آپریشن والفجر 8

آپریشن والفجر 8، 9 فروری 1986 کو "یا فاطمہ زہرا (س)" کے کوڈ کے ساتھ کیا گیا جس میں ایرانی فوجیوں نے ملک کےجنوب مغربی علاقے میں واقع دریائے اروند کو عبور کر تے ہوئے فاؤ نامی جزیرہ نما پر قبضہ کیا اور عراق کا خلیج فارس سے بھی رابطہ منقطع کر دیا ۔

جزیرہ نما فاؤ عراق کے انتہائی جنوبی نقطے پر واقع ہے۔ اس مثلثی شکل کے علاقے کا وہ سرا جو خلیج فارس تک پہنچتا ہے، "راس البیشہ" کہلاتا ہے۔ خور عبداللہ اور دریائے اروند اس جزیرہ نما کے دو اطراف ہیں اور اس کا تیسرا رخ بصرہ کے مضافات کی طرف جاتا ہے۔ اس علاقے میں قدرتی رکاوٹیں جیسے سڑکیں، طغیانی روکنے والے بند، خاکی مورچے، میزائل لانچنگ پلیٹ فارم اور فاؤ شہر کی تیل کی سہولیات موجود تھیں اور اس کے بیشتر حصے میں دلدل والی زمین تھی۔ نیم صنعتی شہر فاؤ لڑائی کا مرکزی علاقہ تھا اور نمک کا کارخانہ، وہ دو سڑکیں جو فاؤ کو بصرہ سے ملاتی ہیں اور وہ سڑک جو فاؤ کو ام القصر سے زمینی رابطہ فراہم کرتی ہے، علاقے کے اہم اور حساس مقامات میں شمار ہوتی تھیں⁠[1]۔ آپریشن والفجر 8 کو انجام دینے کے لیے فاؤ کے علاقے کی خصوصیات کچھ ایسی تھیں کہ اس آپریشن کے تین اطراف میں پانی تھا اور عراقی افواج سے مقابلے اور دفاع کے لیے ایک ہی سمت بچتی تھی جہاں سے آبادان سے فاؤ تک دشمن پر ہلکے اور سنگین پیمانے پر حملے کئے جا سکتے تھے⁠[2]۔

آپریشن والفجر 8 کے اہداف میں شہر فاؤ پر قبضہ کرنا اور جنگ ختم کرنے کے لیے جنگی برتری حاصل کرنا، کویت کی سرحد کے قریب پہنچنا (جو عراق کو مالی اور فوجی امداد فراہم کر رہا تھا) تاکہ بین الاقوامی نظام کو ایران کے حقوق تسلیم کرنے پر آمادہ کیا جا سکے، خور عبداللہ پر کنٹرول حاصل کرنا اور خلیج فارس میں عراق کے داخلی راستے کو بند کرنا، زمین سے سمندر تک مار کرنے والے میزائل لانچنگ کے ان پلیٹ فارمز پر قبضہ کرنا جو جزیرہ نما فاؤ میں تعینات تھے اور ایران جانے والے جہازوں کی آمدورفت کے لیے خطرہ تھے، اور خورموسی اور شمالی خلیج فارس کو جہازوں کی بندرگاہ امام خمینی تک آمدورفت کی سہولت فراہم کرنے کے لیے محفوظ بنانا شامل تھا⁠[3]۔

آپریشنل فوجی دستوں نےاس آپریشن کو انجام دینے کے لیے چار مراحل کا پیشگی تعین کیا: 1- فرنٹ لائن توڑنے والی فوجوں کا دریائے اروند کو عبور کرنا اور دشمن کی فرنٹ لائن کو توڑنا اور غوطہ خوروں کی مدد سے حاصل کیے گئے پل کو کلیئر کرنا، 2- فاؤ پر قبضہ کرنا، خور عبداللہ تک پہنچنا اور فاؤ کے شمال میں واقع مثلثی شکل کے علاقے میں پوزیشن سنبھالنا جو تین سڑکوں البحار، فاؤ-بصرہ اور ام القصر کے سنگم سے وجود میں آیا تھا اور نیز فاؤ کے شمال مغرب میں دوسرے میزائل بیس کی پوزیشن سنبھالنا،3- فرنٹ لائن توڑنے والے یونٹس اور معاون دستوں کا نمک کے کارخانے کے شروع تک پیش قدمی کرنا اور اس علاقے کے متوازی دریائے اروند کے کنارے سے لے کر خور عبداللہ تک ایک دفاعی لائن تشکیل دینا، 4- نمک کے کارخانے کے آخری سرے اور ام القصر سڑک پر واقع کارخانے کے آخر میں نہر تک پرسائی حاصل کرنا⁠[4]۔

