کرمانشاہ 81 آرمرڈ ڈویژن
کرمانشاہ 81 آرمرڈ ڈویژن، اسلامی جمہوریہ ایران کے مغرب میں زمینی فوج کی اصلی ترین یونٹ ہے جو دفاع مقدس کے دوران اس خطے میں عراقی فوج سے نبرد آزما رہی۔
اس ڈویژن کی تشکیل کے ابتدائی خد و خال سن 1934 سے دکھائی دیتے ہیں جو پہلے بریگیڈ کی صورت میں سامنے آئی اور پھر رفتہ رفتہ ڈویژن کی شکل اختیار کر گئی۔ چونکہ ڈویژن 81 ملکی سرحد اور گزرگاہ کے بہت قریب تھی اس لیے اسے آرمرڈ بنایا گیا تھا اور اس وقت کے جدید ترین ٹینک اس کے حوالے کئے گئے تھے۔ جب عراق نے 1974میں میمک کی پہاڑیوں کے حوالے سے ملکیت کا دعوٰی کیا تو عراقی فوج اور ڈویژن 81 میں محدود پیمانے پر جھڑپ ہوئی جس کے نتیجے میں عراقی فوج کو شکست ہوئی اور "معاہدہ الجزائر 1975" سامنے آیا[1]۔
جب انقلاب اسلامی کامیابی سے ہمکنار ہوا اور اس کے ساتھ ہی کردستان میں داخلی بحران شروع ہوا تو 81 ڈویژن کی یونٹیں امن و امان کے قیام کے لئے بتدریج وہاں مصروف ہو گئیں اور اس ڈویژن کی آرمرڈ 2 بریگیڈ جو کرمانشاہ میں چھاؤنی میں قیام پذیر تھی، ٹیم ، پلاٹون اور بٹالین کی صورت میں متاثرہ علاقے میں روانہ کی گئی۔ رفتہ رفتہ یہ آشوب اور بحران صوبہ کرمانشاہ میں بھی سرایت کرنے لگا اور پاوہ، نوسود اور جوانرود کے علاقوں میں مختلف جھڑپیں ہوئیں اور 81 ڈویژن کی یونٹیں وہاں مصروف ہو گئیں[2]۔
1980 میں جب عراق کی جانب سے سرحدی کارروائیاں بڑھنے لگیں تو 81 ڈویژن کو بھی صوبہ کرمانشاہ اور ایلام بھیج دیا گیا؛ آغاز میں کرمانشاہ 81 آرمرڈ ڈویژن کی بریگیڈ 3 کے افراد "سرپل ذہاب" پر واقع چھاؤنی سے سرحدی علاقے "باویسی" سے لے کر "قصرشیرین" تک بھیجے گئے تا کہ بارڈر گارڈ پوسٹ کو سپورٹ کریں۔ پھر کرمانشاہ 81 آرمرڈ ڈویژن جو "اسلام آباد" کے مغرب میں چھاؤنی میں تھی، کو صوبہ ایلام میں قصرشیرین سے صالح آباد تک کے سرحدی علاقے میں مأمور کیا گیا۔
جب عراق نے ایران پر زمینی_ فضائی حملے شروع کئے تو ایران کے مغربی سرحدی علاقوں پر دشمن کی کم از کم ایک آرمرڈ ڈویژن اور ایک پیادہ ڈویژن حملے کر رہی تھی؛ ان حملوں نے پانچ سو کلومیٹر تک کے علاقے کو محاذ جنگ میں بدل دیا تھا؛ 81 آرمرڈ ڈویژن تن تنہا اس غیر مساوی محاذ پر ڈٹ کر لڑی[3]۔
مسلط کردہ جنگ جب شروع ہوئی تو زیادہ بہتر ہم آہنگی کرنے کے لئے 23 ستمبر 1980 کو ملک مغربی آپریشنل ایریا (کرمانشاہ اور ایلام ) میں ایک کمانڈ یونٹ کا تعین کیا گیا۔ ڈویژن 81 کے علاوہ بریگیڈ 84 کا ایک تیار دستہ اور کچھ یونٹیں؛ جن کا تعلق مراغہ گروہ -11 اور اصفہان گروہ- 11 کے توپ خانے سے تھا، اس کمانڈ یونٹ کے ما تحت ہو کر لڑتی رہیں[4]۔
ستمبر 1980 میں عراقی فوج سے مقابلے میں جو اقدامات 81 ڈویژن نے کیے، ان میں سے ایک ابوذر چھاؤنی میں مزاحمت کرنا تھا۔ عراقی سرحد کے نزدیک سرپل ذہاب شہر کے جنوب مشرق میں واقع اس چھاؤنی میں 81 ڈویژن کی فورسز نے فضائیہ کی مدد سے دشمن کی پیش قدمی کو روکا[5]۔
دشمن کی پیش قدمی رُکنے کے بعد ڈویژن81 کو تقویت دینے کے لیے اقدامات کیے گئے؛ مثلاً ٹیکنییکل بریگیڈ 2 جو کردستان میں امن برقرار رکھنے کے مشن پر تھی، وہاں سے ہٹا کر ڈویژن 81 کے آپریشنل ایریا کرمانشاه بھیج دی گئی۔ نیز ڈویژن کے 30 فیصد بڑے آلات اور سازوسامان جن میں ٹینک اور جنگی گاڑیاں شامل تھیں—جو جنگ شروع ہونے سے پہلے مختلف خرابیوں کے باعث ناقابل استعمال حالت میں تھے—ڈویژن کے جوانوں کی محنت سے مرمت کر کے محاذ جنگ پر بھیج دیے گئے[6]۔
اس کے بعد، ڈویژن 81 کی طرف سے مقبوضہ علاقوں کو آزاد کرانے کے لیے آپریشن کیے گئے۔ نومبر 1980 میں دشت ذهاب میں کلینہ سیدصادق آپریشن اور دسمبر 1980میں گیلانغرب میں "تنگ حاجیان" آپریشن اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں[7]۔
