اصفہان کی آٹھویں شکاری ائیر بیس

اصفہان کی آٹھواں شکاری (لڑاکا) ائیر بیس عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ میں سرگرم فضائی اڈوں میں سے ایک تھی۔

اصفہان ائیر بیس کے قیام کی تاریخ سن 1970 کی دہائی کے اوائل میں ملتی ہے۔ 1974 میں F-14 لڑاکا طیاروں کی خریداری کا معاہدہ طے پانے کے بعد، اصفہان میں ایک بڑے ائیر بیس کی تعمیر کا آغاز ہوا جسے " آٹھواں شکاری (لڑاکا) ائیر بیس" کا نام دیا گیا۔ چونکہ اصفہان تقریباً ملک کے مرکز میں واقع ہے، اس لیے اس اڈے کو ایک بنیادی (مدر) ائیر بیس کے طور پر F-14 طیاروں کے استعمال سے ملک کے تمام علاقوں کی فضائی پشتپناہی فراہم کرنی تھی۔⁠[1]   1975 میں ڈیز   ڈیم میں طیارہ گرنے سے اس وقت کے فضائیہ کے کمانڈر جنرل محمد خاتمی کی شہادت کے بعد،⁠[2] اس ائیر بیس کا نام " خاتمی" رکھ دیا گیا۔⁠[3] پہلا F-14 طیارہ 1976 میں اصفہان ائیر بیس میں داخل ہوا۔⁠[4]

ستمبر 1980 میں عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے آغاز پر، آٹھویں ائیر بیس کے پاس 61 F-14 لڑاکا طیارے تھے جن کے لیے 35 فرنٹ کاک پٹ پائلٹ اور پچاس ریئر کاک پٹ پائلٹ موجود تھے، البتہ مذکورہ تعداد میں سے صرف تیرہ طیارے آپریشن کی صلاحیت رکھتے تھے۔⁠[5]

اصفہان ائیر بیس ان فضائی اڈوں میں سے ایک تھا جس پر عراق نے 1980 میں حملہ کیا۔⁠[6]   تاہم اسی دن، آٹھویں شکاری (لڑاکا) ائیر بیس نے دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے اقدامات کیے اور F-14 لڑاکا طیاروں کے ذریعے شمال مغرب، مغرب، جنوب مغرب اور ملک کے مرکزی علاقے کی فضائی حفاظت   کی۔⁠[7] اسی رات، اصفہان ائیر بیس کے تکنیکی ماہرین کی کوششوں سے تیس F-14 طیاروں کو آپریشنل حالت میں لا کر تیار کر لیا گیا۔⁠[8]

22 ستمبر 1980 کو آپریشن کمان 99 کے تحت، آٹھویں ائیر بیس نے عراق کے اہم فوجی اڈوں اور مراکز پر وسیع فضائی حملے میں حصہ لیا۔ F-14 لڑاکا طیاروں نے اپنے طیاروں کی حفاظت اور دشمن کے فضائی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے 28 پروازیں کیں اور دو عراقی طیاروں کو مار گرانے میں کامیابی حاصل کی۔⁠[9]

28 نومبر 1980 کو آپریشن مروارید   اور عراقی بحریہ کی تباہی کے دوران بھی اصفہان ائیر بیس کا کردار رہا۔ اس دن اس ائیر بیس کے F-14 لڑاکا طیاروں نے بحریہ کی مدد کے لیے نو فضائی   حفاظتی پروازیں کیں اور دشمن کا ایک طیارہ بھی مار گرایا۔⁠[10]

خوزستان کی آزادی کی سلسلہ وار کارروائیوں میں، اصفہان ائیر بیس نے اپنی افواج کے فضائی دفاع میں حصہ لیا۔ اکتوبر 1981 میں آپریشن ثامن الائمہ کے دوران آٹھویں ائیر بیس کی 81 اور 82 بریگیڈز (گردان) علاقے کی فضائی حفاظت کی ذمہ دار تھیں۔⁠[11]   77ویں خراسان ڈویژن کی مدد کے لیے F-14 طیاروں کی پروازیں چوبیس گھنٹے جاری رہیں؛⁠[12] یہاں تک کہ علاقے میں دشمن کے طیارے F-14 طیاروں کو دیکھ کر اپنے بم بے مقصد گرا کر عراق واپس لوٹ جاتے تھے۔⁠[13]   اس وجہ سے 77ویں ڈویژن، فضائی بمباری سے ہونے والے کسی نقصان کے بغیر میدان جنگ میں اپنی پیش قدمی جاری رکھ سکی۔⁠[14]