سپاہ پاسداران دو کمانڈ سنٹرز "کربلا" اور "نوح" کے ساتھ، آپریشن کے مرکزی حملات کی قیادت کر رہی تھی⁠[5]۔ سپاہ پاسداران کی گراؤنڈ فورس نے فاؤ کے جنوب سے لے کر راس البیشہ کے آخر تک حملے کی ذمہ داری کمانڈ سنٹر نوح کو اور فاؤ کے جنوب سے لے کر کارروائی کے علاقے کے شمالی ترین نقطے اور فاؤ اور نمک کے کارخانے پر قبضے کی ذمہ داری کمانڈ سنٹر کربلا کو سونپی۔ کمانڈ سنٹر "رعد" فضائی دفاع پر مامور تھا اور کمانڈ سنٹر "سلیمان خاطر" بھی یونٹس کی مدد کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھا۔ کمانڈ سنٹر "نجف" نے جزیرہ ام الرصاص پر حملے کے علاوہ، پشت پناہی کرنے کی ذمہ داری سنبھالی⁠[6]۔ ذیلی کمانڈ سنٹر یونس -1کمانڈ سنٹر نوح کے ماتحت، ناؤ ٹاسک فورس کوثر کے ساتھ الامیہ واٹر فرنٹ پر قبضے کرنے کے مشن پر مامور تھا، اسی طرح البکر واٹر فرنٹ پر قبضے کی ذمہ داری کمانڈ سنٹر خاتم الانبیاء (ص) کے ماتحت کمانڈ سنٹر یونس 2 آرمی نیوی کے سپرد تھی⁠[7]۔

آپریشنل ایریا کے شمالی حصے میں کمانڈ سینٹر کربلا ئےنصر-5، ولی عصر «عج»-7، نجف اشرف-8، امام حسین (ع)-14، علی ابن ابی طالب (ع)-17، کربلا-25، محمد رسول اللہ (ص)27-، عاشورا ڈویژنز-31 اور آزاد بریگیڈز امام حسن (ع)-15، انصارالحسین (ع)32- اور قمر بنی ہاشم (ع)- 44کے ساتھ، اور اسی طرح جنوبی حصے میں کمانڈ سنٹر نوح فجر-19 اور ثاراللہ (ع)-41 ڈویژنز اور آزاد بریگیڈ المهدی «عج»-33 کے ساتھ، اور حمایتی حملے پر کمانڈ سنٹر قدس امام رضا (ع)-21، سید الشہداء (ع) اور الغدیر-18 بریگیڈز کے ساتھ، یہ سب کمانڈ سینٹرز، مرکزی کمانڈ سنٹر خاتم الانبیاء کے ماتحت تھے۔ مجموعی طور پر ایران سے 140 اور عراق سے 220 رجمنٹل بٹالینز اس صف آرائی میں شامل تھیں⁠[8]۔ دشمن کو دھوکہ دینے کے لیے بھی مرکزی کارروائی سے چند رات پہلے، پاسداران اور فوج کی جانب سے ہور، شلمچہ اور ام الرصاص میں تین محدود حملے کیے گئے⁠[9]۔

مرکزی آپریشن 9 فروری 1986 کو رات ساڑھے دس بجے رمز "لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم وقاتلوهم حتی لا تکون فتنۃ" "یا فاطمۃ الزہراء، یا فاطمۃ الزہراء، یا فاطمۃ الزہراء" کے ساتھ تین محاذوں پر شروع ہوا⁠[10]۔ پہلا محاذ اروندکنار کے علاقے میں فاؤ پر قبضہ کرنے اور ابو الخصیب سڑک سے بصرہ کی طرف مرکزی حملہ کرنے کے لیے، دوسرا محاذ شلمچہ کے علاقے میں اور پاسداران کی جانب سے محدود معاونت حملہ، اور تیسرا محاز شلمچہ سے "کوشک" تک 50 کلومیٹر طویل محاذ کے ساتھ اور بری فوج کے 5 ڈویژنز کی جانب سے حمایتی حملے انجام دینے کے لیے⁠[11]۔ فاؤ میں مرکزی آپریشن، دشمن کو چونکا دینے والا تھا کیونکہ اسے وہاں سے حملے کاتصور بھی نہیں تھا.اور اس آپریشن کا آغاز سپاہ پاسداران کے غوطہ خوروں کے دریاے اروند کو پار کرنے کے ساتھ ہوا اور ایک مختصر عرصے میں ہی حاصل کیے گئے پل کو وسعت دینے، راس البیشہ، نمک کے ایک کارخانے، میزائل سائٹس اور فاؤ پر قبضے کے ساتھ، اپنی فوجیں دشمن کے جوابی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو گئیں۔ دشمن کے ٹھکانے تباہ ہو جانے کے بعد عراق نے صدارتی محافظ دستوں کو فوری طور پر جنگ میں داخل کیا تاکہ تاخیر پیدا کر کے ریزرو یونٹس کے داخلے کے لیے ضروری موقع فراہم کیا جا سکے، لیکن یہ محافظ دستے اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے اور ان کے سپاہی تتر بتر ہو کر پیچھے ہٹ گئے۔ عراقی فوج کے ریزرو یونٹس کا محاذ جنگ میں وارد عمل ہونا بھی مؤثر ثابت نہ ہوا اور ان کے 75 دنوں کے جوابی حملوں نے صرف ان کی ہلاکتوں اور نقصانات کے اعداد و شمار میں اضافہ کیا اور آخرکارعراقی فوج کی سپریم کمانڈ اس نتیجے پر پہونچی کہ فاؤ کو واپس لینے کی کوشش بے فائدہ ہے اور اپنی یونٹس کو تباہ کرنے کے سوا کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا؛ اس لیے انہوں نے حملے بند کر دیے اور خلیج فارس میں عراق کے ساحلوں اور کویت کی سرحد پر ایران کی افواج کا قبضہ برقرار رہا⁠[12]۔

