قزوین 16 ویں آرمرڈ ڈویژن

"قزوین 16 ویں آرمرڈ ڈویژن" ایران کی زمینی فوج کی اسپیشل فورسز میں سے ایک تھی جو دفاع مقدس کے زمانےمیں سرگرم عمل رہی⁠[1]۔

یہ ڈویژن 1950 کی دہائی کے آخر میں بنائی گئی۔ 1957 میں اصفہان بریگیڈ کا ہیڈکوارٹر قزوین شہر منتقل ہوا اور تین بٹالین تشکیل دے کر آزاد بریگیڈ 11 قائم کی گئی۔ 1963 میں دوبارہ اصفہان بریگیڈ اور 8 ویں مراغہ بریگیڈ کی کچھ یونٹوں اور کرمانشاہ ڈویژن کی ایک بریگیڈ کو ان کے اصل تنظیمی ڈھانچے سے الگ کر کے" 16 ویں آرمرڈ ڈویژن" بنائی گئی اور اس کے ماتحت یونٹوں کا بنیادی ڈھانچہ قزوین، ہمدان اور زنجان کےشہروں میں تشکیل دیا گیا اور 1971 سے 1973 تک چیفٹن ٹینکوں کی فراہمی کے ساتھ، تین آرمڈ بریگیڈز وجود میں آئیں۔

1978 میں پہلوی حکومت کے خلاف عوامی جدوجہد کے دوران اس ڈویژن کی فورسز نے خفیہ اور اعلانیہ طور پرنہ صرف امام خمینی (رح)کی تحریک کے ساتھ تعاون کیا بلکہ عوام کو سرکوب بھی نہیں کیا۔ اس ڈویژن کے کمانڈروں نے مارشل لا کے دوران اپنے فوجی دستوں کو عوام پر فائرنگ کرنے سے روک دیا تھا ۔ انقلاب کی کامیابی اور داخلی بحرانوں کے آغاز کے بعد، 16 ویں آرمرڈ ڈویژن کی یونٹوں کو کرمانشاہ میں باغیوں کو کچلنے کے لیے بھیجا گیا۔ اس ڈویژن کی بریگیڈ-1 نےاس دور میں جو سب سے اہم کارروائیاں انجام دیں ان میں سے ایک، جون 1980 میں سقز اور بانہ (خان گھاٹی) روٹ کی آزادی تھی⁠[2]۔

عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے آغاز کے وقت فوجی دستوں کی وسیع پیمانے پر ضرورت اور بھاری نقل و حمل کے وسائل کی کمی کے باعث، 16 ویں آرمرڈ ڈویژن کی یونٹوں کو خوزستان علاقے میں بھیجا گیا۔ اس وقت خوزستان کا سب سے اہم آپریشنل ایریا "دزفول" تھا کیونکہ اگر "اندیمشک" اور "دزفول" سقوط کرجاتے تو پورا صوبہ خوزستان خطرے میں پڑ جاتا⁠[3]؛ اسی وجہ سے اکتوبر 1980 میں، 16 ویں ڈویژن کی یونٹوں کو "دوکوہہ" بیرکوں میں تعینات کیا گیا اور دشمن کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے احتیاطا تمام زمینی فوج کو دشمن سے لڑنے کے لیے آمادہ باش کر دیا گیا۔⁠[4]

نومبر 1980 میں اہواز کے مغربی علاقے میں مزید فوجی دستوں کی ضرورت اور سوسنگرد علاقے کو خطرہ لاحق ہونے کی وجہ سے، پہلے ایک بریگیڈ اور پھر16 ویں آرمرڈ ڈویژن کی بقیہ فورسز کو شمالی خوزستان اور دزفول کے مغرب سے سوسنگرد محاذ پر بھیجا گیا⁠[5]۔

