ایران کی تحریک آزادی

تحریک آزادیِ ایران نے ایران کے خلاف عراق کی مسلط کردہ جنگ کے بارے میں متضاد موقف اختیار کیے۔

جماعت ' تحریک آزادیِ ایران' 15 مئی 1961ء کو مہدی بازرگان اور یداللہ سحابی کے نیشنل فرنٹ کی مرکزی کونسل⁠[1] کے ساتھ اختلافات کے نتیجے میں قائم ہوئی اور 17 مئی 1961ء کو اس کے قیام کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔⁠[2]   آیت اللہ سید محمود طالقانی، منصور عطائی، سید رضا زنجانی، حسن نزیہ، رحیم عطائی اور عباس سمیعی تحریک آزادی کے اولین اراکین میں شامل تھے۔⁠[3]

تحریک آزادی کی اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے کے برسوں میں باقاعدہ سرگرمی صرف ایک سال رہی، جس میں ' انقلابِ سفید' کی مخالفت میں ایک بیان جاری کیا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں اس تحریک کے رہنماؤں اور اراکین کو گرفتار کر لیا گیا اور 1977ء تک اس کی سرگرمیاں عملی طور پر معطل رہیں۔⁠[4]

اسلامی انقلاب کی کامیابی کے ساتھ ہی، اسلامی انقلابی کونسل کی تجویز پر امام خمینی رح نے انجینئر مہدی بازرگان کو عبوری حکومت کی وزارتِ عظمیٰ سونپ دی⁠[5] اور اس کے نتیجے میں بیشتر سرکاری عہدے بھی تحریک آزادی کے اراکین کو مل گئے۔ اس کے باوجود، تحریک آزادی اور امام خمینی کی تحریک کے درمیان فکری بنیادوں کے اختلاف کی وجہ سے، 4 نومبر 1979ء کو امریکی سفارت خانے پر قبضے کے بعد بازرگان نے استعفیٰ دے دیا۔⁠[6]

عبوری حکومت کے استعفے کے بعد، تحریک آزادی نے ' ائتلافِ ہمنام' بنا کر اسلامی مشاورتی اسمبلی کے پہلے دور کے انتخابات کے لیے 15 امیدوار نامزد کیے⁠[7] جن میں سے بازرگان، یداللہ سحابی، احمد صدر حاج سید جوادی، ابراہیم یزدی اور ہاشم صباغیان سمیت کچھ لوگ پارلیمنٹ میں پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔⁠[8]

مسلط کردہ جنگ کے آغاز کے دو ہفتے بعد، تحریک آزادی نے ایک بیان میں ایران کے خلاف عراق کی جنگ کو تحمیلی جنگ یعنی مسلط کردہ  جنگ قرار دیا اور ' عراق کی کٹھ پتلی حکومت کے ساتھ ناگزیر اور مسلط کردہ جنگ' میں ' فتح کے امید افزا مراحل' کے قریب ہونے کی نوید دی۔ اس کے باوجود، بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ہمارے ملک پر حملے کے اندرونی اسباب میں سے ایک سبب انقلاب برآمد کرنے کے حوالے سے انقلابیوں اور رہنماؤں کا تصور تھا اور اسے ' انقلابی فینٹسی' سے تعبیر کیا گیا۔ تحریک آزادی کے دعوے کے مطابق، انقلاب کے رہنماؤں اور سرگرم کارکنوں میں ایک ایسی سوچ غالب تھی جس کا ماننا تھا کہ اگر ایرانی انقلاب خطے میں اپنی جارحانہ طاقت کا استعمال نہیں کرے گا تو دشمن اس موقع کو ایران اور انقلاب پر حملے کے لیے استعمال کرے گا، اور یہ کہ جہاں کہیں بھی ممکن ہو امریکہ کے مفادات کو ضرب لگانی چاہیے، ورنہ لوگوں کا انقلابی جوش و خروش آہستہ آہستہ ٹھنڈا پڑ جائے گا۔ تحریک آزادی کے منتظمین کے دعوے کے مطابق، عبوری حکومت کی پالیسی یہ تھی کہ درست سفارتی طریقوں کے ذریعے — بغیر کسی سمجھوتے کے — جنگ کو روکا جائے جو ایرانی قوم کے مفاد میں تھا، لیکن انقلاب کے رہنماؤں اور کارکنوں نے عبوری حکومت کی اس پالیسی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالیں اور جنگ سے بچنے کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔⁠[9]

