خلیج فارس

خلیج فارس عراق کی طرف سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران ایران، عراق اور دیگر ممالک کی متعدد فوجی کارروائیوں کا میدان بنا رہا۔

خلیج فارس مغربی ایشیا میں ایران اور جزیرہ نمائے عرب کے درمیان واقع ایک آبی راستہ ہے جس کا رقبہ 2226 مربع کیلومیٹر اور اوسط گہرائی 25 سے 35 میٹر کے درمیان ہے۔ دریائے کارون، اروند اور کرخہ ان اہم دریاؤں میں سے ہیں جو خلیج فارس میں گرتے ہیں۔ صوبے ہرمزگان، بوشہر اور خوزستان اس کے شمالی ساحل پر واقع ہیں اور یہاں کی آب و ہوا گرم اور مرطوب ہے۔⁠[1] ایران کے پاس 1400 کلو میٹر طویل ساحل کے ساتھ شمال میں سب سے طویل ساحلی پٹی ہے، جبکہ عراق اور کویت ایران کے شمال مغرب میں، سعودی عرب مغرب میں، بحرین اور قطر جنوب مغرب میں، متحدہ عرب امارات جنوب میں اور عمان جنوب مشرق میں واقع ہیں۔ بندر عباس، بندر لنگہ، بوشہر، امام خمینی اور خرمشہر ، خلیج فارس کی اہم ترین ایرانی بندرگاہیں ہیں۔⁠[2]

اس بین الاقوامی آبی راستے کا نام قدیم زمانے سے حتیٰ کہ قدیم کتبوں میں بھی خلیج فارس ہی درج ہے۔ اس کے باوجود حالیہ برسوں میں ایران کے دشمنوں نے، مغربی طاقتوں کی رہنمائی اور علاقے کے بعض شیوخ کی مالی و سیاسی حمایت سے، اس آبی راستے کے لیے ایک جعلی نام استعمال کرنے کی کوشش کی ہے، جس کا مقابلہ ایران اور عالمی تاریخ کے مورخین و ماہرین کے ساتھ ساتھ وطن پرست ایرانیوں نے کیا ہے۔

اس آبی راستے کی اہمیت کے باعث اس علاقے میں بحری قزاقی رائج تھی۔ البتہ کچھ آزادی پسندوں اور استعمار و استحفاظ کے مخالفین نے غیر ملکیوں سے مقابلہ کیا، جنہیں تاریخی کتب میں بحری قزاقوں کے طور پر یاد کیا گیا ہے۔ میر مہنا دوغابی اس خطے میں غیر ملکی مخالف جنگجوؤں کی ایک مثال ہیں جن کی ہالینڈ کے اغیار(ڈچ) وقابضین اور ملک دشمن عناصر کے خلاف جدوجہد کی وجہ سے انہیں بحری قزاق کے طور پر متعارف کرایا گیا۔⁠[3]

پرتگالیوں نے 1507 میں خلیج فارس میں داخل ہو کر جزیرہ ہرمز پر قبضہ کر لیا،⁠[4] لیکن 1628 میں صفوی کمانڈر امام قلی خان کی کوششوں سے انہیں نکال باہر کیا گیا۔⁠[5] پرتگالیوں کے علاوہ، ڈچ 1623 سے، فرانسیسی 1664 سے، جرمن 1895 سے، روسی 1904 سے خلیج فارس میں موجود تھے؛ لیکن انگریز ان سب سے پہلے 1555 میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے طور پر پرتگالیوں کے مقابلے میں خلیج فارس میں آئے⁠[6] جس کا نتیجہ بوشہر اور خارک پر قبضہ تھا، لیکن بوشہر کے عوام نے میرزا اسداللہ خان کی قیادت میں خارک پر قبضے کے خلاف اور رئیس علی دلواری نے بوشہر پر قبضے کے خلاف علم بغاوت بلند کیا، جن کی بہادری کی داستانیں تاریخ میں امر ہو گئیں۔

