اللہ اکبر
صدرِ اسلام سے لے کر آج تک، فوجیوں اور مسلمانوں کے اجتماعات میں "تکبیر" ایک ایسا شعار بن چکا ہے جس میں بہادری اور ولولہ شامل ہے۔ دفاعِ مقدس کے دوران اس نعرے نے اپنی افواج کے حوصلوں کو جلا بخشی اور دشمن پر لرزہ طاری کر دیا۔
اللہ اکبر کا مطلب ہے کہ "اللہ اس سے کہیں بڑا ہے کہ اس کی صفت بیان کی جا سکے"۔[1] لغت میں اس کا معنی اللہ کی بڑائی بیان کرنا ہے۔
اسلام کے ابتدائی دور میں تکبیر کے نعرے سے اسلامی افواج کے حوصلے بلند اور کفار و دشمنوں کے حوصلے پست ہوتے تھے۔ مسلمان آغازِ اسلام ہی سے دشمن کا سامنا کرتے وقت مخصوص اور پر اثر نعرے لگاتے تھے۔ ان نعروں سے اپنی اور پرائی فوج کی پہچان بھی ہوتی تھی اور دشمن کی ہمت بھی جواب دے جاتی تھی۔ ان میں "اَمِت، اَمِت" (موت دے، موت دے)، "احد احد" اور "اللہ اکبر" جیسے نعرے شامل تھے۔[2] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگِ خندق میں مسلمانوں کو تکبیر کہنے کا حکم دیا۔ آپؐ نے بنو نضیر کے یہودیوں کے خلاف جنگ میں اور حضرت علیؑ و حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی شادی کی رات بھی تکبیر کہی۔ حضرت علیؑ بھی میدانِ جنگ میں اکثر تکبیر بلند فرماتے تھے اور لوگ آپؑ کے ساتھ آواز ملا کر اسے دہراتے تھے۔[3]
پہلوی حکومت کے آخری مہینوں اور انقلابِ اسلامی کی کامیابی کے قریب ایران میں نعرہ تکبیر رواج پا گیا۔[4] دسمبر 1978ء میں پورے ایران میں گھروں کی چھتوں سے، خاص طور پر رات کے وقت، اللہ اکبر کی صدائیں گونجنے لگی تھیں۔ یہ پہلوی حکومت کے خلاف جدوجہد کا ایک نیا انداز تھا۔[5] اس سال محرم کی راتوں میں بلند ہونے والی یہ تکبیریں پہلوی حکومت کے لیے ڈراؤنا خواب بن گئی تھیں۔ یہاں تک کہ شاہ، مراکش فرار ہو جانے کے بعد بھی وہاں کے میناروں سے اذان میں اللہ اکبر کی آواز سن کر خوفزدہ ہو جاتا تھا۔[6] یکم فروری 1979ء کو بہشتِ زہرا میں امام (رح) کے خطاب کے دوران، مقرر کی باتوں کی تائید اور ہمنوائی کے لیے تکبیر کہنے کا رواج پڑا۔ اس کے بعد سے جب بھی لوگ کسی بات کی تائید کرنا چاہتے تو ایک یا تین بار اللہ اکبر پکارتے تھے۔[7]
دفاعِ مقدس کے دور میں فوجیوں نے اللہ اکبر جیسے روحانی نعروں، فوجی ترانوں، جھنڈوں اور مذہبی علامتوں کے ساتھ اپنی سماجی، ثقافتی اور تاریخی تعلیمات کے ذریعے اپنے جنگی حوصلے کو تقویت دی۔[8] کسی بھی معرکے اور جنگ میں فتح حاصل کرنے کا سب سے اہم عنصر بلند حوصلہ ہے۔ فتوحات کو برقرار رکھنے کے لیے بھی ضروری ہے کہ میدانِ جنگ اور معاشرہ، دونوں جگہ اجتماعی حوصلہ بلند رہے۔[9] عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ میں بھی اللہ اکبر نے ایرانی افواج پر وہی گہرا اثر ڈالا جبکہ اس کے برعکس دشمن کے حوصلے پست کر دیے۔
عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران، فوجیوں کا نعرہ تکبیر ایران کی نفسیاتی جنگ کا ایک مؤثر طریقہ تھا۔ تکبیر سے اپنی افواج کے حوصلے بلند ہوتے تھے اور دشمن کے سپاہی خوفزدہ ہو جاتے تھے۔ اس نعرے سے دشمن کا مذہبی احساس بیدار ہوتا اور وہ ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو جاتے۔ ایرانی فوجی اکثر آپریشن کے آغاز میں یا دشمن کا محاصرہ توڑنے کے لیے اجتماعی طور پر تکبیر بلند کرتے تھے۔