21 ستمبر 1981ء کے ایک بیان میں نہضتِ آزادی نے ایک سالہ جنگ کے دوران سپاہ، فوج اور ایرانی قوم کے تجربہ کار ہونے کی طرف اشارہ کیا اور فتح تک جنگ جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی: ' یہ جنگ ہمارے مجاہدین کی مکمل نصرت اور دشمن کی حتمی شکست کے ساتھ بہترین انجام کو پہنچے گی' ۔ اسی دوران، تحریک آزادی نے اس وقت کے اسپیکر پارلیمنٹ اکبر ہاشمی رفسنجانی کے نام ایک کھلے خط میں اعلان کیا: ' ہم مسلط کردہ جنگ میں استقامت، قربانی اور فاتحانہ دفاع کے علاوہ کوئی اور مقصد اور راستہ نہیں دیکھتے' ۔⁠[10]

تاہم، 24 مئی 1982ء کو خرم شہر کی آزادی اور جارح کو سزا دینے کے لیے اگلے حملوں کی تیاریوں کے بعد، انجینئر بازرگان نے ایک خفیہ خط کے ذریعے امام خمینی سے درخواست کی کہ عراق کے ساتھ امن مذاکرات شروع کیے جائیں، جسے امام نے مسترد کر دیا۔⁠[11] اس کے باوجود، خرم شہر کی آزادی سے لے کر 1988ء میں قرارداد 598 کی منظوری تک، تحریک آزادی کے عہدیدار ملک کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقاتوں، اعلانات، قراردادوں اور پارلیمنٹ میں اپنی تقریروں کے ذریعے جنگ جاری رکھنے کی مخالفت کرتے رہے۔

آپریشن رمضان (1982ء) کے بعد تحریک آزادی نے جنگ کے تسلسل کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ 1983ء کے اوائل میں انجینئر بازرگان نے انقلاب برآمد کرنے کی کوشش کو جنگ کی اصل وجہ قرار دیتے ہوئے اسے عراق کی طرف سے ایک پیشگی کارروائی قرار دیا۔ اسی سال تحریک آزادی کی پانچویں ملک گیر کانگریس کی قرارداد میں ' فتحِ خرم شہر کے بعد جنگ کے خاتمے کی ضرورت' کے سابقہ موقف پر دوبارہ زور دیا گیا۔ نیز مارچ 1984ء میں انقلاب کی پانچویں سالگرہ کے موقع پر بازرگان نے جنگ کے جاری رہنے کو سراسر بڑی طاقتوں کے مفاد میں اور اسلام و مسلمانوں کی مصلحت کے خلاف قرار دیا اور اسے ملک کی تعمیر و ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا۔⁠[12]