6 جنوری 1981 کو، نصر نامی فوج کے دوسرے بڑے آپریشن میں، 16 ویں آرمرڈ ڈویژن نے اہم کردار ادا کیا۔ منصوبہ یہ تھا کہ 16 ویں آرمرڈ ڈویژن، 92 آرمرڈ ڈویژن اہواز کے کچھ افراد کے ساتھ، شمال اور مشرق سے "ہویزہ" پر حملہ کریں اور دشمن کی افواج کو پیچھے دھکیل کر کے سرحد تک پیش قدمی کریں، لیکن وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے⁠[6]۔بریگیڈ- 1 جس میں میکانیائزڈ بٹالین 176 اور 185 اور ٹینک بٹالین 201 اور 220 شامل تھیں، نیز سیکنڈ آرمرڈ بریگیڈ جس میں میکانائزڈ بٹالین 124 اور ٹینک بٹالین 224، 207 اور 256 شامل تھیں، اس آپریشن میں 16 ویں ڈویژنکی اہم یونٹیں تھیں⁠[7]۔ ابتدائی پیش قدمی اور دشمن کے کچھ سامان اور آلات کو تباہ کرنے اور 1200 عراقی فوجیوں کو قیدی بنانے کے باوجود، 8 جنوری 1981 کو دشمن کے جوابی حملے کی وجہ سے اور ضروری ہم آہنگی نہ ہونےاور مدد نہ ملنے کے باعث 16 ویں آرمرڈ ڈویژن کی یونٹوں کو عقب نشینی کرنا پڑ گئی⁠[8]۔

1981 میں، مقبوضہ علاقوں کو آزاد کرانے کے لیے خوزستان میں "طریق القدس" کے نام سے ایک نیا آپریشن کیا گیا۔ اس آپریشن میں طے پایا کہ 16 ویں آرمرڈ ڈویژن ،ڈویژن 92 سے بریگیڈ 3 اور سپاہ پاسداران کی کچھ یونٹوں کے ساتھ مل کر "کرخہ" کے شمالی اور جنوبی علاقے میں دشمن پر حملہ کرے اور بستان اور سوسنگرد کے مغربی علاقوں کو آزاد کرائے۔ بریگیڈ- 1 سے تعلق رکھنے والی دو ٹینک بٹالینز 201 اور 220 اور دو میکانائزڈ بٹالینز 176 اور 185، نیز بریگیڈ 2 سے تعلق رکھنے والی دو ٹینک بٹالینز 251 اور 254 اور دو میکانیائزڈ بٹالینز 114 اور 125، "طریق القدس" آپریشن میں قزوین 16 ویں آرمرڈ ڈویژن کی اہم یونٹیں تھیں⁠[9]۔ یہ آپریشن 30 نومبر 1981 کو شروع ہوا اور کئی دن رات کی جنگ کے دوران، ایرانی افواج بستان شہر کو آزاد کرانے کے ساتھ ساتھ خوزستان کے تقریباً 600 مربع کلومیٹر مقبوضہ علاقے کو آزاد کرانے اور "ہورالعظیم" علاقے میں بین الاقوامی سرحد تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئیں⁠[10]۔ اس آپریشن میں 16 ویں آرمرڈ ڈویژن کی یونٹوں کی کارروائیوں کا نقطہ عروج "سابلہ پل" کے آس پاس جھڑپیں تھیں جہاں انہوں نے تین دن تک (2 سے 4 دسمبر تک) عراقی فوج کے جوابی حملوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھی جو آخرکار دشمن کی شکست پر منتہی ہوئی⁠[11]۔