فوجیوں میں یہ رواج تھا کہ جب بھی کوئی اچھی خبر ملتی، تو وہ اللہ اکبر کہہ کر ایک دوسرے کو مطلع کرتے تھے۔[10] عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کی پہلی سالگرہ کے موقع پر، 25 ستمبر 1981ء بروز جمعہ رات 9 بجے پورے ملک میں نعرہ تکبیر بلند کیا گیا۔ محاذِ جنگ کے اگلت مورچوں میں موجود دستوں نے ملک بھر کے عوام کے ساتھ مل کر نعرہ تکبیر لگایا۔ اس سے دشمن اس خوف میں مبتلا ہو گیا کہ شاید فوجی حملہ کرنے والے ہیں۔ اس ڈر کی وجہ سے عراقی فوج نے کئی آپریشنل علاقوں میں بلا اشتعال شدید گولہ باری شروع کر دی۔[11]
اس کے علاوہ آپریشنز میں کامیابی یا شہروں کی آزادی کے بعد، عوام نعرہ تکبیر لگا کر اپنی خوشی کا اظہار کرتے تھے۔ مثال کے طور پر، بستان کے محاذ پر کامیابی اور اس شہر کی آزادی کے بعد، لاکھوں ایرانیوں نے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر اللہ اکبر کے نعرے لگائے۔[12] اسی طرح آپریشن ثامن الائمہ کی کامیابی کے بعد بھی مختلف شہروں کے لوگوں نے اپنے گھروں کی چھتوں سے تکبیر بلند کر کے اس فتح پر اپنی مسرت کا اظہار کیا۔[13]
تکبیر کبھی کبھار عراقی سپاہیوں کے مذہبی عقیدے کو ہدف بناتی اور ان کے دلوں کو لرزا دیتی تھی۔ اس سے وہ لڑنے کی سکت کھو دیتے اور پیچھے ہٹ جاتے یا ہتھیار ڈال دیتے۔ بعض اوقات سرحدوں پر تکبیر کی آوازیں نشر ہونے کے بعد کچھ عراقی سپاہی خود کو ایرانی افواج کے حوالے کر دیتے تھے۔[14]
آپریشن کی راتوں میں ایرانی رزمندوں کو تاکید کی جاتی تھی کہ جب تک وہ دشمن کے بالکل قریب نہ پہنچ جائیں، مکمل خاموشی اختیار کریں۔ تاہم دشمن کی مورچہ بندی پر حملے کا آغاز تکبیر سے کیا جاتا تھا۔ جب دشمن کے بالکل قدموں کے پاس سے تکبیر کی آواز بلند ہوتی، تو ان کے دلوں میں ہیبت بیٹھ جاتی تھی۔ یہ آواز رزمندوں کے لیے بھی تقویتِ قلب کا باعث بنتی تھی۔
مثال کے طور پر، سومار کے مقام پر 'بلندی 402' پر عراقی فوج کے حملے کے وقت دشمن جیت رہا تھا اور ایرانیوں کی تعداد بہت کم رہ گئی تھی۔ اسی قلیل تعداد نے اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ جوابی کارروائی شروع کی۔ دشمن اپنی برتری کے باوجود تکبیر کی آواز سن کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا۔ نعرہ تکبیر کی گونج نے ان ایرانی سپاہیوں کو بھی دوبارہ میدانِ جنگ میں لا کھڑا کیا جو پیچھے ہٹ رہے تھے۔ یوں وہ دوبارہ اس اہم بلندی 402 پر قابض ہو گئے۔
دفاعِ مقدس کے عظیم کمانڈروں نے نعرہ تکبیر اور اس کے اثرات کے بارے میں مختلف تعبیرات بیان کی ہیں۔
