری تباہی اور جنسی زیادتی جیسی کارروائیاں ہیں۔⁠[1]

بیسویں صدی میں خانہ جنگیوں اور بین الاقوامی جنگوں میں بے شمار جنگی جرائم ہوئے، جن میں سے بعض، جیسے جنوبی افریقہ، یوگوسلاویہ، روانڈا، یوکرین، کمبوڈیا اور سوڈان میں عوام کے قتل عام⁠[2] کو زیادہ میڈیا کوریج ملی اور ان جرائم کی عدالتی کارروائی اندرون ملک اور بین الاقوامی عدالتوں میں ہوئی۔ امریکہ اور جاپان نے مختلف جنگوں میں سب سے زیادہ جنگی جرائم اور اجتماعی قتل عام کیے ہیں، جن کا بڑا حصہ دوسری جنگ عظیم میں تھا۔ ان دونوں ممالک نے مجموعی طور پر جنگوں میں بیس ملین تک شہریوں کو ہلاک کیا۔

عراق کی طرف سے ایران پر مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ کے دوران، بعثی حکومت نے جنگی محاذوں اور غیر جنگی علاقوں میں عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے،⁠[3] بڑے پیمانے پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال، قیدیوں کی بے حرمتی،⁠[4] اور دیگر طریقوں سے بارہا جنگی جرائم کا ارتکاب کیا، بغیر اس کے کہ بین الاقوامی برادری نے کوئی موثر ردعمل دکھایا ہو۔

عراق کی فوج نے ایران پر اپنے وسیع حملے اور سرحدی دیہات و شہروں پر قبضے کے بعد، جنیوا کنونشن کی چوتھی قرارداد کے آرٹیکل 49 اور 63 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، مقبوضہ علاقوں کے چار ہزار باشندوں بشمول سن رسیدہ افراد، خواتین اور بچوں کو عراق کی سرزمین میں منتقل کر دیا، اور جنگ کے کئی سال گزر جانے کے بعد بھی ان میں سے بڑی تعداد کا کچھ اتہ پتہ نہیں۔⁠[5]

ایک اور جنگی جرم جو شہریوں کے ساتھ ہوا، وہ بعثی فوج کی طرف سے مقبوضہ علاقوں میں شہریوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر شہید کرنا ہے۔⁠[6]

زخمیوں کا قتل عام، قیدیوں پر تشدد اور عراق کے کیمپوں میں قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک، جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ عراقی قیدیوں کے اعترافات، ریڈ کراس کمیٹی کے انسپکٹرز، بین الاقوامی مبصرین اور عینی شاہدین جیسے واضح دلائل سے ثابت ہیں، ان دیگر جرائم میں سے ہیں جن میں بعثی حکومت ملوث تھی۔⁠[7]

بعثی حکومت نے اندھا دھند حملوں پر واضح پابندی کے باوجود رہائشی علاقوں، غیر محفوظ شہروں اور شہری آبادی پر وسیع فضائی، میزائل اور توپ خانے کے حملے کیے۔⁠[8] بعثی حکومت نے رہائشی علاقوں پر 4695 سے زائد بار حملہ کرکے اس بین الاقوامی قانون کی ہزاروں بار خلاف ورزی کی، جس کے دوران رہائشی علاقوں کو 308 بار میزائل، 2695 بار فضائی اور 1693 بار توپ خانے کے حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں 12420 سے زائد افراد شہید اور 53118 زخمی ہوئے۔⁠[9]

بعثی حکومت کا ایک اور جرم عمومی جگہیں اور غیر فوجی اہداف کے ساتھ اس کا برا سلوک ہے۔ ایرانی سرزمین کی آزادی کے بعد، خوزستان کے 1300 سے زائد دیہات تباہ ہو چکے تھے۔⁠[10]

بعثی حکومت کا ایک اور جرم زخمی قیدیوں پر تشدد، بدسلوکی اور ان کا قتل عام ہے۔ اس حکومت نے ایرانی قیدیوں کی ایک تعداد کو ابو غریب، الرشید، ناصریہ اور عراقی وزارت دفاع جیسی خفیہ جیلوں میں بین الاقوامی مبصرین کی نظروں سے پوشیدہ رکھا تھا۔⁠[11]

دیگر جنگی جرائم میں 8 جنوری 1981 کو ہویزہ کے مقامی باشندوں اور فوجیوں کو زندہ درگور کرنا شامل ہے۔

