خرم شہر کا دفاعِ مقدس میوزیم اور ثقافتی مرکز

خرم شہر کا دفاعِ مقدس میوزیم اور ثقافتی مرکز، ملک کا پہلا " دفاعِ مقدس میوزیم" ہے جسے 1996 میں دریائے کارون کے کنارے اور اس شہر کے امام خمینی (رہ) بلیوارڈ پر تعمیر کیا گیا۔

میوزیم کی موجودہ عمارت کی تاریخ 1930 اور برطانوی آئل کمپنی کی موجودگی سے جڑی ہوئی ہے، جب اس عمارت کو اس کمپنی کے انتظامی دفتر کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ 1950 میں تیل کی صنعت کے قومیائے جانے کے بعد، یہ عمارت انگریزوں کے قبضے سے نکل کر ' نیشنل ایرانی آئل کمپنی' کے حوالے کر دی گئی اور مسلط کردہ جنگ کے اختتام تک اس کمپنی کا انتظامی شعبہ یہیں رہا۔ خرم شہر کے 19 ماہ کے قبضے کے دوران، عراق کی بعثی حکومت نے اس عمارت کو عراقی ' فلوجہ بریگیڈ' کے مشاہداتی مرکز (Lookout point) اور کمانڈ پوسٹ کے طور پر استعمال کیا۔ جنگ کے خاتمے کے تقریباً 5 سال بعد، اس عمارت کی مضبوط ساخت اور حملہ آوروں کے خلاف ایرانی قوم کی مزاحمت کی علامت ہونے کی وجہ سے، اسے " دفاعِ مقدس میوزیم" کے لیے منتخب کیا گیا اور تین سال کے عرصے میں اس کی تزئین و آرائش اور اسے جدید آلات سے لیس کیا گیا۔

خرم شہر کا یہ جنگی میوزیم 10 ہزار مربع میٹر رقبے پر محیط ہے اور اس کا تعمیراتی ڈھانچہ 2 ہزار 400 مربع میٹر ہے۔ میوزیم کے مختلف حصوں میں دفاعِ مقدس کی ایک خصوصی لائبریری (جس میں تقریباً 3 ہزار جلد کتابیں موجود ہیں)، فلم تھیٹر اور 3 گمنام شہدا کے مزارات شامل ہیں، جنہیں 2006  میں ایرانی نئے سال کے نوروز یعنی پہلے دن یہاں دفن کیا گیا تھا۔ چونکہ یہ عمارت جنگ کے دوران دشمن کا مشاہداتی مرکز تھی، اس لیے دیواروں پر غاصبوں کی لکھی ہوئی کچھ تحریریں  اب بھی اپنی اصل حالت میں محفوظ ہیں، جن میں عربی جملہ «جئنا لنبقی» (ہم یہاں رہنے کے لیے آئے ہیں) دیگر تحریروں کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہے۔

خرم شہر کا یہ ثقافتی مرکز 6 ہالز پر مشتمل ہے جن کے نام کچھ یوں ہیں: " بحران، مزاحمت، قبضہ، آزادی، خرم شہر کی تعمیرِ نو اور آج کا خرم شہر" ۔ ہر حصہ دفاعِ مقدس میں اس شہر کے عوام کی شجاعت کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی کرتا ہے۔⁠[1]

پہلا ہال: یہ جنگ کے باقاعدہ آغاز اور بعثی فوج کے ابتدائی حملے سے پہلے کے دور سے متعلق ہے۔

دوسرا ہال: یہاں خرم شہر کے عوام کی بنا کسی اسلحے کے 45 روزہ تاریخی مزاحمت کے عملی نمونوں کو نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔

تیسرا ہال: یہ ہال خرم شہر پر قبضے کے دور کی یادیں سمیٹے ہوئے ہے اور تصاویر کی زبان سے غاصبوں کے ہاتھوں گھروں کی بے رحمانہ تباہی اور لوگوں کے مال و اسباب کی لوٹ مار کے حقائق بیان کرتا ہے۔

چوتھا ہال: اس میں آپریشن «الی بیت المقدس» اور خرم شہر کی آزادی کو تصویر کشی کے ذریعے دکھایا گیا ہے۔

