زاهدان 88 آرمرڈ ڈویژن

"زاهدان 88 آرمرڈ ڈویژن" ملک کے جنوب مشرق میں موجود فوج کی اہم یونٹوں میں سے ایک ہے جس نے عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران عراقی فوج کے خلاف ملکی دفاع میں اہم کردار ادا کیا۔

اس ڈویژن کی تاریخ تقریباً ایک سو سال پرانی ہے۔ 1921 میں جب ایران میں جدید فوج کی بنیاد رکھی گئی تو مختلف علاقوں میں موجود فوجی دستوں کو یکجا کیا گیا اور 4 جنوری 1922 کو "مشرق ڈویژن" کی تشکیل عمل میں آئی۔ ملک کے مشرقی علاقے میں کئی مستقل چھاؤنیاں قائم کی گئیں جن میں سے ایک "سیستان چھاؤنی" تھی، اور مشرق ڈویژن کے زیر کمان "سیستان بریگیڈ" تشکیل پائی۔

ستمبر 1941 میں اتحادی افواج کے ہاتھوں ایران پر قبضے اور رضا شاہ کی تخت سے دستبرداری کے بعد فوج کی بیشتر یونٹوں سمیت سیستان بریگیڈ بھی تحلیل کر دی گئی، لیکن چھ ماہ بعد اسے دوبارہ منظم کرکے "مکّران14 بریگیڈ" کا نام دے دیا گیا۔ سن 1945 میں جب اتحادی افواج نے ایران سے اپنی فوجیں واپس بلا لیں تو مکّران14 بریگیڈ کے دستے سیستان، زاہدان اور خاش کی چھاؤنیوں میں متعین ہو گئے۔

سن 1968 میں ملک کی مشرقی سرحدوں کی پہلے سے بہتر حفاظت کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ مکّران بریگیڈ (اسی دوران "بم" شہر کو سیستان کے علاقے سے الگ کر دیا گیا) کو تبدیل کر کے " آزاد چابہار88 بریگیڈ" کا نام دے دیا جائے اور اسے بین الاقوامی سرحدوں اور بحیرہ عمان کے ساحلوں کی نگہبانی اور خطے میں ہونے والی نا امنی کو روکنے کے لیے چابہار شہر میں تعینات کر دیا جائے۔ سن 1975 میں چابہار بریگیڈ کی طاقت کو بڑھا کر تین بٹالین کر دیا گیا جن میں دو میکانائزڈ بٹالین 197 اور 196 اور ایک انفنٹری بٹالین 157 شامل تھیں۔ سن 1976 میں چابہار بریگیڈ کی جنگی حیثیت کو مکمل کرنے کے لیے دوبارہ ملک کے دیگر علاقوں سے یونٹیں شامل کی گئیں جن میں خوزستان سے ہفتگل ٹینک بٹالین231، زاہدان سے ٹینک بٹالین 255 اور مراغہ سے آرٹلری بٹالین 300 اور 381 شامل تھیں۔ سن 1976 ہی میں 88 آرمرڈ بریگیڈ کو چابہار شہر سے زاہدان منتقل کر دیا گیا اور اس کا نام" آزاد 88 آرمرڈ بریگیڈ زاہدان" رکھ دیا گیا⁠[1]۔

اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ملک مختلف داخلی بحرانوں کا شکار ہو گیا۔ سیستان و بلوچستان میں بھی فسادات پھوٹ پڑے اور مسلح جھڑپیں شروع ہو گئیں جن کا مقصد ایران کو تقسیم کرنا تھا؛ 88 بریگیڈ اور دیگر مسلح دستوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئےان فسادات کوپھیلنے سے روک دیا گیا ۔ 88 بریگیڈ کی اہم ترین کارروائیوں میں بمپور اور ایرانشہر میں آشوب بپا کرنے والوں کا خاتمہ شامل ہے۔ کچھ عرصے بعد صوبہ سیستان و بلوچستان کی پاکستان اور افغانستان سے سرحد ملنے کی وجہ سے 88 بریگیڈ کو ترقی دے کر " زاہدان88 آرمرڈ ڈویژن" بنا دی گئی اور زمینی فوج کی تمام یونٹوں سے کئی دستے اس ڈویژن کے سپرد کیے گئے۔ 88ڈویژن کی یونٹوں میں زاہدان شہر میں آرمڈ بریگیڈ-1، خاش میں آرمڈ بریگیڈ-2، ایران شہر میں آرمرڈ بریگیڈ-3، زابل میں 212 آرمرڈ کیولری بٹالین، ایرانشہر میں آرٹلری ڈویژن اور زاہدان میں ڈویژن سپورٹ کو منظم اور متعین کیا گیا⁠[2]۔

عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے آغاز پر خصوصی عملے کے کئی افراد بشمول ماہرین (ٹینک عملہ، اے پی سی عملہ، انجینئرنگ، اینٹی ٹینک ہتھیار، مواصلات وغیرہ) انفرادی طور پر اور رضاکارانہ طور پرآپریشنل علاقوں کی جانب روانہ ہوئے۔ چند ماہ بعد، سلمان گروپ کے نام سے (سلمان 5 سے 5 تک)یونٹیں جنوبی، مغربی اور شمال مغربی محاذوں پر بھیجی گئیں⁠[3]۔

1983 میں ڈویژن 88 کی یونٹیں بریگیڈ کی شکل میں محاذ پر بھیجی گئیں ۔ جون 1983 میں ایران شہر کی تیسری آرمرڈ بریگیڈ کو شمال مغربی علاقے اور مریوان بھیجا گیا جس نے ظفر 2 اور 2 آپریشنز میں حصہ لیا⁠[4]۔ اکتوبر 1983 میں زاہدان کی آرمرڈ بریگیڈ-1 اپنی تمام ماتحت یونٹوں کے ساتھ شمال مغربی علاقے (مریوان) روانہ کی گئی اور ظفر 6 آپریشن کی فرنٹ لائنز پر موجود رہی⁠[5]۔