توانائی کے وسائل یعنی دنیا کا دو تہائی تیل اور ایک تہائی گیس کا ذخیرہ⁠[7] یورپ، افریقہ، جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے درمیان رابطہ جو بحیرہ احمر، بحیرہ روم، بحر ہند اور بحر اوقیانوس کو آپس میں ملاتا ہے،⁠[8] بڑےجزیرہ تنب اور چھوٹے جزیرے تنب کی اپنی اپنی جگہ پر نمایاں اہمیت کے حامل ہیں؛ یعنی بڑا جزیرہ تنب خلیج فارس کے دہانے اور آبنائے ہرمز کے بڑے راستے کو کنٹرول کرتا ہے۔ جبکہ چھوٹا جزیرہ تنب خلیج فارس کے قانونی پانیوں کی حدود کو بڑھانے میں موثر ہے، اور نیز جزیرہ ابوموسی بھی آبنائے ہرمز کے دفاعی منحنی خط کا آخری نقطہ کے طور پر، اس آبی راستے کی اہمیت کو دوچندان کرتا ہے۔⁠[9]

خلیج فارس کے سات اہم جزائر ہیں: "قشم"یہ سب سے بڑا جزیرہ ہے، "ہرمز" جس پر قبضے کو خلیج فارس پر حکمرانی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، "لارک" خلیج فارس کی دفاعی ڈھال کہلاتا ہے جس کے ساحلوں کے پانی کی کم گہرائی اور جزیرے کے ارد گرد پتھریلی چٹانوں کی وجہ سے بحری جہاز اس کے قریب نہیں جا سکتے، "ہنگام" باب ہرمز کی اصل کنجی ہے جو گہرے پانی کی وجہ سے بحری جہازوں کی تعیناتی کے لیے موزوں ہے، اور تنب بزرگ و خورد اور ابوموسی نامی تین جزیرے۔⁠[10] خلیج فارس کے دیگر ایرانی جزائر یہ ہیں: آبادان، بونہ، دیرہ، قبر ناخدا، مینو، خارگ، شیف، سیری، شتوار، شیخ اندرابی، فارور، فارورگان، کیش، لاوان، ہندرابی۔⁠[11]

خلیج فارس آبنائے ہرمز کے ذریعے بحیرہ عمان اور پھر بحیرہ عمان کے ذریعے آزاد سمندروں سے منسلک ہوتا ہے۔ آبنائے ہرمز ہلالی شکل کا ہے اور شمال میں ایران اور جنوب میں عمان کے درمیان واقع ہے⁠[12] اور یہ دنیا کے گیارہ اہم ترین آبنائے میں شمار ہوتا ہے۔⁠[13] خلیج فارس متعدد فوجی اڈوں کی موجودگی کی وجہ سے ایک منفرد عسکری و اسٹریٹجک حیثیت رکھتا ہے جس کی اہمیت عراق کی طرف سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران مزید واضح ہو گئی۔

مسلط کردہ جنگ کے شروع ہوتے ہی خلیج فارس میدان جنگ میں تبدیل ہو گیا۔ ایران نے بین الاقوامی بحری جہاز رانی کی ضمانت کے لیے، سمندری ٹریفک کو کنٹرول کرنے اور اپنے ساحلوں کے تحفظ کے لیے، اپنے ساحلی پانیوں اور جزائر ابوموسی و سیری کے بارہ میل اور جزیرہ فارسی کے جنوب مشرق کے بارہ میل کے درمیان ایک جنگی علاقہ متعین کیا اور ساتھ ہی عراقی بندرگاہوں تک رسائی کو ممنوع قرار دے دیا۔⁠[14]

اسلامی جمہوریہ ایران کی بحری افواج کا پہلا آپریشن "اشکان" کے نام سے 31 اکتوبر اور 1 نومبر 1980 کو کیا گیا جس میں جوشن نامی جنگی کشتی نے الامیہ اور گردونہ نامی جنگی کشتی نے البکر کی بندرگاہوں پر توپ خانے سے حملہ کیا۔⁠[15]عملیات شہید صفری ایران کا دوسرا بحری آپریشن تھا جو البکر اور الامیہ کی بندرگاہوں کے خلاف 4 نومبر 1980 کو کیا گیا۔ اس آپریشن میں ایرانی افواج نے دھماکہ خیز مواد نصب کرکے الامیہ اور البکر کی بندرگاہوں کو شدید نقصان پہنچایا۔⁠[16]

