21 ویں حمزہ سید الشہداء ڈویژن

21 ویں حمزه سیدالشهداءڈویژن ایران کے شمال مغربی علاقوں میں موجود فوج کی اہم یونٹس میں سے ایک ہے جس نے دفاع مقدس کے دوران اپنے فرائض انجام دیے۔

اس ڈویژن کی تاریخ، انقلاب اسلامی سے پہلے کے دور میں، انفنٹری ڈویژن اور جاویدان گارڈ بریگیڈ کے قیام سے ہے⁠[1]۔ 1979 میں انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد، شاہی انفنٹری ڈویژن اور جاویدان گارڈ یونٹ کو تحلیل کر کے انہیں سینٹرل انفینٹری ڈویژن-1 اور سینٹرل انفینٹری ڈویژن-2 میں تبدیل کر دیا گیا⁠[2]۔

انقلاب کی کامیابی اور کردستان میں داخلی بحران کے آغاز کے بعد، سینٹرل انفینٹری ڈویژن-1 کو اس وقت کے آرمی چیف، لیفٹینینٹ جنرل قرنی کے حکم پر 21 مارچ 1979 کو سنندج شہربھیج دیا گیا، جس نے وہاں قائم شدہ چھاؤنی ڈویژن-28 کی بقا میں اہم کردار ادا کیا۔ اس اقدام نے کردستان کے علاقے کو محفوظ رکھنے اور اس خطے پر مکمل طور پر تخریبی عناصر کے قبضے کو روکنے میں سنگ میل کی حیثیت اختیار کر لی⁠[3]۔

کردستان کے بحران کے دوران انفیٹری ڈویژن 1 اور 2 سے مختلف یونٹوں کو اس علاقے میں بھیجا گیا جو ستمبر 1980 تک وہاں رہیں⁠[4]۔

4 ستمبر 1980 کو، جنگ شروع ہونے سے 18 دن پہلے، بری افواج کے کمانڈر کے حکم پر، ڈویژن1 اور 2 کے یونٹس کو ملا کر تہران میں "21 ویں حمزه سیدالشہداء ڈویژن" کی تشکیل عمل میں آئی⁠[5]۔

عراق کی جانب سےایران پر مسلط کردہ جنگ کے شروع ہوتے ہی، 21 ویں ڈویژن کے یونٹس کو خوزستان کے علاقے میں روانہ کیا گیا۔ 7 اکتوبر 1980 تک، چھ پیادہ بٹالینز، ایک ٹینک بٹالین اور 4 آرٹلری دستے شمالی خوزستان میں تعینات کر دئے گئے جن کا مشن یہ تھا کہ علاقے کی حفاظت بھی کریں اورشوش اور پل نادری کے قریب واقع دریائے کرخہ سے دشمن کو گزرنے نہ دیں ۔ اسی علاقے میں جنگ کے دوران دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے پہلی جوابی کارروائی 14 اکتوبر 1980 کو حمزه 21ڈویژن کی بریگیڈ 1 اور 2 نے کی⁠[6]۔

30 اکتوبر 1980 کو، عراقی بری افواج نے اس علاقے میں نادری پل پر قبضہ کرنے، دریائے کرخہ عبور کرنے اور پھر دزفول کی طرف پیش قدمی کرنے کے لیے ایک وسیع حملہ کیا جسے 21 ویں ڈویژن کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے پانچ حملے ناکام ہوئے⁠[7]۔

21 ویں ڈویژن نے خوزستان کی آزادی کے سلسلے کی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ اپریل 1982 میں، فتح المبین آپریشن کے دوران، اس ڈویژن نے تین بریگیڈز کے ساتھ، نصر کیمپ کی صورت میں، دوسری فوجی اور سپاہ پاسداران یونٹس کے ساتھ مل کر، شمالی خوزستان میں دریائے کرخہ کے مغرب میں علاقوں کی آزادی میں حصہ لیا⁠[8]۔ آپریشن شروع ہونے سے پہلے 21 ویں ڈویژن کی نگرانی میں "ہندلی کانال" کے نام سے موسوم علاقے میں دشمن کے ٹھکانوں کے نیچے 456 میٹر لمبی سرنگ کھودی گئی، جس نے 22 مارچ 1982 کو آپریشن کی پہلی رات اپنی افواج کی پیش قدمی میں اہم کردار ادا کیا⁠[9]۔ یہ آپریشن 29 مارچ تک جاری رہا اور سات دن کی جنگ کے دوران،21 ویں ڈویژن کی افواج نے "علی گره زد" کا علاقہ، ابوصلبی خات کی پہاڑیاں، اور ریڈار سائٹ 4 اور 5 کے مقامات کو آزاد کرانے میں کامیابی حاصل کی⁠[10]۔