سن 1983 کے آخر میں خاش کی آرمرڈ بریگیڈ-2 کو میمک کے آپریشنل ایریا اور پھر شمال مغربی علاقے میں مریوان اور پنجوین بھیجا گیا جس نے والفجر 4 آپریشن میں شرکت کی⁠[6]۔

دسمبر 1985ء میں ڈویژن 88کے باقی ماندہ دستوں کو صوبہ گیلان کے مغرب میں اور پھر جنوری 1986 میں سومار بھیجا گیا جہاں انہوں نے اس علاقےکا اور "نفت شہر" کا ڈیفینس سسٹم سنبھال لیا۔ڈویژن 88 کی یونٹوں نے کربلاء- 6 آپریشن میں اہم کردار ادا کیا⁠[7]۔

سن 1986 میں ڈویژن کے لیے ایک دردناک واقعہ پیش آیا۔دو نومبر 1986 کو ایک سی-130 ٹرانسپورٹ طیارہ جو کرمانشاہ سے زاہدان جا رہا تھا، تکنیکی خرابی کی وجہ سے زاہدان ایئر پورٹ کے قریب پہاڑ سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔ اس حادثے میں آرمرڈ ڈویژن 88 کے 91 افراد جو محاذ سے واپس زاہدان آرہے تھے، شہید ہو گئے⁠[8]۔

جنگ کے آخری دنوں میں 22 جولائی 1988 کو عراقی فوج نے سومار کے علاقے میں وسیع پیمانے پر حملہ کیا جس کا دفاع زاہدان 88ڈویژن نے کیا⁠[9]۔ ڈویژن 88 کے دستوں نے چہلزری کے علاقے کے قریب، جو تنگ شیطان کے نام سے مشہور ہے، عراقی فوج کو روکا اور شدیدجھڑپ کے بعد انہیں پسپائی پر مجبور کر دیا⁠[10]۔

دفاع مقدس کے دوران ڈویژن 88 کے 2400 افراد شہید اور 8426 افراد جانباز ہوئے۔ اسی طرح 2252 افراد دشمن کے ہاتھوں قید ہو گئے⁠[11]۔

عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کے بعد، ڈویژن 88 کی یونٹیں سن 1998 تک بتدریج صوبہ سیستان و بلوچستان واپس آ گئیں⁠[12] اور ان میں سے کچھ جیسے زاہدان 188 بریگیڈ نے دو سال تک ملک کے مشرقی سرحدی علاقوں کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھالی⁠[13]۔

سن 2011 میں ثامن منصوبے (فوج کے ڈویژنز سے بریگیڈز کی آزاد کاری کا منصوبہ) کے نافذ ہونے پر ڈویژن 88 کی بریگیڈز آزاد ہو گئیں اور زاہدان 188 آرمرڈ بریگیڈ ، خاش 288آرمڈ بریگیڈ اور ایران شہر 388میکانائزڈ انفنٹری بریگیڈ کے ناموں سے کام کرنے لگیں۔ وہ صرف آپریشنل معاملات میں ڈویژن 88 کے ہیڈکوارٹرز کے زیر نگرانی ہیں⁠[14]۔

سن 1980 سے جنگ کے اختتام یعنی سن 1988 تک بالترتیب کرنل مسعود منفرد نیاکی، کرنل غلام رضا قاسمی نو، کرنل حسین علی اتحادیہ، کرنل ایرج ہمتی، کرنل محمدصفر زمان فر، کرنل محمد جابری‌پور اور بریگیڈیئر جنرل حسین شمس‌نیا نے زاہدان 88 ڈویژن کی کمان سنبھالی⁠[15]۔ اس وقت یہ ذمہ داری بریگیڈیئر جنرل مہدی احمدی افشار کے پاس ہے⁠[16]۔

 


منابع و ارجاعات:

  • [1] زرگر، غلام‌حسین، دفاع مقدس و ارتش در استان سیستان و بلوچستان، تهران، ایران سبز، 2019ء، ص 9
  • [2] سابق، ص 10 اور 11
  • [3] سابق، ص 11
  • [4] سابق، ص 14
  • [5] سابق، ص 13
  • [6] سابق، ص 13
  • [7] سابق، ص 14
  • [8] مؤسسه فراندیش، رویدادهای سال 1986ء، تهران، انتشارات فراندیش، 1987ء، ص 164
  • [9] زرگر، غلام‌حسین، سابق ، ص 16
  • [10] سابق ، ص 16
  • [11] سابق ، ص 196-197
  • [12] سابق ، ص 68
  • [13] حسین‌احمدی، علی، «آفند و پدافند قاطع با تانک»، ماهنامه صف، ش 430، مارچ 2017ء، ص 41
  • [14] زرگر، غلام‌حسین، سابق ، ص 38؛ حسین‌احمدی، علی، سابق ، ص 41؛ حسین‌احمدی، علی، «پایدار و قدرتمند در نقطه مرزی کشور»، ماهنامه صف، ش 431، اپریل-مئی 2017ء، ص 47-48
  • [15] زرگر، غلام‌حسین، سابق ، ص 17
  • [16] «فرمانده جدید قرارگاه عملیاتی لشکر 88 زرهی سیستان و بلوچستان معرفی شد»، خبرگزاری فارس، 19 ستمبر2019ء، www.farsnews.ir/sistan -baluchestan/news/13980628000125 /

تکمیل، ویرایش یا گزارش خطا