مثال کے طور پر، سپاہ پاسداران کے ایک کمانڈر، حسن باقری (شہید) "تکبیر کے ذریعے دفاع" کے اثر کے بارے میں کہتے ہیں: "آپریشن بیت المقدس میں عراقی ٹینک مورچوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ جب معاملہ ہاتھ سے نکلنے ہی والا تھا تو کمانڈروں کے ذہن میں یہ بات آئی کہ پوری لائن میں 'اللہ اکبر' کی صدائیں بلند کی جائیں۔ جیسے ہی دستوں نے تکبیر کہنا شروع کی، سڑک پر موجود عراقی ٹینکوں کے عملے اور ڈرائیور ٹینک چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ جو پیچھے تھے وہ اپنے ٹینکوں سمیت فرار ہو گئے اور وہ حملہ اللہ کی مدد اور 'اللہ اکبر' کے "گولہ بارود" سے پسپا ہو گیا۔"
"تکبیر کے ذریعے فتح" کے بارے میں سپاہ پاسداران کے محمد رسول اللہؐ لشکر (27 ویں ڈویژن) کے کمانڈر ابراہیم ہمت (شہید) کہتے ہیں: "ہماری فورسز دشمن کے 150 میٹر کے فاصلے پر پہنچ گئیں اور پو پھٹتے ہی آپریشن شروع ہو گیا۔ کچھ ہی دیر میں تمام بلندیاں گر گئیں، بھائیوں نے اللہ اکبر کے ذریعے دشمن کے دلوں میں ایسی دہشت پیدا کر دی تھی کہ 200 بعثی فوجی قیدی بنا لیے گئے۔ ان کے ایک افسر نے کہا: 'جب آپ لوگوں نے حملہ کیا تو تمام پہاڑوں سے اللہ اکبر کی صدائیں آ رہی تھیں، اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ آپ کی تعداد اتنی کم ہے تو ہم آپ سب کو گرفتار کر سکتے تھے'۔"
دشمن کے دلوں میں تکبیر کی دہشت کے اثر کے بارے میں سردار قاسم سلیمانی (شہید) کہتے ہیں: "فورسز کا 'اللہ اکبر' کہنا فوجی اور روحانی، دونوں حالتیں رکھتا تھا اور درحقیقت یہ ان کے عقیدے کا اعلان تھا۔ میرے نزدیک ان تکبیروں کی عظمت ہی عراقیوں کے ہتھیار ڈالنے کا باعث بنتی تھی۔ فتح اور دشمن کے بہت سے سپاہیوں کو گرفتار کرنے کے بعد ہم اسیروں کو محاذ کے پیچھے لے گئے۔ شروع میں ہم نے سوچا تھا کہ دشمن کی تعداد 100 ہو گی، لیکن جب ہم ان کے بنکروں پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہ ہم سے دس گنا زیادہ تھے! ان کے پاس ہر چیز تھی؛ ہر قسم کا بھاری اور ہلکا اسلحہ، جبکہ ہماری فورسز کے پاس کم ترین اسلحہ تھا، لیکن اللہ کی نصرت، اس کے نام اور اللہ اکبر کی صدا سے دشمن کے دلوں میں رعب بیٹھ گیا تھا۔"[15]
دیگر مسلمان ممالک میں بھی سیاسی تحریکوں میں عوام کی جانب سے تکبیر کہنے کی مثالیں ملتی ہیں؛ مثال کے طور پر مقبوضہ کشمیر کے عوام نے 1990ء میں ایک ریلی کے دوران "اللہ اکبر، خمینی رہبر" کے نعرے لگائے۔ فلسطینی بھی "اللہ اکبر، فتح اسلام کی ہے" کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔ 1990ء سے 2000ء کے دوران جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن کی سڑکوں پر بھی اللہ اکبر کی صدائیں بہت سنی جاتی تھیں۔[16]
اسلامی جمہوریہ ایران، جمہوریہ عراق، یمن کی انصار اللہ اور (طالبان سے پہلے کے) افغانستان کے پرچموں میں لفظ "اللہ اکبر" استعمال کیا گیا ہے۔ اسی طرح تنظیمِ اسلامی کانفرنس (OIC) کا پرچم بھی "اللہ اکبر" سے مزین ہے۔
مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ذریعے داعش کی تخلیق کے بعد، تکبیر اس دہشت گرد گروہ کا بھی ایک رواج یافتہ نعرہ بن گیا۔ چنانچہ شام میں سردار قاسم سلیمانی کی قیادت میں مزاحمتی محاذ کی فورسز نے فیصلہ کیا کہ حملے، کسی خبر کا اعلان کرنے یا فتح کے موقع پر تکبیر کے بجائے "لبیک یا زینبؑ" کا استعمال کریں تاکہ یہ داعش کے نعرے کے ساتھ خلط ملط نہ ہو اور فورسز غلطی سے آپس میں نہ بھڑ جائیں۔