عراقی حکومت کے دیگر جرائم میں بحری جہاز رانی کی لائنوں پر حملہ اور پرواز کی سلامتی کو خطرہ میں ڈالنا بھی شامل ہیں۔ اس طرح کی کارروائیوں کی تاریخ 1982 کے اوائل اور الجزائر کے وزیر خارجہ کے ایران کے سفر سے ملتی ہے۔ اس وقت، جب بن یحیی اور ان کے ساتھی مسلط کردہ جنگ کے بارے میں گفتگو کے لیے ایران جا رہے تھے، ان کے طیارے کو ایران ترکی کی سرحد پر عراقی لڑاکا طیاروں نے نشانہ بنایا اور الجزائر کے وزیر خارجہ اور ان کے ساتھی جاں بحق ہو گئے۔ 20 فروری 1986 کو بھی دو عراقی لڑاکا طیاروں نے ایران کی آسمان نامی ایئر لائن کی ڈومیسٹک فلائیٹ جو تہران سے اہواز جا رہی تھی، پر حملہ کر کے اسے مارگرایا۔ اس حملے میں اس غیر عسکری طیارے کے عام42 مسافر شہید ہوئے۔ نیز 15 اکتوبر 1986 کو عراقی حملہ لڑاکا طیاروں نے بوئنگ 737 طیارے پر جو شیراز شہر سے بندر عباس جا رہا تھا، اس شہر کے ہوائی اڈے پر مسافروں کے سوار ہونے کے دوران میزایل سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں تیس مسافر شہید ہوئے۔ اس کے علاوہ، بعثی حکومت نے طیارہ اغوا کاروں کی مدد کرتے ہوئے حتی ایران کے دو اغوا شدہ مسافر طیاروں کو اسکورٹ کرکے اپنی سرزمین پر اتار لیا اور یوں شکاگو کنونشن اور 1944 کے بین الاقوامی فضائی معاہدے کی خلاف ورزی کی۔⁠[12]

کیمیائی حملے ایرانی قوم کے خلاف بعثی حکومت کا سب سے بڑا جنگی جرم ہیں۔ مسلط کردہ جنگ کے اوائل میں شلمچہ کے علاقے میں، بعثی حکومت نے پہلی بار محدود پیمانے پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے اور دوسری بار میمک کے علاقے میں یہی عمل دہرایا۔ عراقیوں نے نومبر 1982 سے، وقفے وقفے سے مہلک کیمیائی ایجنٹس کا استعمال کیا۔ 1983 میں عراق نے پیرانشہر اور پنجوین کے علاقے کے آس پاس میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ ایران نے پنجوین کے واقعے کو "جنگی جرم" قرار دیا اور کیمیائی جنگ کے زخمیوں کو تہران کے ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔ 1987 کے اوائل میں عراق نے ایک بار پھر سومار کے مرکزی محاذ پر بڑے پیمانے پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے۔⁠[13]

عراق نے مسلط کردہ جنگ میں بڑے پیمانے پر زہریلے کیمیائی مادوں کا استعمال کیا۔ تقریباً سات ہزار توپ اور مارٹر گولے جن میں زہریلے مواد تھے، ایرانی افواج کے ٹھکانوں پر داغے گئے۔ نیز مسلط کردہ جنگ کے دوسرے دور یعنی 1983 سے لے کر 1986 کے آخر تک دشمن کی افواج نے کربلائے 4 اور 5 کی لڑائیوں میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا اور 230 بار سے زائد مرتبہ فوجی ٹھکانوں، پشتیبانی مراکز اور عقبی علاقوں اور شہروں، دیہات اور غیر فوجی علاقوں پر کیمیائی حملے کیے، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 44 ہزار افراد شہید اور زخمی ہوئے۔⁠[14]

28 جون 1987 کو سردشت پر کیمیائی بمباری اس نوعیت کا سب سے خوفناک اور ہولناک حملہ تھا جس کے نتیجے میں بے شمار شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سردشت کو ہیروشیما کے ایٹم بمباری کے بعد دنیا کا پہلا شہر قرار دیا جو کیمیائی ہتھیاروں کا نشانہ بنا۔⁠[15] سردشت میں پیش آنے والا سانحہ کاجاپان کے شہروں "ہیروشیما اور ناگاساکی" پر امریکہ کی طرف سے کی گئی ایٹم بمباری جیسے سانحات سے موازنہ کیا جا سکتا ہے۔⁠[16]

3 جولائی 1988 کو امریکی جنگی جہاز کا ایران کے مسافر طیارے پر حملہ، 15 مارچ 1988 کو عراق کا حلبچہ پر کیمیائی حملہ جس کے نتیجے میں تقریباً پانچ ہزار افراد ہلاک ہوئے، دہشت گردوں خصوصاً منافقین نامی تنظیم کی حمایت کرکے بے گناہ افراد کا قتل، جنگی جرائم کی مثالیں ہیں۔ اس کے علاوہ اسکولوں پر حملے، جن میں بطور خاص شہید حمد اللہ پیروز بہبہان کے اسکول میں 69 طالب علم اور زینبیہ میانہ کے اسکول میں 33 طالب علم شہید ہوئے، اور طبی مراکز پر حملے، جن میں مسلط کردہ جنگ کے دوران ایران کے 200 سے زائد امدادی مراکز، 150 ایمرجنسی پوسٹیں اور پانچ ہسپتال نشانہ بنے، شامل ہیں۔