بہار 1984ء میں تحریک آزادی کی چھٹی کانگریس کی حتمی قرارداد میں ' جنگ کی شدت اور تسلسل کو اللہ کے حکم اور رضا کے خلاف اور انقلاب، ایران اور اسلام کی مصلحت کے منافی' قرار دیا گیا اور جنگ کے منتظمین کو قصوروار ٹھہرایا گیا۔ موسم گرما 1984ء میں تحریک آزادی نے ' جنگ اور امن کے بارے میں ایک تجزیہ' کے عنوان سے ایک کتابچہ شائع کر کے جنگ کے وقوع کو قابلِ اجتناب قرار دیا اور اس کی اصلی وجہ جمہوریہ اسلامی ایران کی حکمران کونسل کے فیصلوں اور تشہیر کو قرار دیا اور اسے نظام کی جانب سے دستورِ اساسی کے اصولوں پر عمل نہ کرنے کا ایک بہانہ قرار دیا۔ 16 مارچ 1985ء کو ایک بیان بعنوان " مقصر کیست" یعنی  " قصوروار کون ہے" میں عوام کو " مصیبت زدہ ہم وطن" کہہ کر مخاطب کیا اور جنگ کے تسلسل کا نتیجہ " ملک کی تباہی اور اسرائیل و عالمی طاقتوں کی مکمل خوشی" قرار دیا۔ انہی دنوں تحریک آزادی کے 60 اراکین نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو ایک ٹیلی گرام بھیجا جس میں رہائشی علاقوں پر حملوں کا ذکر کرتے ہوئے — یہ بتائے بغیر کہ یہ حملے کس نے شروع کیے — ان سے مطالبہ کیا کہ فریقین کو بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری پر مجبور کریں اور اس تباہ کن جنگ کے منصفانہ اور باوقار خاتمے کے لیے اپنی تمام کوششیں بروئے کار لائیں۔⁠[13]

انجینئر بازرگان نے یکم مئی 1985ء کو بی بی سی ریڈیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں جنگ سے فائدہ اٹھانے والوں کو عالمی طاقتیں، اسلحہ کے تاجر اور ایران و عراق کی حکومتیں قرار دیا اور کہا کہ ایران کو صلح کے لیے مذاکرات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے فرانسیسی اخبار ' لوموند' کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ قرآن کی تعلیمات اور احادیثِ نبوی کی روشنی میں دشمن کے ساتھ جنگ کا مسئلہ حل کرنے کے لیے مذاکرات کرنے چاہئیں۔ نیز 7 اپریل 1985ء کو تحریک آزادی نے ایک بیان جاری کر کے جنگ کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔ اس بیان میں امام خمینی رح کے قول " جنگ جاری رہے گی، فتنہ ختم ہونے تک" کو عراق کے بجائے پوری دنیا کے ساتھ جنگ سے تعبیر کر کے اسے غلط قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ اگر جارح امن چاہے تو مسلمان حکمران امن قبول کرنے کا پابند ہے۔ 12 جون 1985ء کو مہندس بازرگان نے امریکی اخبار ' کرسچن سائنس مانیٹر' کے ساتھ انٹرویو میں عراق کے ساتھ جنگ جاری رکھنے کو ایران کے مفادات کے خلاف قرار دیا اور اعلان کیا کہ وہ صدارتی انتخابات میں حصہ لیں گے اور کامیابی کی صورت میں جنگ ختم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ 1982ء میں ایرانی فوجیوں کا عراقی سرزمین میں داخل ہونا اسلامی اصولوں کے خلاف ہے۔

مارچ 1986ء میں نہضتِ آزادی کی آٹھویں کانگریس کی حتمی قرارداد کی ساتویں شق میں جنگ کے آغاز کو امریکی اور اسرائیلی سازش قرار دیا گیا لیکن جنگ کے تسلسل کو عالمی طاقتوں کی خواہش اور ان کے اور اسرائیل کے فائدے میں قرار دیا گیا۔ اس قرارداد میں منصفانہ صلح کے لیے تجاویز دی گئیں جن میں عراق کو آغاز کار کے طور پر مجرم قرار دینا، نقصانات کا تعین، ہرجانے کی ادائیگی اور قیدیوں کی رہائی شامل تھی۔ نیز یہ کہ کچھ عرصے کے لیے عراق میں سکیورٹی بیلٹ قرار دی جائے جس کی نگرانی اقوام متحدہ کا مصالحتی ادارہ کرے اور عراق اپنے ملک میں قائم سکیورٹی بیلٹ کے اس طرف اور ایران اپنے ملک کی سرحدوں کے اس طرف عقب نشینی کرئے۔⁠[14]