بیت المقدس آپریشن میں بھی حمزه 21 ویں ڈویژن نے بریگیڈ 1، 2، اور 3 انفنٹری اورآرمرڈ بریگیڈ 4 کے ساتھ، نصر کیمپ کی صورت میں جنگی علاقے کے بائیں طرف شرکت کی⁠[11]۔ نصر کیمپ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ جنوبی محاذ پر دریائے کارون کو عبور کرے اور علاقے کے لانچنگ سٹیشن کو محفوظ بنائے، اور پانچ محاذوں پر دشمن کی افواج کو تباہ اور خرمشہر کا محاصرہ کرتے ہوئے آپریشن کے بائیں ونگ کی پشت پناہی کرے⁠[12]۔

30 اپریل 1982 کو آپریشن شروع ہونے کے ساتھ 21 ویں حمزه سیدالشهداءڈویژن کی افواج نے رات کے وقت متحرک پلوں کا استعمال کرتے ہوئے دریائے کارون کو عبور کیا اور دشمن کے شدید مزاحمت کے باوجود اہواز-خرمشهّر ہائی وے تک پہونچنے میں کامیاب ہو گئے⁠[13]۔

آپریشن جاری رہنے پر 21 ویں ڈویژن اور نصر کیمپ کی یونٹوں کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ خوزستان کے مغرب میں بین الاقوامی سرحدوں تک پہنچیں اور شلمچہ کی طرف پیش قدمی کریں۔ یہ افواج خرمشهر کے شمال تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئیں، جس کا نتیجہ بالآخر اس شہر کے محاصرے اور پھر 24 مئی 1982 کو اس کی آزادی کی شکل میں نکلا⁠[14]۔

رمضان آپریشن میں بھی 21 ویں حمزه سیدالشهداءڈویژن نے جو خرمشهّر کے مغرب میں عمومی علاقے میں دفاعی لائن پر تعینات تھی، نصرکیمپ کی شکل میں حصہ لیا⁠[15]۔

21 ویں حمزه سیدالشهداءڈویژن کی یونٹس نے جنوری 1983 میں چزابہ کے شمال میں علاقے میں ابتدائی آپریشن والفجر میں، مارچ 1983 میں "عین خوش" اور چزابہ کے درمیان علاقے میں آپریشن والفجر-1 میں، اور جولائی 1983 میں مہران کے علاقے میں آپریشن والفجر-3 میں حصہ لیا⁠[16]۔ 21 ویں حمزه سیدالشهداء ڈویژن نے مارچ 1984 میں خیبر آپریشن میں بھی شرکت کی، جس میں مجنون نامی جزیرے کی فتح شامل تھی⁠[17]۔ اگلے سال، مارچ 1985 میں بدر آپریشن جو اسی علاقے میں انجام پایا، میں اس ڈویژن نے حصہ لیا⁠[18]۔

21 ویں حمزه سیدالشهداء ڈویژن کی آرٹلری یونٹس کی جانب سے سپاہ پاسداران کی افواج کو آپریشن والفجر-8 میں سپورٹ فراہم کرنابھی ایک ذمہ داری تھی جس کے نتیجے میں فاؤ کی بازیابی ہوئی، اور یہ دفاع مقدس کے دوران اس یونٹ کی اہم ترین خدمات میں سے ایک ہے⁠[19]۔

کرنل سید زین العابدین ورشوساز، میجر جنرل حسین حسنی سعدی، بریگیڈیئر بهروز سلیمان جاه، بریگیڈیئر فرض اللہ شاہین راد، اور بریگیڈیئر ہوشنگ ناصری مقدس دفاع کے دوران اس لشکر کے نمایاں کمانڈروں میں شامل ہیں⁠[20]۔