اس آپریشن کے بعد اور البکر کی بندرگاہ کو مکمل طور پر تباہ کرنے اور دشمن کو بندر ام القصر سے نکالنے، نیزعراق کی بحری صلاحیت کو ختم کرنے کے مقصد سے،⁠[17] 28 نومبر 1980 کو آپریشن مروارید کا آغاز ہوا جس کے دوران عراق نے اپنے کئی جنگی جہاز اور لڑاکا طیارے کھو دیے۔⁠[18]

1983 کے موسم خزاں میں، عراق نے سپر ایتنڈارڈ لڑاکا طیاروں اور اگزوسٹ میزائلوں سے خارک کی بندرگاہ پر حملہ کیا اور اس طرح تیل بردار بحری جہازوں کی جنگ کا آغاز ہوا۔ نیز اس ملک نے 12 اگست 1986 کو میرج لڑاکا طیاروں سے جزیرہ سیری پر حملہ کیا۔ اس کے باوجود بھی عراق کو تیل کی برآمدات میں بڑی مشکلات کا سامنا تھا کیونکہ البکر اور الامیہ کی تیل کی بندرگاہیں 1980 میں حملوں کا نشانہ بن چکی تھیں اور شام کی ایران سے حمایت کی وجہ سے، عراق کی تیل برآمدات کی پائپ لائن جو اس ملک سے گزرتی تھی، 1981 میں شام کی حکومت نے بند کر دی تھی۔⁠[19] سعودی عرب نے بھی عراق کی حمایت کے لیے اپنی کئی بندرگاہیں اور ہوائی اڈے اس ملک کے اختیار میں دے دیے اور 1982 میں کویت کی رضامندی حاصل کرکے خفیج نامی تیل کے میدان سے حاصل ہونے والی آمدنی عراق کو دے دی۔ اس کے علاوہ سعودی عرب امریکی AWACS طیاروں کی تعیناتی کا مقام بن گیا تھا تاکہ وہ ایران کے محاذ کی صف اول سے جاسوسی کرکے عراق کو ایران کی نقل و حرکت سے آگاہ کرتے رہیں۔ کہا جاتا ہے کہ دفاع مقدس کے دوران سعودی عرب نے عراق کو تیس ارب ڈالر سے زائد کی نقدی اور اشیاء کی امداد دی۔⁠[20] 31 اگست 1986 کو سپاہ پاسداران کی زمینی فوج کے 14ویں ڈویژن امام حسین علیہ السلام نے عراق کی البکر اور الامیہ بندرگاہوں پر ایک اور آپریشن کیا جس میں الامیہ کی بندرگاہ مکمل طور پر ناقابل استعمال ہو گئی اور البکر کی بندرگاہ کو بھی شدید نقصان پہنچا اور بعثی حکومت کی خلیج فارس میں موجودہ صلاحیت میں شدید کمی واقع ہوئی۔⁠[21]

24 جولائی 1987 کو برجٹن نامی آئل ٹینکر جو امریکی بحری جہازوں کی حفاظت میں تھا، سمندری بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔⁠[22] 18 اپریل 1988 کو امریکی بحری بیڑے نے آپریشن مانٹس کے تحت ایران کے نصر اور سلمان آئل پلیٹ فارمز کو نشانہ بنایا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی بحری فوج نے اس اقدام کے جواب میں تین جنگی جہاز سہند، جوشن اور سبلان کو علاقے میں روانہ کیا۔ اس جنگ میں سہند اور جوشن نامی جنگی جہاز ڈوب گئے اور سبلان نامی جنگی جہاز شدید نقصان پہنچا۔

3 جولائی 1988 کو ایران کا مسافر طیارہ جو اپنی معمول کی فضائی پرواز کے راستے میں بندر عباس سے دبئی جا رہا تھا، ایران کی فضائی حدود میں امریکی جنگی جہاز وینسینز نے دو میزائل سے نشانہ بنایا اور اس کے تمام 290 مسافر شہید ہو گئے۔⁠[23]