اپریل 1982 میں خوزستان علاقے میں ایک اور آپریشن کی منصوبہ بندی کی گئی تاکہ ایرانی افواج دریائے کرخہ کے جنوب اور دریائے کارون کی مغربی جانب پر حملہ کر سکیں اور عراقی فوجیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے خرمشہر اور ہویزہ کو آزاد کرائیں اور بین الاقوامی سرحدوں تک پہنچ سکیں⁠[12]۔ اس آپریشن میں، 16 ویں آرمرڈ ڈویژن کی جنگی یونٹوں میں زیادہ تر بریگیڈ- 1 سے دو میکانائزڈ بٹالینز 176 اور 185 اور دو ٹینک بٹالینز 201 اور 220، بریگیڈ 2 سے دو میکانائزڈ بٹالینز 114 اور 125 اور دو ٹینک بٹالینز 251 اور 254، اور 3 آرمرڈ بریگیڈ سے میکانائزڈ بٹالین 124 اور دو ٹینک بٹالینز 224 اور 227 اور آزاد آرمرڈ کی مستقل بٹالین 252 شامل تھی۔ 30 اپریل 1982 کی صبح آپریشن کے آغاز کے ساتھ، 16 ویں آرمرڈ ڈویژن نے سپاہ پاسداران کی یونٹوں کے ساتھ مل کر قدس کیمپ کے ماتحت جنگ کے علاقے کے شمال سے دریائے "کرخہ کور" کو عبور کرنے کے بعد دشمن پر حملہ کیا اور مسلسل کئی دنوں کی جھڑپوں کے دوران دشمن کی زمینی افواج کو تباہ کرتے ہوئے خوزستان کے مقبوضہ علاقوں کا ایک وسیع حصہ آزاد کرانے اور بین الاقوامی سرحدوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی⁠[13]۔

16 ویں آرمرڈ ڈویژن نے جولائی 1982 میں تین آرمرڈ بریگیڈز کے ساتھ قدس کیمپ کے ماتحت رمضان آپریشن میں خوزستان کے جنوب مغربی سرحدی علاقے میں حصہ لیا⁠[14]۔ نیز یہ ڈویژن فروری 1983 میں والفجر مقدماتی آپریشن میں بھی، بریگیڈ 1 اور 3آرمرڈ کا استعمال کرتے ہوئے، مغربی خوزستان کے سرحدی علاقے میں سپاہ پاسداران کی یونٹوں کے ساتھ موجود تھی⁠[15]۔

16 ویں آرمرڈ ڈویژن نے دفاع مقدس کے دور میں دفاعی لائنوں پر اپنی موجودگی برقرار رکھی۔ 1985 میں اور والفجر 8 آپریشن کے دوران، 16 ویں آرمرڈ ڈویژن کے آرٹلری یونٹوں نے فاؤ کی فتح میں سپاہ پاسداران کی یونٹوں کی مدد کی۔ 1986 میں اور کربلاء 5 آپریشن کے دوران بھی اس ڈویژن کی دو بٹالینز، سپاہ پاسداران کے ماتحت رہیں۔⁠[16]

1987 میں اور عراقی فوج کے وسیع پیمانے پر حملوں کے بعد، 16 ویں آرمرڈ ڈویژن قزوین شمال مغربی خوزستان اور صوبہ ایلام کے مغربی علاقوں میں محاذوں پر تعینات ہو کر دشمن کا مقابلہ کرتی رہی⁠[17]۔

 دفاع مقدس کے دوران 16 ویں آرمرڈ ڈویژن کے 2753 فوجی شہید اور 8224 زخمی ہوئے۔ 1934 فوجی ان رہا ہونے والے افراد میں شامل تھے جو 1990 میں دشمن کی قید سے آزاد ہوئے⁠[18]۔

بریگیڈئرسیروس لطفی، بریگیڈئر ایرج جمشیدی،کرنل محمدجعفر زمان‌فر اور آفیسر غلام‌رضا مخبری (شہید) دفاع مقدس کے دوران 16 ویں آرمرڈ ڈویژن کے ممتاز کمانڈروں میں سے ہیں⁠[19]۔

عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کے بعد، 16 ویں آرمرڈ ڈویژن کی فوجیں سرحدی پٹی میں موجود رہیں یہاں تک کہ رفتہ رفتہ اس کی یونٹیں اپنے اصل ریجنل ایریاز میں واپس آ گئیں۔ آپریشنل علاقوں سے بارودی سرنگوں کی صفائی بھی اس ڈویژن کی انجینئرنگ یونٹوں کے ذریعے جاری رہی اور بہت ساری ناقابل کاشت زمینوں کو زرخیز بنا کر عوام کے حوالے کر دیا گیا⁠[20]۔

1993 میں ایران کی فوج میں ایک امن محافظ بٹالین تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس بنیاد پر فوج کی ایک بٹالین کو بدل کر اقوام متحدہ کے مشنوں کے لیے امن محافظ بٹالین کے طور پر منظم کیا گیا۔ 16 ویں آرمرڈ ڈویژن کی بٹالین 185 پیاده-میکانائزڈ کو اس مشن کے لیے منتخب کیا گیا⁠[21]۔