دسمبر 1981 میں آپریشن طریق القدس میں بھی آٹھویں ائیر بیس نے F-14 لڑاکا طیاروں کے ایک اسکواڈرن کے ساتھ شرکت کی۔⁠[15]   آپریشن طریق القدس کے فضائی منصوبے (پلان شبح) کے مطابق، دو F-14 طیاروں کے ذریعے مغرب میں بستان سے لے کر سوسنگرد تک کے علاقے میں مسلح فضائی نگرانی کی پیش گوئی کی گئی تھی تاکہ دشمن کے طیاروں کی دراندازی کو روکا جا سکے۔⁠[16]   ان کارروائیوں کے دوران پہلی بار ایک F-14 لڑاکا طیارہ عراقی معراج (میراج) طیاروں کا نشانہ بنا اور گر کر تباہ ہو گیا۔⁠[17]

آپریشن بیت المقدس اور خرمشہر کی آزادی کے دوران، اصفہان کی 81 بٹالین نے شیراز ائیر بیس کی 71 بٹالین کے ساتھ مل کر جنگ کے علاقے کی فضائی دفاع کی ذمہ داری انجام دی⁠[18] جس کے نتیجے میں دشمن کے انیس حملہ آور طیارے مار گرائے گئے۔⁠[19]

خلیج فارس میں تیل بردار بحری جہازوں کی جنگ کے دوران بھی آٹھویں ائیر بیس کے F-14 طیاروں نے فضائی ایندھن بھرنے اور چوبیس گھنٹے پروازوں کے ذریعے تیل بردار جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا اور دشمن کے فضائی حملوں کو ناکام بنا دیا تاکہ ایران کی تیل برآمدات کا سلسلہ جاری رہ سکے۔⁠[20]   اسی سلسلے میں دسمبر 1985 میں چار F-14 لڑاکا طیاروں کو بوشہر ائیر بیس بھیجا گیا تاکہ دشمن کا مقابلہ تیزی سے کیا جا سکے۔⁠[21]

1985 کے دوسرے نصف میں ان طیاروں کی دیکھ بھال میں یکسانیت پیدا کرنے کے لیے F-14 لڑاکا طیاروں کو شیراز کے ساتویں ائیر بیس سے اصفہان بھیج دیا گیا۔⁠[22]

آپریشن خیبر کے دوران جو مجنون جزائر پر قبضے پر منتہی ہوا، اصفہان ائیر بیس کے دو دو F-14 لڑاکا طیاروں نے   پرواز کرتے ہوئے خاتم الانبیاء کیمپ کے اوپر بطور منی ایئر بورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹم (منی آواکس) کم اونچائی پر پرواز کرکے علاقے کی فضائی نگرانی کی۔⁠[23]

آپریشن والفجر 8 میں جو 1986 میں ہوا، آٹھویں ائیر بیس نے ساتویں شیراز ائیر بیس کے ساتھ مل کر جنگ کے علاقے کے فضائی دفاع کا کچھ حصہ اپنے ذمے لیا۔ آٹھ F-14 طیاروں نے دو دو کے جوڑوں کی شکل میں فضائی ایندھن بھر کر بغیر رکے محاذ کی فضائی پشت پناہی برقرار رکھی۔⁠[24]

ستمبر 1986 میں ایک F-14 طیارہ   جس کا پائلٹ سکواڈرن لیڈر   احمد مرادی   تھا، ایک جنگی گشت کے مشن پر اصفہان ائیر بیس سے روانہ ہوا اور پھر دشمن کی انٹیلی جنس سروسز کے ساتھ رابطے میں آ کر عراق کی طرف بھاگ گیا۔ مرادی نے عراق میں پناہ لے لی لیکن اس کےریئر کاک پٹ پائلٹ کیپٹن   نجفی، جو اس کے ساتھ تھا، نے پناہ لینے سے انکار کر دیا اور 1990 تک عراقی قید میں رہا۔⁠[25]