6 ستمبر 1986ء کو تحریک آزادی نے امام خمینی کے نام ایک کھلے پیغام میں، جس کا عنوان " قرآن سے ناواقف لوگ حکمران بن گئے ہیں" تھا، امام کے کلام پر اعتراض کیا اور محاذِ جنگ پر شہادت کے تصور پر شک کا اظہار کیا۔ 3 فروری 1987ء کو انہوں نے اقوامِ متحدہ کو ٹیلی گرام بھیج کر دوبارہ جنگ کی مخالفت کی اور صلح کو دونوں قوموں کے مفاد میں قرار دیا۔⁠[15] 1987ء میں نویں کانگریس کی قرارداد کی دفعہ 15 میں جنگ کے تسلسل کو نسلوں کی ہلاکت قرار دیا گیا۔ 9 مئی 1987ء کو بازرگان نے کویتی اخبار ' القبس' میں لکھا کہ یہ جنگ اسرائیل کے لیے اپنے اسٹریٹجک مقاصد حاصل کرنے اور مستقبل کے خطرات کم کرنے کا بہترین موقع رہا ہے۔⁠[16]

1988ء کے آغاز میں تحریک آزادی نے ایک تہنیتی کارڈ تقسیم کیا جس میں جنگ کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا۔ قرارداد 598 کی منظوری کے بعد ایک بیان میں کہا کہ اگرچہ اس سے ملک کے مفادات پوری طرح حاصل نہیں ہوتے، لیکن نقصان جہاں سے رکے وہاں فائدہ ہے۔⁠[17] جنگ کے خاتمے کے بعد، 2002ء میں تحلیل کے عدالتی حکم کے باوجود،⁠[18] تحریک آزادی ایک فعال سیاسی جماعت کے طور پر موجود ہے۔ اس وقت ہاشم صباغیان، محمد توسلی، ابوالفضل بازرگان، محمد حسین بنی اسدی، سید علی اصغر غروی، غفار فرزدی، خسرو منصوریان اور عماد بہاور اس کے فعال اراکین ہیں۔⁠[19]

 


حوالہ جات

  • [1]. سلطانی، مجتبی، 2019، نهضت آزادی ایران 1340-1396، تہران، مؤسسه مطالعات و پژوهش‌ های سیاسی، ص 66-67.
  • [2]. ایضاً، ص 15
  • [3]. ایضاً
  • [4]. ایضاً، ص 114
  • [5]. مؤسسه تنظیم و نشر آثار امام خمینی، صحیفه امام، ج 6، تہران، 1999، ص 54-55.
  • [6]. مؤسسه تنظیم و نشر آثار امام خمینی، ایضاً، ج 10، ص 500
  • [7]. «بازخوانی انتخابات نخستین دورۀ مجلس شورای اسلامی»، https://irdc.ir/fa/news/5621/
  • [8]. «صورت اسامی نمایندگان دورۀ اول مجلس شورای اسلامی»، https://www.parliran.ir/
  • [9]. یکتا، حسین، 2004، ستون پنجم یا دومین دو راهی/ نگاهی به مواضع و عملکرد نهضت آزادی ایران در مورد جنگ ایران و عراق، فصلنامۀ زمانه، ش 26، ص 56
  • [10]. ایضاً
  • [11]. ایضاً
  • [12]. ایضاً، ص 57.
  • [13]. ایضاً.
  • [14]. ایضاً، ص 57-58.
  • [15]. ایضاً، ص 58.
  • [16]. ایضاً.
  • [17]. ایضاً
  • [18]. سلطانی، مجتبی، ایضاً، ص 755
  • [19]. ویب سائٹ " نهضت آزادی ایران"، https://nehzateazadi.org

تکمیل، ترمیم یا غلطی کی اطلاع