دفاع مقدس کے دوران 21 ویں حمزه سیدالشهداء ڈویژن کے 6839 اہلکار شہید ، 2670 زخمی ، اور 4130 افراد اسیرہوئے⁠[21]۔

عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کے بعد 21 ویں حمزه سیدالشهداء ڈویژن کے یونٹیں تہران واپس آ گئیں، اور کچھ عرصے بعد 1991 میں ملک کے شمال مغرب میں منتقل ہو گئیں اور 21 ویں حمزه سیدالشهداءڈویژن آذربایجان کے نام سے موسوم ہوئیں۔ "ثامن" ٹیکنیک کے نفاذ کے ساتھ 2011 میں اس ڈویژن کی بریگیڈز کو خود مختاری حاصل ہوگئی اور وہ صرف آپریشنل لحاظ سے 21 ویں حمزه سیدالشهداء ڈویژن آذربایجان کے کمانڈ کے تحت رہیں⁠[22]۔

اس وقت بریگیڈیئر امیرحسین شفیعی حمزه سیدالشهداء21 ڈویژن آذربایجان کی کمانڈ کر رہے ہیں۔⁠[23]

 

 


منابع و ارجاعات:

  • [1] پژمان، جلال، فروپاشی ارتش شاهنشاهی، تهران، نامک، 2007، ص 319
  • [2] روزنامه اطلاعات، 17 فروری 1979، ش 15786، ص 2.
  • [3] نوروزی فرسنگی، احمد، ناگفته‌هایی از زندگی سپهبد قرنی، تهران، مؤسسه فرهنگی انتشاراتی زهد، 2003، ص 49، 301 و 302.
  • [4] حسینی، سیدیعقوب و دیگران، ارتش جمهوری اسلامی ایران در هشت سال دفاع مقدس، ج 1، تهران، سازمان عقیدتی سیاسی ارتش، 1993، ص 75.
  • [5] مفید، عبدالحسین، بازخوانی جنگ تحمیلی، تهران، انتشارات ایران سبز، 2019، ص 51.
  • [6] حسینی، سیدیعقوب و دیگران، سابق، ص 127و135
  • [7] سلیمان‌جاه، بهروز، هفتاد سال خاطرات سرتیپ بهروز سلیمان جاه، تهران، انتشارات ایران سبز، 2014، ص 204 تا 210
  • [8] سابق، ص 215
  • [9] سابق، ص 221 و 224
  • [10] حسینی، سیدیعقوب و دیگران، سابق، ص 262، 266 و 267
  • [11] درودیان، محمد، سیری در جنگ ایران و عراق، ج1، تهران، مرکز مطالعات و تحقیقات جنگ سپاه پاسداران انقلاب اسلامی، چ چهارم، 1998، ص 113.
  • [12] سابق، ص119
  • [13] سلیمان‌جاه، بهروز، سابق، ص 239
  • [14] درودیان، محمد، سابق، ص149و150و152و153
  • [15] حسینی، سیدیعقوب، عملیات رمضان، تهران، ایران سبز، 2014، ص 92
  • [16] جعفری، مجتبی، اطلس نبردهای ماندگار، تهران، سوره سبز، چ سی‌وپنجم، 2014، ص 86، 88 و 90
  • [17] حسینی، سید یعقوب، نبردهای سال 1983 تا پایان 1985، تهران، هیئت معارف جنگ شهید علی صیاد شیرازی، 2010، ص 312
  • [18] سابق، ص445 و451
  • [19] اسدی، هیبت‌الله، ارتش در فاو، تهران، ایران سبز، 2008، ص 107و108
  • [20] «پاسخ کوبنده به دشمن از دیار آذربایجان»، ماهنامه صف، ش 430، مارچ 2017، ص 27
  • [21] خبرگزاری مھر،16 تیر 1397۔ www.mehrnews.com/amp/4340840
  • [22] «پاسخ کوبنده به دشمن از دیار آذربایجان»، ص 27
  • [23] خبرگزاری ایسنا، 18 مئی 2021، www.isna.ir/news/1400022820063

تکمیل، ویرایش یا گزارش خطا