اصفہان ائیر بیس کے F-14 لڑاکا طیاروں نے 1986 میں آپریشن کربلائے 5 میں بھی شرکت کی۔⁠[26]   اس آپریشن میں پہلی بار F-14 لڑاکا طیاروں کو دشمن پر بمباری کے لیے استعمال کیا گیا۔⁠[27]

F-14 طیارے کے بارے میں اہم اقدامات میں سے ایک اسے ہاک (Hawk) میزائل سے لیس کرنا تھا۔ آٹھویں ائیر بیس سے تعلق رکھنے والا اس قسم کا ایک طیارہ 1988 میں ایک عراقی مگ- 29 طیارے کو نشانہ بنا کر گرانے میں کامیاب رہا۔⁠[28]

نیز، اسلامی انقلاب کے بعد، اصفہان ائیر بیس میں فلائٹ ٹریننگ کالج   کی بنیاد رکھی گئی اور رفتہ رفتہ پائلٹوں کی تربیت کے مختلف کورسز ملک کے اندر شروع ہو گئے اور بیرون ملک کی ضرورت ختم ہو گئی۔⁠[29]

دفاع مقدس (عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ) کے بعد، اصفہان ائیر بیس کو 1987 میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کی فضائیہ   کے نائب آپریشنز، میجر جنرل پائلٹ عباس بابائی کے اعزاز میں " شہید بابائی ایریا" کا نام دیا گیا۔⁠[30]

جنگ کے بعد، اصفہان ائیر بیس کی تاریخ کا بدترین واقعہ پیش آیا۔ اس وقت کے فضائیہ کے کمانڈر بریگیڈیر جنرل منصور ستاری اور فضائیہ کے اعلیٰ افسران بشمول فضائیہ کے نائب آپریشنز بریگیڈیر جنرل مصطفیٰ اردستانی اور فضائیہ کے چیف آف اسٹاف علی رضا یاسینی کا طیارہ 1995 میں اصفہان ائیر بیس کے رن وے کے قریب گر کر تباہ ہو گیا جس میں تمام افرادشہید ہو گئے۔⁠[31]

جنگ کے دوران اور اس کے بعد، F-14 اور PC-7 طیاروں کے علاوہ، F-5 اور F-7 لڑاکا طیارے بھی اصفہان ائیر بیس میں تعینات کیے گئے۔⁠[32] اب اس ائیر بیس میں پرواز کی دو علیحدہ بریگیڈز ہیں جن کے فرائض میں فائیٹنگ اور ٹریننگ شامل ہیں۔ لڑاکا طیاروں کے پائلٹ بونانزا طیارے پر پرواز کا کورس مکمل کرنے کے بعد اعلیٰ تربیت کے لیے اصفہان ائیر بیس بھیجے جاتے ہیں اور وہ PC-7 اور F-7 طیاروں پر تربیتی پروازیں کرتے ہیں۔ نیز ایران کی فضائیہ میں F-14، PC-7 اور F-7 طیاروں کی مرمت کا کام صرف اسی ائیر بیس میں کیا جاتا ہے۔⁠[33]

دفاع مقدس (عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ) کے دوران اصفہان ائیر بیس کے نمایاں ترین کمانڈروں میں کرنل حبیب اللہ صادق پور اور کرنل عباس بابائی کا نام لیا جا سکتا ہے۔⁠[34]   اب اس ائیر بیس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل پائلٹ علی رضا انگیزہ ہیں۔⁠[35]

 