مجموعی طور پر، دفاع مقدس کے دوران، 411 بحری جہاز حملوں کا نشانہ بنے اور خلیج فارس کے پانیوں میں خام تیل مخلوط ہو جانے کے نتیجے میں خلیج فارس کے تقریباً 38 فیصد جاندار تباہ ہو گئے۔⁠[24]

1988 میں مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی خلیج فارس ایک اور بحران میں الجھ گیا۔ عراقی فوج نے کویت پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کر لیا۔ جواب میں امریکہ کی قیادت میں متعدد مغربی ممالک نے 17 جنوری 1991 کو عراق پر حملہ کیا اور صدام 3 مارچ 1991 کو کویت چھوڑنے پر مجبور ہو گیا۔⁠[25]

مسلط کردہ جنگ کے بعد کے سالوں میں، خلیج فارس کی اہمیت اور خطے میں غیر ملکی خصوصاً امریکی افواج کی موجودگی کے پیش نظر، ایران نے خلیج فارس میں نگرانی کرنے کے لیے اقدامات کیے۔ میزائل اور ٹارپیڈو ٹیکنالوجی کی ترقی، بحری جہاز شکن اور آبدوز شکن بارودی سرنگوں کی ٹیکنالوجی کی ترقی، فوج اور سپاہ پاسداران کی بحریہ کے بیڑے کی ترقی، جنگی فضائی خصوصاً ڈرون فلیٹ کی ترقی، بغیر پائلٹ کے تیز رفتار کشتیوں کا استعمال، بغیر پائلٹ کے طیاروں اور آبدوزوں کا استعمال وغیرہ ان اقدامات میں شامل ہیں۔⁠[26]

چند دہائیاں پہلے اور خصوصاً خطے میں جنگ کے خاتمے کے بعد، خلیج فارس میں ایران کے تیل کے ماہرین کے ذریعہ تحقیقاتی سرگرمیوں کے لیے مناسب مواقع میسر آئے اور اس کا نتیجہ آزادگان آئل فیلڈ، پارس جنوبی کی بے پناہ گیس فیلڈ، مشرقی عسلویہ، آرش گیس فیلڈ، کیش گیس فیلڈ وغیرہ کی دریافت کی صورت میں نکلا جس سے ایران کے توانائی کے ذخائر میں اضافہ ہوا۔⁠[27]

فرهنگی انقلاب کی اعلیٰ کونسل کے 2005 کے ایک مصوبے کے مطابق، ایران کے کیلنڈر میں 30 اپریل کو "یوم ملی خلیج فارس" کا نام دیا گیا۔ اس دن کو 2010 میں ثقافتی ورثہ ادارے نے قومی ثقافتی ورثہ کے طور پر رجسٹر کیا۔

اس کے علاوہ اس آبی راستے اور اس کے تاریخی نام خلیج فارس کے بارے میں متعدد موسیقی کے کام تخلیق ہوئے اور معتبر کتابیں لکھی گئی ہیں، جن میں ہمایون الٰہی کی کتاب "خلیج فارس ومسائل آن"، ایرج افشار سیستانی کی کتاب "نام دریای پارس و دریای مازندران و بندرها و جزیره‌های ایرانی" اور محمدرضا حافظ نیا کی کتاب "خلیج فارس و نقش استراتژیک تنگہ ھرمز" شامل ہیں۔

 


منابع و ارجاعات:

  • [1] افشار سیستانی، ایرج، نام دریای پارس و دریای مازندران و بندرها و جزیره‌های ایرانی، تہران: کشتیرانی والفجر 8، 1997، ص 23 و 24۔
  • [2] مرادپیری، ہادی، شربتی، مجتبی، آشنایی با علوم و معارف دفاع مقدس، تہران: سمت، گیارہواں ایڈیشن، 2013، ص 33۔
  • [3] فصلنامه علمی-ترویجی مطالعات تاریخ انتظامی، سال سوم، شمارہ 8، بہار 2016، ص 117۔
  • [4] سایبانی، احمد، جغرافیای تاریخی هرمزگان، بندرعباس: نسیم بادگیر، 2020، ص 12۔
  • [5] انقلاب اسلامی به روایت اسناد ساواک استان هرمزگان، ج 1، تہران: مرکز بررسی اسناد تاریخی وزارت اطلاعات، 2017، ص 13۔
  • [6] سایبانی، احمد، جغرافیای تاریخی هرمزگان، ص 12-16۔
  • [7] پژوهشنامه ایرانی سیاست بین‌الملل، شمارہ 2، سال دوم، بہار و تابستان 2014، ص 74۔
  • [8] سابق، ص 72۔
  • [9] مجلہ سیاست دفاعی، شمارہ 84، سال 21، خزاں 2013، ص 113 و 114
  • [10] سابق، ص 109-114۔
  • [11] افشار سیستانی، ایرج، نام دریای پارس و دریای مازندران و بندرها و جزیره‌های ایرانی، ص 10-12۔
  • [12] مجلہ سیاست دفاعی، سابق، ص 110 مع اضافات۔
  • [13] فصلنامه علمی-پژوهشی اطلاعات جغرافیایی سپهر، شمارہ 89، دورہ 23، اپریل 2014، ص 19۔
  • [14] فصلنامه مطالعات دفاع مقدس، شمارہ 2، شمارہ پیاپی 6، سال 2016، ص 33-31۔
  • [15] عبدی زادہ، مونس، راز مروارید: نقش ناوچه پیکان در عملیات مروارید به روایت ناخدا دوم بازنشسته سعید کیوان شکوهی، تہران: سوره مهر، 2017، ص 78 و 79۔
  • [16] سابق، ص 86-83، 88، 90، 95۔
  • [17] سابق، ص 98
  • [18] دانشنامه عملیات‌های ماندگار نیروی دریایی جمهوری اسلامی ایران، تہران: سوره مهر، 2019، ص 163 و 171۔
  • [19] شاہی نوری، نفیسہ، جنگ نفتکش‌ها و تأثیر آن بر اقتصاد منطقه (خلیج‌فارس) با تأکید بر ایران و عراق، تحقیقی مقالہ برائے ستاد حفظ آثار و نشر ارزش‌های دفاع مقدس وزارت نفت
  • [20] بابازادہ، محمد، جنگ تحمیلی عراق علیه ایران و مواضع کشورها و جامعه بین‌المللی از منظر روابط بین المللی؛ مطالعه موردی (ایالات متحده آمریکا، انگلیس، شوروی و عربستان سعودی)، تحقیقی مقالہ برائے کنفرانس ملی اندیشه‌های نوین و خلاق در مدیریت، حسابداری، مطالعات حقوقی و اجتماعی، 14 جون 2018، ارومیہ۔
  • [21] اسحاقی، محمد، نخی، ہادی، نبرد العمیه گزارش تحلیلی و مستند عملیات کربلای 3، تہران: سپاه پاسداران انقلاب اسلامی، 1996، ص 13، 199، 200۔
  • [22] مرادپیری، ہادی، شربتی، مجتبی، آشنایی با علوم و معارف دفاع مقدس، ص 145
  • [23] فصلنامه علمی راهبرد، شمارہ 71، سال 23، تابستان 2014، ص 20۔
  • [24] ناویاس، مارٹن ایس، ہوتن، ای آر، مترجم: پژمان پورجباری، رحمت قارہ، جنگ نفتکش‌ها: حمله به کشتیرانی تجاری در جنگ ایران و عراق، تہران: بنیاد حفظ آثار و نشر ارزش‌های دفاع مقدس، 2012، ص 15-14۔
  • [25] فصلنامه جغرافیایی سرزمین، علمی پژوهشی، سال سوم، شمارہ 9، بہار 2006، ص 108-103۔
  • [26] فصلنامه تخصصی علوم سیاسی، دورہ 17، شمارہ 56، خزاں 2021، ص 49۔
  • [27] ماہنامہ اکتشاف و تولید، شمارہ 94، اگست 2012۔

تکمیل، ویرایش یا گزارش خطا