ہر سال کی روایت کے مطابق، انقلابِ اسلامی کے عشرہ فجر کے دنوں میں اور ہر سال 10 فروری (21 بہمن) کی رات، ٹھیک 9 بجے، ملک کے شہروں اور دیہاتوں کی مساجد کے میناروں، گھروں کی چھتوں، امام بارگاہوں اور گلی کوچوں سے تکبیر کی صدائیں بلند ہوتی ہیں تاکہ یہ کلمہ وحدت کی تجلی پیش کر سکیں۔
منابع و ارجاعات:
- [1] محمدی ری شہری، محمد، دانشنامه عقاید اسلامی، معاونت: رضا برنجکار، مترجم: مہدی مہریزی، موسسہ علمی فرهنگی دارالحدیث، جلد 5، معرفتشناسی، تیسرا ایڈیشن، 2008ء، ص 167۔
- [2] مرادی، علی و دیگران، «واکاوی فقهی و حقوقی عملیات روانی»، پژوهشنامه حقوق اسلامی، سترہواں سال، شمارہ 1 (مسلسل 44)، خزاں و سرمہ 2016ء، ص 153۔
- [3] حداد عادل، غلام علی، دانشنامه جهان اسلام، جلد 8، بنیاد دائرةالمعارف اسلامی، 2004ء، ص 20-22۔
- [4] روحانی، حسن، خاطرات حجتالاسلام والمسلمین ڈاکٹر حسن روحانی، جلد 1، مرکز اسناد انقلاب اسلامی، 2009ء، ص 484۔
- [5] اقدسی، مجیدرضا، انقلاب اسلامی ایران: دسمبر 1977ء تا فروری 1979ء، مرکز اسناد انقلاب اسلامی، دوسرا ایڈیشن، 2012ء، ص 137۔
- [6] حسینیان، روحاللہ، یک سال مبارزه برای سرنگونی رژیم شاه (فروری 1978ء تا فروری 1979ء)، مرکز اسناد انقلاب اسلامی، 2006ء، ص 562
- [7] «گفتگو با حاج محمود مرتضاییفر»، ماهنامه پاسدار اسلام، مسلسل نمبر 374، جنوری/فروری 2013ء، ص 18۔
- [8] شہبازی، عزیزاللہ اور روحاللہ شہابی، «کاربرد شیوه اجرای عملیات روانی و نقش روحیه ملی کشور...»، فصلنامه تحقیقات سیاسی و بینالمللی دانشگاه آزاد اسلامی شهرضا، دورہ 3، مسلسل نمبر 9، فروری/مارچ 2012ء، ص 114۔
- [9] ستاری، محمد اور محمد حسین سیگارچیان، «معرّفی چهار درونمایهی اصلیِ حاکم بر تصاویر مجموعه...»، نشریه هنرهای زیبا - هنرهای تجسمی، دورہ 24، شمارہ 3، خزاں 2019ء، ص 93
- [10] ہاشمیان سیگارودی، سیدہ نساء، گیل مانا، تہران، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، 2020ء، ص 81-83۔
- [11] ایزدی، یداللہ، روزشمار جنگ ایران و عراق: آزادسازی سرزمینهای ایران؛ قدمِ اول: آپریشن ثامن الائمہ(ع)، جلد 15، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، 2017ء، ص 859 اور 913۔
- [12] لطفاللہ زادگان، علی رضا، روزشمار جنگ ایران و عراق: آزادسازی سرزمینهای ایران؛ قدمِ دوم: بستان، جلد 16، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، 2015ء، ص 1139
- [13] ایزدی، یداللہ، سابق، ص 1085
- [14] دہقان، احمد، گزارش روزانه جنگ، جلد 5 (1982ء کی دوسری ششماہی)، مؤسسہ انتشارات شہید حسن باقری، 2010ء، رپورٹ نمبر 114۔
- [15] سنگری، محمدرضا اور مہدی عبداللہی، عوامل معنوی و فرهنگی دفاع مقدس، جلد 3 (ثقافتِ عاشورا - صدرِ اسلام کی جنگوں سے مماثلت)، زمزم ہدایت، 2007ء، تلخیص شدہ از ص 230-236۔
- [16] حاذق نیکرو، حمید، «صدور انقلاب و حوزههای نفوذ فرهنگ انقلاب اسلامی در جهان»، فصلنامه 15 خرداد، شمارہ 26، موسمِ سرما 2010ء، ص 143 اور 144۔