حوالہ جات

  • [1]. بابامحمودی، مہدی، آخرین اسکادران، تہران: آتشبار، 2020، ص 68 اور 315۔
  • [2]. طلوعی، مرتضی، تاریخ نیروی هوایی شاهنشاهی، تہران: ستاد فرماندهی نیروی هوایی، 1976، ص 311۔
  • [3]. بابامحمودی، مہدی، آخرین اسکادران، ص 68 اور 315۔
  • [4]. اسلامی جمہوریہ ایران کی بری فوج کی اطلاع رسانی ویب سائٹ www. aja. ir/portal/home/? PAPER/71464/71646/1701079
  • [5]. تاریخ نبردهای هوایی، ج 1: تا آغاز تهاجم سراسری عراق، تہران: مرکز انتشارات راهبردی نهاجا، 2014، ص 393۔
  • [6]. انصاری، مہدی و دیگران، روزشمار جنگ ایران و عراق، کتاب چهارم: هجوم سراسری، تہران: مرکز مطالعات و تحقیقات جنگ، چاپ دوم، 1996، ص 57۔
  • [7]. تقویم مستند عملکرد نیروی الهی هوایی ارتش جمهوری اسلامی ایران، ج 3: مهرماه 1359، تہران: مرکز انتشارات راهبردی نهاجا، 2018، ص 16۔
  • [8]. نمکی عراقی، علی‌ رضا و همکاران، تاریخ نبردهای هوایی، ج 3: عملیات کمان 99 موسوم به 140 فروندی و انهدام نیروی هوایی دشمن، تہران: مرکز انتشارات راهبردی نهاجا، 2017، ص 60۔
  • [9]. تقویم مستند عملکرد نیروی الهی هوایی ارتش جمهوری اسلامی ایران، ج 3، ص 63 اور 81۔
  • [10]. مسبوق، محمد و علی‌ رضا جواهری، عملیات مروارید، تہران: مرکز انتشارات راهبردی نهاجا، 2015، ص 171 اور 157۔
  • [11]. نمکی، علی‌ رضا، نیروی هوایی در دفاع مقدس، تہران: ایران سبز، 2010، ص 178۔
  • [12]. ایضاً، ص 184۔
  • [13]. ایضاً، ص 187۔
  • [14]. ایضاً، ص 191۔
  • [15]. ایضاً، ص 212۔
  • [16]. ایضاً، ص 219۔
  • [17]. ایضاً، ص 225 اور 226۔
  • [18]. ایضاً، ص 251۔
  • [19]. ایضاً، ص 255۔
  • [20]. خلیلی، حسین، نبردهای هوایی ایران، تہران: ایران سبز، 2019، ص 247؛ معما، محمد، نبرد در آسمان: خاطرات سرتیپ خلبان فضل‌ الله جاویدنیا، تہران: کتاب یوسف، 2010، ص 120
  • [21]. ایضاً، ص 277۔
  • [22]. نمکی عراقی، علی‌ رضا و همکاران، تاریخ نبردهای هوایی، ج 3، ص 58
  • [23]. خلیلی، حسین، نبردهای هوایی ایران، ص 242۔
  • [24]. نمکی، علی‌ رضا، نیروی هوایی در دفاع مقدس، ص 293 اور 298۔
  • [25]. خلیلی، حسین، نبردهای هوایی ایران، ص 294۔
  • [26]. معما، محمد، نبرد در آسمان: خاطرات سرتیپ خلبان فضل‌ الله جاویدنیا، ص 164۔
  • [27]. خلیلی، حسین، نبردهای هوایی ایران، ص 311۔
  • [28]. ایضاً، ص 345 اور 346۔
  • [29]. ماہنامہ صف، شمارہ 37، جنوری 1983، ص 54۔
  • [30]. خبرگزاری فارس، 3 مارچ 2013 www. farsnews. ir/news/13911212001049
  • [31]. اکبر، علی، پاکباز عرصه عشق، تہران: عقیدتی سیاسی نهاجا، 1996، ص 1؛ گودرزی، محمد و دیگران، اعجوبه قرن: مروری بر زندگی شهید سرلشکر خلبان مصطفی اردستانی، تہران: انتشارات عقیدتی سیاسی ارتش، 1998، ص 18؛ گودرزی، محمد و دیگران، انتخابی دیگر: مروری بر زندگی شهید سرلشکر خلبان علیرضا یاسینی، تہران: انتشارات عقیدتی سیاسی ارتش، 1998، ص 18
  • [32]. نمکی عراقی، علی‌ رضا و همکاران، تاریخ نبردهای هوایی، ج 3، ص 99۔
  • [33]. اسلامی جمہوریہ ایران کی بری فوج (ارتش) کی اطلاع رسانی ویب گاہ، www. aja. ir/portal/home/? PAPER/71464/71646/1701079
  • [34]. خلیلی، حسین، نبردهای هوایی ایران، ص 166۔
  • [35]. خبرگزاری ایسنا، 15 جولائی 2021 www. isna. ir/news/1400042417652

تکمیل، ترمیم یا غلطی کی اطلاع