اقوام متحدہ نے ایران کے خلاف عراقی جنگی جرائم کے حوالے سے انتہائی کمزور کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ یہاں تک کہ بہت سے قانونی اور سیاسی ماہرین کے خیال میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے جاری رہنے کی وجہ بڑی طاقتوں کے دباؤ کی بنا پر اقوام متحدہ کی ناقص کارکردگی تھی۔⁠[17]

مسلط کردہ جنگ میں، اقوام متحدہ نے عراق کے حق میں صرف آٹھ کمزور اور جانبدارانہ قراردادیں جاری کرنے پر اکتفا کیا اور اس تنظیم کے وفود کی ایران کے عوام کے خلاف جنگی جرائم کے وقوع پذیر ہونے کی رپورٹس کے باوجود، بعثی حکومت کے خلا⁠[18]ف کوئی عملی اقدام نہیں کیا۔ اس تنظیم نے اب تک جنگ سے متاثرہ افراد کو معاوضہ ادا کرنے کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں کیا اور حتیٰ کہ بعثی حکومت کے سربراہوں کے قانونی مقدمے سے بھی انکار کر دیا ہے۔

بین الاقوامی تنظیموں اور عدالتوں کی طرف سے ایران کے خلاف جنگی جرائم میں ملوث افراد کے قانونی مقدمے سے انکار کے باوجود، ایک موقع پر نیدرلینڈز کے شہری "فرانس وین آنرات" کو 6 دسمبر 2004 کو ہیگ کے شہر کی عدالت کی جانب سے 1980 کی دہائی میں عراق کو کیمیائی مواد بھیجنے کے الزام میں، جو سرسوں کی گیس بنانے کے لیے استعمال ہوا تھا، قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایران کے نیدرلینڈز کی عدالت کے ساتھ تعاون نے اس کیس کو نئی جہت دی۔ عدالت نے عدالتی استغاثہ کی جانب سے فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد، نیدرلینڈز کے قوانین کے مطابق جنگی جرائم میں معاونت کی زیادہ سے زیادہ سزا (پندرہ سال قید) سنائی۔⁠[19] جرم سے ہونے والے نقصان اور پندرہ کیمیائی متاثرین کے معاوضے کے مطالبے کے سلسلے میں جو کارروائی کے دوران بطور مدعیان خصوصی موجود تھے، عدالت نے مدعا علیہ کو ہر دعوے کے لیے 67,680 یورو ہرجانے اور سو یورو عدالتی اخراجات ادا کرنے کا حکم دیا۔⁠[20]

 

 

 


منابع و ارجاعات:

  • [1] جوانی، جمشید، بررسی جنایات جنگی در اساسنامه دیوان کیفری بین‌المللی، دانشگاه آزاد واحد تهران مرکز، ص 123
  • [2] فصلنامه پژوهش حقوق و سیاست، سال سیزدهم، شمارہ 33، 2011، ص 3 و 4
  • [3] مجله پژوهش‌های حقوقی (علمی-ترویجی)، شمارہ 26، 2014، ص 4 و 7۔
  • [4] فصلنامه علمی دیدگاه‌های حقوق قضایی، دورہ 25، 2020، شمارہ 90، ص 71۔
  • [5] غریبی، آرش، 2013، معاونت در جنایات جنگی، مطالعه موردی جنگ تحمیلی عراق علیه ایران، پایان‌نامه کارشناسی ارشد حقوق جزا و جرم‌شناسی، دانشگاه شیراز، ص 152۔
  • [6] سابق، ص 153۔
  • [7] سابق، ص 156۔
  • [8] سابق، ص 159۔
  • [9] سابق، ص 160۔
  • [10] سابق۔
  • [11] سابق، ص 162۔
  • [12] سابق، ص 164-163۔
  • [13] سعادت، هادی، 2018، بررسی حقوقی قتل‌عام در ایران مطالعه موردی؛ سردشت، پایان‌نامه کارشناسی ارشد فقه و حقوق اسلامی، دانشگاه ارومیه، ص 87 و 88۔
  • [14] سابق، ص 88۔
  • [15] سابق
  • [16] سابق
  • [17] قنبری کرمانشاهی، محمدرضا، 2012، راهبرد سازمان ملل متحد در جنگ عراق علیه ایران، پایان‌نامه کارشناسی ارشد تاریخ، دانشگاه لرستان، ص 221
  • [18] سابق، ص 230۔
  • [19] مجله حقوقی، نشریه مرکز امور حقوقی بین‌المللی معاونت حقوقی و امور مجلس ریاست‌جمهوری، شمارہ 37، 2007، ص 319-317
  • [20] سابق، ص 319۔

تکمیل، ویرایش یا گزارش خطا