9 جنوری 1981 کو خوارزم آپریشن کے دوران، ڈویژن 81 کی بریگیڈ- 1 کی افواج نے میمک کی پہاڑیوں پر حملہ کیا اور دشمن کو شکست دے کر اس اہم علاقے کو آزاد کرالیا۔ مئی 1981 اور ستمبر 1981 میں بازی دراز کی بلندیوں پر حملہ آور ہونا، اور دسمبر 1981 میں "شیاکوہ" علاقے میں مطلع الفجر آپریشن، لشکر 81 کی جانب سے جنگ کے دوسرے سال میں کیے گئے اہم اقدامات میں شامل ہیں۔[8]
ڈویژن 81 نے اکتوبر 1982 میں مسلم بن عقیل آپریشن میں اپنی تین آرمڈ بریگیڈز اور ایک نئی تشکیل شدہ میکانائزڈ بریگیڈ کے ساتھ دیگر آرمی اور ریوولوشنری گارڈز فورسز کی یونٹس کے ہمراہ حصہ لیا[9]۔ ان یونٹس کی کوششوں سے سومار شہر کے مغرب میں واقع پہاڑی علاقے آزاد کرائے گئے[10]۔
ڈویژن 81 کے کچھ حصے جنوبی محاذ میں بھی موجود رہے۔[11] یہ ڈویژن مارچ 1984 میں خیبر آپریشن میں شریک ہوئی جس کے نتیجے میں مجنون جزیرے پر قبضہ حاصل ہوا[12]۔
جنوبی محاذ میں ڈویژن 81 کی توپ خانہ یونٹس کی جانب سے ریوولوشنری گارڈز فورسز کی افواج کو والفجر 8 آپریشن کے دوران فراہم کی گئی معاونت بھی اسی ڈویژن کے کارناموں میں شامل ہے، جس میں فاو کےعلاقے پر قبضہ حاصل ہوا[13]۔
ڈویژن 81 کی بریگیڈ- 1 جولائی 1982 میں نصر 6 آپریشن میں دیگر آرمی یونٹس کے ساتھ شامل رہی، جس کے نتیجے میں کلہ قندی کے بعض اہم پہاڑی مقامات آزاد ہوئے[14]۔
دفاع مقدس کے دوران کرمانشاہ 81 آرمرڈ ڈویژن کے 3742 افراد شہید ہوئے[15]۔ ابراہیم باوندپور، اسماعیل سہرابی اور بیژن اتحادیہ نے عراق کی جانب سےایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران 81 آرمرڈ ڈویژن کی سربراہی کی ذمہ داری سنبھالی۔ اس وقت بریگیڈیر جنرل حسین سبزی اس عہدے پر فائز ہیں[16]۔
عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے بعد اور ثامن منصوبے اور نئے زمینی فوجی ڈھانچے کے نفاذ کے بعد،ڈویژن 81 کی بریگیڈز کو آزاد حیثیت دے دی گئی اور انہیں سرپل ذهاب میں بریگیڈ 71 ابوذر، مغربی اسلام آباد میں بریگیڈ 181 آرمرڈ اور بیستون میں بریگیڈ 282 آرمرڈ کے نام سے تعینات کیا گیا۔ یہ بریگیڈز اب صرف آپریشنل لحاظ سے 81 ڈویژن کے ہیڈکوارٹر کے زیر نگرانی ہیں[17]۔
«مشت پولادین ارتش در غرب»، ص 21
منابع و ارجاعات:
- [1] «مشت پولادین ارتش در غرب»، ماهانه صف، ش 372، دسمبر 2011، ص 18.
- [2] حسینی، سیدیعقوب، نبردهای صحنه عملیات غرب، تهران، ایران سبز، 2016، ص 83.
- [3] سابق، ص 45، 83 و 84
- [4] سابق ، ص 64 و 104
- [5] عابدینی، مرضیه، «پادگان ابوذر»، ویکی دفاع،https://wikidefa.ir.
- [6] حسینی، سیدیعقوب، سابق، ص 282
- [7] جعفری، مجتبی، اطلس نبردهای ماندگار، تهران، سوره سبز، چ 35، 2014، ص 34 و 35.
- [8] سابق ، ص 48 و 59
- [9] حسینی، سیدیعقوب، سابق ، ص 542
- [10] جعفری، مجتبی، سابق ، ص 82
- [11] حسینی، سیدیعقوب، سابق ، ص 573
- [12] حسینی، سید یعقوب، نبردهای سال 1362 تا پایان 1364، تهران، ایران سبز، چ اول، 2011، ص 340 و 341
- [13] اسدی، هیبتالله، ارتش در فاو، تهران، ایران سبز، 2008، ص 125
- [14] جعفری، مجتبی، سابق ، ص 142.
- [15] «10 سال دفاع مقدس در کرمانشاه، خبرگزاری جمهوری اسلامی»، خبرگزاری جمهوری اسلامی، 28 ستمبر 2019، www.irna.ir/news/83493579
- [16] «فرمانده لشکر 88 زرهی کرمانشاه ...»، خبرگزاری جمهوری اسلامی،18 جون 2021، www.irna.ir/news/84372117 ؛ «مشت پولادین ارتش در غرب»، ص 21.
- [17] «فرمانده جدید تیپ 181 زرهی اسلامآباد غرب معرفی شد»، خبرگزاری صداوسیما،https://www.iribnews.ir/fa/news/؛