پانچواں ہال: یہ ہال آزاد شدہ خرم شہر میں عوام کی واپسی کے مناظر پر مبنی ہے۔

چھٹا ہال (آج کا خرم شہر): اس ہال میں شہر کی 30 پرانی اور 30 جدید تصاویر رکھی گئی ہیں تاکہ شہر کی ماضی اور حال کی صورتحال کا موازنہ کیا جا سکے۔

میوزیم کے ان ہالز میں گرافک پینلز، مجسمے، بعثی فوج کا چھوڑا ہوا جنگی سامان، خرم شہر کے نامور شہدا کی نشانیاں، رزمندگان اور شہدا کے استعمال کی اشیاء، جنگی علاقوں کی علامات اور فنکارانہ شاہکار نمائش کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔

اس میوزیم میں خرم شہر کی شجاعانہ مزاحمت کے عظیم عسکری رہنماؤں جیسے  (خرم شہر سپاہ کے کمانڈروں) سید محمد علی جہان آرا اور عبدالرضا موسوی اور فوج و سپاہِ پاسداران کے دیگر شہدا کے آثار اور ان کے زیرِ استعمال اشیاء کے ساتھ ساتھ دفاعِ مقدس کے دور کا جنگی ساز و سامان نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔ علاوہ ازیں، مسلط کردہ جنگ کے بہت سے حقیقی آثار میوزیم کی عمارت کی دیواروں پر اپنی اصل حالت میں اور بغیر کسی تبدیلی کے دیکھے جا سکتے ہیں۔ شہدا کی یادگاریں، مورچوں کی عکاسی، پرانے ہتھیار اور زبانی یاداشتیں (Oral History) بھی اس میوزیم کے خزانے کا حصہ ہیں۔

میوزیم کے بیرونی صحن میں 1980 کی دہائی کی کچھ گاڑیاں عمودی طور پر فکس کی گئی ہیں، جو خرم شہر کے گرد و نواح کی بنجر زمینوں پر بعثی حکومت کے ایک اقدام کی علامت ہیں۔ غاصب عراقی فوج نے خرم شہر کی بندرگاہ پر قبضے کے بعد، آبادان-اہواز روڈ کی زمینوں پر کسٹمز میں موجود گاڑیوں کو بڑی تعداد میں موٹے ستونوں اور مختلف اشیاء کے ساتھ عمودی طور پر زمین میں گاڑ دیا تھا تاکہ ایرانی پیرا شوٹرز اس علاقے میں نہ اتر سکیں۔ خرم شہر کی فتح کے بعد، ایرانی فوجیوں نے اس علاقے کا نام «میل آباد» رکھا تھا، جس کی شبیہ سازی کا ایک منظر  میوزیم کے احاطے میں بنایا گیا ہے۔

خرم شہر کے اس دفاعِ مقدس میوزیم میں 30 راوی موجود ہیں جو مہمانوں کو مسلط کردہ جنگ کے سالوں میں خرم شہر میں پیش آنے والے واقعات کی تفصیلات بتاتے ہیں۔ میوزیم میں زائرین کے لیے خرم شہر کی آزادی کے بارے میں ایک مختصر دستاویزی فلم بھی دکھائی جاتی ہے۔⁠[2]   تمام افراد کے لیے اس جنگی میوزیم کی سیر بالکل مفت ہے۔


حوالہ جات

  • [1]. ویب سائٹ: اداره کل میراث فرهنگی، گردشگری و صنایع دستی خوزستان، «موزه جنگ خرمشهر»، miraskhz. ir/؛ موسوی جد، سید محمد و دیگران، «نقش المان‌ های گردشگری جنگ در افزایش نرخ بازدید گردشگران از موزه جنگ خرمشهر»، فصلنامه فضای گردشگری، بہار، شمارہ 38، 1400، صفحات 58-59۔
  • [2]. موسوی جد، سید محمد و دیگران، ایضاً؛ روزنامه جام جم، «آثار واقعی جنگ»، شمارہ 6221، 3 خرداد 1401۔

تکمیل، ترمیم یا غلطی کی اطلاع