"جہاد سازندگی" (ادارہ تعمیر وطن) کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ آپریشن کے دوران جنگی حالات میں اپنی حمایت اور انجینئرنگ کو تیار رکھے۔ اس ادارے نے تقریباً 400 ڈمپ ٹرکس اور بڑی تعداد میں لوڈرز اور بلڈوزرز کا استعمال کرتے ہوئے دریاے اروند کے علاقے میں 473 کلومیٹر نئی سڑک بنائی اور 110 کلومیٹر موجودہ سڑکوں کی مرمت کے فرائض بھی انجام دیے۔ نیز اس علاقے میں مذکورہ ادارے کے انجینئرنگ کمانڈ سنٹر نے میدان جنگ کا عارضی ہسپتال، کیمیائی آلودگی دور کرنے کے لیے مناسب مقامات، توپ خانے کے مقامات، میزائل کے مقامات، رابطے کی سڑکیں، ہیلی کاپٹر پیڈ اور دفاعی لائنوں میں مناسب خاکی مورچے اور مورچے تعمیر کیے⁠[13]۔

عراقی فوج نے اس کارروائی میں دریائے اروند کے کنارے پر کنٹرول حاصل کرنے اور ایران کی افواج کو فاؤ کے علاقے سے نکالنے کے لیے تین جنگی حربے استعمال کیے: کیمیائی ہتھیاروں کا وسیع استعمال، بڑے پیمانے پر فضائی حملے اور آبادان سڑک پر خسرو آباد میں مسلسل گولہ باری۔ کارروائی شروع ہونے کے تین دن بعد، 12 فروری 1986 کو، 32 عراقی جنگی طیاروں نے ایک گھنٹے تک اپنے حملوں میں فاؤ پر کیمیائی بمباری کی اور پہلے دن 2500 افراد اور مسٹرڈ گیس (Mustard Gas)کے طویل المیعاد زہریلے اثرات کے نتیجے میں اس کے دو دن بعد مزید 8500 افراد متاثر ہوئے۔ 11 فروری کی صبح اور دوپہر میں فاؤ کے علاوہ آبادان شہر بھی دو شدید کیمیائی حملوں کا نشانہ بنا اور 20فوجی شہید ہوئے⁠[14]۔

اس آپریشن میں عراقی افواج کے 50 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک یا زخمی ہوئے جن میں ایک ڈویژنل کمانڈر، 5 بریگیڈیئر کمانڈرز، بڑی تعداد میں سینئر اور جونیئر افسران شامل تھے؛ 2105 افراد قیدی بھی بنائے گئے جن میں کئی سٹاف کرنل، لیفٹیننٹ کرنل، میجر، جونیئر افسران، ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر پائلٹ اور نان کمیشنڈ افسران شامل تھے۔ دشمن کے 39 ہوائی جہاز، 5 ہیلی کاپٹر، 300 ٹینک، 240 زرهی گاڑیاں، 5 انجینئرنگ آلات، 250 گاڑیاں، 150 فیلڈ توپیں، 55 اینٹی ایئرکرافٹ توپیں اور 2 میزائل لانچر بحری جہاز تباہ ہوئے اور 50 ٹینک، 45 بکتر گاڑیاں، 30 انجینئرنگ آلات، 180 گاڑیاں، 20 فیلڈ توپیں، 120 اینٹی ایئرکرافٹ توپیں اور 3 میزائل ریڈار پر ایرانی افواج کا قبضہ ہو گیا⁠[15]۔