2011 سے بری فوج کی یونٹوں میں نئی ساختاری تبدیلیاں، "ثامن منصوبہ" کے عنوان سے ظاہر ہوئیں اور آزاد آرمڈ بریگیڈز کو تشکیل دیا گیا⁠[22]۔ اس بنیاد پر اس ڈویژن کو تین مستقل بریگیڈز؛ بریگیڈ 116 قزوین، بریگیڈ 216 زنجان اور بریگیڈ 316 ہمدان کے عنوان سے بدل دیا گیا، لیکن جنگی حکمت عملی کے پیش نظر وہ اب بھی قزوین 16 ویں آرمرڈ ڈویژن کے اسٹاف ہیڈکوارٹر کے تحت ہیں جس کی کمان سیکنڈ بریگیڈئر جنرل حسین محمدشفیعی کے پاس ہے⁠[23]۔

 

خبرگزاری بسیج www.basijnews.ir/fa/news/8925034

خبرگزاری مہر، 21 اگست2014، www.mehrnews,com/newd/2354624

خبرگزاری ایسنا، 14 جولائی 2014، www.isna.ir./;news/zanjan-48324

خبرگزاری ایرنا، 19 ستمبر2021، www.irna.ir/news/84476062

 


منابع و ارجاعات:

  • [1] " حماسہ مبارزان سرزمین ما"، ماہانہ صف، شمارہ 370، اکتوبر 2011، صفحہ 18-19۔
  • [2] سورہ مهر خصوصی شمارہ، شمارہ 3، اگست 2012، صفحہ 6۔
  • [3] حسینی، سید یعقوب، عملیات نصر، تہران، انتشارات ایران سبز، 2014، صفحہ 369۔
  • [4] سابق، ص141۔
  • [5] حسینی، سید یعقوب اور احباب، نقش ارتش جمهوری اسلامی در هشت سال دفاع مقدس، جلد 1، تہران، سازمان عقیدتی سیاسی ارتش،1993، صفحہ 151۔
  • [6] حسینی، سید یعقوب، عملیات نصر، صفحہ 350-351
  • [7] سورہ مهر خصوصی شمارہ، صفحہ 23۔
  • [8] سابق ، صفحہ23
  • [9] سابق ، صفحہ49
  • [10] سابق ، صفحہ 56
  • [11] سابق ، صفحہ 54، 55
  • [12] درودیان، محمد، سیری در جنگ ایران و عراق، از خونین شهر تا خرمشهر، جلد 1،تہران، مرکز مطالعات و تحقیقات جنگ سپاہ پاسداران، طبع4، 1998، صفحہ 107۔
  • [13] سورہ مهر خصوصی شمارہ، صفحہ 77 اور 80-87
  • [14] حسینی، سید یعقوب، عملیات رمضان، تہران، ایران سبز، 2014، صفحہ 80۔
  • [15] حسینی، سید یعقوب، عملیات والفجر مقدماتی، 2010، صفحہ 71 اور 78۔
  • [16] حماسہ مبارزان سرزمین ما، ص21۔
  • [17] سورہ مهر خصوصی شمارہ، صفحہ 127۔
  • [18] سابق، صفحہ 4
  • [19] سابق، صفحہ 102
  • [20] حماسہ مبارزان سرزمین ما، ص21۔
  • [21] "با اندیشہ صلح جہانی"، ماہانہ صف، شمارہ 370، اکتوبر 2011، ص22۔
  • [22] رفیعی، علی اور دیگر احباب، "ارزیابی میزان چابک سازی تیپ ہای مستقل زرہی در طرح ثامن نیروی زمینی جمہوری اسلامی ایران"، فصلنامه علوم و فنون نظامی، شمارہ 55، بہار 2021، صفحہ 171
  • [23] خبرگزاری باشگاہ خبر نگاران جوان www.yjc.news/fa/news/7935446

تکمیل، ویرایش یا گزارش خطا