اس کارروائی کے دوران ایران کی افواج کے تقریباً 10 ہزار افراد شہید یا زخمی ہوئے۔ فوج کی فضائیہ کے 4 ایف-5 طیارے نشانے بنے اور ان کے کچھ پائلٹ شہید ہوئے یا قیدی بنائے گئے⁠[16]۔ 3938 گھنٹے پروازیں انجام دینا اور فاؤ کے علاقے میں اپنی افواج کے 1624 افراد کو منتقل کرنا اور 2038 زخمیوں کو محاذ کے پیچھے نکالنا اور 330 ٹن ہلکے اور بھاری سامان کی نقل و حمل، اس کارروائی میں آرمی ایوی ایشن کی سرگرمیوں میں شامل ہے۔ نیز کوبرا شکاری ہیلی کاپٹرز کی جانب سے عراقی فوج کے ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں، گاڑیوں، میزائل سائٹس اور فوجیوں پر 67 اینٹی ٹینک ٹاو میزائل، 4 بھاری میوریک میزائل، 841 راکٹ فائر اور 5280 ملی میٹر گولے فائر کیے گئے⁠[17]۔

اس آپریشن کے نتیجے میں تعین شدہ اہداف مکمل طور پر حاصل ہوئے۔ ایران کے تقریباً 30 مربع کلومیٹر علاقے کو آزاد کرایا گیا اور عراق کے تقریباً 770 مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ کیا گیا اور عراق کا آزاد پانیوں سے رابطہ بھی منقطع ہو گیا۔ فاؤ اور اس کے واٹر فرنٹ قبضے میں آ گئے اور ایران کی افواج بندر ام القصر کے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر تعینات ہو گئیں⁠[18]۔

آپریشن "والفجر 8" کے شہداء کا یادگاری مرکز اس کارروائی کے حماسہ آفرین سپوتوں کی یاد میں دریاے اروند کے کنارے، عراق کے شہر فاؤکے سامنے اور اروندکنار کے شمالی ساحل پر "حفظ آثار و نشر ارزشهای دفاع مقدس" فاونڈیشن کی جانب سے تعمیر کیا گیا ہے جو اس آپریشن کے 5 گمنام شہداء کی میزبانی کرتا ہے⁠[19]۔

 

 


منابع و ارجاعات:

  • [1] معبودی، جلال، اطلس لشکر 31 عاشورا در دوران دفاع مقدس، تهران، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، 2019، ص 162؛ زارع‌زاده، نادر، اطلس لشکر 17 علی‌ابن ابیطالب (ع) در دوران دفاع مقدس، تهران، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، 2020، ص 218.
  • [2] اردستانی، حسین، تجزیه و تحلیل جنگ ایران و عراق تنبیه متجاوز، ج3، تهران، مرکز مطالعات و تحقیقات جنگ، 2000، ص169.
  • [3] حبیبی، ابوالقاسم، اطلس خوزستان در جنگ ایران و عراق، تهران، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، 2014، ص203.
  • [4] علایی، حسین، تاریخ تحلیلی جنگ ایران و عراق، ج دوم، تهران، مرز و بوم، 2016، ص 175 و 176
  • [5] زارع‌زاده، نادر، سابق، ص 219.
  • [6] معبودی، جلال، سابق ، ص 162
  • [7] پورجباری، پژمان، اطلس جغرافیای حماسی ـ خوزستان در جنگ، ج1، تهران، صریر، 2010، ص 100
  • [8] حبیبی، ابوالقاسم، اطلس خوزستان در جنگ ایران و عراق، تهران، مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس، 2014، ص204
  • [9] رشید، محسن، اطلس جنگ ایران و عراق، تهران، مرکز مطالعات و تحقیقات جنگ، 1379، ص 74.
  • [10] کریم‌زاده، اردشیر، حماسه‌های ماندگار هوانیروز در دفاع مقدس، تهران، نودید طراحان، 1388، ص 111
  • [11] جعفری، مجتبی، اطلس نبردهای ماندگار، تهران، سوره‌ سبز، 1393، ص 118
  • [12] رشید، محسن، سابق ، ص 74
  • [13] علایی، حسین، سابق ، ص178 و 179 و 194.
  • [14] سابق ، ص 195
  • [15] مدیریت بهره‌دهی مرکز مطالعات و تحقیقات جنگ سپاه پاسداران انقلاب اسلامی، عملیات والفجر 8، فتح فاو(طراحی، اجرا، نتایج، بازتاب‌ها)، تهران، مرکز مطالعات و تحقیقات جنگ، چ دوم، 1387، ص 44 و 45
  • [16] علایی، حسین، سابق ، ص 198
  • [17] کریم‌زاده، اردشیر، سابق ، ص 114
  • [18] جعفری، مجتبی، سابق، ص 118.
  • [19] پورجباری، پژمان،سابق ، ص 101؛ مؤسسه عماد، راهنمای زائران راهیان نور، تهران، یوسف، 1389، ص 112.

تکمیل، ویرایش یا گزارش خطا